آٹے کی بندش / از محمدزاہدرشیداوریاخیل

اماں جی نے جلدی میں آواز دی۔بیٹا یہ پیسے لے جاؤ اور ذرا جلدی سے آٹا لے آؤ۔آج شام کے لیے آٹا ختم ہے۔رات کو آپکے ابو پھر ناراض ہو جائینگے۔کہ روٹی تازہ کیوں نہیں پکائی؟
اویس بھاگتے بھاگتے رکا اور امی جی کی طرف مڑ کے دیکھا اور کہنے لگا امی جی میں ابھی فٹبال کھیلنے جا رہا ہوں۔اپکو تو پتا ہی ہے کہ پورا دن مصروف ہوتا ہے یہ ٹائم ملتا ہے کھیلنے کے لیے۔اس ٹائم بھی آپکو گھر کی چیزیں یاد آجاتی ہے۔اپ باہر سے اعظم چاچو کی دکان سے کیوں نہیں لے کے آتی؟
اویس گھر میں لاڈلا بھی ہوتا ہے اور اکلوتا بھی۔والدین اس سے خوب محبت کرتے ہے۔اور اویس بھی والدین کا خوب خیال رکھتا ہے لیکن کھیل کے وقت وہ کسی کو وقت نہیں دیتا۔کھیل کے چسکے نے اویس کو دیوانہ کردیا ہوتا ہے۔اویس فٹبال ٹیم کا اچھا کھلاڑی ہے۔جوکہ اپنے محلے کی ٹیم میں اچھی کارکردگی دکھانے پر کئی مرتبہ سلور میڈل حاصل کر چکا ہوتا ہے۔اویس میں ایک خاص خوبی ہے کہ وہ غریبوں کا بڑا خیال رکھتا ہے اور اسکے دل میں غریبوں کے لیے ایک درد سا ہوتا ہے۔
اعظم چاچو انکے محلے دار ہے جن کی محلے میں ایک دکان ہے جہاں ضرورت کی ہر چیز بآسانی میسر ہے۔نہایت ہی اچھے اخلاق کے حامل شخصیت ہے۔اویس کے گھر کا سودا سلف وہی سے ہی آتا ہے۔
امی اویس کو کہتی ہے بیٹا میں دن کو گئی تھی آٹا لینے کے لیے لیکن چاچو اعظم نے مجھے پریشان کردیا۔کہ اجکل آٹے کی قیمت میں انتہائی اضافہ ہوگیا اور قیمت کے اس اضافہ نے آٹے کو عید کے چاند کا رتبہ دے دیا۔ملک میں آٹے کا بحران ہونے والا ہے۔چکی مالکان نے بھی آٹا سستا کرنے سے انکار کردیا۔آٹے کے ڈپو بھی اکثر بند ہوگئے ہے اور جو ہے وہ بھی خال خال نظر آرہے ہے۔غریبوں کے لیے آجکل آٹا لینا جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔امی جی یہ باتیں کر رہی تھی کہ اویس مڑا،ٹیبل پہ بیٹا اور بوٹ اتارنے لگا۔
والدہ نے حیرت سے پوچھا خیریت تو ہے؟
اویس: امی جی بازار سے آٹا لینے جا رہا ہوں۔کیونکہ رات کے لیے آٹا نہیں ہے اور رات کو آپا سلیمہ کو بھی روٹی دینی ہے۔
آپا سلیمہ انکی پڑوسن ہے جوکہ بیوہ ہے۔اور اسکی کوئی اولاد نہیں ہے۔زندگی کے بچے کچے دن گزار رہی یے۔کام کاج اویس کی والدہ کر کے دیتی ہے اور کھانا اویس دے کے آتا ہے۔
اویس بائیک نکالتا ہے اور شہر کی طرف جاتے ہوئے سڑک پر تیزی سے موٹر سائیکل دوڑاتا ہے۔موٹرسائیکل کے زیادہ سپیڈ کی وجہ سے سلنسر سے کالا دھوان نکلتا ہے۔سورج کی کرنوں کو بھی ڈوبنے میں تھوڑا ہی وقت ہے۔کچھ ہی دیر میں اویس بائیک ڈپو کے سامنے روکتا ہے اور ڈپو کے سامنے کھڑی لائن دیکھ کر اسکے ہوش ٹکانے لگتے ہے۔
حیرت انگیز طور پہ ڈپو کے سامنے کھڑی لائن کو دیکھ ہی رہا ہوتا ہے کہ اچانک اس کو آواز آتی “اویس بیٹا کیا سوچ رہے ہوں کھڑے ہوکر” مڑ کے دیکھتا ہے تو سامنے حاجی صابر صاحب کھڑے ہوتے ہے۔انکل صابر کو دیکھتے ہی اویس کے چھرے پہ مسکراہٹ سجتی ہے۔اوہ انکل گھر میں آٹا ختم ہے۔آٹا لینا آیا ہوں لیکن یہ لائن دیکھ کے کافی پریشان ہوگیا ہوں شام ہو گئی ہے۔واپس گھر بھی جانا ہے۔
انکل صابر اویس کے والد کے بہت ہی اچھے اور پرانے دوست ہے۔جوکہ ڈپو میں منشی کا عہدہ سنبھالے ہوئے ہے۔(جسکی وجہ سے اویس کو آٹا لینا میں آسانی ہوئی)جنھوں اویس کی پریشانی بھانتے ہی سلیمان کو آواز دی۔کہ زرا جلدی سے ایک تھیلا آٹا لے کے او۔اور اویس کے بائیک پہ کس کے باندھ دو۔
اویس کا آٹا تیار ہوتا ہی اویس جلدی سے بل ادا کرتا ہے اور جلدی سے باییک کی کک مارتا ہے اور گاؤں کی روڈ پہ بائیک تیزی سے دوڑا دیتا ہے اور کھیتوں کے پگ ڈنڈیوں سے ہوتے ہوئے تھوڑی ہی دیر میں گھر پہنچتا ہے۔دوران سفر اسی سوچوں میں گم سم رہتا ہے کہ ملک کی غریب عوام کا کیا بنے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں