سیاسی اصلاحات اور گڈگورننس….سردار پرویز محمود

غفور صاحب ہمارے دیرینہ ساتھی ہیں اور کافی جذباتی آدمی ہیں۔ ہم انکی پرجوش طبیعت اور وسیع تجربات اور مشاہدات کے ہمیشہ معترف رہے ہیں۔ ہم نے انہیں بتایا کہ ترقی یافتہ معاشرے میں تقریباً ہر چیز کی ناپ تول ہوتی ہے۔ جذبات اور احساسات کی بھی ناپ تول ہوتی ہے۔ اس ناپ تول کا غیر متوازن ہونا محکمہ صحت سے متعلقہ سمجھا جاتا ہے۔غفور صاحب ایک دن جذباتی ہوگیے۔ کہنے لگے ملک کے حق میں لکھا کرو۔
اس ایک جملے نے ہمیں کافی جنجھوڑا۔ تو گویا ہم وطن عزیز کے فیور میں نہیں لکھ رہے تھے۔ہم سمجھتے تھے ہم تو نقاد ہیں۔ مثبت تنقید کررہے ہیں۔ لیکن غفور صاحب کی دانست میں راقم کی تحریر ئیں شاید اتنی مثبت نہیں تھی۔ غفور صاحب کہنے لگے ہمارا ملک قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ دنیا کے نقشے پر بہت اہم جگہ واقع ہے۔ دفاعی لحاظ سے دنیا میں چھٹے یا ساتویں نمبر پر آتا ہے۔ ان ساری چیزوں کا ذکر کیوں نہیں کرتے آپ؟ میں نے عرض کی غفور صاحب ہم گورننس کی ایشیوز پر لکھتے رہتے ہیں۔ ہم سیاسی اصلاحات کے متعلق لکھتے رہتے ہیں۔ چونکہ ہم دنیا کے ترقی یافتہ ترین ملک میں عشروں تک رہے ہیں اس لیے ہم اپنے وطن عزیز کو اس سسٹم کے بارے میں بتانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں جو ہم دیکھا ہے اور جس پر ہم نے کام کیا ہے؟
غفور صاحب یہ جو ترقی یافتہ ممالک ہیں یہ ٹیکنالوجی میں ہم سے بہت آگے ہیں۔کچھ لوگ نئی ٹیکنالوجی ایجاد کرنے میں لگے ہیں۔کچھ نئی ٹیکنالوجی بیچنے اور پروموٹ کرنے میں لگے ہی۔ اور ملک چلانے والے اس ٹیکنالوجی کو سیکھنے کی کوشش میں لگے ہیں۔تب یہ ممکن ہوپاتا ہے کہ ادارے اور محکمے نئی سے نئی ٹیکنالوجی کو محکموں اور اداروں کے لازمی انفرا سٹرکچر کے طور پر اڈابٹ کرپاتے ہیں۔ وہاں کے لوگوں نے ان ممالک کے نظام کو عشروں اور صدیوں کی محنت، تجربات اور مشاہدات کے نتیجے میں تعمیر کیا ہے؟ یہ امیر ممالک ہیں۔ ان پر قرضے نہیں ہیں بلکہ یہ ترقی پذیر ممالک کو قرضے دیتے ہیں۔ ان ممالک کے شہری سال میں ایک بار دنیا کے دوسرے ممالک میں چھٹیاں گزارنے جاتے ہیں۔ ان لوگوں کی کرنسی ہمارے ملک کی کرنسی سے بہت مہنگی ہے۔غفور صاحب کیا آپ ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ہونے کا فرق محسوس کرتے ہیں؟ بولے ہاں وہ تو سہی ہے لیکن عوام مایوس کن تحریریں پڑھ کر مزید مایوس ہوتی ہے۔ آپ پرجوش تحریر لکھا کریں۔ پڑھ کہ دل خوش ہوجاے۔
میں نے عرض کی کہ موٹی ویشن تحریر راقم نے کبھی لکھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ لیکن سچ یہ ہے کہ عوا م بہت پرجوش ہیں۔بس انہیں یہ سمجھ نہیں آتا کہ دن بدن کھانے پینے کی اشیاء انکی قوت خرید سے باہر کیوں نکل رہی ہیں؟ وہ سمجھتے ہیں یہ جو شخص بھاگ بھاگ کر سب سے اونچی کرسی پر جا بیٹھا ہے۔ یہ شخص ان کی روٹی اور ٹماٹر مہنگے کررہا ہے؟ ہم انہیں یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ترقی پذیر رہنے کی قیمت چکانا پڑتی ہے۔ترقی پذیر نظام اور ترقی یافتہ نظام کا فرق سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔آگاہی کا سفر لمبا ہے۔لیکن ہم نے اس پر اتنا سوچا نہیں کہ ہماری تحریریں ڈی۔موٹی۔ویشن کا باعث بھی بن سکتی ہیں۔
غفور صاحب سے ہم نے عرض کی آپکو معلو م ہے کہ آئی۔ایم۔ایف کی قسطیں ہمارے ملک کی گاڑی میں ایندھن کا کام دے رہی ہیں۔
غفور صاحب آپ نے ریکوڈک کیس کے بارے میں سنا ہے۔ جس میں ہمارے ملک کو ہرجانے کے طور پر ایک غیر ملکی کمپنی کو چھ بلین ڈالر ادا کرنے ہیں۔ بولے مجھے نہیں معلوم۔ اور غفور صاحب آپکو پتہ ہے؟ آئی۔ایم۔ایف کی پچھلی قسط چھ بلین ڈالر تھی۔ بولے پھر؟
میں نے عرض کی آئی۔ایم۔ایف کے چھ بلین ڈالر ہرجانے میں جاتے نظر آر ہے ہیں؟ ترقی پذیر نظام کے نقائص کی بھاری
قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ بہت سے ممالک مل بیٹھ کر شرائط عائد کررہے ہیں کہ نظام بہتر کرو۔ ہم واپس جاکر انہیں بتاتے ہیں کہ کرلیا ہے۔ وہ نہیں مانتے۔ بار بار نہ ماننے پر ہم تنگ آکر کہتے ہیں آپ مدد کرو نظام بنانے میں۔اگر وہ نظام بنانے میں مدد کریں گے تو بل بھیجیں گے۔ اپنی ٹیکنالوجی بھی بیچیں گے۔ٹرینگ سیشن بھی بیچیں گے۔ مہنگا پڑے گا۔ مہنگائی بڑے گی۔ٹماٹر مہنگے ہوں گے۔ چھوٹے بچوں کا باپ خود کو آگ بھی لگا سکتا ہے۔ کوئی ماں اپنے شیر خوار بچوں سمیت زہر بھی کھا سکتی ہے۔
غفور صاحب بولے۔ کدھر کی بات کدھر جوڑ رہے ہو۔ پھر منفی بات کہتے ہو۔ میں نے عرض کی غفور صاحب یہ فیملیوں کی خود کشی واقعی مثبت نہیں ہے۔ آئیے کسی بڑے سیاسی جلسے کی بات کرتے ہیں۔ یہ لیاقت آباد میں اکثر سیاستدان جب بھی جلسہ کرتے ہیں بہت لوگ جمع ہوجاتے ہیں۔ یہ غربت سے تنگ آکر خود کشی کرنے والوں کو کہہ دیں جب لیاقت آباد میں جلسہ ہو ادھر آکر احتجاج کیا کریں۔ لیکن سکیورٹی بہت سخت ہوتی ہے۔ پھر لیاقت آباد پہنچنے میں بھی خرچہ تو ہوتا ہے۔ جیب میں اتنے پیسے ہو ں تو خاندان چند دنوں تک بھوکا نہیں رہے گا۔ جلسے میں جانے والے تھوڑے کھاتے پیتے گھرانے کے ہوتے ہیں کیا؟ پارٹی کے لیے نعرہ مارنا بھی تو ایک کام ہے جس کی اجرت ملتی ہوگی انہیں۔ نہیں ملتی کیا؟ پاور شو کرنے کے لیے پیسے خرچ کرن پڑتے ہو ں گے سیاستدانوں کو۔
ہم نے غفور صاحب سے معذرت چاہی کہ بات پھر تنقید پر چلی گئی ہے۔ بولے آپ یہ بتاو کہ آپ غریبوں کی کیا مدد کرتے ہو؟ میں نے سوچا غفور صاحب کے سوالات بہت براہ راست اور مشکل سے مشکل ہوتے جارہے ہیں؟ میں نے عرض کی آپ کی مراد خیرات سے ہے؟ یا آپکی مراد یہ ہے کہ میں اپنے ذاتی بجٹ میں سے غربا میں رقم بانٹوں؟ بولے جو بھی سمجھو تم مدد کیا کرتے ہو؟ میں نے عرض کی کہ غفور صاحب اگر آپ میرا لیاقت آباد میں کامیاب جلسہ کرنے والوں سے موازنہ کررہے ہیں تو وہ موصوف مجھ سے بہت امیر ہیں۔ انکے بڑوں نے پیسے بناے ہیں۔ انہوں نے آپکے قومی خزانے سے ہتھیاے ہیں۔ جس کی وجہ سے آپکے ہاں ٹماٹروں کی قیمت سر چڑھ کر بولتی ہے۔ میرا ان سے کیا مقابلہ؟
غفور صاحب یہ ای۔گورننس کی اصطلاح سنی ہے آپ نے؟ بولے نہیں تو۔ ہاں اگر گورننس میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاے تو تاجروں کی منت کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی کہ وہ ٹیکس نیٹ میں آجائیں۔ ہم نے ایسا سسٹم دیکھا ہے جہاں گورننس جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کی جاتی ہے۔ کوئی کسی کی منت نہیں کرتا۔کوئی اپیل نہیں کرتا۔ بات تک نہیں کرتا۔ بیوروکریسی کو جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی مسلسل ٹرینننگ لینا پڑتی ہے۔اور سیاستدانوں کو بھی۔
غفور صاحب جب آپ کسی چیز کو جانچتے ہیں تو اس کا اپنے ہم عصروں سے موازنہ کرتے ہیں۔ پیچھے رہ جانے کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے اور آگے نکل جانے کے اپنے فائدے ہیں۔ آگاہی اور شعور میں شامل ہے کہ ہمیں معلوم ہو کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ ایڈہاک ازم مسائل کا حل نہیں ہے۔ جب ہم کوئی بین الاقوامی مقدمہ ہارتے ہیں تو بہت تکلیف ہوتی ہے۔ جب بھارت ہمیں دباتا ہے تو آپ کو اذیت نہیں ہوتی کیا؟ بھارت ہم سے کئی گنا بڑا ملک ہے۔ ہمیں ہنڈز اپ کرنے کو کہہ رہا ہے۔ آپ کو یہ تو پتہ ہونا چاہیے نا۔
غفور صاحب اگر ترقی یافتہ دنیا میں آپ کسی کو یہ بتائیں کہ کسی ملک میں وکلاء نے اکٹھے ہوکر تھوڑ پھوڑ کی اور تشدد کیا تو وہاں کے لوگ اسے دلچسپ جوک سمجھیں گے۔اور انکی ہنسی روکے نہیں رکے گی۔ تو کیا وکلاء موب پاور پر یقین رکھتے ہیں؟ ایسا کون سا ملک ہے اور اب تک چل کیسے رہا ہے؟ اور انگلش پرس نے یہ بھی چھاپ دیا کہ ایف۔بی۔آر والے بغیر لائسینس سافٹ وئیر استعمال کررہے تھے تو امریکہ نے ان کو کہا کہ اس کا لائسینس خریدو۔ کیا پائیریٹیڈ کاپی استعمال کررہے تھے یا ڈیمو ورشن؟ ملک کا ٹیکس سسٹم یہ بھول کیسے کرسکتا ہے؟ ہر کلچر کی اپنی کامیڈی دیکھی ہے ہم نے۔ ایک اجنبی کلچر کی کامیڈی بھی سمجھ نہیں آتی۔ چنانچہ اس پر ہنسی بھی نہیں آتی۔ انگلش پرس کو کون ریکوسٹ کرے کہ آپ جو چھاپتے ہو وہ ولڈ وائیڈ ویب کا حصہ بن جاتا ہے۔ ملک کی رپوٹیشن کا خیال رکھا کرو۔ اپنے ملک کے جوکس مت بناو۔

( مضمون نگار کشمیر یورپین الائنس کے صدر ہیں)

اپنا تبصرہ بھیجیں