کراچی، عمارت گرنے سے کشمیر ی سمیت 14جاں بحق

کراچی (اسٹاف رپورٹر / نیوز ایجنسیز) کراچی کے علاقے گلبہار نمبر 2میں کمزور رہائشی عمارت غیرقانونی منزل کی تعمیر کے باعث زمیں بوس ہوگئی جس کے نتیجےمیں 7؍ خواتین اور شیر خوار بچوں سمیت 13؍ افراد جاں بحق ہوگئے، پھول والی گلی میں واقع 20سال پرانی 5منزلہ فاطمہ بلڈنگ پر غیر قانونی پینٹ ہاؤس تعمیرکیا گیا تھا، کمزور پشتے اضافی وزن برداشت نہ کرسکے۔عمارت منہدم ہونے سے ملحق 2؍ عمارتیں بھی ٹیڑھی ہوگئیں جبکہ چوتھی عمارت کو مخدوش قرار دیدیا گیا۔ تنگ گلیوں کے باعث ہیوی مشینری کی رسائی مشکل ہوگئی ، واقعے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا ہر طرف چیخ و پکار اور بھگدڑ تھی۔دوسری جانب ایف بی ایریا کے بلاک 16میں عمارت کو چھجا گرنے سے ایک شخص جان سے گیا ، چھجے پر غیر قانونی تعمیرات کرکے اسکول بڑھایا ہوا تھا ۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر ایس بی سی اے کا کہنا ہے کہ عمارت زمین بوس ہونے کے بعد متعلقہ ڈپٹی ڈائریکٹر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور بلڈنگ انسپکٹرز کو معطل کردیا ہے۔تفصیلات کے مطابق رضویہ تھانے کی حدود گولیمار نمبر 2 پھول والی گلی میں واقع پانچ منزلہ عمارت اچانک زور دار دھماکے سے زمین بوس ہوگئی جبکہ اس سے ملحق 2عمارتوں کا بیشتر حصہ گرا اور وہ ٹیڑھی ہوگئیں جس کے بعد قریب موجود چوتھی عمارت کو بھی مخدوش قرار دے دیا گیا۔پاک فوج، رینجرز کے جوان اور دیگر ریسکیو اداروں کے رضا کاروں نے موقع پر پہنچ کر آپریشن میں حصہ لیا اور سریے کاٹ کر ملبے کو ہٹایا، جبکہ تنگ گلیوں کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ایمبولینسز کو بھی پچھلی گلی سےلایا گیا، عمارت دن 12بجے گری ،واقعہ کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا ، ہر طرف چیخ و پکار اور بھگدڑمچ گئی ، فوری طور پر اہل علاقہ نے اپنی مدد آپ کے امدادی کام کا آغاز کیا۔عباسی اسپتال کے پولیس سرجن کے مطابق شام تک اسپتال میں 7 خواتین ، 3 بچوں سمیت14 افراد کی لاشیں منتقل کی گئیں جبکہ25 زخمی زیرعلاج ہیں۔ابتدائی طور عباسی اسپتال سے ملنے والی فہرست کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 16سالہ حرا رشید اس کی چھوٹی بہن سارا رشید، 9 ماہ کا شیر خوار بچہ حیدر خرم اور اس کا بڑا بھائی3 سا لہ یحییٰ خرم، 35 سالہ شہلا، 40 سالہ زبیدہ زوجہ محمد علی، 55 سالہ غلام مصطفی اور سب سے پہلے لائی جانے والی نامعلوم خاتون شامل ہیں۔ جبکہ ملبے تلے ایک بچے زندہ نکالا گیا۔واضح رہے کہ گرنے والی عمارت پر مزید ایک پینٹ ہاؤس تعمیر کیا جارہا تھا، علاقہ مکینوں نے مالک کو منع بھی کیا تھا لیکن اس نے ان بات نہیں مانی۔عمارت میں گراؤنڈ فلور پر کلینک تھا اور ملبے میں کلینک میں آئے مریضوں کے بھی دبے ہونے کا خدشہ ہے۔سینئر ڈائریکٹر ہیلتھ کے ایم سی کے مطابق 6 ؍ افراد کو حالت تشویشناک ہونے پر آئی سی یو میں منتقل کیا گیا ہے۔ ریسکیو حکام نے بتایا کہ عمارت پھول والی گلی میں گری اور اس عمارت کو فاطمہ بلڈنگ کے نام سے جا نی جاتی ہے، عمارت کے پشتے کمزور تھے جو عمارت کے گرنے کی وجہ بتائی جارہی ہے۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہےکہ بلڈنگ زیادہ پرانی نہیں 3 سے 4 سال قبل ہی تعمیر کی گئی تھی جس میں 5 خاندان رہائش پذیر تھے ،جوملبے تلے دب گئے جبکہ عمارت کے قریب کھڑی ہوئی کئی گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بھی ملبے میں دب گئیں۔بعض اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ عمارت 20 سال پرانی اور غیر قانونی ہے،جس پر نئی تعمیرات کی گئیں اور ناقص میٹریل کے استعمال کی وجہ سے یہ عمارت ملحق عمارتوں پر آگری۔علاوہ ازیں ایف بی ایریا بلاک 16 میں واقع عمارت کا چھجا گرنے سے ایک شخص جاں بحق ور 12زخمی ہو گئے ۔جاں بحق ہونے والے کا تعلق مظفرآباد کے علاقے پٹہکہ سے ہے جبکہ اس کے چار ساتھی بھی شدید زخمی ہو گئے ان کا تعلق بھی پٹہکہ سے ہےپولیس کےمطابق عمارت کی پہلی منزل پر اسکول تھا، چھجے پر تعمیرات کر کے اسکول کو بڑھایا ہوا تھا اور عمارت کےنیچے چائے کا ہوٹل تھا، حادثہ چھجے کی مرمت کےدوران پیش آیا۔ نیوز ایجنسیز کے مطابق ذرائع کے مطابق عمارت 40 گز کے پلاٹ پر تعمیر تھی اور اس کے چھت پر پینٹ ہاوس کی تعمیر کا کام کیا جارہا تھا۔ایڈیشنل ڈی جی ایس بی سی اے آشکارداوڑ نے بتایا کہ 40اور30گزکی کیٹیگری پررضویہ میں غیرقانونی تعمیرات کی جارہی ہیں، غیرقانونی تعمیرات کیخلاف کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے، عمارت کچھ پرانی تھی۔غیرقانونی عمارتیں بنی ہیں اوربنتی رہی ہیں، عمارت بنانیوالوں کو بھی سزا دینی چاہئے، یہ عمارت اندازا 20سال پرانی ہے جس پر چند ماہ قبل مزید چھت ڈالی گئی تھی جس کی وجہ سے یہ حادثہ رونما ہوا۔انہوں نے کہا کہ عمارت زمین بوس ہونے کے بعد ہم نے متعلقہ ڈپٹی ڈائریکٹر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور بلڈنگ انسپکٹرز کو معطل کردیا ہے۔آشکار داوڑ کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے 28 ؍ افراد کو حکومت سندھ نے میری رپورٹ پر معطل کیا ہے اور مزید جتنی بھی کالی بھیڑیں ہیں ہم ان کو پتہ لگا کر قرار واقعی سزا دیں گے۔ سپریم کورٹ کاحکم ہے غیرقانونی تعمیرات کرنیوالوں کونہیں چھوڑیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں