سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ / تحریر: محمدضیاء الرحمن

ظاہری طور پر آسمان لڑکے پہ مہربان نظر نہیں آ رہا تھا لیکن ظاہریت تو فقط نظر کا فریب ہے. شیر خواری میں بوجہ حالات والدین کو ہجرت کر کے خراسان آنا پڑا. لیکن تاتاریوں نے سلطان سنجر کو شکست دینے کے بعد خانقاہوں کو مسمار, کتب خانوں کو نظر آتش, علماء کو تہ تیغ اور بستیوں کو اجاڑنے کا ایسا سلسلہ شروع کر دیا جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا. ہر کسی کو جان کے لالے پڑے ہوئے تھے. صاحب ثروت اور عابد و زاہد والد گرامی جنہوں نے بیٹے کی تعلیم وتربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی اس کی کم عمری میں فانی دنیا سے ہمیشہ کے لیے کوچ کر گئے. مہربان و صالح والدہ نے لڑکے کی تربیت کو جاری رکھا. ابھی والد کی کمی کی شدت کم نہیں ہوئی تھی کہ والدہ محترمہ کا شفیق سایہ بھی سر سے اٹھ گیا. ورثے میں ایک باغ اور چکی ملی. پندرہ سال کی عمر اور اتنے سارے دکھ. شاید قدرت کسی خاص مشن کے لیے اس گوہر نایاب کو تراش رہی تھی. تعلیم چھوٹ گئی اور شب و روز باغ کی دیکھ بھال میں گزرنے لگے. کبھی کبھی نگاہیں آسمان کی طرف دعائیہ انداز میں اٹھتیں لیکن زبان پہ گلہ کبھی نہ آیا. ایک دن ایک بزرگ جنہیں تاریخ ابرہیم قندوزی رحمتہ اللہ علیہ کے نام سے یاد کرتی ہے وہ باغ سے گزر رہے تھے کہ لڑکے نے سعادت مندی سے کچھ دیر قیام کرنے کی درخواست کی. ابرہیم قندوزی رحمتہ اللہ علیہ جوش عقیدت کو دیکھتے ہوئے رک گئے. اس بات پہ مسرور لڑکا بھاگتا ہوا گیا اور انگور طباق میں رکھ کر بزرگ کو پیش کیے. چند انگور چکھنے کے بعد بزرگ نے کچھ نصیحتیں کیں, روٹی کا ایک خشک ٹکڑا کھانے کو دیا اور چلے گئے. یہ فیضان نظر تھا شاید کہ لڑکے کی من کی دنیا میں گویا کوئی طوفان برپا ہوا, صبح وہ باغ جو درخشاں مستقبل کا امین اور واحد وسیلہ روزگار نظر آتا تھا اس کو بیچا, رقم مستحقین میں تقسیم کی اور بغرض تعلیم سمرقند بخارا کا رخ کیا جو اسلامی علوم و فنون کے مراکز تھے. آج ہم اس خوبرو نوجوان کو حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ 530ھ (بعض مورخین کے نزدیک 536 یا 537 ھ) کو سیستان میں پیدا ہوئے. آپ کے والد گرامی کا نام حضرت خواجہ غیاث الدین اور والدہ کا نام سیدہ بی بی ماہ نور تھا. آپ نجیب الطرفین سید تھے. آپ کا سلسلہ نسب بارہ واسطوں سے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے ملتا ہے. تحصیل علم کے لیے آپ نے دوردراز کے سفروں کی صعوبتیں برداشت کیں. سمرقند بخارا میں حضرت حسام بخاری جیسے با عمل اور صاحب کردار استاذ سے قرآن حفظ کیا اور تفسیر, حدیث, فقہ اور ظاہری علوم میں مہارت حاصل کی. مرد کامل کی تلاش میں کوچہ گردی کرتے ہوئے جب اس جگر سوختہ کی نیشاپور میں حضرت خواجہ عثمان ہرونی رحمتہ اللہ علیہ سے ملاقات ہوئی تو گویا آپ کو منزل مقصود مل گئی. ان کے ہاتھ بیعت پر کر کے آپ سلسلہ چشتیہ میں داخل ہوئے. اس کے علاوہ اوش میں حضرت بہاؤالدین اوشی رحمتہ اللہ علیہ,دمشق میں حضرت عارف رحمتہ اللہ علیہ, تبریز میں حضرت ابو سعید تبریزی رحمتہ اللہ علیہ (آپ مشہور بزرگ حضرت جلال الدین تبریزی رحمتہ اللہ علیہ کے پیر و مرشد تھے), اصفہان میں حضرت محمود اصفہانی رحمتہ اللہ علیہ, استر آباد میں حضرت ناصر الدین رحمتہ اللہ علیہ (آپ حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کے پوتے تھے) اور بہت سے دیگر بزرگان دین و مشائخ اسلام سے روحانی فیوض و برکات حاصل کیں. بعض مورخین حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی آپ کی ملاقات ثابت کرتے ہیں. ان تمام بزرگان دین کی صحبت اور مرشد کامل نے آپ کو ایسا گوہر نایاب بنا دیا جس پر آپ کے مرشد بھی فخر کرتے تھے.
معین الدین محبوب خدا است
و مرا فخر بر مریدی او
حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ اپنے مرشد کے ساتھ حج کرنے گئے تو خانہ کعبہ بوقت حاضری حضرت عثمان ہرونی رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کو سپرد خدا کیا. روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جب آپ نے سلام پیش کیا تو آپ کو ”سلطان الہند” کے لقب سے جواب آیا. خوشی و مسرت سے نہال پیر و مرشد نے حاضری کی قبولیت کی نوید سناتے ہوئے ہندوستان میں دین اسلام کی تبلیغ کا حکم صادر فرمایا. آپ نے سر تسلیم خم کیا اور کوہ و صحرا کی مسافتیں طے کرتے ہوئے جب لاہور پہنچے تو وہاں شیر لاہور حضرت عثمان بن علی ہجویری رضی اللہ تعالی عنہ کے مزار شریف پر حاضری دی. مرکز تجلیات پہ چلہ کشی کرنے کے بعد رخصت ہوتے وقت آپ نے فی البدیہ یہ شعر پڑھا
گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا
ناقصاں را پیر کامل, کاملاں را راہنما
دین اسلام کا جھنڈا گاڑھنے کے لیے سفر و حضر کی تکلیفوں پریشانیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے, آپ چند درویشوں کے ساتھ ہندوستان میں موجودہ اجمیر شریف کے قریب ایک وسیع میدان میں رکے جہاں سے تارا گڑھ کا قلعہ نظر آتا تھا. اجمیر اس وقت برصغیر کی سب سے طاقتور ہندو حکومت کا دارالسلطنت تھا جہاں بہادر اور جنگجو قوم راجپوت حکمران تھی. جس میدان میں آپ نے قیام کیا وہ راجہ پرتھوی راج چوہان کے اونٹوں کی قیام گاہ تھی. راجہ کے ملازموں نے جب درویشوں کو وہاں دیکھا تو ان کو وہاں سے رخصت ہونے کو کہا. جب وہ اخلاقیات کی حدود پار کرنے لگے تو ملکوتی تبسم ہونٹوں پے سجائے جو کہ آپ کی عادت ثانیہ بن چکی تھی آپ وہاں سے اناساگر کے قریب آ گئے اور آتے ہوئے فرمایا کہ ہم تو یہاں سے اٹھ جاتے ہیں بعد میں پتہ نہیں کوئی اٹھ پاتا ہے یا نہیں. اگلی صبح ساربانوں نے اونٹوں کو وہاں سے اٹھانے کی سر توڑ کوشش کی, کوڑے تک برسائے لیکن وہ بے زبان ٹس سے مس نہ ہوئے. حیران و پریشان ساربان راجہ کے دربار میں پہنچے اور صبح و شام کے واقعات گوش گزار کیے. وہاں موجود کچھ لوگوں نے آپ سے معافی مانگنے کا کہا. چنانچہ آپ سے جب معافی مانگی گئی تو اونٹ وہاں سے اٹھ گئے.
مذکورہ بالا واقعہ قرب و جوار میں آگ کی طرح پھیل گیا. راجپوت امراء, عام لوگ, سادھو سنت آپ کو بہت بڑا ساحر سمجھتے ہوئے آپ کو دیکھنے آتے. آپ ان کو خدا کی وحدانیت, ذات پات کی بجائے مساوات, بھائی چارے اور دین اسلام کی روشن تعلیمات کا بتاتے. لوگ آپ کے اخلاق و عادات اور عملی زندگی سے متاثر ہو کر دائرہ اسلام میں داخل ہوتے رہے. پرتھوی راج چوہان نے آپ کے روز بروز بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے لیے شادی دیو کو مقابلہ کرنے بھیجا. وہ لاف زنی کرتا ہوا آیا لیکن اس کا رام رام سے رحیم رحیم تک کا سفر چند منٹوں میں طے ہو گیا. اس کے بعد ہندوستان کے سب سے مشہور ساحر جوگی جے پال آیا لیکن وہ بھی آپ کے کھڑاؤں کی ضرب سے تائب ہوا. آپ نے اس کا نام عبداللہ رکھا. آج آپ عبداللہ بیابانی کے نام سے مشہور ہیں. راجہ نومسلم راجپوت امراء کو قتل کروا کر سلطنت میں شورش اور ہنگامہ آرائی نہیں چاہتا تھا. لیکن آپ کے مریدین اور ارادت مندوں کو مختلف حیلوں بہانوں سے تنگ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا. حتی کہ اناساگر کا پانی مسلمانوں پر بند کر دیا. بحکم خدا اس کی یہ یزیدی سازش ناکام ہوئی. جب اس کی ایذا رسانیاں حد سے تجاوز کرنے لگیں تب ایک دن آپ نے جلالی انداز میں فرمایا: من ترا زندہ بدست لشکر اسلام بسیروم(میں نے تجھے زندہ حالت میں لشکر اسلام کے حوالے کیا) درویش کی اس بات کا تمسخر اڑایا گیا لیکن قدرت اپنے محبوب بندوں کی لاج ضرور رکھتی ہے. ادھر شہاب الدین غوری کو خواب میں کوئی نورانی چہرے والے بزرگ ہندوستان پر دوبارہ حملہ کرنے کا حکم اور فتح کی بشارت سنا رہے تھے. قصہ مختصر, غوری نے حملہ کیا, پرتھوی کو شکست ہوئی اور اس کی غرور سے اکڑی گردن سے سر کا بوجھ ہلکا کیا گیا. بعد از فتح شہاب الدین غوری نے جب آپ کی شہرت دیکھی تو قدم بوسی کے لیے حاضر ہوا. غوری کو مل کے پتہ چلا کہ جس نورانی چہرے نے خواب میں فتح کی بشارت دی تھی وہ آپ خواجہ معین الدین ہی تھے
عفو درگزر, صبر و تحمل, رحم و ہمدردی, اخوت و مساوات, عاجزی و انکساری کے ساتھ ساتھ اسلام کی محبت کا جذبہ حضرت معین الدین رحمتہ اللہ علیہ میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا. آپ حقیقی معنوں میں نبی آخر الزماں کے اسوہ کامل کا عملی نمونہ تھے. آپ کی کرامات بہت زیادہ ہیں لیکن یہ کرامت کیا کم ہے کہ برہما, وشنو, کرشنا اور ان گنت دیوی دیوتاؤں کی پوجا کرنے والوں کو توحید کا درس پڑھایا اور قیامت تک کے لیے ہندوستان میں اسلام کا جھنڈا گاڑ دیا. آج بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ ذکر معین الدین کے ساتھ فکر معین الدین کا بھی پرچار کیا جائے. یہی اسلام کی تبلیغ و اشاعت کا احسن طریقہ ہو گا اور فقط اسی طریقے سے ان کے مشن کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے. یہ اللہ کا سفیر, یہ خرقہ پوش 6 رجب 633 کو جوش گریہ میں بھیگے ہوئے ہزاروں دامن چھوڑ کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملا. دلربا تبسم جو ساری زندگی آپ کے چہرے کی زینت رہا, وہ وفات کے بعد بھی آپ کے چہرے پہ فروزاں تھا.
نشان مرد مومن با تو گویم
چو مرگ آمد تبسم بر لب اوست
آپ کی وفات کے وقت پیشانی پر یہ الفاظ تحریر تھے: حبیب اللہ مات فی حب اللہ(اللہ کے دوست نے اللہ کی محبت میں وفات پائی)
امیر خورد جو نظام الدین اولیاء کے مرید تھے ”سیدالاولیاء” اور دارا شکوہ ”سفینتہ الاولیاء” میں لکھتے ہیں کہ جس رات آپ کی وفات ہوئی اس رات بہت سے بزرگوں نے خواب میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آج اللہ کا دوست آ رہا ہے. آپ کا عرس مبارک 6 سے 9 رجب ہر سال جوش عقیدت سے منایا جاتا ہے جس میں ہندوستان اور دوسرے ممالک سے شریک ارادت مند روحانی فیض حاصل کرتے ہیں. سلطان شمس الدین التمش, سلطان محمود خلجی, شہنشاہ اکبر, جہانگیر, شاہ جہان جیسے بڑے بڑے سلاطین آپ کے دربار پر میلوں ننگے پاؤں چل کے حاضری دینے کو فخر سمجھتے. مہاتما گاندھی, نہرو, ڈاکٹر رادھا کشن نے بھی یہاں حاضری دی. اب بھی تمام مذاہب کے لوگ اپنے من کی مرادیں لے کر یہاں آتے ہیں. لارڈ کرزن نے 1902 میں حاضری کے بعد کہا کہ میں نے ہندوستان میں ایک قبر کو حکمرانی کرتے ہوئے دیکھا ہے. آپ حقیقتا سلطان الہند ہیں جو آج بھی لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں