پیکرِاخلاص مولانا فضل کریم رحمۃ اللہ علیہ / تحریر: مولانا کبیر احمد

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
علّامہ اقبا ل رحمۃ اللہ علیہ نے یہ شعر علّامہ انور شاہ کشمیری کی وفات پر کہا تھا،لیکن مولانا فضل کریم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت پر میرے نہاں خانہ ِ دل پہ بے ساختہ مذکورہ شعر وارد ہوا۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ:
موت سے کس کو رستگاری ہے
آج وہ کل ہماری باری ہے
مردم خیز خطّہ چکسواری سے ملحقہ علاقہ پنڈ خورد میں میاں فتح محمد کو اللہ تعالیٰ نے دو بیٹوں سے نوازا،بڑے بیٹے کرم الٰہی تھے اور چھوٹے محمد افسر۔آخر الذّکر کو اللہ تعالیٰ نے چار بیٹے عطا فرمائے، محمد صابر (جو حافظ محمد صابر کے نام سے پہچانے جاتے ہیں)، محمد اکرم، محمد اسلم اور عبد الخالق۔ میاں کرم الٰہی کو تین بیٹے فضل حسین، محمد حبیب اور عبدالمجید عطا فرمائے۔ میاں کرم الٰہی کے بڑے فرزند مولوی فضل حسین (بعد ازاں جنھوں نے اپنے استاذ مولانامحمد ابراہیمؒ کی خواہش پر اپنا نام فضل کریم رکھ لیا) 1922؁ء میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم اپنی دادی اور والد ماجدسے حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹانے لگے جن میں صبح سویرے تہجد سے قبل دریا سے پانی لانا، تہجد اور نمازِ فجر کے بعدجنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لانا اور جانوروں کے لیے چارہ لانا شامل تھے۔ بیٹے کے دل میں علم دین کے حصول کا شوق موجزن تھا، والدین سے اجازت لی جو انھوں نے بخوشی دے دی تو علاقہ ڈڈیال میں قائم مشہور مذہبی، سیاسی رہنما مولانا عبداللہ سیاکھوی کے ادارہ میں سلسلہ تعلیم کا آغا ز ہوا۔ جہاں وقت کے ممتاز عالم دین جامع معقول والمنقول حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب (کنگر بدھال والے، سابق مدرّس، درمدرسہ امیرِ ملّت حضرت پیر سید جماعت علی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ) کے پاس ترجمہ و تفسیر قرآن کریم، فقہ، اصول فقہ، نحو و صَرف اور منطق کی تعلیم حاصل کی۔ مولانا محمد ابراہیم کے حلقہ درس میں آپ کے ہم درس اور ہم استاذ رفقاء میں حضرت پیر علی جان شاہ صاحب (بانی رہنما پیپلز پارٹی آزادکشمیر)، مایہ نا ز وکیل عبدالخالق انصاری (بانی محاذ رائے شماری) اورمشہور خطیب مولانا عبد الرحمٰن صاحب (کوٹ کند و خان) وغیرہ شامل تھے۔ اس کے علاوہ لاہور میں بڑے میاں /چھوٹے میاں کے مدرسہ میں فارسی ادب کی تعلیم حاصل کی جن میں کریما سعدی، گلستان، بوستان، یوسف اور زلیخا وغیرہ کتابیں مکمل کیں اور مولانا قاضی غلام مصطفیٰ صاحب سے علمِ حدیث میں مشکوٰۃ شریف اور دیگر کتبِ حدیث پڑھیں۔

آپ کے معمولات میں نمازِتہجد، تلاوتِ قرآنِ کریم، مسجد میں اذانِ فجر، نمازِفجر کے بعد گھر آکرتلاوت، اشراق کے نوافل، اِس کے بعد ناشتہ پھر چاشت کے نوافل، مطالعہ (معارفِ القرآن، تفسیرِ مظہری، احیاء العلوم وغیرہ)۔ نمازِ ظہر کے بعد تلاوتِ قرآنِ کریم، گھر میں آئے بچّوں، بچیوں کو تعلیمِ قرآن۔ نمازِعصر کے بعد تلاوت، وظائف، نمازِمغرب کے بعد تلاوت اِسی طرح نمازِعشاء کے بعد بھی تلاوتِ قرآنِ کریم۔ صحت کے زمانے میں جب گلی بارش کے پانی سے بھر جاتی مگر اِس کے باوجود مسجد میں باجماعت نماز ادا فرماتے، اِسی طرح رمضان میں افطاری مسجد میں فقط کھجور اور پانی کے ہمراہ کرتے، تاکہ جماعت کے ساتھ نماز میں شریک ہو سکیں۔

ابتداً آپ نے لاہور ہی میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ جہاں آپ امامت کے فرائض سر انجام دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے لحن ِ داؤدی عطا فرما رکھا تھا، ایک مرتبہ ایک وکیل صاحب نے آپ کی امامت میں نماز ادا کی، تو بعدِ نماز آپ سے کہا کہ اگر آپ تجوید و قرأت بھی پڑھ لیں تو سونے پہ سہاگہ ہوگا، چنانچہ تجوید و قرأت کے لیے قاری محمد افضل صاحب کی خدمت میں زانوئے تلمّذ تہہ کیے۔
1950؁ء کے بعد آپ نے ڈڈیال اور نواحی علاقوں پگل چک، تاجپور، ایسر پنڈ خورد اور علاقہ پوٹھار میں پڈھانہ اور پیر پلائی وغیرہ مقامات پر تدریسی خدمات انجام دیں۔ بعض ایسے مقامات پر بھی درس و تدریس کا موقع ملا جہاں جہالت سرچڑھ کر بولتی تھی، لوگ دین سے اتنے دور تھے کہ نماز وغیرہ کی پابندی تو کجا احترام رمضان تک کا لحاظ نہ تھا۔ اس بابرکت مہینے میں بھی سرِ عام تندور جلا کرروٹیاں پکائی جاتیں۔ آپ نے علاقہ کے بااثر لوگوں کو سمجھا کر، اہلِ محلّہ کو مسجد کے ساتھ جوڑا اور وہاں کے بچوں اور بچیوں کوقرآن ِ کریم کی تعلیم کا ایسا گرویدہ بنایاکہ اِن علاقوں میں قرآن کریم کی بہاریں گھر گھر سے آنے لگیں۔گھروں میں بچیوں نے قرآنی مکاتب قائم کر کے چھوٹی بچیوں اور عمر رسیدہ خواتین کو دینی تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا شروع کیا۔

ڈڈیال میں تاجپور بڑا گاؤں تھاجس کے نمبردار چودھری دیوان علی،جو1919؁ء سے برطانیہ میں مقیم تھے۔موصوف نے مولانا فضل کریم صاحب کو اپنے ہاں پڑھانے کی دعوت دی، جسے انھوں نے قبول کر لیا اوراس مقام پر انتہائی محنت و لگن سے درس و تدریس اور امامت کی ذمّہ داری نبھانی شروع کی، جس سے چودھری دیوان علی بہت متاثر ہوئے اورایک موقع پر آپ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا، میرا ایک ہی بیٹاچودھری فضل الٰہی ہے اور آج سے آپ میرے دوسرے بیٹے ہیں، آپ میرے بیٹے کا ساتھ کبھی نہ چھوڑنا۔ چنانچہ تا زیست آپ نے اس کی لاج رکھی۔
آپ تاجپور میں دینی و تعلیمی ذمّہ داریاں نبھا رہے تھے،کہ1960؁ء کی دہائی میں منگلا کے مقام پر ڈیم بنانے کا اعلان ہوا۔ جس کے نتیجے میں تاجپور سمیت ساٹھ پٹوار کا علاقہ زیرِ آب آیا۔نقل مکانی کے بعد زیادہ تر لوگ پنجاب اور سندھ کے علاقوں میں آباد ہوئے،تاجپور کے لوگ ضلع جہلم میں دینہ منگلاروڈ کے مقام پر آباد ہوئے۔ اسی نسبت سے اِس جگہ کو تاجپوری محلّہ کے نام سے شہرت حاصل ہوئی۔ 1967؁ء میں مولانا فضل کریم بھی مستقل طور پر دینہ منتقل ہو گئے اور چودھری فضل الٰہی مرحوم کے قائم کردہ ادارہ میں ان کے رفیق و معاون بلکہ دست ِ راست بن کر ہمہ جہت مصروفِ عمل ہو گئے۔

ڈڈیال میں تعلیمی خدمات کے دوران آپ نے اپنے چچا زاد بھائی حافظ محمد صابر، بڑے بیٹے قاری نذیر احمد ربّانی اور بھتیجے حافظ محمد بشیرکو اپنے ساتھ رکھا، یہ آپ کی تعلیم و تربیت کا ہی نتیجہ تھا کہ اُن کا دینی و علمی فیضان برطانیہ و امریکہ تک جاری ہے۔ نیو یارک امریکہ کی مکّی مسجد جس میں بیک وقت چھ ہزار نمازی جمعہ اداکرتے ہیں، انہی حافظ محمد صابر کی محنتوں کا ثمر ہے، جس کے موصوف چیئرمین ہیں۔ اسی طرح برطانیہ میں حافظ محمدبشیر، آپ کے فرزندان قاری محمد نذیر، مولاناعبدالرّحیم، مولانا عبدالحکیم، قاری عبدالحلیم ور آپ کے پوتے حافظ عبد الحمید، حافظ عبدالحفیظ و دیگر دینی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ اندرون و بیرونِ ملک آپ کی بیٹیاں بھی درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ یوں آپ کے بیٹے، بیٹیوں، پوتے، پوتیوں، نواسے، نواسیوں سمیت خاندان کے تقریباً چالیس افراد حافظ و عالم ہیں، جو یقینا آپ کے لیے عظیم الشّان صدقہِ جاریہ ہیں۔برطانیہ کی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز کھلاڑی عادل رشید، آپ کے حقیقی بھتیجے حاجی عبدالرّشیدکے بیٹے ہیں، جو بلا شبہ آپ کی دعاؤں اور نیک تمناؤں کی بدولت ہی اس مقام تک پہنچے ہیں۔

مولانا فضل کریم رحمۃاللہ علیہ نے وطن ِ عزیز کی مختلف دینی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا، تحریکِ ختمِ نبوت1974؁ء میں گرفتار ہوئے اور جیل میں پابندِ سلاسل رہے، کئی ماہ بعد آپ کے نو عمر بیٹے عبدالقدیر کی وفات پراحباب نے جنازہ کے لیے پیرول پر رہائی کی درخواست کی تو حکومت نے مستقل طور پر رہا کر دیا۔اس کے علاوہ تحریکِ نظام مصطفیٰﷺ،تحریک مدحِ صحابہ اور دعوت و تبلیغ کی عا لمگیر جماعت کے ساتھ بھی وابستہ رہے۔ دینی خدمات کی بناء پرصدرِ پاکستان جنرل ضیاء الحق مرحوم کی قائم کردہ صلوٰۃ کمیٹی کے ممبر بنے۔مولانا مرحوم جنرل ضیاء صاحب کی دینی سوچ و فکر کی وجہ سے تذکرۂ ِخیر فرماتے تھے۔
مولانا فضل کریم رحمۃ اللہ علیہ نے جن مشائخِ عظام اور علماءِ کرام سے فیض حاصل کیا، ان میں قطب الاقطاب حضرت مولانا احمد علی لاہوری، مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع، شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان، علّامہ عنایت اللہ شا ہ بخاری، مولانا عبد اللطیف جہلمی، شیخ الحدیث حضرت مولانا یوسف خان، مولانا مفتی محمود، مولانا ابراہیم سیاکھوی، مولانا عبد اللہ سیاکھوی، مولانا محمد یوسف (والدِ گرامی مولانا عبد الشکور صاحب) اور مولانا ضیا ء القاسمی و دیگر قابل ذکر ہیں۔ حضرت پیر محمدفاضل صاحب (ڈھانگری شریف) اور دیگر مشائخ سے بھی ملاقات کے لیے تشریف لے جایاکرتے تھے۔ آپ کے رفقاء میں مولانا عبد الرّشید ربّانی (برطانیہ)، مولانا سیّد سلیم شاہ، مولاناشیر محمد عثمانی، قاری تصوّر الحق مدنی، مولانا محمّد فاضل اور مولانا حکیم محمد حسین صاحب (دینہ) وغیرہ شامل ہیں۔

آپ حجّ بیت اللہ کی شریف کی سعادت سے بھی بہرہ مند ہوئے۔ بعد ازاں عمرہ کے سفر کے لیے بھی تشریف لے گئے۔ حرمین میں گزرے مبارک ایّام کی باتیں بڑے عاشقانہ اور والہانہ انداز میں سُناتے۔ خانہ کعبہ کے پہلے طواف کا تذکرہ کرتے ہوئے پُر مسرّت انداز میں بتاتے کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے بڑی آسانی سے ہر چکر میں ’حجرِ اسود‘ کو بوسہ دینے کی سعادت ملی۔ مدینہ طیّبہ کے درو دیوار، وہاں کی تمام چیزیں اورخصوصًا آقا دو عالم ﷺ کا روضہ مبارک اور مسجد نبوی شریف کی حاضری، درود وسلام پیش کرنے کے مناظرنہایت شیریں اور دلنشیں انداز میں بیان فرماتے۔ دو مرتبہ برطانیہ کے سفر پر بھی تشریف لے گئے۔ وہاں سینکڑوں شاگردوں کی چاہت اور خواہش کے باوجود اپنی ذات کے لیے کوئی مالی منفعت حاصل نہیں کی، البتہ (مدرسہ تعلیم الاسلام دینہ) کے لیے احباب کو توجہ دلائی اور تعاون حاصل کیا۔

یوں تو حضرت رحمۃاللہ علیہ کو کوئی بڑی بیماری یا دائمی مرض کی شکایت نہ تھی، البتہ طویل العمری کے باعث کمزوری و نقاہت کا مسئلہ وقتًافوقتًا لاحق رہا اور زندگی کے آخری میں صحت میں اُتار چڑھاؤ کی کیفیت رہی۔26فروری2020؁ٗ؁ء بدھ کی رات ہسپتال میں زیرِ علاج تھے، زبان پر اللہ اللہ کا ورد جاری تھا، پاس موجود بیٹے، بیٹیاں، داماد، پوتے سورۂ یٰسین اور کلمہِ توحید پڑھ رہے تھے کہ وقتِ موعود آن پہنچا، وفات سے قبل کلمہ طیّبہ پڑھا اور جان جانِ آفرین کے سپرد کر دی (اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُونْ)۔ اپنے خاندان اور ہزاروں شاگردوں کوسوگوارچھوڑ کراِس جہانِ فانی سے کُوچ کر گئے۔ 27فروری کو دینہ میں ایک جمّ غفیر نے آپ کے بڑے بیٹے قاری محمّدنذیر ربّانی کی امامت میں آپ کا جنا زہ پڑھا اور اپنے معصوم پوتے ابراہیم حکیم کی پائینتی آسودۂ خاک ہوئے۔

ربّ دو عالم سے دُعا ہے اللہ کریم مرحوم و مغفور کو کروٹ کروٹ خلدِ بریں نصیب فرمائے۔(آمین)
آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نو رستہ اِس گھر کی نگہبانی کرے

اپنا تبصرہ بھیجیں