حوالدار(ر)راجہ محمد آمین( مرحوم) 1 کلومیٹر شاہراہ کا منصوبہ مکمل

شاہراہ کی تعمیر پرساڑھے تین لاکھ روپے تخمینہ لاگت آئی،افتتاح کے موقع پر پیر کوٹ کے مقام پر یونائٹیڈ یوتھ ہٹالہ پدر کی طرف سے شاندار تقریب کا انعقاد،، نعیم حیات خان نے افتتاح کیا

سڑک نہ ہونے کی وجہ سے علاقہ مکین اضطراب کا شکار تھے ، سڑک تعمیر کرکے یونائیٹڈ یوتھ دوسروں کیلئے عزم و ہمت کی مثال بن گئی ہے ، نعیم حیات کا خطاب

چترہ ٹوپی باغ (نیل فیری نیوز)سماجی تنظیم یونائیٹڈ یوتھ ہٹالہ پدر ٹوپی نے اپنی مدد آپ کے تحت حوالدار(ر)راجہ محمد آمین( مرحوم) 1 کلومیٹر شاہراہ مکمل کر لی ۔شاہراہ کی تعمیر پرساڑھے تین لاکھ روپے تخمینہ لاگت آئی ۔ یونائیٹڈ یوتھ کے بانی وچیف ایگزیکٹیو روزنامہ نیل فیری نعیم حیات نے سڑک کا افتتاح کیا ۔اس سلسلے میں اتوار کے روز پیر کوٹ کے مقام پر یونائٹیڈ یوتھ ھٹالہ پدر کی طرف سے ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمان خصوصی نعیم حیات خان تھے۔ تقریب میں عوام علاقہ کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔اس پر انہوں نے سڑک کے لئے30 ہزار روپے کا عطیہ دیا ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے نعیم حیات خان نے کہا کہ قوتِ بازو اور اجتماعی عمل پر یقین رکھنے والے ہٹالہ پدر ٹوپی کے باسیوں نے ایک ایسا کارنامہ سرانجام دیا ہے جو دوسروں کیلئے مثال بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی عدم توجہی کو اہلیان علاقہ نے اپنی ترقی کے پہیے میں آڑے نہیں آنے دیا اور اپنی مددآپ کے تحت ایک کلو میٹر سڑک بناکر نئی تاریخ رقم کردی۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے (جن میں جاپانی اور چینی عوام سرِفہرست ہیں)جنہوں نے اس مصرعے”خدا ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں”کا عملی نمونہ پیش کرتے ہوئے پوری دنیا کو حیران کرتے ہوئے اپنے آپ کو منوایاہے۔ ہمیں بھی اپنی مدد آپ پر عمل کرتے ہوئے اپنے اپنے علاقوں کو تعمیر و ترقی کا گہوارہ بنانا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ سڑک کے حوالے سے تین لنکس مکمل ہوئے ہیں جن پر تقریباً دس لاکھ خرچ آیا ہے جو عوام علاقہ نے اپنی مدد آپ کے تحت ہی آخراجات اٹھا ے، انہوں نے کہا کہ بنیادی ضرورت سڑک کی تعمیر کے سلسلے میں لوگوں کا جذبہ دیدنی تھا بغیر معاوضے کے حصول کے عوام نے پوری تندہی کے ساتھ اجتماعی مفاد کیلئے کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام علاقہ نے حکومتی عدم توجہی کو اپنی مجبوری بننے نہ دیتے ہوئے سڑک کی تعمیر میں حصہ ڈا لا اور بالاخر طویل جدوجہدسے روڈ بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ جس سے گاؤں کے سینکڑوں نفوس کیلئے پیدل سفر اب قدرے آسان ہوگیاہے۔مگر اب پکا روڈ کون بنائے گا حکومت یا پھر وہ خود؟ انہوں نے کہا کہ یونائیٹڈ یوتھ ہٹالہ پدر ٹوپی کے پلیٹ فارم تلے منصوبہ مکمل کرکے اہلیان علاقہ دوسروں کیلئے عزم و ہمت کی مثال بن گئے ہیں۔ نعیم حیات خان نے کہا کہ سڑک نہ ہونے کی وجہ سے علاقہ مکین اضطراب کا شکار تھے، ہسپتالوں کو پہنچتے پہنچتے کئی حاملہ خواتین موت کی وادی میں چلی گئیں۔ علاقہ کا ہر فرد آٹے کا چالیس کلو والا تھیلہ 500 مزدوری دیکر اپنے گھر پہنچاتا تھا۔ یہ صورتحال ناقابل برداشت تھی،کئی خاندان علاقہ چھوڑکر دیگر علاقوں میں بسنے لگے ۔ ہٹالہ پدر ٹوپی کے مکین حکومتی اداروں اور منتخب نمائندوں کی راہیں تکتے رہے مگر کسی کو رحم نہیں آیا۔کئی بارحکومتی اداروں نے عوام علاقہ کو حیلے بہانوں سے ٹرخایا مگر سڑک کی تعمیرپہ عملی کام کوئی نہ کرسکا۔ مگرحکومتی عدم توجہی کو علاقائی لوگوں نے اپنی مجبوری بننے نہ دی اور اجتماعی طورپر سڑک کی تعمیر میں حصہ ڈالا انہوں نے کہا کہ اب اگر حکومت اس سڑک کو پکا کرے تو عوام کے لئے مزید آسانی ہوجائے گی ۔ حکومت کو چاہیے کہ اس جانب بھی توجہ دے۔ اس موقع پر اہلیان علاقہ نے نعیم حیات خان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یونائٹیڈ یوتھ کا جو پودا نعیم حیات خان نے جو لگایا تھااس نے اپنا پھل دینا شروع کر دیا ہے۔ مقررین نے راجہ حسن محمد کا بھی بے حد شکریہ ادا کیا جنہوں نے سڑک کی تعمیر کے حوالے سے کلیدی کردار ادا کیا ، تقریب میں یوناییٹڈ یوتھ کے خورشید امین نے پانی کے پروجیکٹ پر کام شروع کرنے کا اعلان کیا اور اس ضمن میں ا انہوں نے تمام مخیر حضرات سے تعاون کی اپیل بھی انہوں نے امید ظاہر کی کہ انشاء اللہ ہمارا اسی طرح کا ساتھ رہا تو وہ وقت دور نہیںکہ ایک دن ہم اپنی وارڈ کو اور وارڈ کے مکینوں کو سرخرو دیکھیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں