پاکستان و آزادکشمیر کی حکومتیں برطانوی شہریوں کے تحفظات دور کریں۔ کونسلر عارف حسین (لیڈز سٹی کونسل برطانیہ)

چک سواری (صبر شیراز سے) کونسلر عارف حسین چودھری لیڈز سٹی کونسل نے کہا ہے کہ ضلع میرپور بالخصوص حلقہ ایل اے ٹو چک سواری میں برطانیہ سے آئے تارکین وطن کشمیریوں سے امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ضلعی انتظامیہ تارکین وطن کشمیریوں کی تضحیک کررہی ہے۔ تارکین وطن کشمیریوں کو اپنے وطن میں وی آئی پی پروٹوکول نہیں چاہیے بلکہ وہ تمام شہریوں کے ساتھ باعزت برتائو کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اپنے عہدے کا تعارف یا تعلقات ظاہر کیے بناء جائز اور قانونی کام نہ ہونا افسوس ناک ہے۔ انتظامی دفاتر میں کوئی ضابطہ نہیں اور نہ ہی اپنی باری کا انتظار کرنے کا رجحان ہے۔ آزاد کشمیر و پاکستان میں موجود تمام تارکین وطن بالخصوص برطانوی شہری واپس برطانیہ جانا چاہتے ہیں۔ اُن کی ذاتی مجبوریاں ہیں، کسی کے خاندان کے بقیہ افراد وہاں ہیں اور کسی کا عزیز اسپتال میں بیمار ہے ایسے میں ائیر لائننز کمپنیاں برطانوی شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہیں اور اس حوالہ سے حکومتِ پاکستان و آزادکشمیر کے اقدامات کہیں نظر نہیں آرہے۔ ریٹرن ائیر ٹکٹ لے کر آنے والے برطانوی شہریوں کو یہاں سے دوبارہ ائیر لائن کا ٹکٹ لینا پڑ رہا ہے جس کی مالیت تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے بنتی ہے جو سراسر ناانصافی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آزاد پریس کلب چک سواری میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

کونسلر عارف حسین چودھری نے کہاکہ برطانیہ کی نسبت پاکستان و آزادکشمیر میں حالات کافی بہتر ہیں اور یہاں کی حکومتوں کے اقدامات بھی لائق تحسین ہیں لیکن کثیر زرمبادلہ بھیجنے والے تارکین وطن بالخصوص برطانوی شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کسی صورت قابل قبول نہیں۔ یہاں کی حکومتیں اگر تارکین وطن کو واپس آنے سے روکنا چاہتی ہیں تو یہ عمومی قانون ہونا چاہیے نہ کہ صرف برطانوی شہریوں کے لیے۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی کے شہریوں کے ساتھ یہاں روا رکھے جانے والے سلوک بارے برطانیہ کے ایم پیز سے رابطے میں ہوں اور چند دن قبل بیرسٹر عمران حسین ایم پی بریڈ فورڈ سے بھی اس بارے بات ہوئی ہے جنہوں نے وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان سے رابطہ کیا اور برطانوی شہریوں کے تحفظات سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر صدر آزاد پریس کلب چک سواری شہزاد عظیم، سابق صدر قاضی جہانگیر احمد، نائب صدر صبر شیراز چودھری، سیکرٹری اطلاعات وقاص حسین چودھری و دیگر موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں