کورونا وبا متاثرین کو ریلیف کیسے ممکن ہے، نعیم حیات خان

تمام تر اندیشوں کے عین مطابق ملک میں کورونا کے حوالے سے جاری لاک ڈاؤن میں اپریل کے خاتمے تک توسیع کرنے کا اعلان ہو چکا ہے۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ پاکستان میں کورونا سے وہ تباہی نہیں پھیلی جس کا شکار پوری دنیا ہوئی ۔ اسپین اور ایران جیسے ممالک نے جو کورونا سے شدید متاثرہ تھے ، اپنے ملک میں لاک ڈاؤن یا تو ختم کردیا ہے یا پھر اتنا نرم کردیا ہے جس سے ان ممالک میں معمولات زندگی بحال ہورہے ہیں ۔ اس کے مقابلے میں پاکستان میں حالات ایک مرتبہ بھی قابو سے باہر نہیں ہوئے ۔ اب تک جتنی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے ، ان میں سے اکثر پہلے سے ہی کسی نہ کسی سنگین بیماری کا شکار تھے اور قریب المرگ تھے ۔ ان حالات میں تو ہونا یہ چاہیے تھا کہ فوری طور پر ملک میں لاک ڈاؤن میں نرمی کی جاتی ۔ اس کے
برخلاف آزاد کشمیر گلگت بلتستان سمیت چاروں صوبوں کی پوری کی پوری آبادیوں کو لاک ڈاؤن کردیا گیا ہے ۔وفاقی حکومت نے اب کورونا میں نرمی کے لیے جن صنعتوں کو کھولنے کا اعلان کیا ہے ، اس میں بھی ابہام ہے ۔ تعمیراتی صنعت کو کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے تو یہ تعمیراتی صنعت ملحق کاروبار کے کھلے بغیر کیسے کام کرے گی ۔ کیا ریتی بجری کے ٹرکوں کو بھی چلنے کی اجازت دی گئی ہے اور تعمیراتی صنعت میں صرف چنائی اور پلاستر کا ہی کام نہیں ہوتا ۔ سینیٹری ، سینیٹری ویئر، بجلی کا سامان ، پلمبنگ کا سامان ، ٹائلز، ٹمبر وغیرہ وغیرہ کے بغیر تعمیرات کرنے والے بھلا کس طرح کام کرسکیں گے ۔ تعمیرات کے لیے نقشے، رجسٹرار آفس، دیگر دفاتر کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ ڈھابے اور چائے خانے بند ہیں تو سائیٹ پر کام کرنے والے مزدور وغیرہ کہاں سے کھانا وغیرہ کھائیں گے ۔ جب مکینک کھلیں گے تو وہ اسپیئر پارٹس کہاں سے خریدیں گے ۔ پبلک ٹرانسپورٹ بند ہے تو یہ غریب محنت کش کس طرح سے اپنے کام پر پہنچ پائیں گے ۔ اس طرح کے بے شمار سوالات ہیں جن کے کہیں پر جوابات نہیں ہیں ۔ لاک ڈاؤن کے نتائج سب کے سامنے ہیں کہ ائر بلیو جیسی فضائی کمپنی نے اپریل کی تنخواہوں میں 95 فیصد تک کی کٹوتی کا اعلان کیا ہے ۔ اسی طرح متعدد اداروں نے اپنے ملازمین میں کٹوتی کردی ہے ۔ بے روزگاری کے عفریت نے پہلے سے پاکستان کو اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے ۔ ایسی صورت میں مزید بے روزگاری کیا گل کھلائے گی ، وہ سب کے سامنے ہے ۔ یہی وجہ ہے آزادکشمیر میں تاجروں کے نمائندوں نے تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق بدھ کو اعلان کیا کہ حکومت لاک ڈاؤن ختم کرے یا نہ کرے ، وہ اٹھارہ اپریل کو کاروبار کھول لیں گے بہتر یہ ہوگا کہ آزاد کشمیر حکومت اس ضمن میں ضد سے کام نہ لے اور عوامی اضطراب کو ہنگاموں میں تبدیل ہونے سے پہلے ہی سمجھ بوجھ سے کام لے ۔ اسی طرح علماء کرام نے ملک بھر میں مساجد کو بھی کھولنے کا اعلان کردیا ہے ۔ ان علماء کرام کا کہنا ہے کہ حالات ایسے نہیں ہیں کہ عوام کو باجماعت نماز سے روکا جائے ۔ تین ہفتے ہوچکے ہیں کہ حکومت نے نماز جمعہ پر پابندی عاید کر رکھی ہے ۔ 24 اپریل سے رمضان المبارک شروع ہورہے ہیں ۔ رمضان المبارک کا مطلب ہی عبادات میں اضافہ ہے ۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے غیر ضروری پابندیاں مزید اضطراب کا سبب بن رہی ہیں ۔ ایک عام آدمی روز ہی یہ مشاہدہ کرتا ہے کہ راشن بانٹنے کے نام پر ہجوم جمع کیا جاتا ہے ، احساس پروگرام کے نام پر ہزاروں افراد روز ہی لائن لگائے کھڑے ہوتے ہیں ، بس ساری پابندی ہے تو باجماعت نماز پر اور تلاش معاش پر ۔ جو خطرات تلاش معاش اور باجماعت نماز سے درپیش ہوسکتے ہیں تو وہ راشن بانٹنے ، احساس پروگرام کی لائنیں لگانے سے بھی ہوسکتے ہیں ۔ اسے محض حکومت کی دو رنگی ہی کہا جاسکتا ہے ۔ افسوسناک بات تو یہ ہے کہ پراسرار گائیڈ لائن پر چلنے والا مین اسٹریم میڈیا بھی لاک ڈاؤن میں نرمی پربری طرح برا فروختہ ہے۔ جس طرح سے میڈیا یکطرفہ کوریج کررہا ہے ، اس کا پیمرا کو نہ صرف نوٹس لینا چاہیے بلکہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی بھی کی جانی چاہیے ۔کرونا وبا کے باعث آزاد کشمیر کے جو لوگ پاکستان اور بیرون ممالک میں برسر روزگار تھے ان میں زیادہ تر لوگ بیروز گار ہو چکے ہیں اور انے والے دنوں میں اس تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔ آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد جو اپنے روزگار کے حوالے سے پاکستان کے مختلف شہروں میں پرائیویٹ سیکٹر میں کام کر رہی تھی اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہے ایک طرف بے روزگاری ہے اور دوسری طرف ان کو اپنے گھروں کو جانے کے لئے کوئی خاطرخواہ انتظامات موجود نہیں ہیں
آزاد کشمیر حکومت نے لاک ڈاؤن سخت کرنے کے سوا ایک عام آدمی کی فلاح کے لیے اپنی طرف سے تاحال کوئی پلاننگ ابھی تک نہیں کی ہے کہ اگر لاک ڈاؤن اسی طرح لمبے عرصے کے لئے برقرار رہتا ہے تو وہ لوگ کیا کریں گے جو کراچی، لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد اور اسی طرح پاکستان کے دوسرے شہروں اور بیرون ممالک محصور هو کر رہ گئے ہیں جن کے پاس کھانے پینے اور کرایا دینے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ کیا حکومت آزاد کشمیر ان کو اپنے گھروں تک پہنچا نے کے لئے کوئی کردار ادا کرے گی یا ان کو کورونا اجیسی وبا کے رحم کو کرم پر چھوڑ دیا جاۓ گا۔ یا پھر ان لوگوں کو مجبور کیا جاۓ گا کہ وہ فاقہ کشی کی حالت میں اس بیماری کا مقابلہ کریں

میری دانست کے مطابق آزاد کشمیر کی حکومت ہر وارڈ کی سطح پر موجود اسکولوں کو قرنطنیہ سینٹر بنائےپاکستان اور سمندر پار پھنسے ہوئے لوگوں کو ریسکیو کر کے ان کو وہاں کورنٹائن کر کے گھروں کو بھیجا جائے۔۔۔ حکومت راستہ دے اور چیک اینڈ بیلنس رکھے۔انتظام لوگ خود کر دیں گے۔۔۔ جو اپنے گھروں کی جانب جائیں گے وہاں ان کی فیملیز ان کے کھانے پینے اور رہائش کا بندوبست خود ہی کر دیں گ
راولپنڈی اسلام آباد سے مخصوص گاڑی والوں کو ڈسٹرکٹ سطح پر اجازت نامے دیے جائیں اور ان کے ڈرائیور حضرات کو مخصوص جگہ پر رکھا جائے،
ہزاروں کی تعداد میں کشمیری تارکین وطن بیروز گار ہو چکے ہیں انہیں پاکستان کے ہوٹلوں میں ٹھہر انے کا بندوبست آزادکشمیر حکومت کرے، یہی وہ لوگ ہیں جو تپتے ریگستانوں میں محنت کر کے ملک کے زرمبادلہ میں اضافہ کرتے ہیں جبکہ انہی کی وجہ سے آزادکشمیر خوشحال نظر آتا ہے
کورونا وائرس لاک ڈائون کی وجہ سے ملک بھر میں کاروباری سرگرمیاں بالکل بندہیں اور غریب لوگ اپنے گھروں میں مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں اور کوئی آمدنی کا ذریعہ نہیں ہے۔ غریب لوگوں نے (این آر ایس پی) خوشخال بنک سے قرضہ لیا ہوا ہے اور اس کی ماہانہ قسط ادا کرنے سے قاصر ہیں جس کی وجہ سے ریکوری کرنے والے حضرات غریب لوگوں کے گھروں میں جا کر اور ٹیلیفون پر قسط نہ جمع کروانے پر ڈرہ دھمکا رہے ہیں ، ضلع باغ میں یہ واقعہ بھی ہوا کے یہ لوگ ایک گھر سے قرض کی قسط کی عدم ادائیگی پر بکری کھول کر لے گئے اس سلسلے میں حکومت آزاد کشمیر کی ذمہ داری ہے کہ وہ غریب لوگوں کی رہنمائی کرےاور (این ۔ آر ۔ ایس ۔ پی) خوشحال بنک کو ہدایت کریں کہ قرضے کی قسطوں میں لاک ڈائون ختم ہونے تک کی ریلیف دی جائے جیسا کہ اسٹیٹ بنک آف پاکستان نے ریلیف دی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں