کورونا ایک معاشی بحران، قمر عباس کاظمی

موجودہ بحران عالمی معاشی نظام کی تجارتی شرارت ہے اور تجارتی چکر اس معاشی نظام میں ہمیشہ سے آتے رہے ہیں کبھی عالمی معیشت بہت عروج پہ ہوتی ہے اور کبھی وہ زوال پر کھڑی ہوتی ہے ماہرین اس عروج و زوال کو تجارتی چکر کہتے ہیں تجارتی چکر کی مختلف عہدوں کے اندر مختلف طرح کی شدتیں رہی ہیں یہ تجارتی چکر معاشی لٹریچر میں ہمیشہ سے پڑھائےجاتے رہیں ہیں مگر ہر تجارتی چکر ایک خاص قسم کی بیروزگاری بھوک اور معاشی ابتری کو جنم دیتا رہا ہے عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی تاریخ میں معاشی چکر بڑے پیمانے میں بڑی اموات کا پیش خیمہ بننے رہے ہیں تاریخ 1929کے عالمی معاشی بحران کو کبھی بھی فراموش نہیں کر سکتی جس میں کروڑوں زندگیاں لقمہ اجل بنی تھیں بے روزگاری کی شرح 24 فیصد سے تجاوز کر گئی تھی اور پھر اس معاشی زوال نے ایک بہت بڑی عالمی جنگ کو جنم دیا تھا جس کے نتیجے میں دو کروڑ لوگوں کی زندگیاں لقمہ اجل بن گئی تھی ہر معاشی تجارتی چکر کر بہت بڑے گہرے سیاسی تنازع کو جنم دیتا رہا ہے اس سے قبل بھی تاریخ میں ایسا ہوا ہے 2008 کا معاشی بحران ہمارے سامنے ہے جس میں بڑے پیمانے پر مالیاتی انہدام ہوا جس سے عالمی معیشت بری طرح نقصان میں چلی گئی مگر موجودہ بحران ماضی کے بحرانوں سے زیادہ شدت اپنے اندر رکھتا ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب 2008 کا مالیاتی بحران آیا اس وقت ٹیکنالوجی اتنی زیادہ ترقی یافتہ شکل میں ہمارے سامنے موجود نہیں تھی جو کہ آج ہمارے سامنے موجود ہے 2008 کے مالیاتی بحران میں منافعوں کی شرح اس حد تک بلند تر سطح پر نہیں کھڑی تھی جو کہ اس بحران میں ہے اس صورت حال کو ماہرین بار بار خطرناک کہہ رہے تھے کہ معیشت کی سمت کو درست کیا جائے اکانومیسٹ وال سٹریٹ جرنل اور دیگر جرائد اس معاشی بحران کو پہلے سے بتا چکے تھے مگر پیشنگوئیوں پر منافع کی ہوس نےکسی طرح کا دھیان جانے ہی نہیں دیا موجودہ معاشی بحران 2008 اور 2000 کے معاشی بحران سے کلی طور پر مختلف ہے 2008 اور 2000 کے معاشی بحران میں لوگوں کے پیسے اور جاب ضائع ہوئیں اس بحران میں زندگیاں ہی چلی گئیں2008 میں سماجی رابطے نہیں ٹوٹے مگر اس بحران نے مکمل طور پر سماجی رابطوں کو توڑ دیا ماضی کے معاشی بحرانوں نے چھوٹے کاروباروں کو چلنے کی اجازت دی مگر حالیہ بحران نے تمام طرح کی معاشی سرگرمیوں کو بند کروا دیا ماضی کے معاشی بحرانوں میں زوال کسی ایک خاص شعبے میں آیا اور دوسرے شعبے نظام کو آکسیجن فراہم کرتے رہے مگر موجودہ معاشی بحران تمام تر معاشی شعبوں پر ایک ہی وقت میں آیا جس سے کلی طور پر معاشی زندگی اور معاشی سرگرمیاں بند ہوچکیں ہیں انیس سو انتیس کے معاشی بحران میں امریکن معیشت میں بیروزگاری کی شرح 14 فیصد تھی جو کہ 1934 میں جاکے 24 فیصد جاکر ٹھہری مگر اس بحران میں پہلے ہی دو ماہ بے روزگاری کی شرح 13 فیصد بتائی گئی جو کہ پھر سے ایک خطرناک قسم کا معاشی منظر نامہ ہے 2000 اور 1929 کے معاشی زوال میں سٹاک مارکیٹ کے شئیرز اتنی بلند سطح پر نہیں تھے جو کہ حالیہ بحران میں دیکھے گئے دوسری طرف شرح نمو بری طرح گر رہی تھی اگر GDP ایک فیصد ہو اور سٹاک مارکیٹ 50 فیصد سے ترقی کر رہی ہو تو طے ہے کہ بہت بڑی قیامت آنے والی ہے کیونکہ سٹاک مارکیٹ معیشت کو نہیں چلاتی معیشت اسٹاک مارکیٹ کو چلاتی ہے اگر قومی پیداوار گرتی ہوئی نظر آئے اور سٹاک کے شیر بڑھتے ہوئے نظر آئیں تو یہ بنیادی طور پر وہ خلا ہے جس نے ایک بڑے دھماکے کی صورت میں باہر نکلنا ہوتا ہے معاشی زوال کسی حادثے کو ضرور جنم دیتا ہے اور ہر حادثہ گہری ضرورت کا نتیجہ ہوتا ہے ہمیں ایسا ہی نظر آیا اس بحران کو کنٹرول کرنے کے لیے پہلے مڈل ایسٹ کو ٹیسٹ کیا گیا مگر نتائج بھیانک محسوس ہوئے پھر چین کے ساتھ 5جی کاایشو رہا اسی دوران حادثہ کرونا کی شکل میں نمودار ہوا کرونا نے ایک تو ساری توجہ بحران سے ہٹا کر اپنی طرف مبذول کروا لی اور دوسری طرف مارکیٹ اکانومی کی ساری اصلیت کھول دی جس طرح نائن الیون نے دنیا کی شکل تبدیل کی تھی اسی طریقے سے کرو نا بھی دنیا کی شکل تبدیل کرنے جا رہا ہے ہم یہاں پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ دنیا پری کرونا اور پوسٹ کرونا کے اندر تقسیم ہو گئی ہےکرونا نے ہماری ثقافت تہذیب مذہب اور سائنس پر گہرے اثرات چھوڑ دئیے ہیں ہمارے آداب تک بدل دئیے ہیں جو امور ناجائز تھے وہ جائز ٹھہرے اور جائز اب ناجائز میں بدل گئے بہت سارے کاروبار جو ابھی نومولود تھے یا انہیں سنجیدہ نہیں لیا جا رہا تھا انہیں سنجیدہ لیا جائے گا اور ہوتا بھی یہی ہے کہ ہر معاشی بحران کے بعد سرمایہ دارانہ نظام کے اندر ایک بڑی correction جنم لیتی ہے جو کہ بڑے منافع کا سبب بنتی ہے تاریخ میں اس سے پہلے جو بھی معاشی بحران آئے اس کے بعد سرمایہ داری نے بہت تیز گروتھ دکھائی ہے کیونکہ گہرا بحران گہری correction لاتا ہے اس کے ساتھ ساتھ جو سب سے بنیادی نوعیت کی گفتگو منظرنامے پر آئے گی وہ بہت بڑے پیمانے پر جو اسلحہ سازی کی صنعت تھی اس کے وجود اوپر گہرے سوال اٹھیں گے پہلی دفعہ یہ ممکن ہوگا کہ فطرت کی اندھی قوتوں کو مسخر کرنے اور ان دیکھے دشمن پر وار کرنے کے سوال پر سنجیدگی سے گفتگو ہو سکتی ہے پہلے سے ہی موجود بے روزگاری غربت بھوک اور بیماری کا شکار بڑی انسانی آبادی کو سرمایہ دارانہ نظام کے تجارتی چکر نے تباہی پر لا کھڑا کر دیا ہےاب ایک طرف موت ہے کرونا کی شکل میں اور دوسری طرف بے روزگاری ایک طرف بھوک ابلتی ہوئی نظر آ رہی ہے اور دوسری طرف بڑا انسانی المیہ
اگر کوئی معاشی منصوبہ بندی ہوتی تو ہم اس المیہ پر قابو پا لیتے

اپنا تبصرہ بھیجیں