اسلام آباد، ایوان صدر میں جید علمائے کرام سے مشاورت، رمضان المبارک کے حوالہ سے متفقہ اعلامیہ جاری۔

اسلام آباد (نیل فیری نیوز) ایوانِ صدر میں جید علمائے کرام سے مشاورت کے نتیجہ میں رمضان المبارک کے دوران نماز وتراویح کے لیے 20 نکات پر مشتمل حفاظتی اقدامات کا اعلان کر دیاگیا۔ مساجد اور امام بارگاہوں کی انتظامیہ کو ذمہ دار افراد پر مشتمل کمیٹی بنانے کی ہدایت کی گئی یہ کمیٹی حفاظتی تدابیر پر عملدرآمد کو یقینی بنا سکے گی۔ آئمہ، خطیب، ضلعی و صوبائی حکومتوں اور پولیس سے تعاون اور رابطہ رکھا جائےگا۔نماز سے پیشتر اور بعد میں مجمع لگانے سے گریز کیا جائے۔ مسجد اور امام بارگاہ کے احاطہ کے اندر نماز اور تراویح کا اہتمام کیا جائے۔ سڑک اور فٹ پاتھ پر نماز پڑھنے سے اجتناب کیا جائے ۔

صدرمملکت کے علما سے مشاورت کی روشنی میں متفقہ اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ موجودہ صور ت حال میں بہتر یہ ہے کہ گھر پر اعتکاف کیا جائے۔ مسجد اور امام بارگاہ میں افطار اورسحر کا اجتمائی انتظام نہ کیا جائے۔ مساجد اور امام بارگاہ انتظامیہ، آئمہ اور خطیب ضلعی وصوبائی حکومتوں اور پولیس سے رابطہ اور تعاون رکھیں۔

ہفتہ کو صدر مملکت کی زیرصدارت علمائے کرام سے مشاورتی اجلاس ہوا جس میں تمام صوبوں سے علما ویڈیو کانفرنس کے ذریعے شریک ہوئے۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مساجد اور امام بارگاہوں میں نماز اور تراویح کا اہتمام ہوگا۔ احتیاطی تدابیر کا اعلان کردیا گیا ہے جس کے تحت مساجد اور امام بارگاہوں میں قالین یا دریاں نہیں بچھائی جائیں گی، صاف فرش پر نماز پڑھی جائے گی۔ اگر کچا فرش ہو تو صاف چٹائی بچھائی جا سکتی ہے جو لوگ گھر سے اپنی جائے نماز لا کر اس پر نماز پڑھنا چاہیں، وہ ایسا ضرور کریں۔ نماز سے پیشتر اور بعد میں مجمع لگانے سے گریز کیا جائے۔ جن مساجد اور امام بارگاہوں میں صحن موجود ہوں وہاں ہال کے اندر نہیں بلکہ صحن میں نماز پڑھائی جائے۔ 50 سال سے زیادہ عمر کے لوگ، نابالغ بچے اور کھانسی نزلہ زکام وغیرہ کے مریض مساجد اور امام بارگاہوں میں نہ آئیں۔ مسجد اور امام بارگاہ کے احاطہ کے اندر نماز اور تراویح کا اہتمام کیا جائے۔ سڑک اورفٹ پاتھ پر نماز پڑھنے سے اجتناب کیا جائے۔ مسجد اور امام بارگاہ کے فرش کو صاف کرنے کے لئے پانی میں کلورین کا محلول بنا کر دھویا جائے۔ اسی محلول کو استعمال کر کے چٹائی کے اوپر نماز سے پہلے چھڑکا بھی کر لیا جائے۔ مسجد اور امام بارگاہ میں صف بندی کا اہتمام اس انداز سے کیا جائے کہ نمازیوں کے درمیان 6 فٹ کا فاصلہ رہے۔ ایک نقشہ منسلک ہے جو اس سلسلے میں مدد کر سکتا ہے۔

مساجد اور امام بارگاہ انتظامیہ ذمہ دار افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنائے جو احتیاطی تدابیر پرعمل یقینی بنا سکے۔ مسجد اور امام بارگاہ کے منتظمین اگر فرش پر نمازیوں کے کھڑے ہونے کے لئے صحیح فاصلوں کے مطابق نشان لگا دیں تو نمازیوں کی اقامت میں آسانی ہو گی۔ وضو گھر سے کر کے مسجد اور امام بارگاہ تشریف لائیں۔ صابن سے بیس سیکنڈ ہاتھ دھو کر آئیں۔ لازم ہے کہ ماسک پہن کر مسجد اور امام بارگاہ میں تشریف لائیں اور کسی سے ہاتھ نہیں ملائیں اور نہ بغل گیر ہوں۔ اپنے چہرے کو ہاتھ لگانے سے گریز کریں۔ گھر واپسی پر ہاتھ دھو کر یہ کر سکتے ہیں۔ موجودہ صور ت حال میں بہتر یہ ہے کہ گھر پر اعتکاف کیا جائے۔ مسجد اور امام بارگاہ میں افطار اورسحر کا اجتمائی انتظام نہ کیا جائے۔ مساجد اور امام بارگاہ انتظامیہ، آئمہ اور خطیب ضلعی وصوبائی حکومتوں اور پولیس سے رابطہ اور تعاون رکھیں۔

مساجد اور امام بارگاہوں کی انتظامیہ کو ان احتیاطی تدابیر کے ساتھ مشروط اجازت دی جا رہی ہے۔ اگر رمضان کے دوران حکومت یہ محسوس کرے کہ ان احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں ہو رہا ہے یا متاثرین کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے تو حکومت دوسرے شعبوں کی طرح مساجد اور امام بارگاہوں کے بارے میں پالیسی پر نظر ثانی کرے گی۔ اس بات کا بھی حکومت کو اختیار ہے کہ شدید متاثرہ مخصوص علاقہ کے لیے احکامات اور پالیسی بدل دی جائے گی۔

قبل ازیں صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ نظم وضبط کا اظہار اسلامی معاشروں میں مساجد سے ہونا چاہئے ، رمضان المبارک میں عبادات کرتے وقت بھی احتیاط تدابیر اختیار کریں۔ صدر مملکت کی زیرصدارت علمائے کرام سے مشاورتی اجلاس ہوا جس میں تمام صوبوں سے علما ویڈیو کانفرنس کے ذریعے شریک ہوئے۔

مشاورتی اجلاس سے خطاب میں صدر مملکت نے کہا ہے کہ امید ہے مساجد میں کورونا سے بچائو کیلئے احتیاطی تدابیر اختیا ر کی جائیں گی، اجلاس کا مقصد رمضان المبارک میں قومی ہم آہنگی پیدا کرنا ہے، کوروناوائرس کی وجہ سے کئی حالات سخت اور کئی معمول کے ہوں گے۔ انہوں نے اپیل کی کہ مساجد اورمدارس زکوٰة دینے کاسلسلہ جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا سے نجات اور گناہوں کی مغفرت کیلئے اللہ سے دعا کریں۔انہوں نے کہا کہ رمضان سے متعلق اہم فیصلوں کیلئے قوم منتظر ہے اور اس کیلئے حکومت اور علما کے فیصلوں پر اتفاق رائے ہونا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ علما حکومت کی فراہم کردہ اطلاعات پر اپنی رائے دیں حکومت اور علما عوام کو یکجا ہوکر ایک پیغام دیں، نظم وضبط کا اظہار اسلامی معاشروں میں مساجد سے ہونا چاہیے، حکومت کورونا سے متعلق روزانہ آگاہی دیتی رہتی ہے، امید ہے مساجد میں کورونا سے بچائو کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں