ڈویژنل ہیڈکوارٹر ٹیچنگ اسپتال میرپور اور کورونا لیب بارے مقامی روزنامے کی خبر اور حقائق جانیے اس خبر میں۔

میرپور (نیل فیری نیوز) ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ٹیچنگ ہسپتال اور Covid-19 لیب کے ترجمان کی پریس ریلیز کے مطابق کورونا وائرس لیب میرپور میں ٹیسٹ ماہرین پتھالوجسٹ کی زیر نگرانی کیے جاتے ہیں جو NIH کے معیار کے مطابق پورے ہیں۔

مقامی روزنامے کے شمارہ نمبر 272 جلد نمبر 11 مورخہ 18 اپریل 2020ء کو لیب کے ٹیسٹ مشکوک ہونے کی خبر کو سو فیصد غلط بے بنیاد، حقائق کے خلاف اور میڈیکل لیب سے متعلق کم علمی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت میرپور Covid-19 لیب میں پروفیسر آف مائیکرو بیالوجی، اسسٹنٹ پروفیسر آف مائیکرو بیالوجی، پتھا لوجسٹ (مائیکرو بیالوجی) کی سربراہی میں لیب ٹیکنیشن فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

میرپور لیب کے جو جو ٹیسٹ ایک ہی دن میں میرپوراور NIH اسلام آباد میں ہوئے ہیں ان تمام کی رپورٹس یکساں ہیں۔ مورخہ 02 اپریل 2020ء کو میرپور میں PCR لیب شروع ہونے سے اب تک 233 مریضوں کے ٹیسٹ یہاں پر کیے گے اور اس دوران دو مرتبہ قومی ادارہ برائے صحت NIH اسلام آباد کے ماہرین اس کے پوری طرح قابل اعتبار اور معیاری ہونے کی تصدیق بھی کرچکے ہیں۔

کورونا وائرس ایک ایسا وائرس ہے جس کے خلاف دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اور دنیا کے نامی گرامی سائنسدان بے بس ہوچکے ہیں اس وائرس پر ریسرچ پوری دنیا میں ہورہی ہے یہ وائرس اپنی حالت تبدیل کرتا رہتا ہے اور دیگر صحت مند افراد میں منتقل اور بعض افراد میں قوت مدافعت زیادہ بہتر ہونے کے باعث یہ وائرس زیادہ متاثر نہیں کرتا، قوت مدافعت کم ہونے سے اس وائرس سے دنیا بھر میں لاکھوں کی تعداد میں اموات بھی ہوئی ہیں اور ہو بھی رہی ہیں جب کہ وائرس سے لوگ صحت مند بھی ہوئے ہیں۔

کورونا وائرس انتہائی خطرناک وائرس ہے اس وائرس کے خلاف دنیا بھر میں میڈیکل سے وابستہ افرا د اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر فرنٹ لائن پر خدمت خلق کے جذبہ کے تحت فرائض سرانجام دے رہے ہیں اس وائرس کے مریضوں کے علاج معالجہ اور دیکھ بھال کرتے ہوئے شعبہ صحت و طب سے متعلقہ کئی افراد بھی جان کی بازی ہار چکے ہیں کورونا وائرس میں مبتلا افراد کی دیکھ بھال مخصوص حفاظتی لباس اور کٹس کے بغیر نہیں کی جاسکتی ان حالات میں میڈیکل کے شعبہ سے وابستہ ہر فرد اور بالخصوص کورونا وائرس لیب میں فرائض سرانجام دینے والا عملہ کی زندگیاں سو فیصد رسک پر ہیں۔

میڈیکل لیب کے بارے میں کم علمی کی بنیاد پر پروپیگنڈا کرکے خوف و ہراس پیدا کرنے سے نہ صرف اجتناب کیا جائے بلکہ غیر تصدیق شدہ اور غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں