اسلام آباد، بھارت کورونا وائرس کی آڑ میں ہندوتوا کے اہداف حاصل کرنے میں مصروف ہے۔ رُکن قومی اسمبلی ثوبیہ کمال

اسلام آباد (نمائندہ نیل فیری) وفاقی پارلیمانی سیکرٹری امور کشمیر و گلگت بلتستان و ممبر قومی اسمبلی محترمہ ثوبیہ کمال نے بھارت کی جانب سے ایل او سی اور مقبوضہ کشمیر میں بڑھتی جارحیت کی مزمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت وقت کے ساتھ ہندو انتہا پسندی کی خطرناک حدیں پار کر رہا ہے۔ نام نہاد سیکولرازم کا لبادہ اوڑھے بھارت بے نقاب ہو چکا ہے۔ دنیا بھارت کو ایک ہندو انتہا پسند فاشسٹ ملک کے طور پر جاننے لگی ہے۔ بھارت میں آر ایس ایس اور بی جے پی مسلمان دشمنی میں کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔

عالمی میڈیا بھارت کی ہندو انتہا پسند پالیسیز کی عکاسی کر رہا ہے۔ امریکی کمیشن نے بھارت میں مذہبی آزادی پر پابندیوں میں خطرناک رجحانات کی کھل کر عکاسی کی ہے۔ بھارتی فوج، عدلیہ اور میڈیا آر ایس ایس کے معاون اور اہلکار بن چکے ہیں۔ بھارت کورونا وائرس کی آڑ میں اپنے ہندوتوا کے اہداف حاصل کرنے میں مصروف ہے۔

گزشتہ چند دنوں میں بھارت نے درجنوں نہتے کشمیریوں کو شہیدکر دیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں غیر ریاستی باشندوں کو ڈومیسائل دینا انتہائی قابل مزمت ہے۔ بھارت پر جلد بین الاقوامی پابندیوں کا اطلاق ہونا چائیے۔ بھارتی مسلمانوں اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت محنت کشوں اورمزدورں کے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کرتی اور نہ ہی کرے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے ہر ادارے کو محنت کشوں او رمزدوروں کے حقوق کا خیال اور کسی بھی ادارے فیکٹری یا مل سے مزدوروں اور محنت کشوں کو فارغ نہ کرنے اور مزدوروں اور محنت کشوں کے لیے مزید روزگارکے مواقع فراہم کرنے کے لیے اقدامات شروع کر رکھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس سے پیدا شدہ صورت حال نے پورے نظام کو مفلوج کیا۔ وزیراعظم عمران خان کے اس حوالے سے اقدامات زبردست رہے۔ انہوں نے کہا کہ احساس ریلیف پروگرام سے بہت سے خاندانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا موقع فراہم ہوا اور احساس پروگرام بروقت عوام تک پہنچانے کا وعدہ وزیر اعظم نے پورا کر دکھایا۔

انہوں نے کہا کہ یہ وقت سیاست کا نہیں بلکہ مل کر اس آزمائش کا مقابلہ کرنے کا ہے۔ رمضان المبارک کا مہینہ ہمیں اس بات کا درس دیتا ہے کہ ہم محبت اور بھائی چارے کی فضاء قائم کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں