ایڈمنسٹریٹرمیونسپل کمیٹی چکسواری کی تبدیلی اورصدرجماعت کی پالیسیاں۔

آزادکشمیرکے گذشتہ عام انتخابات میں واضح اکثریت سے کامیاب ہوکرحکومت بنانے والی سیاسی جماعت مسلم لیگ (ن) کے سربراہ راجہ فاروق حیدرخان نے وزارتِ عظمیٰ کے منصب پربیٹھتے ہی میرٹ کوبحال کرنے کااعلان و دعویٰ تو کیا اور اس ضمن میں چندقابلِ ذکراقدامات بھی کیے گئے لیکن ضلع میرپور آزادکشمیرکے حلقہ ایل 2 چک سواری میں میونسپل کمیٹی چک سواری کے حکومتی صوابدیدی عہدہ ایڈمنسٹریٹر پر اہل کارکن کی تعیناتی مسلم لیگ (ن) آزادکشمیرکے گلے کی ہڈی بن چکی ہے۔

وزیراعظم آزادحکومت اورمسلم لیگ (ن) آزادکشمیرکے صدر راجہ فاروق حیدرخان نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے بھی متعدد مرتبہ وعدے اورہوائی اعلانات کیے جو ہنوز تکمیل کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ وقتی طور پر بلدیاتی ادارہ جات کے صوابدیدی عہدوں پرایک منصفانہ انداز میں کارکنان کی تعیناتیاں عمل میں لائی گئیں اوراس سیاسی بصیرت کواپنوں سمیت غیروں نے بھی سراہا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بے لگام بیوروکریسی اورچند ناعاقبت اندیش جماعتی ساتھیوں نے انقلاب کے داعی راجہ فاروق حیدرخان کوگھٹنے ٹیکنے پرمجبور کردیا۔ بلدیاتی انتخابات کاوعدہ وفا ہونے کے مستقبل قریب میں کوئی امکانات نظرنہیں آرہے لیکن بلدیاتی ادارہ جات کے صوابدیدی عہدوں پرتعینات کارکنان کی اکھاڑ پچھاڑ سے جہاں حکومتی نیک نامی بُری طرح متاثرہو رہی ہے وہیں مسلم لیگ (ن) آزادکشمیرکے جان نثار کارکنان میں بالخصوص اور بدلتے سیاسی منظرنامے پر نظر رکھنے والے سماجی حلقوں میں بالعموم تشویش کی لہردوڑگئی۔

آزادکشمیرکے سابق دورِ حکومت میں جب چودھری عبدالمجیدوزارتِ عظمیٰ کے منصب پرفائز اور صدرمسلم لیگ (ن) آزادکشمیرراجہ فاروق حیدر خان قائدحزبِ اختلاف تھے توفرینڈلی اپوزیشن کی اصطلاح مستعمل ہونے کے ساتھ ساتھ قائدحزبِ اختلاف کومجیدحکومت کی طرف سے نوازے جانے کی خبریں عام تھیں۔اب جب کہ موصوف خود (راجہ فاروق حیدرخان) آزادکشمیرکے وزیراعظم ہیں تو ریاست بھرمیں بالعموم اور ضلع میرپور سمیت حلقہ ایل اے 2 (چک سواری/ اسلام گڑھ) میں بالخصوص سابق وزیراعظم چودھری عبدالمجیدکی مرضی ومنشاء کوحتمی سمجھے جانے کی افواہیں زبانِ زدعام ہیں۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ سابق وزیراعظم چودھری عبدالمجیدکی آشیرباد سے بیوروکریسی میں تناور درخت بننے والا بدنام زمانہ بیوروکریٹ راجہ امجد پرویز موجودہ حکومت میں بطور پرنسپل سیکرٹری فرائض منصبی بخوبی سرانجام دہے رہاہے بلکہ لوگ یہاں تک کہتے ہیں کہ اصل (ایکٹنگ) وزیراعظم راجہ امجد پرویز ہی ہے۔

آزادکشمیرمیں مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم ہوتے ہی حلقہ ایل اے 2 (چک سواری/ اسلام گڑھ) میں پارٹی اختلافات سامنے آناشروع ہوئے۔ ایک راہ نما وزیراعظم و صدر جماعت کے اعزازمیں استقبالیہ کاانعقاد کرتاتو دیگر راہ نما باہمی اختلافات کی بناء پربائیکاٹ کردیتے۔ اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ حلقہ ایل اے 2 سے نصف درجن کے قریب آمدہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ کے اُمیدوار ہیں اور اس بابت باضابطہ اعلان کرنے کے ساتھ ساتھ انتہا درجے کے باہمی اختلافات رکھتے ہیں۔ حالیہ دنوں ایڈمنسٹریٹرمیونسپل کمیٹی چک سواری کی تبدیلی سے ان اختلافا ت کومزید ہوا ملی جس کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنان میں سخت مایوسی پائی جاتی ہے۔

حالیہ دنوں نوتعینات ایڈمنسٹریٹرمیونسپل کمیٹی چک سواری راجہ گل فراز خان کے حوالے سے مختلف چہ میگوئیاں جاری ہیں۔ عوام علاقہ چک سواری کی بڑی تعداد بالخصوص کارکنان مسلم لیگ (ن) تذبذب کاشکار ہیں کہ موصوف کاتعلق سابق وزیراعظم چودھری عبدالمجید (پیپلزپارٹی) سے ہے یاحکمران جماعت مسلم لیگ (ن) سے۔ سوشل وپرنٹ میڈیا پر چلنے والے مہم جس میں پیپلزپارٹی اور سابق وزیراعظم چودھری عبدالمجیدکے قریبی ساتھیوں کی طرف سے مبارک بادوں کے اشتہارات وبیانات چلائے گئے نے اس شک کو مزید پختہ کیااور نوبت یہاں تک پہنچ آئی کہ نوتعینات ایڈمنسٹریٹرمیونسپل کمیٹی چک سواری راجہ گل فراز خان کواپنی سیاسی وابستگی بارے وضاحتی بیان جاری کرنا پڑا کہ اُن کادیرینہ تعلق حکمران جماعت مسلم لیگ(ن)سے ہے۔ جس شخص کی سیاسی وابستگی بارے شکوک وشبہات ہوں اور پھرموصوف کووضاحتی بیان جاری کرناپڑے، ایسے شخص کی بطور ایڈمنسٹریٹرمیونسپل کمیٹی چک سواری تعیناتی صدر مسلم لیگ (ن) آزادکشمیرکی کارکردگی، کارکنان کی پہچان اور دور اندیشی پرسوالیہ نشان نہیں تو اور کیاہے؟

مقامی سطح پرچلائی جانے والی مبارک بادی مہم سے ایک اور سوال نے جنم لیاکہ چنداشتہارات میں اس تعیناتی کووزیراعظم آزادحکومت، وزیربلدیات اور اوورسیز ایم ایل اے و وزیرحکومت راجہ جاویداقبال کی کامیابی قرار دیتے ہوئے شکریہ اداکیاجا رہا ہے تودوسری طرف بہت سے اشتہارات وبیانات میں اسے پرنسپل سیکرٹری آزادحکومت راجہ امجد پرویزکی مہربانی قراردیتے ہوئے شکریہ ادا کیاجارہاہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اگرایڈمنسٹریٹر میونسپل کمیٹی چک سواری کی تبدیلی پرنسپل سیکرٹری راجہ امجد پرویزکی کاوش ہے توصدرجماعت مسلم لیگ (ن) آزادکشمیرراجہ فاروق حیدرخان اورمقامی قیادت اس بارے خاموش کیوں رہی اور تاحال خاموش کیوں ہے؟ اور اگرسیاسی داؤپیج کے ماہرسابق وزیراعظم چودھری عبدالمجیداس تعیناتی کومشکوک بناکرسیاسی مقاصدحاصل کرناچاہتے ہیں تب بھی ایسی کیا مجبوری تھی کہ آمدہ انتخابات سے صرف ایک سال قبل مجوزہ فارمولے کوسبوتاژکرتے ہوئے ایسے شخص کوایڈمنسٹریٹرتعینات کیاگیاجس کی سیاسی وابستگی ہی مشکوک ہو؟

ایڈمنسٹریٹر میونسپل کمیٹی چک سواری کی تبدیلی کی بازگشت گذشتہ کچھ عرصے سے آرہی تھی اور شنید ہے کہ مختلف سیاسی راہ نمااس صوابدیدی عہدہ پرتعیناتی کے خواہش مندتھے۔ باوثوق ذرائع سے یہ بھی معلوم ہواہے کہ گذشتہ دنوں حلقہ ایل اے 2 (چک سواری/ اسلام گڑھ) کے لیگی ٹکٹ ہولڈر محمد نذیر انقلابی کی ہمراہ دیگرعہدے داران صدرجماعت مسلم لیگ (ن) آزادکشمیر وزیراعظم راجہ فاروق حیدرخان سے تفصیلی ملاقات ہوئی جس میں ایڈمنسٹریٹر میونسپل کمیٹی چک سواری کی تبدیلی کے حوالے سے محمد نذیر انقلابی اور پرنسپل سیکرٹری راجہ امجدپرویزمیں خاصی بحث بھی ہوئی لیکن نتیجہ ایسا نکلاجسے حکمران جماعت کے لیے ہضم کرناگلے کی ہڈی بن چکاہے۔

متذکرہ بالاواقعات وحقائق کے بعدحلقہ ایل اے 2 (چک سواری/ اسلام گڑھ) کے مسلم لیگی عہدے داران وکارکنان کے تحفظات اپنی جگہ بجااور وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمدفاروق حیدرخان کوبطورصدرجماعت ان تحفظات وخدشات کاازالہ کرناچاہیے بصورتِ دیگرحلقہ ایل اے 2 (چک سواری/ اسلام گڑھ) میں مسلم لیگ (ن) آزادکشمیرکامستقبل تاریک نظرآرہاہے۔شنید ہے کہ اگر ایڈمنسٹریٹر میونسپل کمیٹی چک سواری کی تبدیلی کے معاملہ سے جڑے تحفظات کودورنہ کیاگیاتوآمدہ دنوں بہت سے لیگی عہدے داران بشمول سابق اُمیدواران اسمبلی دیگرسیاسی جماعتوں میں اُڑان بھرجائیں گے۔

دوسری طرف نوتعینات ایڈمنسٹریٹر میونسپل کمیٹی چک سواری راجہ گل فرازخان، جوبطور کاروباری شخصیت اچھی شہرت رکھتے ہیں، پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کم وقت اورکم وسائل میں اپنی بہترین انتظامی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی تعیناتی کودرست ثابت کریں۔ حلقہ ایل اے 2 (چک سواری/ اسلام گڑھ) کے عوام وزارتِ عظمیٰ کے دورمیں بھی محرومیوں کاشکار رہے اور مسلم لیگ (ن) آزادکشمیرکے موجودہ دورِ حکومت میں بھی عوامی مسائل کو پذیرائی نہ مل سکی۔ بالخصوص چک سواری بازارکے حوالے سے مسائل نے تاجروں سمیت تمام مکاتب فکرسے تعلق رکھنے والے افرادکواپنی اپنی سیاسی وابستگیوں پرازسرنوغورکرنے پرمجبورکردیاہے اوراگرنوتعینات ایڈمنسٹریٹر میونسپل کمیٹی چک سواری، چک سواری بازارکے اہم مسائل (بائی پاس روڈ کی تعمیر،بازارمیں پارکنگ و پبلک لیٹرین کامسئلہ، تجاوزات کاخاتمہ، پینے کاصاف پانی وغیرہ) حل کروانے میں ناکام رہے توحکمران جماعت کی کارکن کش پالیسیوں سے دوسری سیاسی جماعتیں بھرپورفائدہ اٹھائیں گی اورآمدہ انتخابات میں حلقہ ایل اے 2 (چک سواری/ اسلام گڑھ) میں مسلم لیگ (ن) آزادکشمیرکی ناکامی کی ذمہ داری صدرجماعت راجہ فاروق حیدرخان پرعائد ہوگی۔
تحریر: محمد مرتضیٰ عطاری (سابق صدر آزاد پریس کلب چک سواری)

اپنا تبصرہ بھیجیں