ایس ایس پی عرفان سلیم بمقابلہ ظہیر عباس۔ تحریرافتخار احمد

ہر چیز کی کچھ حدود وقیود ہوتی ہیں کسی کی تعریف و حمایت ہو یا مخالفت و نفرت ایک حد تک ہی اچھی لگتی ہے۔ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ یہاں ایک ایسا طبقہ ہے جو انتظامی آفیسران کی مدح سرائی میں تمام حدیں پھلانگ جاتا ہے جس سے شدید ذہنی کوفت ہوتی ہے اس مخلوق کی میرپور سے ہمایوں پاشا اور برطانیہ سے ہمارے دوست عاشق فردوسی جس طرح خاطر مدارت کرتے ہیں مجھ جیسے طالب علم کے لیے ممکن نہیں۔

ہمارے کچھ صحافی بھائی ایسی کمال نگاہ رکھتے ہیں کہ روڈ پرڈیوٹی سرانجام دیتے کانسٹیبلز کی غلطیاں و کوتائیاں دیکھتے ذرا برابر نہیں چوکتے جبکہ ائیرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھے آفیسران کی فرض شناسیاں و دیانتداریوں پر بھی برا بر نظر ہوتی ہے یوں تو کسی کے تعریفی پوسٹر بنانے کی مخصوص وجہ درکار ہوتی ہے مگر ایس ایس پی میرپور راجہ عرفان سلیم کی بغیر کسی وجہ کے ہی تعریفی، خوشامدی اور فرض شناسی کے پوسٹر سارا سال سوشل میڈیا پر گردش کرتے رہتے ہیں۔

ان دنوں کوٹلی کے رہاشی ظہیر عباس چوہدری نامی شخص کی ایس ایس پی میرپور راجہ عرفان سلیم کے حق میں تعریفی پوسٹ پر تنقیدی کمنٹ کرنے کی پاداش میں گرفتاری اور رہائی کے بعد انٹرویو پر بحث جاری ہے۔ شاہ نواز بٹ نامی صحافی نے ایس ایس پی میرپور عرفان سلیم کی تعریف میں پوسٹ لکھی جس کے آخر میں لکھا تھا ہمیں آپ سے پیار نہیں بلکہ عشق ہے اس پوسٹ پر ظہیر عباس چوہدری نے کمنٹ کیا کہ آپ کی طرح کے ایک صحافی نے بتایا تھا کہ عرفان سلیم کرپٹ ترین آفیسر ہے اور اس کا اسلام آباد میں پچیس کروڑ کا پینٹ ہاؤس ہے یہی ظہیر عباس کا جرم ٹھہرا، میرپور پولیس نے رات کی تاریکی میں ظہیر عباس کو گھر سے پکڑ ا، رات تھانہ اسلام گڑھ میں رکھا، صبح ایس ایس پی آفس میں پیش کیا، بیان قلم بند کیا اور چھوڑ دیا، تحریری بیان میں غیر مشروط معافی مانگی گئی جبکہ بیان میں یہ بھی لکھا گیا کہ صحافی شہزاد راٹھور کی ایماء پر ایس ایس پی عرفان سلیم پرکمنٹ کیا۔

ظہیر عباس چوہدری نے رہائی کے بعد کے این آئی کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ اسلام گڑھ تھانہ میں انہیں برہنہ کرکے ویڈیو اور تصاویر بنائی گئیں جب کہ بیان بھی پولیس نے خود ہی لکھا، ظہیر عباس نے انٹرویو میں اپنے کمنٹ کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ایک صحافی ایس ایس پی عرفان سلیم کی تعریف میں قصیدے لکھ رہا ہے جب کہ دوسرا (شہزاد راٹھور) کرپٹ کہہ رہا ہے دونوں میں سے ایک تو جھوٹ بول رہا ہے دونوں میں سے کس پر یقین کیا جائے۔

یہاں تک ظہیر عباس کا موقف درست معلوم ہوتا ہے آپ کو یاد ہو گا کچھ ماہ قبل میرپور کے صحافی ظہیر جرال پر حملہ ہوا تھا اس معاملہ کی کڑی اسی کہانی سے ملتی معلوم ہوتی ہے، ظہیرجرال پر حملہ کرنے والے ملز م نے گرفتاری کے بعد پولیس کو بیان میں کہا تھا کہ اس نے حملہ چیف ایڈیٹر جموں و کشمیر عامر محبوب کے کہنے پر کیا تھا، اس حملہ کی وجہ یہ تھی کہ ظہیر جرال چیئرمین ایم ڈی اے اعجاز رضا کے خلاف خبریں لکھ رہے تھے اور اعجاز رضا عامر محبوب کے عزیز ہیں، ملزم کے اس بیان کے بعد عامر محبوب اورملزم کی جیل سے فون پر کی گئی گفتگو کی آڈیو ریکارڈنگ لیک ہوئی جس میں ملزم بتاتا ہے کہ ایس ایس پی میرپور راجہ عرفان سلیم نے عامر محبوب کے خلاف زبردستی بیان لیا، اس واقع کی عامر محبوب کے خلاف ایف آئی آر بھی درج ہوئی، اس عرصہ میں صحافی شہزاد راٹھور ایس ایس پی میرپور راجہ عرفان سلیم اور صحافی ظہیر جرال کے خلاف خاصے متحرک رہے، ان ہی دنوں انہوں نے فیس بک پر لکھا عرفان سلیم کا اسلام آباد میں پچیس کروڑ کا پینٹ ہاؤس ہے وہ بتائے کہ یہ کیسے خریدا، شاید ظہیر عباس نے شاہ نواز بٹ کی پوسٹ پر کمنٹ میں اسی پوسٹ کا حوالہ دیا تھا، شہزاد راٹھور نے یہ بھی لکھا تھا چند دنوں میں ایس ایس پی میرپور سے متعلق بڑے راز افشا کریں گے تاہم اس دورانیہ میں عامر محبوب اور ایس ایس پی عرفان سلیم کے مابین معاملات طے پا گئے اور شہزاد راٹھور نے ایس ایس پی کا کوئی راز فاش نہ کیا۔

ظہیر عباس کے انٹرویو کے بعد ایس ایس پی میرپور راجہ عرفان سلیم نے پریس ریلیز جاری کی ہے جس میں بتایا گیا کہ کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر ان کے خلاف الزام تراشی کی منظم مہم چلائی گئی جس میں ظہیر عباس نے بھی کمنٹس کیے تھے، اس مہم کے اصل محرکات جاننے کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی تھی، ظہیر عباس کو اس کے رشتہ دار کے ذریعہ میرپورلاگیا ان کا بیان قلم بند ہوا اور باعزت گھرروانہ کردیا گیا، پریس ریلیز میں یہ بھی بتایا گیا کہ کوٹلی کا ہیرون سمگلنگ گروہ ان کے خلاف پراپیگنڈہ کررہا ہے اور صحافی شہزاد راٹھور بھی اس گروہ کا حصہ ہے۔

سوال یہ ہے کہ ایک پوسٹ پر کمنٹس کرنا اتنا بڑا جرم تھا کہ ظہیر عباس کو رات کی تاریکی میں گرفتار کیا گیا، اگر یہ سائبر کرائم کے زمرے میں آتا تھا تو کیا انہیں نوٹس نہیں بھیجا جانا چاہیے تھا کہ کمیٹی کے سامنے پیش ہوکر وضاحت کریں،کیا ظہیر عباس کوئی دہشت گرد تھا جو بم بلاسٹ کردیتا یا بیرون ملک فرار ہو جاتا۔ ایس ایس پی اس بابت وضاحتی پریس ریلیز بھی جاری کر سکتے تھے کہ ان پر بے بنیاد الزام تراشی کی جارہی ہے میرپور کے صحافی دوست منٹوں میں اس وضاحت کو پوری دنیا میں پھیلا دیتے۔

سوشل میڈیا پر پولیس سمیت کسی بھی شہری کی کردار کُشی کی حوصلہ شکنی لازم ہے تاہم پولیس کے غیر قانونی اور غیر اخلاقی اقدام کی حمایت ہر گز نہیں کی جاسکتی۔ ایس ایس پی کے مطابق سوشل میڈیا پر بے بنیاد الزامات کے خلاف کارائی کی گئی،ایس ایس پی میرپور نے جس تُندی سے اپنی شان میں گستاخانہ کمنٹس کرنے پر کاروائی کی انہیں دن رات بلاوجہ مدح سرائی کرنے والوں کے بارے میں بھی نوٹس لینا چاہیے۔

ظہیر عباس کا الزام ہے کہ انہیں ننگا کر کے ویڈیو بنائی گئی اور گالم گلوچ کی گئی بتایا جائے یہ کون سا قانون ہے کہ پولیس ایک شہری کو برہنہ کرکہ تصاویر اور ویڈیو بنائے، پولیس ملازم تصور کریں اگر ان کے بوڑھے والد کی ایسے تذلیل کی جائے تو ان پر کیا گزرے، کیا اس ساری کاروائی کا مقصد دہشت قائم کرنا سمجھا جائے ۔

بدقسمتی یہ ہے کہ آزاد کشمیر میں ہر چھوٹے بڑے ایشو کو علاقائی رنگ دیا جاتا ہے اس کیس میں بھی یہی ہو رہا ہے کچھ لوگ کوٹلی کے فرزند کے لیے انصاف مانگ رہے ہیں جبکہ کچھ لوگ میرپور کے سپوت کے دفاع میں مصروف ہیں حالانکہ یہ ہر گِز علاقائی مسئلہ نہیں، اس ایشو کو صرف قانونی اور اخلاقی پہرائے میں ہی دیکھا جائے۔

ظہیر عباس نے غیر قانونی گرفتاری اور غیر اخلاقی رویہ کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی ہے اور پولیس بھی ظہیر عباس کے انٹرویو کے بعد اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لیے مزید تحقیقات کر رہی ہے بہرحال اس معاملہ کی اعلیٰ سطحی انکوائری ہونی چاہیے تاکہ اصل حقائق سامنے آئیں۔

خوشامدی اور چاپلوس طبقہ کو بھی تعریفوں کے پل باندھتے ہوئے حدود و قیود کا تھوڑا خیال رکھنا چاہیے، اگرکوئی فرض شناس ہے بھی تو یہ کوئی احسان نہیں، دیانت داری سے اپنے فرائض منصبی ادا کرنا ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی اولین ذمہ داری ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں