منصور لیاقت کی شہادت، حادثہ نہیں سانحہ ہے یہ۔ تحریر: ظفراقبال

تھی خبرایسی کہ دل مضطرڈوبا
اک جواں سال جنوں کیش ہنر ور ڈوبا
12جون کوعصرکے وقت خبرملی کہ ٹائیں سے تعلق رکھنے والاایک نوجوان منصور لیاقت دھمہ ٹائیں کے مقام پرجہاں نالہ ماہل دریائے جہلم سے ملتاہے ڈوب گیاہے۔منصور سینئرمدرس ہائیرسکینڈری سکول ٹائیں سردارخلیل کابھتیجا اور ٹائیں کے ہردل عزیز لیاقت مرحوم کا اکلوتا فرزند تھا جوکہ نالہ ماہل کے گہرے پانیوں میں اپنے خالق حقیقی سے جاملا۔اناللہ واناالیہ راجعون۔

اس جواں سال کی ناگہانی موت نے ٹائیں کے ہر پیر و جوان اور مرد و زن کورنجیدہ اورسوگوارکردیا۔ اس حادثے کے فوراً بعد لاش کی تلاش کے لیے مقامی تیراکوں نے جدوجہد شروع کی۔ مقامی فلاحی تنظیموں،نمایاں شخصیات بشمول ممبر کشمیر کونسل سردارعبدالخالق وصی نے پروفیشنل غوطہ خورٹیموں کے لیے انتظامیہ اور اربابِ اختیارسے رابطے کیے۔

ہفتے کی صبح مظفرآبادسے غوطہ خورٹیم نے جائے حادثہ پر پہنچ کرلاش نکالنے کی تقریباًپانچ گھنٹے کی ناکام کوشش کے بعدواپسی کی راہ لی اور بتایا کہ لاش دریا میں چلی گئی ہوگی لیکن مقامی نوجوانوں کے جذبوں کوسلام کہ انہوں نے ہمت نہ ہاری۔ وہ اس حوالے سے واضح گمان رکھتے تھے کہ لاش نالہ ماہل کے تالاب میں ہی ہے۔ انہوں نے اپنی جدوجہد ترک نہ کی اورآخرکارایک مقامی تاجر/ تیراک جاوید عباسی 40 سے 50 فٹ کی گہرائی سے لاش تلاش کرکے باہرنکالنے میں کامیاب ہوگئے۔ یقینا وہ اور ان کے ساتھ اس کے لیے داد و تحسین کے مستحق ہیں۔ حکومت کوانہیں خصوصی انعام سے نوازناچاہیے۔اللہ رب العزت جاویدعباسی کواس کارِخیرکے عوض اجرِ عظیم عطافرمائے۔

نوجوان منصورکی حادثاتی موت نے پورے علاقے کوسوگوارکر رکھاہے۔ اللہ تعالیٰ تمام سوگواران کوصبرِ جمیل عطافرمائے اوراس نوجوان کی شہادت کوقبول کرتے ہوئے اس کی آخرت کی منازل کوآسان فرمائے۔آمین

یہ حادثہ اپنی نوعیت کاپہلاحادثہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل نالہ ماہل، کھڈ اور دیگر نالوں تالابوں اوردریاؤں میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔بلکہ کسی نے یہ سچ کہاہے کہ: حادثے سے بڑھ کرسانحہ یہ ہوا، لوگ رُکے نہیں حادثہ دیکھ کر

یقیناً تیراکی ایک مثبت سرگرمی ہے لیکن اس میں مہارت،خطرات سے آگہی، احتیاط اورحفاظتی اقدامات کے بغیریہ جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ سب سے ضروری بات نوجوانوں کومعلوم ہونی چاہیے کہ نالہ ماہل، کھڈ اوراس طرح کے دیگرتالابوں میں ہربڑی طغیانی کے بعدتبدیلیوں کے واضح امکانات ہوتے ہیں۔ وہاں پرموجود بڑے پتھروں کے نیچے کٹاؤسے غارنماجگہیں بن جاتی ہیں۔جب کوئی نوجوان چھلانگ لگاتاہے اوربھرپورقوت سے تالاب کے اس طرح کے حصے میں چلاجائے توبہتے پانی کاپریشرتوڑکرواپس آناہرایک کے بس کی بات نہیں ہوتی۔اس طرح کی صورت حال میں کئی مرتبہ ماہرتیراک بھی جان کی بازی ہارجاتے ہیں۔

یہاں اس امرکوبھی پیشِ نظررکھناچاہیے کہ تیراکی میں مہارت بھی مسلسل محنت سے حاصل ہوتی ہے۔تالاب کے کنارے کم گہرے پانیوں سے اس کاآغازہوتاہے۔پہلے پانی کے بہاؤ کے ساتھ تیرنا، پھربہاؤکی مخالف سمت تیرناسیکھاجاتاہے اورآہستہ آہستہ گہرے پانی کاانتخاب ہوتاہے۔اس حوالے سے والدین اورمعاشرے کے سمجھ دارنوجوانوں کوان حادثات سے سبق حاصل کرتے ہوئے نوجوانوں اوربچوں کی نگرانی اور رہنمائی کرناہوگی کہ کوئی بچہ یانوجوان جس کویہ ہنرنہیں آتاوہ کسی ماہرتیراک کے بغیران پانیوں کے قریب بھی نہ جائے۔

ساتھ ساتھ اس امرکی بھی ضرورت ہے کہ ہریونین کونسل کی سطح پراس طرح کے مقامات کی نشان دہی،ان کے تکنیکی معائنے اورخطرات سے آگہی کے حوالے سے اقدامات کیے جائیں۔اس ضمن میں سیکرٹری یونین کونسل اورمقامی فلاحی تنظیمیں مل کربھرپورکرداراداکرسکتے ہیں اور وقتاًفوقتاًایسے مقامات کاجائزہ لے کرخطرات کوکم یاختم کرنے کے اقدامات کیے جاسکتے ہیں تاہم اس ضمن میں حکومتی سرپرستی انتہائی ضروری ہے۔

واٹرریسکیوکے حوالے سے حکومت کوچاہیے کہ دریاؤں کے قریب تقریباً ہر 30سے 35کلومیٹرکے فاصلے پرضروری آلات سے لیس تربیت یافتہ واٹر ریسکیوٹیم تعینات کرے نیزہرضلعی ہیڈکوارٹر پر بھی واٹر ریسکیوسنٹرموجودہوناچاہیے اوران سنٹرز کے ذریعے مقامی سطح کے تیراک رضاکاروں کوتربیت اورضروری آلات کی فراہمی کے ذریعے خطرات کوبڑی حدتک کم کیاجاسکتاہے۔

گذشتہ دنوں ایک ڈیجیٹل میڈیاہاؤس نے اس مقام دھمہ ٹائیں کے اس تالاب کی خوب صورتی اوردل کشی پرمبنی ٹوررزم کوپروموٹ کرنے کی بابت ایک مضمون نظرسے گزرا اورساتھ ہی ایک لنک میں ایک ویڈیوکلپ میں ایک نوجوان بڑے پتھرسے اس گہرے پانی میں چھلانگ لگاتانظرآتاہے۔منظرکشی یقینادل کش اوردیدنی تھی لیکن ایسی جگہوں کوصحیح معنوں میں استعمال میں نہ لائے جانے کی بدولت حادثات بھی معمول بنتے جارہے ہیں۔

قدرتی طورپرمیسراس طرح کے مقامات کوصحیح طورپراستعمال میں لانے کے لیے سب سے ضروری یہ ہے کہ خطرات سے بچنے کے اقدامات کیے جائیں۔اس طرح ان مقامات پرتفریح کے مواقع بھی مل سکتے ہیں،سیاحت بھی ہوسکتی ہے نیزروزگار کے مواقع بھی لیکن اگرہم نے روش نہ بدلی،حادثات سے سبق نہ سیکھاتوپھراس طرح لاشیں اٹھاتے،وسائل کی عدم دستیابی اورنظام کانوحہ لکھتے رہیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں عملی اقدامات کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں