مسئلہ کشمیر کےحل کیلئے سردار مسعود خان کا کردار۔ تحریر: سردار عثمان سدوزئی

وہ اقوام خوش قسمت ہوتی ہیں جن کو فہم و فراست والی سیاسی قیادت میسر ہو۔ خطہ کشمیر پر اللہ پاک کاخصوصی کرم ہے کے اس خطے میں ہر دور میں عظیم لیڈر شپ میسر رہی ہے۔ ایسی ہی شخصیت سردار مسعود خان کی ہے جو سفارت کار ی کا تابناک پس منظر رکھتے ہیں۔

مسُلہ کشمیر جو پچھلے 72سالوں سے چلا آرہا ہے ان 72سالوں سے جاری تحریک آزادی کشمیر جس کو کشمیریوں نے اپنے لہو کا نذرانہ دے کر پوری آب و تاب کے ساتھ جاری و ساری رکھا ہوا ہے۔محتلف عہد کے اندر مختلف کشمیری قیادت نے مسلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کیلے اپنا کردار ادا کیا لیکن مسلہ کشمیر کو اُجاگر کرنے میں جو اُن کا رول اور کردار بنتا تھا اُس طرح نہ دے سکے۔

ایسے میں موجودہ صدر آزاد ریاست جموں و کشمیر سردار مسعود خان کی صورت میں کشمیری عوام کو ان کا مسیحا ملا جو اپنے وسیع تر تجربے اپنے عظیم ویژن اور دنیا بھر میں اپنے دیرینہ تعلقات کی بنیاد پہ سیاسی اور سفارتی محاذ پر مسُلہ کشمیر کو اُجاگر کرنے میں برسرپیکار ہیں۔ سردار مسعود خان نے جس انداز میں مسُلہ کشمیر کو دنیا بھر میں اُجاگر کیا اور بھارتی مظالم کو بےنقاب کیا اور دنیا کو بھارت کا اصل نام نہاد جمہوری اور سیکولر چہرہ بےنقاب کروایا اور بھارت لابی کا ہر فورم پر پیچھا کیا اور 72سالوں سے سردخانے میں پڑے مسُلہ کشمیر کو فلیش پوائنٹ ایجنڈے پہ اُٹھایا اور آپ کی کاوشوں سے مسلہ کشمیر ہر وقت عالمی فورم پر زیر بحث رہا۔

سردار مسعود خان نے ہمیشہ بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کو روکیں کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں جنگی جرائم کا خاتمہ کرے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ سلامتی کونسل یا حقوق انسانی کونسل کا ایک تحقیقاتی کمیشن بھارت اور مقبوضہ کشمیر بھیجے تاکہ بھارتی قابض افواج کے جنگی جرائم کی تفتیش کر سکے۔ بھارت اگر اس سے انکار کرتا ہے تو اس کی اقوام متحدہ کے ایوانوں میں مذمت کی جائے اور بھارت جن جرائم کا مرتکب ہوا ہے بھارت کو ان جرائم کی سزا ملے۔

یاد رہے کہ سردارمسعود خان عالمی سطح پر کشمریوں کے مضبوط وکیل بن کر دنیا بھر میں کشمیرویوں کا جس طرح مقدمہ لڑ رہے ہیں ماضی میں ایسی مثال نہیں ملتی۔ وہ طاقتور ملکوں کے پارلیمان کے ممبران، اُن کے تھنک ٹینکس، میڈیا، دانشوروں اور سول سوسائٹی کے ارکان سے مل کر اُن کی توجہ کشمیر میں بہتے ہوئے خون کی طرف دلو ا کر اُن کے سوئے ہوئے ضمیروں کو جگا رہے ہیں. سردارمسعود خان جب اندرون ملک ہوتے ہیں تو تب بھی وہ کشمیر کاز کو اُجاگر کرنے کے لئے شب و روز مصروف عمل رہتے ہیں۔ پاکستان اور آزادکشمیر کی مختلف جامعات میں نوجوان نسل سے خطاب کرتے ہیں اور انہیں کشمیر کاز کو اُجاگر کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں وہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ملک کے دانشوروں، سول سوسائٹی کے ارکان اور پریس و الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ Interaction کرتے رہتے ہیں۔

سردارمسعود خان نے ہمشہ زور دیا کہ مسئلہ کشمیر سوا کروڑ انسانوں کے مستقبل اور زندگیوں کا مسئلہ ہے جسے حل کرنا اقوام عالم کی مشترکہ ذمہ داری ہے مسئلہ کشمیر وہ سلگتی ہوئی چنگاری ہے جو پوری دنیا کو اس آگ میں لپیٹ سکتی ہے اس لیے دنیا مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے آگے بڑھ کر اپنی ذمہ داری پوری کریں اور اپنا بھرپور رول ادا کرے۔ یاد رہے کہ سردار مسعود خان کے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتنیو گوتیریس کے ساتھ دیرینہ اور دوستانہ مراسم ہیں صدر مسعود جب جنیوا میں پاکستان کے سفیر اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب تعینات تھے تو اس وقت انتینیو گوتیریس اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر تھے۔2005ء میں جب پاکستان اور آزادکشمیر میں قیامت خیز زلزلہ آیا تو اس وقت بھی سردار مسعود خان کی تحریک پر انتنیو گو تیریس نے آزادکشمیر کا دورہ کیا اور اُن کی ایجنسی نے ریلیف کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

سردار مسعود خان نےاقوام متحدہ کی توجہ اس طرف دلائی کہ آزادکشمیر ایک کھلے Show Case کی طرح ہے اور ہم یہاں دنیا سے کچھ بھی نہیں چھپا رہے ہیں۔ یہاں کے لوگ کماحقہ بنیادی انسانی حقوق سے بہرہ مند اور مستفید ہو رہے ہیں۔ انہیں مکمل شخصی اور سماجی آزادیاں حاصل ہیں اور یہاں کسی بھی طرح کا تشدد، نظربندیاں اور پابندیاں نہیں۔ یہاں کے لوگوں میں سیاسی مخالفین کے لیے برداشت اور رواداری کے جذبات موجود ہیں جو کہ کسی بھی جمہوری اور مہذب معاشرے کا حسن ہوتا ہے اس کے برعکس مقبوضہ کشمیر میں وہاں کی اصل سیاسی قیادت کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیاہے۔ وہاں ہندوستانی افواج نے نہ صرف مردوں کو بلکہ خواتین اور بچوں کو بھی قید زنداں میں ڈال رکھا ہے۔ خواتین پر جنسی تشدد اور ان کی آبروریزی روز مرہ کا معمول بن چکا ہے۔

سردار مسعود خان نے محتلف فورم پہ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کشمیریوں پر بدترین جرائم کا مرتکب ہوا ہے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں ۔ لوگوں پر پیلٹ گن کا استعمال کرتے ہوئے انہیں بینائی سے محروم کیا جا رہا ہے معصوم بچوں بچوں کے والدین کو شہید کیا جا رہا ہے کشمیری اس وقت اپنی جان مال عزت سمیت ہر طرح کی قربانی دے رہے ہیں بالخصوص 5 اگست کے بعد تو ہندوستان نے پورے مقبوضہ کشمیر میں مکمل کرفیو کا نفاذ کر کے لوگوں کی آزادانہ نقل و حرکت اور ان کی شخصی آزادیوں کو سلب کر رکھا ہے اور پوری ریاست کو ہندوستان کی ناپاک افواج نے جیل بنایا ہوا ہے اور نظام زندگی مفلوج بنا کر رکھا ہوا ہے اور لوگ مکمل گھروں میں مصور ہو کر رہ گئے بزدل مودی سرکار نے کشمیرویوں کی اظہار رائے پر بھی مکمل پابندی لگا رکھی ہے مواصلات کا نظام مکمل بند کیا ہوا ہے۔ ایسے میں اب وقت آن پہنچا ہے کہ ہندوستان کو اُس کی زبان میں بھرپور جواب دیا جائے۔ باالخصوص اس وقت نوجوانوں کا رول انتہائی اہمیت کا حامل ہے نوجوان کسی محمد بن قاسم کا انتظار کئے بغیر کشمیر کی اپنی مائوں، بہنوں، بیٹیوں کی مدد اور حفاظت خود محمد بن قاسم بن کر کریں۔

سردارمسعود خان نے نوجوانوں میں جذبہ حریت اور جوش و ولولہ پیدا کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت اب لاشوں کی گنتی کا نہیں بلکہ ظالموں کی لاشیں گرانے کاہے اور ہمیں مکمل یقین ہے کہ کشمیر ایک دن آزاد ہو گا کیونکہ کشمیریوں کو آزادی کے سوا کوئی آپشن قبول نہیں۔ کشمیریوں کے جذبے جوان ہے اور ایسی جوش وجذبہ، جنون اور مسلسل جدوجہد نے مودی سرکار کو پریشان کر رکھا ہے. کشمیری مرد و زن کفن باندھ کر آزادی کی لڑائی لڑ رہے ہیں ان کے حوصلے ہمالیہ سے بھی بلند ہیں۔ ہندوستان کی ظالم وجبر ریاست اور اس کے جوہری ہتھیاریوں سے لیس بھارتی بزدل فوج کشمیریوں کے جذبہ آزادی کے آگے بے بس ہو چکے ہیں۔کشمیریوں نے اپنی آخری سانس اور آزادی کی صبح تک لڑنے و مرنے کی قسم کھائی ہے۔ نریندرہ مودی کی حکومت اور اس کی فسطائیت اور ہندوتوا سوچ کا مظاہرہ اب بھارت کی سرزمین پر پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔ R.S.Sکے نظریہ پر قائم موجودہ ہندوستانی حکومت اپنے ہی ملک کے اُن تمام شہریوں کو اول درجے کا شہری ماننے سے انکاری ہو چکی ہے جن کا تعلق ہندوازم کے سوا دیگر مذاہب سے ہے جن میں مسلمان، عیسائی، دلت اور دیگر مذاہب کے پیروکار شامل ہیں۔ مودی سرکار کی پالیسوں کی وجہ سے دنیا کی نظر میں ہندوستاں کا نام نہاد جمہوری چہرہ کھل کر سامنے آیا اور مودی کے ہندوپسندانہ اقدام نے ہندوستان کی تاریخ مسخ کر کے رکھ دی۔ بھارتی مظالم کی وجہ سے دنیا بھر میں ہندوستان کی بھرپور جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔ مودی سرکار اپنی ناکامیابیوں کو چھپانے کےلیے آئے روز مظلوم کشمیری عوام پہ ظلم و جبر کے پہاڑ توڑ رہی ہے اور بھارت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔

سردار مسعود خان کی خصوصی کاوشوں اور ویسع تر تجربہ کی وجہ سے بھارتی لابی دنیا بھر میں منہ چھپائے پھر رہی ہے بھارتی مظالم پوری طرح بے نقاب ہو چکے ہیں۔ بھارت جس جرائم کا مرتکب ہوا ہے بھارت کو اس کے جرائم کی پوری سزا مل کر رہے گی۔ ہندوستان کی ظالم وجابر ریاست نے مظلوم و نہتے کشمیریوں پہ ظلم کے پہاڑ توڑ ڈالے ہیں لیکن وہ کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو کم نہ کر سکے کشمیری آزادی کے سوا کسی آپشن کو نہیں مانتے۔کشمیری دنیا کی واحد قوم ہے جو اپنے جان ومال عزت ہر طرح کی قربانیاں دے کے تحریک آزادی کشمیر کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔کشمیریوں کے حوصلے بلند ہیں اور کشمیریوں نے قسم کھائی ہے کہ وہ اپنی آخری سانس تک آزادی کی لڑائی لڑیں گئے۔سردار مسعود خان کی مسلسل محنت و جدوجہد اور مسُلہ کشمیر کے حل میں خصوصی دلچپسی کے باعث جس طرح دنیا کے ایوانوں میں ڈسکس ہوا اور کشمیریوں کی حمایت میں اقدام عالم میں جو پذیرائی ملی اس سے کشمیریوں کے حوصلے بلند ہوئے۔سردار مسعود خان کی صورت میں کشمیریوں کو 72سالوں میں ایک مضبوط وکیل ملا۔بھارت سرکار کی شاید یہ بھول ہو کہ وہ طاقت کے زور پہ کشمیریوں کو زیادہ دیر تک غلام رکھ سکے گا اگر کوئی ملک کسی کو طاقت کے زور پہ غلام رکھ سکتا ہوتا تو آج تک کوئی ریاست آزاد نہ ہوتی۔

کشمیری قوم قربانیاں دینے والی عظیم قوم ہے۔ جس قوم کے عظیم اسلاف اپنی زندہ کھالیں کھنچوا کے تحریک آزاد کشمیر کو زندہ رکھا ہو بھلا اسی نڈر اور جنگجو قوم کو بھارت کیسے شکست دے سکتا نہتے کشمیری ہندوستان کی اسلح سے لیس فوج کے ساتھ پتھروں کے ساتھ مقابلہ کر رہی ہے ہندوستان نے کشمیرویوں پر ظلم و جبر کے تمام حربے استعمال کر لیے لیکن وہ کشمیرویوں کے جذبے کو شکست نہیں دے سکے دن بدن کشمیری ایک نئے جذبے کے ساتھ اور ہر دن ہندوستان کے خلاف نئے تجدید عہد کے ساتھ میدان میں برسر پیکار ہیں تمام پاکستانی و کشمیری قیادت کشمیر ایشو پر ایک پیج پر اکٹھے ہیں۔

کالم نگار سردار عثمان سدوزئی

اپنا تبصرہ بھیجیں