چکسواری، رٹھوعہ ہریام پُل کی عدم تکمیل اور متاثرین منگلاڈیم کے مسائل کا ذمہ دارکون؟ محمد عارف چودھری نے پریس کانفرنس میں ذمہ داران کا تعین کردیا۔

چک سواری (شہزادعظیم سے) محمدعارف چودھری سابق اُمیدواراسمبلی حلقہ ایل اے 2 چک سواری اسلام گڑھ وچیئرمین اقتصادی اُموربورڈمسلم لیگ (ن) آزادکشمیرنے کہاہے کہ متاثرین منگلاڈیم کے جملہ مسائل بشمول رٹھوعہ چک ہریام پُل کی عدم تکمیل اور 2013ء کومنگلاڈیم میں پانی بھرکرمتاثرین کوزندہ درگورکرنے کے ذمہ دارسابق وزیراعظم چودھری عبدالمجیدہیں۔ اب گذشتہ چارسالوں سے ریاست کے وزیراعظم راجہ محمدفاروق حیدرخان نے بھی متاثرین منگلاڈیم کے مسائل سے چشم پوشی کرکے انتہائی غفلت کامظاہرہ کیا۔

حکومت آزادکشمیررٹھوعہ چک ہریام پُل کی تکمیل کے لیے جلدازجلدلائحہ عمل کااعلان کرے اورمتاثرین منگلاڈیم کے جملہ مسائل کے حل کے لیے اہل افراد پرمشتمل نمائندہ کمیٹی قائم کی جائے جووفاقی حکومت اورچیئرمین واپڈا کو متاثرین کے مسائل کے حل کے لیے تحریک کرے بصورتِ دیگرمیرپورکے عوام اپنے حقوق کے لیے ہرآئینی راستہ اختیارکریں گے۔

ان خیالات کااظہارانہوں نے گذشتہ روزچک سواری کے مقامی ہوٹل میں چیئرمین چودھری شاہنواز اورعارف حسین چودھری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔محمدعارف چودھری نے کہاکہ ریاست میں گذشتہ بیس سالوں کے دوران جوبھی حکومت قائم ہوئی اُس نے متاثرین منگلاڈیم کے ساتھ بدترین ظلم اورفریب کیا۔سب سے بڑاظلم پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق وزیراعظم چودھری عبدالمجیدنے کیاجن کاتعلق اسی حلقے سے ہے۔وہ اقتدارکے نشے میں اتناغرق ہوچکے تھے کہ خودکوگڑھی خدابخش کامجاورکہتے اورواپڈاکے ساتھ طے شدہ معاہدہ کے برعکس منصوبہ مکمل ہونے سے قبل ہی این او سی جاری کرکے نہ صرف کرپشن کی بلکہ اہل میرپورکی بیس ارب روپے کی جائیدادکوڈیم بردکردیا۔واپڈاکے ساتھ معاہدہ میں طے تھاکہ متاثرین کے لیے چارٹاؤنز اورایک نیوسٹی میں تمام سہولیات مہیاکرنے اورآخری متاثرہ شخص کی آبادکاری کے بعدڈیم میں پانی کی سطح بلندکی جائے گی لیکن چودھری عبدالمجیدنے اہل میرپوراوراپنے حلقے کے عوام سے دھوکہ کرتے ہوئے ذاتی مفادات کی خاطرواپڈاکوقبل ازوقت این او سی جاری کرکے بھاگنے کاموقع فراہم کیا۔

محمدعارف چودھری نے کہاکہ رٹھوعہ چک ہریام پُل وفاقی حکومت کامنصوبہ ہے جسے منگلاڈیم کی توسیع کے ساتھ ہی مکمل ہوناتھالیکن بدقسمتی سے 97 فیصد کام ہوجانے کے باوجودحکومت آزادکشمیرکی عدم دلچسپی کی وجہ سے منصوبہ تاحال نامکمل ہے۔وزیراعظم آزادکشمیراگرذاتی دل چسپی لیں تورٹھوعہ چک ہریام پل صرف آٹھ ماہ میں مکمل ہوسکتاہے۔حکومتِ پاکستان نے پل کے لیے ایک ارب دس کروڑروپے فراہم کردیے ہیں۔پُل کاڈیزائن مکمل ہے اوردیگرضروری لوازمات بھی مکمل ہیں لیکن ریاست کے چندکرپٹ بیوروکریٹ اپنی کرپشن کے لیے وزیراعظم آزادکشمیرکوغلط معلومات فراہم کرکے اس اہم منصوبے کومزید التوامیں رکھناچاہتے ہیں۔

محمدعارف چودھری نے کہاکہ متاثرین منگلاڈیم کے مسائل کے حل کے لیے ہرماہ حکومت آزادکشمیرکے ذمہ داران،واپڈاحکام،کمشنرمیرپورڈویژن اورایم ڈی ایچ اے حکام کااہم اجلاس ہوتاتھالیکن بدقسمتی سے2016ء سے تاحال ایک بھی اجلاس منعقدنہ ہوسکا۔موجودہ ڈائریکٹرجنرل ایم ڈی ایچ ا ے کوتعینات ہوئے دوسال ہونے کوہیں لیکن موصوف آج تک متاثرین منگلاڈیم کے مسائل کے حل زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں کرسکے۔

محمدعارف چودھری نے کہاکہ سولہ ہزارذیلی کنبہ جات کے لیے حکومت آزادکشمیر نے ستائیس ہزارکنال رقبہ مختص کررکھاہے لیکن2015ء سے معاملہ ایکنک میں پڑاہواہے۔ذیلی کنبہ جات کے لیے واپڈاکی طرف سے اربوں روپے حکومت آزادکشمیرکودیے گئے جنہیں مصرف میں لانے کی بجائے حکام سودکے ذریعے کرپشن کررہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ حکومت آزادکشمیراورمتعلقہ ادارے متاثرین منگلاڈیم کے مسائل کے حل کے لیے فی الفورٹھوس اقدامات اٹھائیں بصورتِ دیگرڈسٹرکٹ بارمیرپور، سیاسی،سماجی تنظیموں اورانجمن تاجراں کے ساتھ مل کربھرپوراحتجاجی مہم چلائیں گے جس کاآغازنامکمل رٹھوعہ ہریام پُل پرسے ہوگا۔بعدازاں آئینی حدودکے اندررہتے ہوئے ہرممکن طریقے سے مسائل کے حل کے لیے آوازبلندکریں گے۔#

اپنا تبصرہ بھیجیں