ضلع حویلی ہماری سہیلی پھرملاقات ہوگی ،نثارکیانی

نیل فیری کا نام نیلو فر پھول سے اخذ کیا گیا ہے نیلو فر ایک عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ”پانی کے پھول” کے ہیں ۔نیلو فر ایک خوبصورت پھول ہے۔ کچھ لوگ اسے کنول بھی کہتے ہیں۔ پانی کے اندر خاص طور پر کھڑے پانی میں، گہرے تالابوں جھیلوں میں اس کا پودا ہوتا ہے۔اصل حالت میں اس کے پھول بہت خوبصورت اور دلرباہوتے ہیں۔ مرجھانے اور خشک ہونے پر اپنی دلربائی اور حسن کھو دیتے ہیں۔یہ پھول موسم بہار کی آمد اور برف پگھلنے کے ساتھ کھلتا ہے ،پھول سائز میں بہت چھوٹا مگر انتہائی خوبصورت ہوتا ہے۔نیل فیری ضلع حویلی آزادکشمیر میں واقعہ ایک دلفریب جھیل کا نام ہے ، جسے آسمان صحافت پر لانے کا ارادہ 2016 میں کیا گیا ، الحمداللہ،جھیل کی طرح صحافت کے افق پر روزنامہ نیل فیری عرصہ تین سال سے مہک رہا ہے ۔ محکمہ اطلاعات آزادحکومت ریاست جموں کشمیر کی جانب سے روزنامہ نیل فیری کا ڈیکلریشن 12 اکتوبر2017 کو جاری ہوا ، اخبار کانام نیل فیری رکھنے کے پیچھے جہاںکچھ تکنیکی محرکات بھی تھے وہاں دوسری طرف حسن فطرت سے محبت اور وابستگی کا عملی اظہار بھی تھا۔جو احباب قریب سے جانتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ راقم نے اپنا صحافتی سفر1998 میں کراچی سے شروع کیا اور پھر مختلف نیوز ایجنسیوں اور اخبارات میں کلیدی ذمہ داریاں نبھا ئیں ، اور اب راقم کی ادارت میں روزنامہ نیل فیری 4 سال کا ہونے والا ہے ۔ نیل فیری ضلع حویلی میںتقریبا ساڑھے نو ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ایک نہایت خوبصورت ایک دیدہ زیب مقام ہے جو حسن فطرت کا شاہکار ہے ۔یہاں نیل فیری کے نام سے ایک مسحور کن جھیل واقع ہے ۔ جو ان بلندو بالا پہاڑوں کی چوٹی پر یو ں جھڑی ہوئی ہے جیسے ایک بیش قیمت نگینہ انگوٹھی میں جھڑا ہوتا ہے ۔ نیل فیری کا مقام مقبوضہ کشمیر کے شہر پونچھ کے شمال مشرق میں تقریبا” 25 میل کے فاصلہ پر واقع ہے جو اپنے قدرتی حسن کی بدولت ہر کسی کو دعوت نظارہ دیتی ہے۔ نیل فیری کے دامن میں محض ڈیڑھ کلو میٹر کے فاصلہ پر سابق وزیراعظم آزادکشمیر دلوں کے حکمران راجہ ممتاز حسین راٹھور کی جائے پیدائش مین سر/ کائیاں واقع ہے جو راجگان سدھرون کی گرمائی رہائش گاہ رہی ہے.اس مقام کو غیر معمولی تاریخی حیثیت حاصل ہے جہاں اس دور کے پکے بنگلوں کے آثار آج بھی موجود ہیں۔ نیل فیری پرکشش سبزہ زاروں اور خوبصورت مرغزاروں کی زمین ہے۔مخملیں سبزہ پر جوتے پہن کر چلنا اس خوبصورت دھرتی کی توہین لگتی ہے۔ نیل فیری کی دوسری سمت مقبوضہ کشمیر کا نہایت خوبصورت مقام گلمرگ واقع ہے جو دنیا بھر کے سیاحوں کے لئے حسن ودلکشی کا سامان رکھتا ہے ۔ نیل فیری بھی گلمرگ سے کسی طرح کم کشش نہیں رکھتا بلکہ اسے چھوٹا گلمرگ کہنا غلط نہ ہوگا ۔لیکن ضلع حویلی کا یہ خوبصورت سیاحتی مقام روزنامہ نیل فیری کی کامیاب اشاعت کے ساتھ ساتھ حسن فطرت کے متلاشیوں کی نظروں میں آچکا ہے ۔نیل فیری کے عقب میںکرن پہاڑ کے دائیں جانب کوٹھ ناڑ ڈھوک کے سر پر بیڈوری پہاڑ واقع ہے جس کے مشرقی دامن میں گلمرگ مقبوضہ کشمیر کا علاقہ پڑتا ہے اور جہاں سے مقبوضہ اوڑی کا شہر سامنے نظر آتا ہے نیل فیری کے سامنے برف سے لدا سلسلہ کوہ پیر پنجال آتا ہے جس پر بھارتی فوج نے میلوں تک برقی قمقموں کی زنجیر بنا رکھی ہے جو منحوس ہونے کے باوجود دور سے بہت خوبصورت نظر آتی ہے۔ نامور ہندوستانی ادیب اور افسانہ نگار کرشن چندر نے ”نیل فیری کی ایک شام” کے عنوان سے خوبصورت افسانہ لکھا تھا ۔جو اب ان کے نئے شائع ہونے والے مجموعوں میں شامل نہیں کیا جارہا ہے۔ کرشن چندر اپنے افسانے” گرجن کی ایک شام ”کے عنوان سے لکھتے ہیں۔”ان مقامات اور اس رفعت پر پہنچ کر انسانی محبت بھی بلند ہو جاتی ہے خیالات اور تاثرات میں غیر معمولی انقلاب پیدا ہو جاتا ہے یہاں پہنچ کر محسوس ہوتا ہے کہ دل و دماغ پر عجب سا وجد طاری ہو چلا ہے جیسے کاندھوں سے منوں بوجھ ہلکا ہو گیا ہے۔ اوپر دیکھو تو اڑنے کو جی چاہتا ہے اور نیچے دیکھو تو میلوں تک پھیلا سلسلہ ہائے کوہ گرتے ابھرتے اورپھیلتے نظر آتے ہیں۔پھر نظر پھسلتی یوئی وادیوں سے ٹکراتی ہے اور پھردریا کا پانی چاندی کے تاروں کی مانند چمکتا نظر آتا ہے اور ان بلندیوں پر پہنچ کر پستیوں کا تصور ذہن سے محو ہو جاتا ہے۔ پیر پنجال کے سلسلہ ہائے کوہ پر تاحد نظر پڑی برف پر نگاہ پڑتے ہی انسان خود کو اتنا ہی شفاف سمجھنے لگتا ہے جتنی یہ سفید دھلی ہوئی برف۔ جہاں سبزہ زاروں میں رم جھم پھوار میں بادل گرجتے ہیں کبھی اولے پڑتے ہیں پھر ہوا کے تند و تیز جھونکے آتے ہیں مطلع صاف ہو جاتاہے آسمان خوشنما نیل کو آفتاب سونے کے تھال کی طرح درخشاں پر پھیلائے ہوئے فضائے بسیط میں اڑتے پرندے حسیں پریشاں سی لگتی ہیں”راولپنڈی اسلام میں مقیم کشمیر ی صحافیوں کی نمائندہ تنظیم کشمیر جرنلسٹس فورم نے دو روز قبل نیل فیری جھیل دیکھنے کے لیے ایک سیاحتی پروگرام ترتیب دیا ، جس کی اطلاع واٹس ایپ گروپ کے ذریعے تمام ممبران کی دی گئی ، سیاحتی پروگرام ترتیب دینے میں کشمیر جرنلسٹس فورم کے صدر زاہد اکبر عباسی ،سیکرٹری عقیل انجم ،سیکرٹری اطلاعات ،محمد اقبال اعوان ، آرگنارئز اعجاز خان ، ممبر گورننگ باڈی ثاقب راٹھور نے کلیدی کردار ادا کیا ،تاہم 24 ممبران اس سفر کے لئے راضی ہوئے ،روزنامہ نیل فیری کے چیف ایگزیکٹو نعیم حیات خان سمیت سنیئر صحافی ، اعجاز عباسی ، غلام اللہ کیانی ، راجہ بشیر عثمانی ،شیخ منظور اور ان کے چھوٹا سا بیٹا ، عابد ہاشمی ، مقصود منتطر،ارشد حسین ،راجہ خالد، راجہ ماجد افسر ،سردار احسان مغل ،ساجد صدیقی ، ذیشان قریشی ،نعیم الاسد، طاہر مسعود،چوہدری آصف محمود ، راقم نثارکیانی بھی شامل تھے ۔سفر کا آغاز کشمیر جرنلسٹس فورم کے مرکزی دفتر واقع سکستھ روڈ راولپنڈی سے دعا کے ساتھ ہوا ۔منتظمین نے کئی گھنٹوں کے اس سفر کیلئے ایک لگژری کوسٹر کا انتظام کیا تھا جبکہ ڈائر یکٹر جنرل محکمہ اطلاعات آزادکشمیر راجہ محمد اظہر خان نے صحافی برادری کے لئے اپنی شفقت اور محبت کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے فورم کی درخواست پر محکمہ کی جانب سے ایک ٹیوٹا ہائی ایس گاڑی بھی مہیا کی ۔24 کے قریب باعمل اور باکردار قلم کاروںکا قافلہ سہ پہر 4.30 پر روالپنڈی سے نیل فیری کیلئے براستہ ٹائیں ڈھلکوٹ روانہ ہوا ، راستے میں پکوڑوں ، مکئی کے اخروٹ ملے پجھے دانوں اور حلوے کا انتظام کالاکھیتر سٹاپ پر راقم کی اہلیہ نے کر رکھا تھا ،جو میرا کزن اور بھتیجا لیکر روڈ میں آئے تھے ۔5 گھنٹے کی مسافت کے بعد قافلہ باغ شہر پہنچا جہاں پی ٹی آئی آزادکشمیر ویلفیئر ونگ کے مرکزی صدر شیخ مقصود نے پرتکلف عشائیہ کا اہتمام کر رکھا تھا اس تقریب میں پریس کلب باغ کے صدر سردار اشتیاق حسین خان سمیت جملہ صحافیوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر فورم کے وفد کا باغ کے مقامی صحافیوں کے ساتھ تعارف ہوا جبکہ صحافیوں کی درپیش مسائل سمیت کشمیر کے بدلتے ہوئے تناظر میں مقررین نے سیر حاصل گفتگو بھی کی ، فورم کا قافلہ رات 11.30 بجے باغ سے ضلع حویلی کیلئے روانہ ہوا ،محمود گلی کے مقام پر قافلہ کے ارکان نے چائے ، حلوہ اور پکوڑے نوش کئے ، جبکہ کچھ دیر قیام کے بعد فاروڈ کہوٹہ کیلئے روانگی ہوئی قافلہ رات 2.30 بجے فاروڈ کہوٹہ پہنچا جہاں فورم کے عہدیداران آرگنائزر اعجاز خان اور ممبر گورننگ باڈی راجہ ثاقب شیر دل راٹھور نے قیام کا انتظام کر رکھا تھا ۔حویلی ان نامی اس ہوٹل میں بیڈ کم تھے جہاں بعض ممبران کو محمدی بستر بھی سونا پڑا جب کے بعض ممبران اعجاز خان کے ہمراہ ان کی رہا ئش گاہ پر جا کر سوئے ،صبح سویرے فورم کے آرگنائزر اعجاز خان اپنے گھر سے ناشتہ لیکر ہوٹل پہنچے جہاں نو بجے جملہ ارکان نے ناشتہ کیا اور پھر نیل فیری کے لئے روانہ ہوگئے ، ایک گھنٹہ کی مسافت کے بعد سیاحتی وفد ہالن شمالی پہنچا، جہاں پر مقامی صحافی سید ماجد حسین شاہ گیلانی ، سیاسی سماجی شخصیت تنویر صدیقی نے وفد کے ارکان کا استقبال کیا ۔ہان شمالی میں نیل فیری کا ایک بورڈ آویزاں تھا جو آستانہ عالیہ بساہاں شریف سے ہوتے ہوئے اور نیل فیری کے دس کلومیٹر مسافت کی طرف راستہ کی نشاہدی کر رہا تھا ۔ وفدہالن شمالی سے براستہ بساہاں شریف چیپوں پر سوار ہو کر نیل فیری کی طرف روانہ ہو ا بساہاں شریف تک سڑک کی حالت بہتر تھی راستے میں گذرتے ہوئے گرلز مڈل سکول بساہاں شریف پر ایک نظر پڑی جہاں پچیاں تو بڑی تعداد میں تھیں لیکن آثار و قرائن بتا رہے تھے کے سکول کی عمارت کئی دہائیاں قبل تعمیر ہوئی تھی ۔ وزیر حکومت و ممبر قانون ساز اسمبلی پیر علی رضا بخاری کے گھر سے چند قدموں کی مسافت پر سکول کی عمارت کی مخدوش صورت حال ناقابل فہم تھی ۔ بساہاں شریف سے نیل فیری کا ”ہڑ،، نما سڑک پر دشوار کن اور کٹھن راستہ شروع ہو گیا ۔موت کو ماسی کہنے کے مصداق اس خطرنا ک راستے نے پنڈی اسلام آباد کے نازک صحافیوں کے جسم کے جملہ پرزے ہلا کے رکھ دئیے ،پہاڑی ہونے کے باوجود اس سڑک پر سفر کرنے والے سیاحتی وفد کے اراکین کے منہ سے بار بار سفر کی دعا اور کلمہ شریف کے ورد کی آوازیں نکل رہی تھیں ،بساہاں شریف کے چند کلومیٹر کی مسافت پر ایک ڈھوک میں وفد کے اراکین نے پڑائو ڈالا جہاں سے سر کو مکمل پیچھے کی طرف کر نے کے بعد ہی چوٹی پر نیل فیری جھیل کی نشائدہی کی جارہی تھی ۔منزل کے قریب پہنچنے کی خوشی کے ساتھ ساتھ خوف اور اضطرابی کیفیت میں وفد کے اراکین دوبارہ جیپوں پر سوار ہوئے جہاں ایک کلومیٹر کے بعد جیپ کے ڈرائیوروں نے آگے گاڑی نہ جا سکنے کا کہہ کر جملہ وفد کے اراکین کو گاڑیوں سے اتر کر پیدل جانے کا مشورہ دیا ۔ کچی اور پل صراط نماسڑک پر سفر کی بجائے صحافیوں نے پیدل چلنے کو ترجیج دی ، جہاں تقریبا تین کلو میٹر پیدل چل کر نیل فیری پہنچنا تھا ۔راستہ میں سر پر لکڑیا ں اٹھائے مقامی خواتین بھی ملی ،ان کا لباس کشمیر اعلیٰ اقدار کی عکاسی کر رہا تھا لکڑیوں کے گٹھرے اٹھائے ان خواتین نے ہمیں غیر مقامی سمجھ کر بات کرنے سے گریز کی تاہم اس یقین کے ساتھ کے ہم آزادکشمیر کے کسی علاقے سے ہی ہیں انہوں نے بھائی جان کہہ کر ہم کلام ہو گئیں ، ان کا لہجہ گوجری کا تھا ،ان خواتین نے علاقے کی پسماندگی کا اپنے الفاظ میں کھل کر اظہار کیا ۔انہوں نے سڑک کی حالت زار بہتر کرنے کیلئے آواز ایوان اقتدار تک پہنچانے کیلئے پیشگی دعائیں بھی دیں ۔نیل فیری تک جانے کے لئے جیپوں کے راستہ ختم ہونے کے بعد اگر مقامی لوگوں کو کہا جائے کہ وہ خچروں پر لوگوں کو سوار کر کے جھیل تک مناسب پیسوں میں لے جائیں تو اس سے ان کو معاشی فائدہ ہو سکتا ہے ۔ایک سو دس کلو گرام وزن کی جسامت کے ساتھ نیل فیری کے مقام پر پہنچنا بڑی مہم جوئی سے کم نہ تھا ، ہم ایک قدم آگے بڑھاتے تو دو قدم سرک کر واپس پیچھے آتے ، سنیئر صحافی سردار احسان مغل اور راقم اس کھٹن سفر میں ساتھ تھے ۔ایک لمحہ ایسا آیا کے توازن برقرار نہ رکھ پانے کی صورت میں ہم نے بندروں کی طرح چلنے کو ترجیح دی ۔ بالآخر ہم نیل فیری تک پہنچ ہی گئے ۔اوردونوں ہاتھ بلند کرکے فاتحانہ انداز اختیار کیا ، جہاں ہم سے قبل پہنچنے والے دوستوں نے بھرپور نعرہ لگا کر حوصلہ افزائی کی ۔جھیل کا چاروں اطراف سے جائزلینے کے بعد فوٹو سیشن شروع ہوا جہاں سب دوستوں نے منفردانداز میں فوٹو بنوائے ،اس اثناء میں سید ماجد حسین شاہ گیلانی نے آواز دی کے کھانا لگ گیاہے ،مکئی کی روٹی ، دہی ، دیسی کڑہی ،گشتابے ،پلائو ،مکرونی ،سٹیم روسٹ ، چپاتی ،چاول ، کولڈ ڈرنکس،چٹنی ، سلاد ،کھانے گرم کرنے کے لئے گیس سلنڈر کا انتظام ،ماجد گیلانی کی مہمان نوازی نے ہمیں ورطہ حیرت میں ڈال دیا ، ایک ایسا مقام جہاں تک انسان پہنچنے کیلئے اتنے مصائب سے گذرتا ہے ، وہاں پرتکلف ظہرانہ حسن فطرت سے محبت اور وابستگی رکھنے والوں کے لئے اپنی اعلیٰ مہمان نوازی اور بلند عزائم کا ثبوت تھا ۔ کردار کی پاکیزگی کا یہ عالم تھا کے ایک روحانی خانوادے کا یہ فرد خود اپنے ہاتھوں سے کھانے پیش کررہا تھا ۔کھانے کے بعد پیر پنجال ، درہ حاجی پیر ، بیڈوری شیرو ٹھارہ کے پہاڑوں کے دیدار کے بعد سیاحتی وفد واپس حویلی شہر کی طرف رخت سفر باندھا ،ایک کلومیٹر نیچے پہنچ کر وفد کے اراکین کے لئے میوزیکل پروگرام چائے کا بندو بست تھا، اس موقع پر تنویر صدیقی اور ان کے ساتھیوں نے نعتیں اور کلام اقبال” خودی کو کر بلند ”اور سیف المکوک پیش کرکے سماع باندھ لیا ۔تما م اراکین اس محفل سے بھرپور محظوظ ہوئے ،اس کے بعد وفد کے ارکین 20 منٹ کی پیدل مسافٹ کے بعد چیپوں تک پہنچے جہاں ایک چیپ جس پر راقم بھی سوار تھا لایٹیں خراب ہوگئے ، چھت پر بیٹھے اقبال اعوان اور عابد ہاشمی کی موبائل کی لائٹ سے جیپ ہالن شمالی میں کھڑی کوسڑاور ہائی ایس تک بحفاظت پہنچی ، اس کے بعد تمام اراکین کے اعزاز میں سابق وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ ممتاز حسین راٹھور کی رہائش گاہ پلنگی ممتازآباد میں پر تکلف عشائیہ کااہتمام کیا گیا تھا ۔پی ڈبیلوڈی میں ایکس ای این راجہ محمود راٹھور اور پیپلزپارٹی ،پی وائی او ، پی ایس ایف کے اراکین نے سیاحتی وفد کو خوش آمدید کہا ۔ راجہ محمود راٹھور کی خوش گوئی سے ہر کوئی متاثر ہوا ، اس موقع پرراجہ محمود ممتاز راٹھور کا صحافیوں سے تعارف بھی کروایا گیا ، انہوں نے ہر ایک صحافی کو باغ آمد پر ان کا مہمام بننے کی دعوت د ی ۔ راجہ محمود راٹھورنے حویلی مسائل سمیت آزادکشمیر میں جاری منصوبہ جات پر صحافیوں کے سیر حاصل گفتگو کی ، اس موقع پر راجہ سربلند راٹھور ،راجہ جاوید سرورراٹھور ، اصغر راٹھور،شیخ خورشید صدرپاکستان پیپلزپارٹی ضلع باغ رفیع کیانی صدر پی وائی او حویلی ،حارث حمید راٹھور سہیل مجید راٹھور بھی موجود تھے ۔رات کو محفل سماع کا انتظام تھا جہاں تنویر صدیقی اور ان کے ساتھیوںنے ایک بار پھر حاضرین کے دل جیت لئے ۔صبح سویر ے وفد کے اراکین نے علی آباد،رانی باغ ،درہ حاجی پیر ،شیرو ٹھارہ سے ہوتے ہوئے واپس راولپنڈی اسلام آباد کا پروگرام بنایا تھا ، ناشتے کی دعوت وزیر حکومت چوہدری محمد عزیز کے گھر تھی قبل ازین پلنگی ممتاز آباد تحصیل پریس کلب کے صدر الطاف راٹھور ،عبدالغفورراٹھور ،فضلیت کاظمی نے صحافیوں کی آلو بخارے کے شربت سے تواضع کی ،وزیر حکومت کے گھرایڈمنسٹریٹر ضلع حویلی شیخ سہیل مسعود ایڈووکیٹ ، سابق ایڈمنسٹریٹر شیخ عارف اورچوہدری عزیز کے فرزند چوہدری محسن عزیز،بلال عزیزنے سیاحتی وفد کا استقبال کیا ۔اس موقع پر ضلع حویلی کے مقامی صحافیوں راجہ محمود ایوب راٹھور راجہ ، یونس راٹھور ،نوید نیازی ،سید ماجد گیلانی ،راجہ پرویز کیانی،حمادالحسنین بخاری ،شیخ وحید بھی موجود تھے ۔ تقریب سے فورم کے صدر زاہد عباسی ، سیکرٹری عقیل انجم ،سنیئر صحافی عجاز عباسی ،ایڈمنسٹریٹر ضلع حویلی سہیل مسعود اایڈووکیٹ ، لیگی رہنما چوہدری محمد انور ،شیخ محمد عارف ،منظور ڈار ، وزیر تعمیرات عامہ آزادکشمیر کے فرزند چوہدری محسن عزیز نے خطاب کیا۔ناشتے سے قبل تعارفی پروگرام ہوا پھر ایک مختصر مگر جامع تقریب منعقد ہوئی جس میں آزادکشمیر کی سیاسی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ کیاگیا ۔پرتکلف ناشتہ کے بعد صحافی ، براستہ درہ حاجی پیر راولپنڈی روانہ ہو گئے۔ رانی باغ سے حاجی پیر ،شیرو ڈھارا تک کا سفر سیاحوں کیلیے قدرتی نظاروں سے بھرپور ہے، اردو ادب کے ممتاز افسانہ اور نثر نگار کرشن چندر خود کو حاجی پیر کا بیٹا کہتے ہیں۔ ان کے افسانوں ، ناولوں اور کہانیوں کے کئی کردار اسی علاقے کے مرہون منت ہیں۔ حاجی پیر باغ شہر سے 48 جبکہ ضلعی ہیڈکواٹر فاروڈ کہوٹہ سے 35کلومیٹر دور ایک صحت افزا اور خوبصورت مقام ہے، جو سری نگر کو مقبوضہ کشمیر کے شہر پونچھ سے ملانے کا واحد راستہ بھی ہے۔ اسی لئے اس پہاڑ کو درہ حاجی پیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔حاجی پیر کے شمال مشرق میں کیرن پہاڑ اور مقبوضہ کشمیر کا اوڑی شہر ہے۔ جبکہ جنوب مغرب میں لسڈنہ کا خوبصورت علاقہ ہے۔ اس پہاڑ کے دامن میں علی آباد کی مشہور وادی ہے۔ جو شہنشاہ اکبر کے وزیر علی مروان کے نام پر قائم ہے۔ کہتے ہیں کہ حاجی پیر سے کرشن چندر کا رومانس پانچ سال کی عمر سے ہوا، جب اوڑی شہر سے پونچھ جاتے ہوئے وہ وہاں رکے تھے، ٹنڈ منڈ درخت کے گرد ٹوٹے کپڑوں کے جھنڈے اور لوگوں کے مسائل کی پوٹریاں خشک درخت کو حمائل کئے ہوئے تھیں۔بچپن کی یہ یادیں اردو ادب کے اس عظیم دانشور کے ذہن میں اس قدر نقش تھیں کہ انہوں نے برف کے پھول، شکست ، علی آباد کی سرائے اور کشمیرکی کہانیاں سبھی کتابوں میں اس کا تذکرہ کردیا۔کرشن چندر جس دور میں حاجی پیر اور علی آباد آئے تھے، ان دنوں میں یہاں چاروں طرف گھنے جنگلات ہوتے تھے، جن میں ہمالیائی چیتا، برفانی ریچھ، ہرن، بارہ سنگا اور شیر جیسے جانوروں کی بہتات ہوتی تھی، مہاراجے اور انگریز کارندے یہاں شکار کی غرض سے آتے تھے، لیکن مقامی لوگوں کے مطابق اب یہاں صرف چند پرندے اور جانور رہ گئے ہیں.پونچھ سری نگر شاہراہ بھی علی آباد اور حاجی پیر سے گزرتی ہے۔ یہ سڑک راجہ پونچھ نے 1920 کی دہائی میں تعمیر کرائی تھی۔ کرشن چندر نے اپنا بچپن اور جوانی کا لمبا عرصہ ضلع حویلی کہوٹہ میں گزارا۔ وہ علی آباد کے بارے میں لکھتے ہیں:اس جنگل کے دل میں ایک سپاٹ سطح مرتفع پر ایک عمدہ ڈاک بنگلہ تعمیر کیا گیا ہے۔ حاجی پیر سے آتے ہوئے یا پونچھ سے آتے ہوئے دونوں طرف سے آتے ہوئے نیم دائرے کی طرح موڑ کاٹ کر اس ڈاک بنگلے تک پہنچنا پڑتا ہے اور اسی طرح یکلخت یہ ڈاک بنگلہ آنکھوں کے سامنے آتا ہے۔ گھنیرے درختوں میں ایک انسانی خواب کی طرح چھپا ہوا۔ اس علاقے کے ڈاک بنگلے دو بیڈ روم کے ہوتے ہیں، لیکن یہ ڈاک بنگلہ بہت بڑا ہے۔ اس میں آدھا درجن سے زیادہ بیڈ روم ہیں۔ مورخین کے مطابق اکبر بادشاہ نے سری نگر پر یلغار کیلیے علی آباد میں اپنا بیس کیمپ لگایا تھا اور علی آباد کا نام بھی اس کے وزیر علی مروان کے نام پر ہے۔ علی آباد میں قیام کرنے والی اکبری سپاہ کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ انہوں نے کھانے میں 360 کلو یعنی 9 من ہینگ استعمال کی تھی۔ اکبری سپاہ کی موجودگی کی داستان علی آباد میں موجود ایک چٹان پر موجود ہے۔ لیکن زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ اس چٹان کی لکھائی بھی معدوم ہوگئی ہے۔ اکبر بادشاہ نے اس مقام پر ایک سرائے بھی تعمیر کرائی، جس کے آثار 1972 تک موجود تھے۔ لیکن بعدازاں آرمی کیمپ بننے کے باعث عام افراد کا داخلہ سرائے میں ممنوع قرار دے دیا ہے۔ راجہ پونچھ نے اپنی رانی کے اعزاز میں یہاں رانی باغ بھی تعمیر کرایا، جو کہ اپنی خوبصورتی اور سادگی کے اعتباز سے بہت لاجواب ہے۔علی آباد کے مقام پر شہنشاہ اکبر کی سرائے موجود ہے، جبکہ والئی پونچھ کی محبوب بیوی کے نام پر قائم رانی باغ اور اس کی جھیل شکست و ریخت کے باوجود قائم ہے۔ یہ وادی آج بھی سیاحوں کو دعوت نظارہ دیتی ہے۔ ،اس سفر میںایڈمنسٹریٹر شیخ سہیل مسعود ایڈووکیٹ، حویلی کے مقامی صحافی ، راجہ محمود ایوب ، راٹھور ،راجہ پرویز کیانی ، نوید نیازی ، اور دیگر بھی شریک سفر رہے۔رانی باغ کی خوبصورتی اپنی مثال آپ تھی ،دیار کے درختوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھا ،رانی باغ کی سیر کے بعد حویلی کے وفد نے صحافیوں کو الوداع کہا اور قافلہ درہ حاجی پیر کے لئے روانہ ہو گیا۔ اسی راستے کا پہلا پڑا حاجی پیر کی زیارت تھے، جبکہ اس کے بعد شیرو ڈھارا ہے۔ جو کسی ناراض حسینہ کی طرح ساری وادی کو اپنے حصار میں جکڑے ہوئے ہے۔ تاحد نگاہ سبزہ ہی سبزہ، چیڑھ، دیودار اور صنوبر کے جنگلات اور ان میں اگے خودرو پودوں کے پھولوں کی خوشبو، جن کے سامنے پیرس کی عطر بھی مانند پڑجائے۔ سبزے کے قالین پر قدم رکھتے ہی راحت کا وہ احساس ہوتا ہے کہ ساری عمر اسی قالین پر بتانے کا جی کرتا ہے۔ جہاں انتہائی ناگفتہ بہ سڑک پر 2 گھنٹے کی مسافت کے بعد سیاحتی وفد درہ حاجی پیر کی زیات پر پہنچے ، جہاں زیارت پر فاتحہ خوانی کی جبکہ کچھ فاصلے پر جا کر ضلع حویلی کی پسماندہ ترین یونین کونسل بھیڈی کا نظارہ کیا ۔یونین کونسل بھیڈی ایسی یونین کونسل ہے جس میں 14 بڑے گا ئوں ہیںاور بھیڈی کے باسی آج کے جدید دور میں 18 صدی کے دور جیسی زندگی جی رہے ہیں۔ ڈوگرا رجیم کے وقت یہ 14گا ئوں شہر اوڑی مقبوضہ کشمیر سے صرف 20 سے 30 منٹ اور چکوٹھی ضلع ہٹیاں بالا سے زیادہ سے 1 گھنٹہ کی مسافت پر تھے اور اس دور میں بھی تمام تر بنیادی سہولیات سے آراستہ تھے۔لیکن آزادی کے بعد بدقسمتی سے شہر اوڑی مقبوضہ کشمیرمیں چلا گیا اور بھیڈی آزاد کشمیر کا آخری کو نہ بن گیا۔ چکوٹھی 1 گھنٹے کی بجائے 10 گھنٹے کی مسافت پر چلا گیا اور شہر اوڑی کا ہمیشہ کیلئے رابطہ منقطع ہو گیا۔اس طرح ترقی یافتہ بھیڈی پسماندگی کے اندھیروں میں پھینک دیا گیا۔ آج وہاں نہ سڑک نہ ہسپتال نہ موبائل سروس اور نہ ہی بجلی اور نہ ہی تعلیم کا کوئی نظام ہے۔آج اگر یہاں کہ لوگوں کو آٹا بھی لانا ہو تو 4,5گھنٹے کی مسافت کر کے حویلی یا باغ سے اس سڑک پر لے جایا جاتا ہے جہاں گدھے بھی چلنے سے مجبور ہوتے ہیں۔ 50% لوگ بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ بھیڈی سے نکل مکانی کر گئے ہیں اور باقی 50% لوگ آج بھی بے یارمددگار کسی مسیحا کی انتظار میں بیٹھے ہیں کہ کوئی آئے گا اور ان کے حال پر رحم کرے گا۔ لیکن 70سال کے بعد بھی ان کا انتطار ختم نہیں ہو سکا۔ یہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ سیاسی نمائندے الیکشن سے قبل نظر آتے ہیں پھر 5 سال تک ان کا بھیڈی سے کوئی لینا نہیں ہوتا۔بھیڈی ضلع حویلی میں آتا ہے جہاں کی عظیم دھرتی نے وزیراعظم سنیئر وزیر اور بڑے بڑے آفیسرز کو جنم دیا لیکن کسی کو بھی بھیڈی کی پسماندگی نظر نہ آئی سب نے صرف اپنے اپنے علاقوں پر توجہ دی۔ عوام علاقہ بھیڈی کا مطالبہ ہے کہ اس یونین کونسل کو تحصیل کا درجہ دیا جائے تاکہ بھیڈی بھی پسماندگی کے اندھیروں سے نکل سکے۔سیاحی وفد نے بابا حاجی پیر کی زیارت پرحاضری دی ،باباحاجی پیر کا اصل نام سید عبداللہ شاہ تھا جو سلسلہ تصوف تقشبندیہ قادریہ اور بخاری سید گھرانے سے تعلق تھا ، آپ کے والد بخارا سے ہجرت کرکے کابل کے قریب ایک قصبہ زیارت میں مکیں ہوء ، بعد ازاں آپ شہاب الدین غوری کے دور میں زیارت کابل سے ہجرت کرکے کشمیر پہنچے ،آپ کے والد گرامی کی آخری آرام گاہ کابل میں ہی ہے ، ایک معروف روایت کے مطابق آپ چار بھائی اور ایک بہن اس علاقے میں مقیم رہے اور ان شخصیات کی نشانیاں آج تک موجود ہیں ۔ان میں باباحاجی پیر ،سر پیر ،نیزہ پیر ،تولی پیر ،اور ہمشیرہ پیر کانٹھی شامل ہیں ۔پیرپنجال اور پرستان نامی پہاڑی سلسلوں کو انہی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ۔بابا جی کے مزار کی وجہ سے اس مقام کو درہ حاجی پیر کہا جاتا ہے ۔ بابا حاجی پیر کی درگاہ پر فاتحہ خوانی کے بعد شیرو ٹھارہ کی طرف روانہ ہوگئے جہاں گاڑی پر یوں محسوس ہو رہا تھا کہ آسمان کی سر کرنے جارہی ہیں ، حاجی پیر سے شیر ڈھارا کا راستہ نسبتا تنگ مگر پختہ سڑک پر مشتمل تھا جو اب کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہے لیکن اس پر سفر نے سیاحتی وفد پر ایک سحر طاری کردیا۔
حاجی پیر سے ایک گھنٹے کی مسافت کے بعد قافلہ شیرو ٹھارہ پہنچا ،شام کے وقت اس بلند ترین چوٹی سے تاحد نگاہ پہاڑ نظر آرہے تھے ،جو کشمیر کی فطری رعنائیوں کی عکاسی تھا ، شیرو ٹھارہ میں چائے پینے کے بعد باغ کی طرف روانگی شروع ہوئی جہاں تقریبا 7 بجے قافلہ باغ پہنچا ،ہاڑی گہل کے مقام پر روزنامہ نیل فیری کے چیف ایگزیکٹو نعیم حیات کی طرف سے صحافیوں کے اعزاز میں پرتکلف عشائیہ دیا گیا ، اس موقع پر تمام صحافیوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ،اور سفر کو اپنی زندگی کا ایک بہترین تجربہ قراردیا ، صحافیوں نے ضلع حویلی کے لوگوں کے پیار خلوص مہمان نوازی کی تعریفوں کے پل باندھ دئیے اور کہا کہ حویلی ہماری سہیلی ہے اس سے ملنے انشاء اللہ ضرور آئیں گے ،ضلع حویلی فطری حسن سے مالا مال قدرت کا حسین شاہکار ہے لیکن اس کا انفراسکٹچر دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ کوئی مفتوحہ علاقہ ہے 73 سالوں میں ایشین ڈولپمنٹ بنک کے تعاون سے صرف ایک ہی سڑک بن سکی ہے ،،محمود گلی ، کہوٹہ روڈ کو چھوڑ کر سڑکوں کا کوئی پرسان حال نہیں ،شہر میں قیام کے لئے ہوٹلز نہ ہونے کے برابر ہیں ، کوئی سرکاری ہسپتال نہیں زچکی کے مسائل کا شکار خواتین باغ اور راولاکوٹ کے ہسپتالوں تک پہنچتے پہنچتے فوت ہو جاتی ہیں ، پرنٹ اور سوشل میڈیا قدرت کے اس انمول تحفہ نما ضلع کو سیاحوں کے نظروں تک لے آیا ہے ،اب آزادکشمیر حکومت کے محکمہ سیاحت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ضمن میں جنگی بنیادوں پر اقدامات کرے، اب سردیوں کے موسم شروع ہو چکا ہے ، سیاح کم تعداد میں اس طرف رخ کریں گے لیکن ارباب اختیار کا فرض ہے کہ وہ سیاحت کے آمدہ سیزن سے قبل سیاحوں کی سہولت کے لئے شارٹ اور لانگ ٹرم پالیسیاں بنا ئے،سیاحتی مقا مات تک بہترین سڑکوں کی تعمیر سے سیاحوں کی بڑی تعداد اس ضلع کا رخ کرسکتی ہے جو نہ طرف قدرتی حسن سے لطف اندوز ہوں گے بلکہ آزادکشمیر اور ضلع حویلی کو بڑا معاشی فائد ہ حاصل ہو گا اور یہ خطہ آزادکشمیر کا سوئززلینڈ بن سکتا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں