چنگاریوں کو ہوا مت دو۔ مہوش ناز

پچھلے چند دنوں سے گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بنائے جانے کے لیے ملک کی عسکری اور سیاسی قیادت کی باہمی مشاورت کی خبریں زبان زد عام ہیں۔ ان خبروں کی گردش کے بعدآزاد کشمیر کی عوام کے اندر شدید بے چینی پائی جاتی ہے جبکہ دوسری طرف  گلگت بلتستان کی عوام نے ان خبروں پر مسرت کا اظہار کر رہے ہیں۔

آزادی پسند نیشنلسٹ جماعتوں سمیت ایک بڑا حلقہ گلگت بلتستان کی آئینی وقانونی حیثیت کو تبدیل کرنے بارے تحفظات کا شکار ہے۔ خیال یہی کیا جاتا ہے کے گلگت بلتستان کی قانونی حیثیت ختم ہو جانے سے پاکستان کا کشمیر پر ستر سال کا موقف کمزور ہو جائے گا اور جموں کشمیر کی تحریک آزادی پر شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

دفتر خارجہ کی بھی اس سلسلے میں آزاد کشمیر حکومت کے بعض وزرا ء سے مشاورت کی اطلاعات بھی ہیں۔ آزاد کشمیر کی  قانونی طور پر یونائٹیڈ نیشن میں تسلیم کی جانے والی  جماعت آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کے سپریم ہیڈ سردار عتیق احمد خان نے اس بات کی تردید کی ہے کے ان سے ابھی تک اس بارے میں کوئی مشاورت ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں آزاد کشمیر کی میں اسٹریم پارلیمانی جماعتوں سمیت قوم پرست تنظیموں کیساتھ مشاورت کی بھی کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔ آزادکشمیر کی تمام بار ایسوسی ایشن اور آزاد کشمیر بارکونسل نے اس اقدام کے خلاف نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر گذشتہ دنوں مظاہرہ بھی کیا ہے۔

گلگت بلتستان کے بارے میں حکومت پاکستان کے موقف کو لیکر گزشتہ دنوں قوم پرست جماعت جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی اور اس کے طلبہ ونگ جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن ایک کا قافلہ کوٹلی، راولاکوٹ، سدھنوتی اور مختلف اضلاع سے مظفراباد  کے کوہالہ پل پر احتجاجی دھرنا دینے کے لیے روانہ ہوا۔۔ جس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ضلع باغ اور ضلع مظفر آباد کی پولیس نے دونوں تنظیموں کے 50سے زائد کارکنوں کو مرکزی قیادت سمیت گرفتار کر لیا۔جو ہنوز ضلع مظفرآباد اور ضلع باغ کی تحصیل دھیرکوٹ کی مختلف پولیس چوکیو ں اور تھانے میں مقید ہیں ۔دونوں تنظیموں کے گرفتار قیادت اور کارکنوں نے ضمانت نہیں کروانے کا اعلان کرتے ہوئے حکومت سے غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے، گرفتاریوں کے خلاف آزادکشمیر کے باغ، مظفرآباد، راولاکوٹ ،ہجیرہ ،تھوراڑ ،ڈڈیال ،پلندری ،سمیت مختلف علاقوں احتجاجیمظاہرے بھی ہوے ہیں۔

راستے بند کر کے احتجاج کرنا اگرچہ انتہائی غیر جمہوری فعل ہے، کوئی ذی شعور اس حق میں ہر گز نہیں ہو سکتا، کیوں کہ اس سے ایک عام ادمی کو جو ایذا پہنچتی ہے وہ کوئی نہیں جان سکتا۔۔۔ احتجاج پر امن اور ایسا ہو جو کسی کو تکلیف نہ دے اور بیانیہ اتنا مضبوط ہو کے اپنی بات کو بھی منوا لے۔

دوسری طرف گرفتاریاں اور تشدد جیسے واقعات قابل مذمت ہیں۔اپنے لیے اپنی خواہش کے مطابق زمین کا ٹکڑا لیکر اپنی مرضی کا گھر بنانا یہ ہر انسان کا بنیادی حق اور خواب ہوتا ہے۔ آزادی پسندوں کے قافلے گلگت بلتستان کے ہوں یا ازاد کشمیر سے آزادی کی خواہش کو روکنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ وطن سے محبت کا درس ہمیں ہمارا مذہب بھی دیتا ہے اور آزادی اسکی خواہش رکھنا ایک فطری عمل ہے۔ گلگت بلتستان تنازعہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ اوروحدت کا حصہ ہے بھارت نے مقبوضہ جموں کشمیر کی آئینی اور قانونی حیثیت ختم کی سب نے احتجاج ریکارڈ کروائے لیکن اس کے باوجود جموں کشمیر اب بھارت کا حصہ کہلانے لگ گیا ہے۔اس صورت میں اب گلگت بلتستان کا پاکستان کا صوبہ بن جانا یقینی طور پر بھارت کے کشمیر پر قبضہ کے موقف کی تائید ہو گی۔تقسیم کشمیر کے خلاف آواز بلند کرنا نیپ اور این ایس ایف کا ہی فریضہ نہیں ہے. ہر غیرت مند مرد و زن وحدت کشمیر کی بقاء اور بحالی اور آزادی کی تڑپ اور خواہش رکھتا ہے۔

اس صورت میں احتجاج کرنے والوں کو آپ کیسے چپ کروانا چاہتے ہیں۔۔  کیسے کسی کی آنکھوں سے اس خواب کو چھین سکتے ہیں۔آپ جتنا دباتے جائیں گے۔۔آوازیں مزید بلند ہوتی رہیں گی۔۔ نا تو ان کے پرامن احتجاج سے آپ کا ملک تباہ ہو گا۔۔ نہ ہی کسی اور تحریک سے آپ کے ملک میں بحران پیدا ہو گا۔بحران جائز اور حق پر مبنی آواز کو دبانے سے پیدا ہو تے ہیں۔

میں خود بانی نیپ سردار انور خان مرحوم کے خاندان کا حصہ ہوں۔جنہوں نے JKNAP کی بنیاد حق اور سچ کے ساتھ رکھی تھی۔ اگرچہ میں پاکستان سے بے انتہا محبت رکھتی ہوں لیکن حق اور سچ یہی ہے کے ہم نے خود اپنی مٹی سے وفا نہیں کی۔ہم شہدا ءکی تحریک کو جاری نہیں رکھ سکے۔ یہ سب اوازیں دبائی نہیں جا سکتیں۔۔ آپ کسی بھی محب وطن کو غداری کا سرٹیفکیٹ دے کر جیل میں ڈال دیتے ہیں۔ کسی بھی نیشنلسٹ کو فارن فنڈنگ لینے کا الزام  لگا کر غدار قرار دے دیتے ہیں۔ کیوں؟

آزاد کشمیر حکومت کو اس وقت ان سرگرمیوں کو روکنے کے بجائے  تمام جماعتوں کیساتھ مل کر گلگت بلتستان بارے ٹھوس موقف اختیار کرنا چاہیے، مجھے یقین ہے کے کشمیر کے قریہ قریہ سے لوگ ڈٹ کر حکومت کا ساتھ دیں گے۔ آپ کسی ملک سے غداری کے نعرے نہ لگائیں ،کسی کو الزام نا دیں ۔ لیکن آپ اس تحریک کو کم از کم غداری کے کھاتے میں مت ڈالیں۔

غداری کا مقدمہ تو پاکستان کی جماعت کی نمائندگی کرنے والے ہمارے وزیراعظم  فاروق حیدر صاحب پر بھی بن گیا تو کیا وہ غدار مان لئیے جائیں گے؟

ضرورت اس امر کی ہے کہ آزادکشمیرحکومت اسوقت ایک مضبوط بیانیے کیساتھ ساتھ سب جماعتوں کو ساتھ لیکر چلے ۔غداری اور حب الوطنی کی بحث میں الجھ کر وقت برباد نہ کیا جائے۔

گھر کے اندر کی چنگاریوں میں ہوا دینے سے ہمیشہ آشیانے اپنے جلتے ہیں۔وزیراعظم آزاد کشمیر مجھ ڈر لگ رہا ہے کہ کہیں ایسا وقت نہ آ جائے کے ہم تاریخ کے صحفوں پر  اپنے گھر کو آگ لگانے کے خود ہی زمہ دار لکھے جائیں۔
چنگاریوں کو ہوا مت دو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں