چکسواری، پولیس نے 14 سالہ قمر رفیق کے اندھے قتل کا سراغ لگا لیا، قاتل کون اور قتل کی وجہ جانیے اس خبر میں۔

چک سواری (شہزاد عظیم سے) قمررفیق کے اندھے قتل کاسراغ پولیس تھانہ چک سواری نے لگالیا، قاتل دوست اورہمسایہ نکلا، جبران شہبازنے مقتول کے گھروالوں کی طرف سے میل ملاقات پرپابندی کی باعث قتل کیا، ایس ایچ اومہتاب اسلم کی میڈیابریفنگ۔

تفصیلات کے مطابق چندروزقبل 4 اکتوبرکونیوٹاؤن اسٹیڈیم چک سواری سے قمررفیق بعمر13/14سال متعلم جماعت نہم ولدمحمدرفیق بھٹی ساکن محمودآبادنزدٹاہلی دربارچک سواری کوشدیدزخمی حالت میں پولیس تھانہ چک سواری نے بنیادی مرکزصحت (آرایچ سی) پہنچایاجہاں وہ دم توڑگیا۔ مقتول کوسرپرشدیدچوٹیں آئی تھیں۔

واقعہ کومشکوک جانتے ہوئے پولیس تھانہ چک سواری نے تفتیش کاآغازکیا اور قمررفیق کی ڈیڈ باڈی کوپوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹراسپتال میرپوربھیج دیا۔ پولیس تھانہ چک سواری نے تفتیش رواں رکھتے ہوئے مقتول کے والدین اوردیگراہل علاقہ سے بیانات لینے کے بعدچندمقامی نوجوانوں کوحراست میں لیا۔ ابتدائی تفتیش میں ہی مقتول قمررفیق کے ہم عمردوست اورپڑوسی جبران شہباز ولد محمدشہبازقوم شیخ ساکن ڈھیری بڑوٹیاں چک سواری نے اقبال جرم کرلیا۔

ایس ایچ اوتھانہ پولیس چک سواری انسپکٹرمہتاب اسلم نے صحافیوں کوتفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایاکہ جبران شہبازمقتول قمررفیق کادوست تھالیکن مقتول کے گھروالے جبران شہبازکے پڑھائی میں کمزورہونے کی وجہ سے اپنے بیٹے قمررفیق کواُس سے ملنے سے روکتے رہے جس پرجبران شہبازنے منصوبہ بندی کے تحت چھوٹے بچے کے ذریعے قمررفیق کوگھرسے بُلایا اور اپنے ساتھ موٹرسائیکل پربٹھاکرنیوٹاؤن چک سواری کے اسٹیڈیم میں لے گیاجہاں جبران شہبازنے قمررفیق کے سرپرہتھوڑی سے پے درپے متعدد وار کیے اوراُسے نیم مردہ حالت میں چھوڑکرموقع سے فرارہوگیا۔ بعدازاں مقامی افرادکی اطلاع پرپولیس تھانہ چک سواری نے مقتول قمررفیق کوطبی امدادکے لیے بنیادی مرکزصحت چک سواری پہنچایامگروہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالق حقیقی سے جاملا۔

انسپکٹرمہتاب اسلم نے صحافیوں کوبتایاکہ قمررفیق کے اندھے قتل کاسراغ لگانے میں پولیس تھانہ چک سواری نے پیشہ وارانہ مہارت اورفرض شناسی کامظاہرہ کرتے ہوئے چندنوجوان زیرتفتیش لائے اورجلدہی قاتل تک پہنچنے میں کامیابی ہوئی۔ قاتل جبران شہباز وقوع سے واپسی پرگھرآیا اور زیب تن کپڑے تبدیل کرنے کے بعدپراعتماداندازمیں مقتول کے نمازِ جنازہ تک میں شریک ہوا۔تفتیش میں تمام اہم اُمورکومدنظررکھ کرشواہدجمع اورآلہ قتل کوبرآمدکیا۔چوں کہ مقتول کم عمرتھا اور لازمی طورپراُس کے دوست بھی اسی عمرکے ہیں اس لیے حددرجہ احتیاط برتی گئی کہ مقتول کی تلاش میں کسی بے گناہ سے کسی قسم کی زیادتی نہ ہو۔

عوام علاقہ چک سواری نے اندھے قتل کاکامیابی سے سراغ لگانے پرپولیس تھانہ چک سواری کے ایس ایچ اوانسپکٹرمہتاب اسلم ودیگرملازمین کی کارکردگی کوسراہتے ہوئے کہاکہ قمررفیق کاقتل علاقے میں اپنی نوعیت کاپہلا واقع تھا جس سے عوام علاقہ میں شدیدخوف وہراس پیداہوا اور اگراس واقعہ کے حقائق سامنے نہ آتے توعوام میں احساس عدم تحفظ میں اضافہ ہوتالیکن پولیس تھانہ چک سواری نے فرض شناسی اورذمہ داری کامظاہرہ کرکے جلدہی قاتل کوبے نقاب کرکے قانونی گرفت میں لیا جس پرپوری پولیس ٹیم مبارک باد کی مستحق ہے۔#

اپنا تبصرہ بھیجیں