ٹی ایل پی آزادکشمیر شدید اختلافات کا شکار، دین کی سربلندی کے نعرے والے خود ہی روایتی سیاست کی ڈگرپرچل نکلے، تفصیلات اس خبر میں

چک سواری (اپنے نمائندے سے) تحریک لبیک پاکستان آزادکشمیرمیں عام انتخابات سے قبل ہی شدیداختلافات کاشکار، دیگرسیاسی جماعتوں کی سازشیں یادین کی سربلندی کانعرہ لے کرمیدانِ سیاست میں اُترنے والے خود ہی روایتی سیاست کی ڈگرپرچل نکلے، کئی سالوں سے تحریک کامنشورعام کرنے اوراس دوران قیدوبندکی صعوبتیں برداشت کرنے والے کارکنان نظراندازجب کہ انتخابات کے قریب شاطرفصلی بٹیرے منظورنظرٹھہرے، کارکن پریشان جب کہ سادہ لوح مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے کھلواڑکرنے کاذمہ دارکون؟ علامہ خادم حسین رضوی سمیت مرکزی ذمہ داران نے تحریک میں پیداہونے والے بگاڑکانوٹس لے کراصلاح نہ کی توعوام تحریک لبیک سے بھی مایوس ہو جائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق ممتازحسین قادری کی شہادت کے بعدپاکستان وآزادکشمیرکے کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کی ترجمانی کابارِ گراں لے کرمیدانِ سیاست میں اُترنے والی مذہبی سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان آزادکشمیرمیں عام انتخابات سے قبل ہی شدیداختلافات کاشکارہوچکی ہے۔لاکھوں کروڑوں دلوں کی دھڑکن علامہ خادم حسین رضوی کی جماعت تحریک لبیک پاکستان نے آزادکشمیر کی قیادت کے لیے ایسے فردکاانتخاب کیاجس کے ماضی اوربطورامیرکشمیراقدامات پرلاتعداداعتراضات موجودہیں اورعوام کی ایک کثیرتعدادصرف امیرکشمیرکی وجہ سے تحریک لبیک کاساتھ دینے سے گریزاں ہے بلکہ موصوف کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے آئے روزتحریک کے نظریاتی ساتھی بدل ہوکرکنارہ کشی اختیارکررہے ہیں۔

تحریک لبیک آزادکشمیرکی سیاست نے اُس وقت دل چسپ رُخ اختیارکیاجب گذشتہ دنوں ریٹائرڈڈپٹی کسٹوڈین چودھری محمدخلیق الزمان ایڈووکیٹ نے منجھے ہوئے سیاست دان کی طرح تحریک لبیک میں حیران کن شمولیت اختیار کر کے مہرثبت کردی کہ ریاست میں موجوددیگرسیاسی جماعتوں اورتحریک لبیک میں کوئی فرق نہیں۔ویسے توچودھری محمدخلیق الزمان ایڈووکیٹ کی تحریک لبیک آزادکشمیرمیں شمولیت کی خبریں گذشتہ چند ماہ سے زیرگردش تھیں لیکن موصوف نے رواں ماہ2اکتوبرکوتحریک لبیک پاکستان کے مرکزی امیر علامہ خادم حسین رضوی سے اُن کی رہائش گاہ واقع لاہورملاقات کی اورتحریک میں باضابطہ شمولیت کااعلان کیا۔لاہورسے واپسی پرخوش خبری سنائی گئی کہ انہیں حلقہ ایل اے2چک سواری سے تحریک لبیک کااُمیدوارنامزدکردیاگیاہے۔

مبینہ طورپرچودھری محمدخلیق الزمان ایڈووکیٹ نے تحریک میں شمولیت کے حوالے سے آزادکشمیرکے امیرسمیت ڈویژن کے کسی ذمہ دارسے نہ توکوئی مشاورت کی اورنہ ہی اُن کی رضامندی شامل تھی بلکہ موصوف کی بطوراُمیدوارقانون ساز اسمبلی نامزدگی کے اعلان پرتحصیل امیرمیرپورنے بذریعہ اخباری بیان انتخابات میں حصہ لینے کی خواہش کااظہاربھی کیا۔مزیدیہ کہ ایسی خبریں بھی زیرگردش ہیں کہ علامہ خادم حسین رضوی نے ماضی کی طرح اب بھی کسی اُمیدوارکوٹکٹ جاری نہیں کیااور نہ ہی چودھری محمدخلیق الزمان ایڈووکیٹ کوحلقہ ایل اے2 چک سواری سے اُمیدوارنامزدکیاہے بلکہ یہ موصوف کی سیاسی چال ہے۔

ایسی صورت حال میں تحریک لبیک آزادکشمیرکے ذمہ داران حرکت میں آئے اورمورخہ06اکتوبرکوناظمِ اعلیٰ ڈویژن میرپو کے دستخطوں سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کے ذریعے چودھری محمدخلیق الزمان ایڈووکیٹ کے دستِ راست مفتی کبیراحمدسعیدی سمیت دیگرآٹھ عہدے داران وکارکنان کی جماعت کے منشور اورنظم وضبط کی خلاف ورزی پر بنیادی رکنیت منسوخ کردی گئی۔نوٹیفیکیشن میں درج ہے کہ یہ فیصلہ علامہ خادم حسین رضوی کی خصوصی ہدایت اورامیرڈویژن میرپورکی مشاورت سے کیاگیا ہے۔مذکورہ نوٹیفیکیشن کے جواب میں امیرضلع میرپورکے دستخطوں سے جاری ہونے والا ایک نوٹیفیکیشن سوشل میڈیاکی زینت بنارہاجس میں 06اکتوبرکے جاری شدہ نوٹیفیکیشن کومنسوخ کرکے تمام عہدے داران وکارکنان کی رکنیت بحال کی گئی۔باوثوق ذرائع سے یہ بھی معلوم ہواہے کہ ضلع میرپورکے تین حلقہ جات ڈڈیال،میرپوراورکھڑی شریف میں دومتوازی تنظیمی ڈھانچے موجودہیں۔ایسے میں کس نوٹیفیکیشن کودرست اورکسے غلط کہاجائے؟

داخلی انتشارنے تحریک لبیک کوضلع میرپوربالخصوص حلقہ ایل اے2میں ناقابل تلافی نقصان پہنچایاہے جوامیرکشمیرکی کارکردگی اورسربراہی پربراہ راست سوالیہ نشان ہے۔اس تمام صورت حال میں تحریک لبیک کے کارکنان اورجماعت سے ہمدردی رکھنے والے سادہ لوح مسلمان شدیدتشویش میں مبتلاہیں کہ دین اسلام کوتخت پرلانے کے لیے سیاسی جدوجہدمیں مصروف تحریک کے ذمہ داران کیوں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں؟

ایک اورسوال بھی زبانِ زدعام ہے کہ تحریک لبیک نظامِ مصطفیﷺکے نفاذ کے لیے شہیدوں کانام لے کرمیدانِ سیاست میں اُتری تھی اوردینِ اسلام کی سربلندی کی خاطرگذشتہ کئی سالوں سے آزادکشمیرمیں کارکنان خلوص نیت سے تحریک کامنشورعام کرنے میں مصروف ہیں جنہوں نے اس پُرخار وکٹھن راہ میں قیدوبندکی صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے اپنے آپ کوہرطرح کی قربانی کے لیے پیش کیالیکن ایسی کیامصلحت آڑے آئی کہ چند دن قبل علامہ خادم حسین رضوی سے ملاقات کرنے والی سیاسی شخصیت کوبراہ راست اُمیدوارنامزدکردیاگیا؟اوراگربطور اُمیدوار نامزدگی نہیں کی گئی توتاحال پاکستان یاآزادکشمیرکے کسی ذمہ دارکی طرف سے وضاحت یاتردیدکیوں جاری نہیں کی گئی؟

اس سوال کواُس وقت مزیدپذیرائی ملی جب گذشتہ دنوں 11اکتوبرکوچودھری محمدخلیق الزمان ایڈووکیٹ کی طرف سے اسلام گڑھ کے مقام پرمنعقدہونے والے پروگرام میں ڈویژن میرپورسمیت آزادکشمیرکے اکثرذمہ داران نے شرکت نہیں کی اورمبینہ طورپرمذکورہ جلسہ میں عوام کی شرکت توقع سے انتہائی کم دیکھنے میں آئی۔ایسے میں تحریک لبیک پاکستان کے مرکزی امیرعلامہ خادم حسین رضوی اورمرکزی عہدے داران پربھاری ذمہ داری عائدہوتی ہے کہ وہ آزادکشمیرکے تنظیمی ڈھانچے میں ضروری تبدیلی کرتے ہوئے ایسے ذمہ داران کومتعین کریں جن کاکردار شک وشبہ سے بالااوروہ بہترین منتظم ہوں بصورتِ دیگرآزادکشمیرمیں تحریک لبیک ہرگزرتے دن کے ساتھ ترقی کے بجائے تنزلی کاشکارہوکرعوام میں مزید مایوسیاں پیداکرنے کاسبب بنے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں