گلگت و بلتستان کے حوالہ سے درست بیانیہ۔ از افتخار احمد چودھری

ڈوگرہ راج کے خلاف باغی حکومت 4 اکتوبر 1947ء کو قائم ہوئی یا 24اکتوبر 1947ء کو، یہ بحث اکثر و بیشتر جاری رہتی ہے اس تکرار میں پڑے بغیر پوری ریاست کی اس نمائندہ حکومت میں گلگت بلتستان موجود تھا۔ 24 اکتوبر کوسرکاری سطح پر یوم تاسیس منایا جاتا ہے۔ صاحب عقل و دانش اکثر یہ سوال اٹھاتے نظر آتے ہیں کہ کیا اب وقت نہیں کہ گلگت وبلتستان اور آزاد کشمیر کو ملا ایک یونٹ بنا دیا جائے۔

گلگت بلتستان کو پاکستان کا آئینی صوبہ بنائے جانے کے حوالہ سے وقتاً فوقتاً بحث چھیڑی جاتی ہے مگر اس بار تو پاکستان کی اصل طاقتیں حتمی فیصلہ بھی کر چکی تھیں جو فی الحال پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں کی حکومت مخالف تحریک سے ٹل گیا ہے۔ وزیرامور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور نے بیان بھی جاری کر دیا تھا کہ خطہ گلگت بلتستان کے عوام کی خواہش کے مطابق حکومت پاکستان نے آئینی صوبہ بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ کس بنیاد پر یہ کہا جاتا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام پاکستان کا آئینی صوبہ بننا چاہتے ہیں معلوم نہیں، حالانکہ ایسا کوئی آزادانہ عوامی ریفرنڈم نہیں ہوا جس کو جواز کے طور پر پیش کیا جاسکے۔ البتہ یہ درست ہے کہ جی بی کے عوام بنیادی انسانی حقوق چاہتے ہیں وہ ستر سالہ محرومیوں کا ازالہ چاہتے ہیں۔

یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ جی بی کے عوام کی بڑی تعداد آزاد کشمیر کو اپنی محرمیوں کا ذمہ دار سمجھتی ہے اس کی وجہ مسلم کانفرنس کی جانب سے حکومت پاکستان کے ساتھ کیا گیا معاہدہ کراچی ہے جس کے باعث جی بی کو آزاد کشمیرحکومت سےالگ کر کے براہ راست حکومت پاکستان کے زیر انتظام دے دیا گیا۔ دوسری وجہ جی بی میں عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ جب بھی جی بی کو آئینی حقوق دینے کی بات ہوتی ہے آزاد کشمیر کا حکمران طبقہ اور سیاسی جماعتیں اس کی مخالفت میں کھڑی ہوجاتی ہیں۔

گلگت بلتستان کی عوام میں خطہ آزاد کشمیر سے ناراضگی و نفرت کے کئی عوامل کار فرما ہیں اس میں سب سے بڑا کردار پاکستان کی حکومتوں اور ارباب اختیار کا ہے جنہوں نے دیدہ و دانستہ دونوں خطوں کو جدا رکھا۔ گلگت و بلتستان کو آزاد کشمیر سے الگ کرنے اور الگ رکھنے کی سب سے بڑی مجرم تو مسلم کانفرنس ہے تاہم آزاد کشمیر کی دیگر سیاسی جماعتیں خواہ وہ قوم پرست ہیں یا الحاق نواز دونوں نے اس نفرت کو رفو کرنے کے لیے ناکافی کرداد ادا کیا جس شد و مد سے گلگت کو پاکستان کا صوبہ بنانے کی مخالفت کی گئی اس قوت و تندی سے گلگت اور آزاد کشمیر کو باہم ملا کر ایک یونٹ بنانے کی کوشش نہیں کی گئی۔

ساٹھ کی دہائی میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے پرسنل سیکرٹری و آزاد کشمیر کے پہلے منتخب صدر کے ایچ خورشید نے گلگت و آزاد کشمیر کو ملا کر پوری ریاست کی نمائندہ حکومت قائم کرنے کی کوشش کی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس مقصد کے لیے انہوں نے پاکستان کے صدر جرنل ایوب خان کو رضا مند کر لیا تھا لیکن مسلم کانفرنس کی سازش نے پوری ریاست کی آزادی کی جانب اس سنجیدہ کوشش کے منصوبہ کو سبوتاژ کردیا۔

معاہدہ کراچی کی رو سے آزاد کشمیر حکومت کا کاروبار مسلم کانفرنس کے اختیار میں رہنا تھا مسلم کانفرنسی جو سمجھتے تھے آزاد کشمیر کے اس چھوٹے سے خطہ پر ان کی اولادیں تاقیامت راج کریں گی ان کی اولادیں اپنے حلقوں تک سکڑ کر رہ گئیں ہیں اور کوئی بعید نہیں حلقوں کی سیاست سے بھی آوٹ ہو جائیں،اس لیے یہ وقت ہے کہ وہ اپنے اجداد کی غلطیوں اور خطائوں کا ازالہ کریں۔

آزاد کشمیر کے موجودہ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان جو معاہدہ کراچی کرنے والوں کی قبور پر سوٹیاں مارنے جیسا بیان دے چکے ہیں انہیں چاہیے کہ اپنا بیانیہ درست کریں آزاد کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں بشمول مسلم کانفرنس کے ایک ہی بیانیہ اپنانا چاہیے کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو باہم ملا کر ایک یونٹ بنایا جائیں، گلگت اور آزاد کشمیر کے درمیان زمینی راستہ بحال کیا جائے، دونوں خطوں کے عوام کو باہمی سیاسی، سماجی اور معاشی تعلق قائم کرنے کی آزادنہ اجازت اور سازگار ماحول فراہم کیا جائے، یہی نفرت کو محبت میں بدلنے کا واحد اور حقیقی راستہ ہے اور یہی وقت و حالات کا تقاضا اور ریاست جموں و کشمیر کی آزادی کی جانب پیشرفت کا درست بیانیہ ہے۔

اگر پاکستان کے ارباب اختیار دونوں خطوں کو ملانے سے انکاری ہیں تو انہیں اس کا جائز عذر بیان کرنا ہو گا یا پھر اپنے سرکاری موقف کو بدلنا ہو گا۔گلگت و بلتستان وہ خطہ ہے جو مقامی آبادی نے اپنے زور بازو سے ڈوگرہ تسلط سے آزاد کروایا تھا پاکستان اپنا سرکاری اعلامیہ جاری کرے کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے لوگ اپنے زور بازو سے بھارت سے آزادی حاصل کریں اور پھر ہم انہیں پاکستان کا آئینی حصہ بنا لیں گے۔

گلگت بلتستان کے وہ لوگ جو ہر مسئلے اور محرومی کا حل صوبائی درجہ میں دیکھتے ہیں اور آزاد کشمیر کو صوبائی سیٹ اپ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں انہیں یہ جاننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آئینی صوبہ ہر مسئلے اور ماضی کی محرومیوں کا حل نہیں ہے،اگر ایسا ہوتا تو پاکستان کے دیگر صوبے بالخصوص بلوچستان بنیادی انسانی حقوق سے محروم نہ ہوتا، گلگت و بلتستان کو صوبہ بنانے کے لیے پاکستان کو اقوام متحدہ میں اپنے موقف کی مجبوری حائل ہے ،پاکستان کے اپنے مسائل اور مصحلتیں ہیں وگرنہ فاٹا کو صوبائی درجہ دینے میں آزاد کشمیر ہر گز رکاوٹ نہ تھا جسے ستر سال بعد صوبہ کے پی کے میں ضم کر کے صوبائی طرز کے سیٹ اپ میں شامل کیا گیا جی پی کی محرمیوں کا واحد حل صوبائی سیٹ اپ کو سمجھنے والوں کو دیکھنے کی ضرورت ہے فاٹا میں کآج کونسی دودھ و شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں