فلاحی ریاست اور اس کے تقاضے۔ از پروفیسر ابرار علی

ایک فلاحی ریاست کا اولین تقاضہ ہے کہ عوام پہ روپیہ خرچ کیا جائے۔ برطانیہ ایک فلاحی ریاست ہے وہاں کھانے پینے کی چیزوں سے لے لے کے بچوں تعلیم و تربیت ان کی اعلی تعلیم کے لیے گرانٹ بلکہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے والدین جو ان کی ضروریات پوری نہیں کر سکتے ان کی ماں کے اکاونٹ میں پینتالیس پونڈ (یہ کم و بیش بھی ہو سکتے ہیں) ڈال دیے جاتے بغیر ان کی طرف سے کوئی درخواست دیے ہوئے۔ وہ بچے کو ریاست کا بیٹا بیٹے مانتے ہیں یعنی ریاست ہو گی ماں کی جیسی کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں۔ جب وہ پڑھنے لکھنے کے قابل ہو جاتے ہیں تو تمام تعلیمی اخراجات ریاست خود پورے کرتی ہے۔ جب او لیول اور اے لیول کر لیتے ہیں تو خود ہی ان کی صلاحیتوں کے مطابق داخلے کراتی انہیں تعلیمی گرانٹ دیتی ہے جس کو ہم قرض حسنہ کہہ سکتے ہیں۔

واپس کرنے کی پوزیشن میں ہوا تو خود ہی جاب دلا کے واپسی کا عمل شروع ہوتا ہے وہ بھی ایسے طریقے سے کے واپس کرنے والے کو اپنی ضروریات پوری کرنے میں مشکل نہ ہو یہ کئی بچوں نے مجھے خود بتایا بھی ہے کہ غیر محسوس طریقے سے ریکوری کرتے ہیں۔ بے روز گار کو بیروزگاری الاؤنس دیتے ہیں معذور کو اچھی خاصی رقم دیتے ہیں دیکھ بھال کے لیے ایک نہیں ضرورت ہو دو دو نرسیں دیکھ بھال کے لیے دیتے ہیں۔ بے گھر کو کونسل کے مکان دیتے ہیں بوڑھوں کو پنشن دیتے ہیں۔ بے روزگاروں کو روزگار تلاش کر کے دیتے ہیں۔

المختصر یہ ہے ایک فلاحی ریاست کا عملی نمونہ ہے۔یہ سب ریاست مدینہ اور خلفائے راشدین اور کرتے کرتے خلافت عباسیہ تک چلتا رہا۔اسلام خلافت میں دارڑیں پڑی جب جب شخصی حکومتیں آئیں۔اسلامی اسلاف پہ عمل کر کے برطانیہ یورپ کی ریاستیں دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہیں ہیں۔کیوں نہ کریں اللہ تعالی نے خود کہا ہوا ہے میں اپنے حقوق معاف کر دوں گا بندوں کے تب تک معاف نہیں کروں گا جب تک وہ خود معاف نہیں کریں گے۔جب وہ بندوں کے حقوق پورے کر رہے ہیں تو اللہ تعالی نے انہیں دنیا ہی میں جنت دے دی ہے۔

اب ذرا جائزہ لیتے ہیں ہم نے جب فلاحی ریاست بنانے کی کوشش کی پروڈا لائے public representative disqualification act عوامی نمائندوں کو نااہل کرنے کے لیے ایکٹ کرتے کرتے فیلڈ مارشل ایوب خان کا دور آیا۔مثالی ترقی مگر عوامی نمائندوں کی عدم موجودگی جس پر شیخ مجیب الرحمان کا رد عمل عوام کو احساس محرومی میں ڈال دیا۔اس کی تقریروں کے ایسے جملے جنہوں نے بنگالیوں کے دلوں میں نفرت پیدا کی اسکی تقریروں کے دو جملے ہی کافی ہیں حالات کو واضع کرنے کے لیے کراچی اور اسلام آباد کی عمارتوں کو جب میں دیکھتا ہوں تو مجھے بنگالیوں کے خون کی بو آتی ہے کہ خام مال بنگالیوں کا روپیہ بنگالیوں کا خرچ مغربی پاکستان پہ ہو رہا ہے۔

ضیا الحق صاحب ریفریڈم کراتے ہیں۔جس کا لب لباب ہے اگر اپ اسلام چاہتے تو پانچ سال کے لیے میں صدر عوامی نمائندوں کی مطلب ضرورت نہیں ہے۔مشرف صاحب کیسے پیچھے رہتے لیڈروں کو صادق و امین مانتے ہی نہیں تھے۔فلاحی ریاست عوامی نمائندے ہی بنا سکتے ہیں۔کیونکہ وہ عوام کے درمیان رہتے ہیں۔دنیا میں ہی جنت دے دی ہے خوشحالی دے دی ہے۔پاکستان میں بھی فلاحی ریاست عوامی نمائندے ہی قائم کریں گے۔اس کے لیے لازمی ہے کہ سب پہلے مہنگائی پہ کنڑول کرنا کھانے پینے کی چیزیں سستی کرنا اس پہ سخت قسم کا چیک اینڈ بیلنس لانا تعلیم کے نظام کو بہتر کرنا خاص کر کے تعلیمی اداروں میں مینجمنٹ کو بہتر خالصتا میرٹ پہ انتظامی عہدوں پہ تقرریاں کرنا بھرتیاں میرٹ پہ کرنا چلتے ہوئے ڈھانچے میں یہی تبدیلیاں کر دی جائیں تو نتائج سامنے آنا شروع ہو جائیں گے اقربا پروی کو روکا جائے جہاں تک ممکن ہو۔ہسپتالوں کے نظام بھی مینجمنٹ ہی سے بہتر کیا جا سکتا ہے انتظامی پوسٹوں پہ میرٹ پہ تقرریاں کی جائیں۔ڈھانچوں کو تبدیل کرنے کے بجائے مینجمنٹ کو بہتر کرنا یہی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

موجودہ حالات میں کام زیادہ باتیں کم فوکس کام ہونا چاہیے۔پارلیمنٹ کو ساتھ لے کے چلا جائے ناکہ اپنے ووٹروں کو خوش کرنے کے لیے کہتے پھرتے رہنا میں ان کی چیخیں نکال دوں گا پیٹ پھاڑ دوں گا سڑک پہ گھسیٹوں گا پنجابی فلموں کے ڈائیلاگوں سے بہتری نہیں آئے گی تنقید کا جواب کام کر کے دیا جاتا ہے
کچھ تو نظر آئے ہوتا ہوا نہیں تو آپ نظر نہیں او گے۔موجودہ صورتحال میں اپوزیشن اور حکومت دونوں کا کام ہے کے آئین کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے کام کریں صرف بھڑکوں سے کام نہ چلائیں۔

موجود آئین تحریری ہے اس میں آسانی سے اسی ردوبدل نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی بھی حکومت اختیارات سے تجاوز نہ کرے۔وفاقی نظام کی یہ خوبصورتی ہے کہ اس میں مرکز میں جو حکومت ہوتی ہے لازمی نہیں ہے کہ صوبوں میں بھی وہی حکومت ہو۔یہاں عوام کو جائزہ لینے کا موقع ملتا ہے کہ کس پارٹی کی حکومت کی پرفارمنس بہتر ہے اور متادل قیادت بھی سامنے آتی ہے حکومتیں اپنی کارکردگی کو بہتر کرتی ہیں جس سے لوگوں میں خوشحالی آتی ہے۔اپنی حکومتوں کو کارکردگی کو بہتر کرنے کا کہا جاتا ہے نہ کہ کیچڑ اچھالنے کا کہا جاتا ہے مخالفین پہ کارکردگی ایک پیمانہ ہے آئندہ اقتدار میں آنے گا ناکہ بے مقصد بیان بازی الیکشن کا تسلسل اسے لوگوں کو منظر سے ہٹا دے گا جو محض تنقید برائے تنقید پہ زور دے رہے ہیں۔

آئین تحریری ہے عدالتیں محافظ ہیں حکومتیں اپنا کام کرین ادارے اپنا کام کریں ایک دوسرے کے معاملات میں بلاجواز مداخلت نہ کریں تو پاکستان کو ترقی کی منازل طے کرنے سے کوئی بھی طاقت نہیں روک سکتی بیرونی طاقتوں میں اتنی ہمت نہیں کہ آنکھ اٹھا کر پاکستان کی طرف دیکھ سکیں۔طاقت کے بل بوتے پہ حکومتیں نہیں چلتیں اپوزیشن کا کام ہے غلط پالیسویوں کی نشاندہی کرنا حکومت کا کام ہے کارکردگی کو بہتر کرنا تنقید جو مدنظر رکھ کر کاکردگی کو بہتر بنائیں۔آئیں ہم سب مل کر پاکستان کو ایک ناقابل تسخیر قوت بنائیں۔پاکستان زندہ باد

اپنا تبصرہ بھیجیں