آج کا پاکستان ممتاز احمد آرزو

کبھی ظفر اقبال نے کہا تھا
دریچہ بے صدا کوئی نہیں ہے
اگرچہ بولتا کوئی نہیں ہے
کھلی ہیں کھڑکیاں ہر گھر کی لیکن
گلی میں جھانکتا کوئی نہیں ہے
آجکا پیش منظر پاکستان کی تاریخ کا دراصل ایک اہم موڑ ہے ہم کافی دنوں سے اس تلاش میں تھے کہ آجکے پیش منظر کے متلق کوئی ایسا آرٹیکل ملے جس میں آجکی سیاست کے متعلق کچھ اہم معلومات ہوں لیکن ہنود ابھی تک کوئی خاطر خواہ تحریر نہیں مل سکی ہم تو سیکھنے کے عمل میں مسلسل سرگرداں ہیں اور اس ظلم ناانصافی کے حیا سوز انسانیت کش نظام سے اسقدر تنگ ہیں کہ ہر اس روشنی کے انتظار میں رہتے ہیں جو ہمیں اس گھپ اندھیرے سے نکال کر روشنی کی ایک کرن دے دے ہاں سماج میں ظلم کی بے شمار خبریں ملتی رہتی ہیں لیکن میرے خیال میں آج یہ کہنے کی بات نہیں رہی کہ ظلم ہو رہا ہے کیونکہ یہ وقت ظلم کی تفصلات بتانے کا نہیں بلکہ ظلم کو روکنے کا وقت ہے ایک تو خوف اور جبر کی فضا میں تخلیقی قوتیں اس حد تک مفلوج ہو چکی ہیں کہ ان میں تکلیف کے احساس تو ہے اور سوشل میڈیا کی وجہ سے خبر بھی لیکن اس کے سدباب کا انکشاف کیا ہے اور ان سے نجات کی کیا تدبیر ہو سکتی ہے یہ بہت کم دیکھائی دیتا ہے کہیں انتہاء کی مایوسی ہے اور کہیں طاقت سے بڑھ کر بڑھک بازی ہمارے وہ دانشور اور انقلابی جنکا دعوا ہے کہ ہم اس درد و تکلیف کے سد باب کے لیے ایک مدت سے برسرے پیکار ہیں وہ بھی فقط ان سوالوں کو دہراتے نظر آتے ہیں جو کبھی باہر اٹھائے گئے تھے یعنی یورپ یا دوسرے ممالک میں لیکن اندر کیا ہو رہا ہے اسکا اندازہ آج تک انکو نہیں ہو سکا یہ وہ لوگ ہیں جو ناگی کی حکایات کی طرح ایسے مسافر ہیں جو سامان باندھے ویران اسٹیشن پے کھڑے ہیں جہاں گاڑی جا چکی ہے اور یہ سڑک پے کھڑے ہر آنے والی گاڑی کو انگوٹھا دیکھا رہیے ہیں کچھ کو لفٹ ملی اور وہ سیدھے واشنگٹن پہنچ گئے کچھ ماسکو اور کچھ بیل گاڑیوں پے بیٹھے اور بناس پہنچ گئے اور باقی اونٹھوں پے بیٹھ کر عرب کی طرف نکل پڑھے دراصل یہ معاملہ فقط ماضی کا ہی معاملہ نہیں بلکہ اپنے موجود وجود اور پیش منظر میں رونما ان واقعات کا ہے جنکی حقیقت سے شاہد فرار کا راستہ تلاش کیا جا رہا ہے گو کہ حاضر کی سمجھ بھی ماضی ہی کے حوالوں سے آتی ہے لیکن ہمارے دانشور سیاست دان لکھاری جن یادوں کو واپس لانا چاہتے ہیں ان سب واقعات کی چڑیاں اڑھ چکی ہیں آجکی دنیا کی اپنی محرومیاں مجبوریاں اور اپنے تقاضے ہیں گویا ہم ایک مدت سے دیکھ اور محسوس کر رہیے ہیں کہ ہم اور ہمارا سماج یا تو یادوں کے حوالے سے ماضی میں زندہ رہتا ہے یا سوچوں کے حوالے سے عالم ماورا میں لیکن ہم عمل کی جیتی جاگتی دنیا میں نہیں رہتے یہ شاہد اس لیے بھی کہ عمل کی جیتی جاگتی دنیا بہت کھٹن دنیا ہے یہ سب دراصل حقیقت سے انکار کی ایک خوائش اور کوشش ہے لیکن ہماری لاکھ شکلیں بدلنے کے باوجود ہم حال میں رہتے ہیں اور ہمیں یہ بھی ماننے کی ضرورت ہے کہ ماضی یا ماورا میں رہنے سے آزادی یا نجائت نہیں ملتی وہ ماضی چاہیے مہا بھارت کا ہو یا اسلامی تاریخ کا ہو کسی کمیونسٹ کا ہو یا کسی کیپیٹل اسٹ کا ہو یا پوپ کی داستاں ہو
بہت سارے لوگوں کو یہ شکایات بھی رہتی ہیں کہ کچھ لوگ موجود کے جعلی واقعات سے متاثر ہو کر اپنے لمبے منصوبوں سے انحراف کر رہیے ہیں اور حکمران طبقات کی آپس کی لڑائی کا حصہ بن کر اصل حقائق سے روح گردانی کر رہیے ہیں ہمیں اس عہد کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ہم نے یہ کام اب شروع کیا جو یورپ نے اٹھارہ سو تیس میں شروع کر دیا تھا جب پیرس میں انقلاب برپا ہوا تھا اس اعتبار سے ہم یورپ سے دو سو تیس سال پیچھے ہیں یورپ میں یہ نئے عہد کی شروعات تھی اسکے بعد کیا کیا ہوا وہ تاریخ کے اوراق میں موجود ہے جسکو ہمیں بہت باریک بینی سے سمجھنے کی ضرورت ہے ہمارے انقلابی دوستوں کے ہر چند بہت مفید مشورے ہیں لیکن یہ مشورے اس سماج کو دے رہیے ہیں جو ترقی میں دو سو تیس سال نہیں تو ایک صدی پیچھے ضرور ہے انکی یہ طویل معیاد کے منصوبے ہیں جو یقینن قابل عمل بھی ہو سکتے ہیں لیکن یہ عوام سے دور رہ کر فقط فلسفوں سے نہیں یہ مسائل حل کرنے سے ہونگے اور ہمارے پاس ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے ایک سچی جدوجہد کا راستہ ہمارے پاس اس خلیج کو پر کرنے کے لیے اگر کوئی بہترین مثال ہے تو وہ چین کی ہے جہاں کے عوام نے جدوجہد کے عمل میں جا کر وہ سب کر دیکھایا جسکو دیکھ کر آج انکی مختصر عرصے کی ترقی پے دنیا محو حیرت ہے لیکن یہ امکانات ممکنات بنانے میں بہر حال جدوجہد کا ایک مسلسل عمل ہے جس میں دور تک قربانیوں کی ایک داستان ہے یہ اس ترقی اسکے ثمرات پے بھی تنقید کرتے دیکھائی دیتے ہیں شاہد اس لیے کہ انکو اپنے طویل مدت کے منصوبوں پے بھی اعتبار نہیں لیکن یہ اپنی اس بے یقینی کی کیفیت کو دوسروں سے یقین کرانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اسی لیے جب بھی یہ کوئی ایسی کہانی سنانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ کہانی سنی ہوئی لگتی ہے ہاں ایک وقت تھا جب یہ بات شعور کے لیے نئی لگتی تھی لیکن آج ظلم اتنا کھلا ظلم ہے کہ ظلم بھی نظر آتا ہے اور ظالم بھی یہاں جبر استصال کے محور پر گردش کرنے والی انسان دشمن طاقتیں فاشسٹ قوتوں کی جہاں گیر سازشیں اور انکے اس عمل سے پیدا ہونے والے تضادات اور تناقضات اب بہت حد تک فہم کا حصہ بن چکے ہیں گویا کہ ہمارے سماج کا حقیقت سے ایک ایسا نیا تخلیقی رشتہ قائم ہو چکا ہے جو پہلے نہیں تھا
آج ہمارے پیش منظر میں اس وقت لوگ برملا اس بات کا اظہار کر رہیے ہیں اور انکے معلوم میں یہ بات آچکی ہے کہ انکی رائے کی کوئی اہمیت نہیں وہ یہ بھی سمجھ چکے ہیں کہ یہاں آمریت کے کئی چہرے ہیں جب ایک چہرہ معمول بنکر سپاٹ اور بے رس ہونے لگتا ہے تو اسکی جگہ ایک دوسرا چہرہ لے لیتا ہے وہ اپنے نجائت دھندہ کے بہروپ سے بھی آگاہ ہیں اور انکے وعدوں کو بھی سمجھتے ہیں کہ کل کیا ہو گا لیکن ہمارے لیے بھی یہ کوئی حیرت کی بات یا عجوبہ نہیں ہے ہمارے سامنے انقلاب فرانس ہے اور انقلاب کے بعد کے حاصل ہونے والے واقعات بھی گو کہ اس انقلاب کے بعد بھی استصال بھی رہا اور استصالی قوتیں بھی لیکن ہم اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ وہ انقلاب نا تھا اور اس انقلاب نے نا صرف یورپ بلکہ ساری دنیا کی سوچ کو بدلنے میں مدد نہیں دی
آج دنیا کی ناہموار ترقی نے ہمیں جس دورائے پے لا کر کہ کھڑا کیا ہوا ہے وہ اپنی جگہ ایک بیانک داستان ہے لیکن ٹکنالوجی بدستور کسی نا کسی طرح ترقی کر رہی ہے اور اسکے اثرات ہم تک بھی پہنچ رہیے ہیں آج فلسفہ بھی اس ٹکنالوجی کا حاشیہ بردار بن چکا ہے اور اس ٹکنالوجی کی کوئی زبان نہیں بلکہ یہ ہر زبان کا ایک مضبوط ہتھیار بن چکی ہے ان آوازوں کو جتنا دبایا جاتا ہے اتنی ہی قوت سے یہ احتجاج بن چکی ہیں
الغرض اس لمبی تمدید کا مقصد فقط اتنا ہے کہ اس وقت دنیا میں جو ہو رہا ہے اسکو سامنے رکھ کر ہم جب اپنے ارد گرد کا تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ آوازیں ایک ایسے وقت میں ان بیماریوں کی نشاندھی کر رہی ہیں جن بیماریوں نے اس سماج کے ہر محنت کش ہاری کسان عورتوں مردوں طلبہ کمزور طبقوں اور اقلیتوں کا جینا ایک مدت سے حرام کر رکھا ہے بظاہر یہ لڑائی اقتدار کے حصول کی لڑائی نظر آتی ہے لیکن اس نظام میں رہتے ہوئے سول بالادستی کے ان اختیارات کی لڑائی بھی تو ہے جس کے ہونے سے یہ معاشرہ آگے کی طرف سفر کر سکتا ہے سرمایہ دارانہ ہر ریاست کے ادارے ہوتے ہیں لیکن موجود سرمایہ دارانہ ریاستوں میں اداروں کے فرائض اور زمہ داریوں کا بھی تعین ہے اور یہ سارے ادارے بشمول حکمران کسی آئین کسی قانون کے پابند ہوتے ہیں اور ریاست کے آئین سے کوئی بھی بالا تر نہیں ہوتا بدنصیبی سے ہمارے ہاں ہمشہ قانون شکنی کو کبھی ملکی سالمیت کبھی تحفظ امن کبھی سرحدوں کی افراتفری کبھی داخلی طوائف الملوکی کبھی مذھب کو خطرہ کبھی پڑوسی ملک کے نام نہاد معاندانہ سرگرمیوں یعنی کتنے حیلے بہانے ہیں جو انکی زبان پے نعرہ بنکر ڈھال کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور اس سب سے نجات کا ایک ہی راستہ ہے جو ان کی معرفت سے آتا ہے یہ ہے وہ حقیقت جسکو سمجھے بغیر آپ آج کو نہیں سمجھ سکتے
ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آج اپوزیشن کی حقوق کی لڑائی آخیری سرے کی لڑائی نہیں ہے یہ بھی اپنے اختیارات تک کی ہی لڑائی ہے لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم نے اس مقام سے گزر کر ہی اپنے حقوق بھی لینے ہیں ہمارا یہ سفر بھی آگے کی طرف ہی ہے لہذا ترقی پسندی کا تقاضا یہی ہے کہ ہمارے بائیں بازوں کے ساتھی اس جدوجہد میں حصہ بنکر عوام میں جائیں کیونکہ انقلاب کسی خواھش کا نام نہیں آپکے لمبے منصوبے بجا ہونگے لیکن یہاں کا مزاج طاقت ور آواز پے لبیک کرنا ہے کمزور آوازویں چاہیے کتنی بھی سچی کیوں نا ہوں ان پے لوگ دھیان نہیں دیتے

اپنا تبصرہ بھیجیں