جدوجہد آزادی کا میک اپ زدہ چہرہ. مہوش سردار

آزاد کشمیر بلند پہاڑوں سے گھری وہ سرزمین ہے جس میں بہت سے شہیدوں کے خون  اندر دفن ہیں۔کھبی مٹی کو اٹھا کر سونگھیں تو ایسی خوشبو آتی ہے جو دل کو بے انتہا راحت بخشتی ہے۔سر سبز نظاروں سے مزین یہاں کے لوگوں کی محنت مشقت والی زندگی دیکھ کر شدت سے اس جنت جیسی دھرتی کے مستقبل کے لئیے بے اختیار ایک فکر سی لاحق ہو جاتی ہے کہ

“جانے  کب ہوں گےکم

  اس دنیا کے غم۔”

خیر اگے الیکشن کا سال آنے والا ہے۔ اورجیسے جیسے آزاد کشمیر میں الیکشن قریب آتے جا رہے ہیں ویسے ویسے امیداوار برائے ٹکٹ برسات میں اگنے والی کھمبیوں کی طرح نمودار ہوتے جا رہے ہیں ۔ ان میں پڑھے لکھے باصلاحیت نوجوان اور ایسے نئے نام اور چہرے بھی سننے دیکھنے میں آ رہے ہیں جس سے آنے  والے وقت میں آزاد کشمیر کی راویتی سیاست کافی تبدیل ہو جائے گی۔ خصوصا ابھرتی ہوئی وہ خواتین اور کشمیر کی بیٹیاں جو جزبہ خدمت سے سرشار اکثر اوقات فیس بک ،انسٹا گرام اور ٹویٹر پر کافی زیادہ ایکٹو نظر آتی ہیں۔۔ میرے جیسے بندی کے لئیے خواتین کا ہر طبقے میں اگے انا ایک عورت ہونے کے ناطے کافی زیادہ خوشگوار پہلو ہے۔۔کیونکہ میں خواتین کے معاشرے میں مثبت کردار کی بہت زیادہ حامی ہوں۔۔ کچھ وقت سے بہت سی معیوب باتیں نظروں سے گزرتی بھی رہیں لیکن زاتی زندگی کے فعل کسی کے لئیے بھی باعث تنقید نہیں ہونے چائییں اس لئیے توجہ ہمشہ کسی کے بھی مثبت کردار پر ہی رہی۔ لیکن پھر اچانک سے ٹویٹر پر موجود پاکستان کی حکمران جماعت سے محبت اور خود کو راہنما ظاہر کرتی خود کو کشمیری ظاہر کرتی ایک انتہائی ماڈرن خاتون کی تصویر نظر آئی، اس تصویر کیساتھ لکھے کیپشین نے مجھے بے انتہا تکلیف سے دوچار کر دیا۔

تصویر میں محترمہ کا لباس جیسا بھی ہو وہ انکا زاتی فعل تھا لیکن جس لفظ نے مجھے تکلیف دی وہ جملہ تھا “کشمیر کی بیٹی” ۔۔۔

میں نے آج دن تک کھبی کسی مخصوص طبقے یا جنس کو ٹارگٹ نہیں کیا۔خاص کر خود ایک عورت ہو کر کسی پر تنقید کرنا مجھے بالکل زیب نہیں دیتا۔۔لیکن اس موضوع کا تعلق ان خواتین سے ہے جو آزاد کشمیر کی سیاست میں اپنے میک اپ زدہ چہروں سے انٹری کر کے جموں کشمیر کی آزادی کا نعرہ لگا کر اسے ازاد کروانا چاہتی ہیں۔یا پھر جو الحاق پاکستان کے ساتھ محبت کا نعرہ لگا کر حکمران جماعتوں کی تعریفوں میں دن رات ایک کر کے  مخصوص نشستوں پر امیدوار بننا چاہتی  ہیں۔۔ کچھ بھی ہو کچھ بھی کریں لیکن خدارا خود کو اتنا ارزاں نہ کریں۔

کشمیر کی بیٹیاں کب سے اتنی سستی ہو گئیں کے وہ صرف توجہ لینے کے لئیے ایسے سستے اور چیپ طریقے سے شہرت کمائیں۔

مانا کہ عورت مادرِ کائنات ہے اس کائنات کے حسن کو رواں رکھنے کے لئے اللہ عز وجل نے عورت کے وجود کو قائم کیا پھر سب نے دیکھا کہ عورت نے اپنی تخلیقی و تحقیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر لاحاصل کو بھی حاصل کر دکھایا۔ لیکن موجودہ وقت کے تناظر کو خاطر میں رکھ کر  اور تحریکِ آزادی کشمیر  جو ایک قیامت برپا کیے ہوئے ظلم و جبر کی تصویر  ہے اس میں جو خواتین اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہیں ان میں اکثر کے اندر (انتہائی معذرت کیساتھ ) خودنمائی کی آگ جل رہی ہے۔۔ انکی حیاء حکمرانوں کے تلوے چاٹ رہی ہے ۔۔انکے میک اپ زدہ چہرے اور بہیودہ لباس ہندوستان کی آرمی کے اگے  فیرن پہنےسر پر سکارف باندھے آزادی کا نعرہ لگاتی  اس ماں،بہن بیٹی کے بال برابر بھی جگہ نہیں لے سکتے۔۔

  بد قسمتی سے یہ خواتین بڑے فخر سے کشمیر کی بیٹی کا خطاب فیس بک پر لگا کر شہداء  کی عظمت و شان کے  ساتھ کھلواڑ کر رہی ہیں ۔ یہ، تحریک آزادیِ کشمیر کے نام پر ایک سیاہ بدنما دھبہ ہے۔۔مانا کے ہمیں کسی کی ذاتی زندگی سے کوئی بیر یا عناد نہیں لیکن جس تحریک کا ورق انسانی خون سے رنگین ہو جس تحریک کے عظمت و عصمت کی قربانیاں دی گئیں ہوں جس تحریک میں بوڑھے سے لیکر جواں کا لہو شامل ہو وہاں اگر کوئی اپنی ذات کے لئے یا اپنے مفادات کے لئے  تحریکی یا الحاقی بن کر سامنے آئے تو ہر باشعور ریاستی باشندے کا حق ہے ایسے چہروں کو بےنقاب کیا جائے۔۔ایسی ماوں،بہنوں اور بیٹیوں کو انکا وہ مقام یاد دلایا جائے جو اس تحریک کا حق ہے۔۔

  حریت کے نام پر اپنے جسموں کی نمائش کرنے والی خواتین کسی قبیلے یا ریاست کا تشخص نہیں ہوتیں۔ بلکہ وہ اپنے معیارِ زندگی کی خاطر ملک و قوم کے وجود کو مٹا بھی سکتیں ہیں۔۔

کونسی وہ تحریک ہے جو بڑے بڑے ہوٹلوں میں لوگوں کیساتھ چپک کر کھڑے ہو کر فوٹو سیشن کروا کر فیس بک پر داد وصول کر کے شروع کی جاتی ہے۔۔ یہ کونسا مائنڈ سیٹ ہے جو  ہماری خواتین ” دختر کشمیر، کشمیر کی بیٹی، جیسے نام لگا کر پاکستان یا آزاد کشمیر کی نمائندہ جماعتوں کےمنسٹرز کے ساتھ بیٹھ کر یہ بھول جاتی ہیں کے وہ کس دھرتی کی نمائندہ بن کر ان کے سامنے بیٹھی ہیں۔۔

یقین مانئیے میں کسی کے بھی خلاف نہیں۔۔ مجھے کسی کی بھی ذاتی زندگی سے کوئی غرض نہیں۔۔ لیکن کشمیر کا نام لگا کر خود پر ” Available for Entertainment ” کا بورڈ مت لگائیے۔۔۔

  جو بھی خواتین تحریک کے نام سے اپنی ذات کسی بھی سیاسی پارٹی یا نعرے سے منسوب کرتی ہیں انہیں اپنی زندگی کے دیگر شعبہِ زندگی میں ایک انقلابی جفاکش خاتون بن کر  سامنے آنا ہو گا۔۔اپ کے سر پر دوپٹہ ہو یا نہ ہو لیکن گلے میں کشمیر کی تہذیب لٹکتی ضرور نظر آنی چائیے۔۔  ورنہ یہ تحریک قماش و رقاصہ کی ملکیت بن جائے گی۔۔ اور خدا اس قوم سے سخت حساب لے گا کیونکہ جو قومیں اپنے شہداء کی عظمتوں کی رکھوالی نہیں کر سکتیں وہ مٹ جایا کرتی ہیں۔۔

اس لئے تمام ریاست جموں و کشمیر کے معزز اور اہل علم افراد کو اس تحریک میں قلمی اور غیرتی جدوجہد کے ساتھ شامل ہونا چائیے۔  اور وقت بھی اسوقت ہم سے

شدید ڈیمانڈ کر رہا ہے۔۔

سب سے پہلے تو مخصوص نشستوں سے خواتین کو نوازنے والے قانون کو بدلنے کی ضرورت ہے۔جو بھی آئے اپنی محنت ،قابلیت اور لوگوں کے ووٹ لیکر آئے تا کے اس سیٹ کی ایڈجیسٹمنٹ کے چکر میں بہنیں ،بیٹیاں لالچ کو قابو میں رکھ کر اپنی کردار سازی اور لوگوں کے سامنے  اپنا مقام محنت سے بنا سکیں۔

دوسرا سبکو پرموٹ کریں جو خواتین سیاست کا حصہ بننا چاہتی ہیں یا جو سوشل میڈیا ایکٹویسٹ کا رول ادا کر رہی ہیں انھیں بتائیں اور سکھائیں کے کشمیر کی نمائندہ کیسے بننا ہے۔

اپ کشمیر کا وہ فخر بنیں جو اس دھرتی میں غازیوں اور مجاہدوں کا سر اونچا کر سکے۔جو کشمیر کی تہذیب ہے جو ہمارا تشخص ہے۔

“Freedom does not come from Beauty.. freedom comes from drinking the blood of Liver”۔

کشمیر کی بیٹی ضرور بنیں لیکن اپنی غیرت اور عزت کیساتھ سمجھوتہ ہر گز نہ کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں