مستقبل کی فکر نہ حال کی. زعفرین اسلم ٹائیں

آج ھم جن حالات سے دو چار ہیں اس سب کے ذمےدار
ہم خود ہیں َکیوں کے ہم نے اپنے اوپر ایسے حکمران رکھے ہوئے ہیں جو آپسی جنگ سے دو چار ہیں. یہ ہماری شومی تقدیر ہے جو آج ہمارے حکمران عوام کے لیے یوں بے مہری سے کام لے رہے ہیں. یہ جلسے یہ کہرام سب کچھ بے انت ہے. عوام کا کوئی چارہ ساز نہیں. ھمارے ملک میں جمہوریت پے جنگ ہو رہی. مہنگائی پے جنگ. رتبے پے جنگ ہر چیز میں جنگ لڑی جا رہی ہے. عمران خان ‘بلاول بھٹو’ مریم نواز ‘فضل الرحمان یہ سب سرے عام جنگ کر رہے ہیں کیا ان کے ہاتھوں میں ہے عوام کی ذمہ داری؟
بات یہاں ہمارے حقوق کی ہے یہ راہنما اپنے ملک پاکستان کے مسائل کو نظر انداز کر رہے ہیں تو کیا ھم کشمیر ی ان سے کوئی امید رکھ سکتے ہیں؟ سب ایک دوسرے کو بے نقط سنانے کے لیے تیار رہتے ہیں ایک یلغار اور عجیب وحشت پھیلائی ہوی ہے حکومت نے. ان حالات میں دشمن ممالک فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہو رہے ہیں. بڑے سے بڑے حادثے کے بعد کہا جاتا حکومت نے اس سانحہ میں متاسف ہے. کیا حکومت کا اظہار افسوس عوام کی تکالیف کا ازالہ کر سکتا ہے. ان سیاستدانوں کی آپسی جنگ میں مصروف رہنے کی وجہ سے عوام دشمنوں کا شکار بن رہی ہے. کیا معصوم بچے جنکو مدرسے میں شہید کیا گیا ان کے ماں باپ کے سامنے حکومت کا افسوس کافی ہو گا؟ کیا حکومت کی آپسی جنگ میں عوام یوں ہی مہنگائی اور بے روزگاری سے دو چار رہے گی؟ کیا یوں ہی اسلام کی بے حرمتی ہوتی رہے گی؟ کیا یوں ہی ہم حادثوں کا شکار ہو تے رہیں گے؟ یا پھر ہم یہ سوچ کے بیٹھے ہوے ہیں کہ کوئی پیل پیکر دلاور آئے گا اور ہمیں اپنے ہی ملک کی جنگ سے ہمیں بچائے گا؟ نہیں ایسا نہیں ہو گا ہمیں اپنے حالات پر خود غور کرنا ہو گا. ہمیں ان حکمرانوں کو کسی بھی طرح یہ بتانا ہو گا کہ آپسی جنگ ختم کر کے عوام اور اس ملک کی بہتری کے لیے مل کے اقدامات کریں. ہمارے مستقبل کی فکر کون کرے گا جبکہ ہمارا آج ہی خون میں لت پت ہے. معصوم شہری سہم سہم کے جی رہے ہیں. تعلیم ہو نے کے باوجود عوام بے روزگاری میں مبتلا ہے. اس مستقبل کی فکر ہم چھوڑ دیتے ہیں جس میں ہم شاید ہوں ہی نہ لیکن ہم اپنے آج کی فکر تو کر سکتے ہیں. ہمارے وطن، ہمارےحکمرانوں اور ہم عوام کا حال بے حال ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں