حضرت غازی علم الدین شہید رحمتہ اللہ علیہ، از محمد ضیاء الرحمن

بہت ہی عجیب منظر تھا. لاکھوں کا مجمع نمناک آنکھوں کے ساتھ دل میں جذبات کا سمندر لیے بڑے ادب و احترام کے ساتھ جنازے کے پیچھے چل رہا تھا. وہ گدی و سجادہ نشین ہزاروں لوگ جن کے ہاتھوں کو بوسہ دینے کی خاطر قطار در قطار کھڑے رہتے تھے آج وہ بھی جنازے میں ایسے شریک تھے جیسے اس میں شرکت ان کے لیے سرمایہ حیات ہو. بوڑھے بزرگ اپنی عمر و ناتوانی کی فکر کیے بغیر, صاحب ثروت اپنے دنیاوی جاہ و جلال کو بھول کر اور علماء اپنے علمی مقام کو پس پشت ڈال کر دل میں محبت, ادب اور عقیدت کے گلدستے لیے جنازے کو کندھا دینے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی تگ و دو میں لگے ہوئے تھے. چارپائی, اس کے ساتھ بندھے بانس کو چھونے اور جن کے ہاتھ بانس تک بھی نہ پہنچ سکے انہوں نے اپنی پگڑیوں کے کونے اچھال کر بانس کے ساتھ لگانا اپنے لیے باعث فخر سمجھا. بڑے بڑے پیر اور ولی بھی خواہش کر رہے تھے کہ کاش یہ ان کا جنازہ ہوتا. لیکن اللہ تعالی نے یہ مقام و مرتبہ 21 سالہ نوجوان, سچے عاشق رسول حضرت غازی علم الدین شہید رحمتہ اللہ علیہ کے مقدر میں لکھ دیا تھا جنہوں نے ابن خطل کے جانشین مردود راجپال کو جہنم واصل کیااور ان عظیم ہستیوں میں شامل ہوئے جن کا نام نامی مسلمانوں کے لبوں سے تا قیامت عزت و احترام سے لیا جائے گا۔
حضرت غازی علم الدین شہید رحمتہ اللہ علیہ 4دسمبر 1908 بروز جمعرات طالع مند کے گھر پیدا ہوئے. آپ کے خاندان کے ایک بزرگ بابا لہنا سنگھ نے جہانگیر بادشاہ کے دور حکومت میں اولیا اللہ کی صحبت سے متاثر ہو کر اسلام کو گلے لگایا. بعد میں وہ بابا لہنا کے نام سے مشہور ہوئے. ایک روز جب حضرت غازی علم الدین شہید رحمتہ اللہ علیہ کی والدہ ماجدہ آپ کو گود میں اٹھائے دروازے میں کسی فقیر کی صدا پر حسب استطاعت مدد کرنے کو آئیں تو فقیر نے آپ کو دیکھ کر آپ کی والدہ محترمہ سے کہا کہ آپ کا بیٹا بہت خوش نصیب ہیاور یہ کہہ کر اپنی گود میں اٹھا کر چومنے لگے. اس فقیر نے بعد میں آپ کی والدہ ماجدہ کو آپ کو سبز کپڑے پہنانے کی تلقین کی. آپ کی والدہ محترمہ نے یہ سارا ماجرا آپ کے والد محترم کو سنایا تو وہ بھی بہت خوش ہوئے اور سبز رنگ کے کپڑے بازار سے لا کر آپ کو پہنائے گئے. جب آپ نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو آپ کے خوبصورت نقوش اور بھی کھل کر سامنے آئے. آپ کی رنگت سرخی مائل سفید تھی. چوڑی پیشانی, گھنگھریالے بال, سرخ ڈوروں سے فروزاں جھیل سی آنکھیں, باریک ہونٹ, ہونٹوں پہ رقصاں دلربا تبسم, کتابی چہرہ, سڈول جسم, اور پروقار انداز سے اٹھی ہوئی گردن کے سا تھ آپ اتنے خوبصورت تھے کہ جو بھی آپ کو دیکھتا وہ عجیب کشش محسوس کرتے ہوئے آپ کو دوسری دفعہ دیکھنے سے نہ روک پاتا. آپ سیدھے سادھے, صاف گو, حلیم الطبع اور ملنسار تھے. شرافت و صداقت آپ کا خاندانی وصف تھا. آپ نے کسی سکول و کالج سے دنیاوی تعلیم حاصل نہیں کی اور اپنے والد محترم کا ہنر سیکھ کر ان کے ساتھ کام پہ جانے لگے. (آپ کے آباؤاجداد پیشے کے لحاظ سے نجار تھے) کام کی غرض سے آپ نے اپنے والد محترم کے ساتھ کوہاٹ اور سیالکوٹ کا سفر بھی کیا۔
جب حضرت غازی علم الدین شہید رحمتہ اللہ علیہ نے عالم شباب میں قدم رکھا اس وقت برصغیر پاک و ہند میں آریہ سماج, سنگھٹن, شدھی اور بال گنگا دھر جیسی تحریکیں زوروں پر تھیں. ان تحریکوں کے مقاصد کے پیچھے چھپ کر ہندو معاشی اور ذہنی طور پر مسلمانوں کو اذیت دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے نا جانے دیتے. اسی ماحول سے شہہ پا کر ننگ آدمیت, شیطان صفت مکروہ و گندی ذہنیت سے لتھڑے ہوئے راجپال کو اتنی بیباکی اور حرامزدگی کی جرأت ہو گئی کہ اس نے ایک کتاب (جس کا نام لکھنا بھی مناسب نہیں) لکھی جس میں رحمتہ اللعالمیں, وجہہ تخلیق کائنات, دانائے غیوب ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اقدس میں نازیبا کلمات لکھے اور قرآن مجید فرقان حمید اور احادیث مبارکہ کو سیاق و سباق سے ہٹ کر غلط تاویلات کے ساتھ پیش کیا. تمام مسلمانوں کے جذبات شدید مجروح ہوئے. راجپال کے خلاف مقدمہ چلایا گیا. اس مقدمے میں اسکو چھ ماہ قید اور ایک ہزار روپیہ جرمانہ ہوا. اس نے سیشن کورٹ میں اپیل کی جہاں سزا میں تخفیف کرتے ہوئے جرمانہ معاف کر دیا گیا. ملزم کی طرف سے ہائی کورٹ میں اپیل ہوئی جہاں اس کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے ساری سزا ہی ختم کر دی گئی. صاف طور پر محسوس ہو رہا تھا کے ہندو اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے اپنی مرضی کا فیصلہ کروانے میں کامیاب ہوئے تھے۔
تمام مسلم مقررین اور خطیب حضرات جلسیجلوسوں میں اپنے جائز مذہبی حق کی خاطر ملعون راجپال کی سزا کے لییشعلہ بیان تقاریر کر رہے تھے. کوئی سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں اہانت آمیز جملہ بولے اور مسلمان خاموش رہے, نا ممکن ہے. بقول حضرت علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ ہم تو یہ بھی برداشت نہیں کرتے کہ کوئی ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لباس کو میلا کہے کجا کوئی غلط یا نازیبا لفظ استعمال کرنا. اس اشتعال کی کیفیت میں غازی خدا بخش اور پھر غازی عبدالعزیز نے راجپال کے پلید جسم کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے حملہ کیا لیکن وہ دونوں دفعہ بچ گیا. اللہ تعالی نے یہ سعادت حضرت غازی علم الدین شہید کی قسمت میں لکھ دی تھی. ایک دن آپ نے صبح اپنی والدہ ماجدہ سے میٹھے چاول پکانے کی فرمائش کی جیسا کہ آپ کی زندگی میں وہ عید کا دن ہو. آپ نے کباڑیہ آتما رام کی دکان سے خنجر خریدا اور راجپال کی دکان پہ جا پہنچے. اس کو دیکھتے ہی آپ سرعت سے اس کی جانب لپکے, جذبہ ایمانی سے خنجر کی ایسی ضرب لگائی کہ وہ موقع پر ہی جہنم واصل ہو گیا۔
حضرت غازی علم الدین شہید رحمتہ اللہ علیہ کو گرفتار کر کے ان پر قتل کا مقدمہ چلایا گیا. انگریزوں نے ازلی خباثت کا مظاہرہ کرتے ہوئے راجپال کے مقدمہ کے برعکس اس مقدمہ کا جلد بازی میں فیصلہ کیااور تعزیرات ہند دفعہ 302 کے تحت آپ کو پھانسی کی سزا سنائی گئی. نقص امن کا بہانہ کر کے آپ کو میانوالی جیل منتقل کر دیا گیا. آپ نے پھانسی سے پہلے شکرانے کے دو نفل پڑھے, رسے کو محبت سے بوسہ دیا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں میں خوشی خوشی اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے صحابہ کرام کی سنت کو ادا کیا.
آں کس کہ شناخت جاں راچہ کند
فرزند و عیال و خانماں راچہ کند
دیوانہ کنی ہر دو جہانش بدہی
دیوانا تو ہر دو جہاں راچہ کند
جیل حکام نے آپ کی وصیت کے برعکس آپ کو جیل کی حدود میں ہی جنازہ پڑھے بغیر دفنا دیا۔
حضرت علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کی لاہور میں دفن کرنے کی وصیت کو پورا کرنے کا بیڑہ اٹھایا. آپ کی کاوشوں اور امن و سکون کی ضمانت پر انگریز راج راضی ہوا. جب کئی دن بعد آپ کی قبر کشائی ہوئی تو ماحول خوشبو سے معطر ہو گیا. آپ کا جسد پاک سپیشل ٹرین کے ذریعے لاہور لایا گیا. تقریباً 6 لاکھ کے مجمع نے آپ کے جنازہ میں شرکت کرنے کی سعادت حاصل کی. حضرت علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نم آنکھوں کے ساتھ فرما رہے تھے کہ ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا. بات بھی ایسے ہی تھی. حضرت غازی علم الدین شہید رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے اس مقام تک جا پہنچے تھے جو ہزاروں سال کی ریاضت و عبادت سے بھی حاصل نہیں ہو سکتا. میانی صاحب لاہور میں آپ کا مرکز تجلیات ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ عموماً اور بالخصوص 31 اکتوبر کو حاضری دیتے ہیں اور پھولوں اور دعاؤں کی نذرانے پیش کر کے آپ کی لازوال قربانی کو یاد کرتے ہیں اور آپ کے روحانی تصرف سے اپنے قلوب و اذہان کو منور کرتے ہیں. آپ کا ذکر خیر ہمارے دلوں میں ایمان کی محبت کو تازہ کرنے کے ساتھ ساتھ یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ آج فکری و علمی مباحثات کے علاوہ عملی میدان میں بھی غازی جیسے کردار کی اشد ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں