نہرو کو تھپڑ رسید کرنے والا چمیاٹی آزادکشمیرکا عبدالرزاق عباسی ؟عبیداللہ علوی

دریائوں کے کنارے دنیا میں تقریبا ہر ملک میں شہر آباد ہیں، اسی طرح قدیم وتستا، کشن گنگا اور آج کے دریائے جہلم کے شرقی اور غربی کنارے کے مری سے بارہ کلو میٹر شمال اور آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد کے جنوب میں بیس کلو میٹر کی مسافت پر کوہالہ کا دوسو سالہ ایک ٹائون آباد ہے جسے رنجیت سنگھ کے تخت لاہور پر سترہ سو نناوے میں قبضہ کے بعد جب سرکل بکوٹ سمیت مری اور ہزارہ کو بھی اپنی سلطنت میں شامل کیا تو مقامی قبائل میں شدید بے چینی پیدا ہوئی کیونکہ اس خالصہ راج نے اس علاقے میں آٹھ صدیوں سے قائم گکھڑ حکومت کا نہ صرف خاتمہ کیا بلکہ پر سکون اور ترقی یافتہ کوہسار کے زرعی تمدن کو بھی زوال آمادہ کیا، اٹھارہ سو اکتیس کے سانحہ بالا کوٹ کے بعد تو یہ صورتحال ہو گئی تھی کہ دریائے کنہار، دریائے جہلم کے کناروں پر مجاہدین نے جام شہادت نوش کر کے کوہسار کی ایک نئی تاریخ مرتب کر ڈالی جو اہلیان کوہسار کی جرات، شجاعت اور بے لوث جہاد کی ایک سنہری داستان کی حیثیت رکھتی ہے۔
کوہالہ کے نام کی اصلیت
تاریخ و تمدن ہند میں کوہالہ ایک قد یم موسیقار، دیوی، مشروب اور مقامات کا بھی قدیم نام ہے، یہ سنسکرت کے دو الفاظ “کو” اور “ہالہ” کے مجموعہ ہے جس کا مطلب ناقابل فہم زبان ہے،دوسرا معنی ایک روحانی مشروب کا ہے تیسرا ترجمہ موسیقی کا آلہ بھی ہے، انڈولوجی کے ایک سکالر پنڈورانگ وامان کین اپنی کتاب ہسٹری آف سنسکرت پوئیٹک میں کوہالہ کا ویدک مفہوم خوشبو قرار دیتے ہیں، کوہالہ ہندو بچوں کے نام بھی ہوتے ہیں، کوہالہ بوہی ایک طبی پودے کا نام بھی ہے، جبکہ برصغیر پاک و ہند کے علاوہ دنیا میں مختلف مقامات کا نام بھی کوہالہ ہے، زیر بحث کوہالہ باب کشمیر ہے جہاں سے اہل ہند صدیوں سے کشمیر کے راستے ہزارہ اور پنجاب آتے رہے ہیں، اس روٹ پر قرنوں کے سفر اور اختلاط سے ایک نئی زبان ڈھونڈی وجود میں آئی جس کا ستر فیصد اثاثہ یہاں کے قدیم کیٹھوال قبیلہ سے منسوب کیٹھوالی زبان کا ہے، اگر دیکھا جائے تو لفظ کوہالہ ڈھونڈی زبان کے لفظ “کوہال” کی جدید شکل ہے جس کے معنے موجودہ دور میں اسی زبان کے متبادل لفظ میں “سرنی” یا گئو خانہ کے ہیں جہاں مویشی باندھے جاتے ہیں لیکن چونکہ اس کوہالہ سے نشیب میں کنیر پل کے پار گوجر کوہالہ بھی موجود ہے، گوجر برادری برصغیر کی قدیم آریائی قبیلہ کی ایک شاخ ہے اس لئے لفظ کوہالہ کا وہی معانی اور مفہوم قابل قبول ہو گا جو گوجری میں ہو گا، انڈولوجی کے ایک اور سکالر رالف ایل ٹرنر اپنی مرتب کردہ لغت اے کمپیریٹو ڈکشنری آف انڈ و آرین لینگویجز، جلد سوئم کے صفحہ ایک سو تریاسی میں لفظ کومال کی ذیل میں کوھالہ کے معنی نرم، نوجوان اور پیارہ کے بتاتے ہیں، لہذا گوجری کے اس مفہوم سے ایک ہی بات اخذ کی جا سکتی ہے کہ نیو کوہالہپل کے مشرق میں بشیر خان کے ہوٹل اور پٹرول پمپ والی جگہ قدیم دور میں “فردوس بر روئے زمیں ” ہوئی ہو گی، اس کی ایک شہادت دریا کی اس غزرگاہ سے بھی ملتی ہے جو گوجر کوہالہ، کریر پل سے پانچ سو فٹ اوپر دومیل باسیاں اور سامنے متروک اور ویران ریسٹ ہائوس کے پاس ملتی ہے، اگر دریا کا یہ دہانہ اتنا زیادہ وسیع ہوا ہو گا تو یقینا یہ عہد قدیم کا بہت ہی خوبصورت مقام رہا ہو گا۔
کوہالہ کی تاریخی حیثیت
کوہالہ کے معانی، ماخذ اور اس کی اصلیت پر کوئی متفق ہو یا نہ ہو مگر اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ گندھارا تہذیب کے مرکز سلطنت ٹیکسلا اپنے عہد کی وہ سپر پاور تھی جو وسطی ایشیا سے جزائر غرب الہند تک پھیلی ہوئی تھی، یہاں پرہی اڑھائی ہزار سال قبل ادھا یونیورسٹی بھی موجود تھی جو شمالی ہند میں علم و فضل کا سب سے بڑا مرکز تھی اور یہاں پر ہند کا قدیم آئین ساز چانکیہ کوٹلیہ، ماہر لسانیات پانینی جیسے استاد علم کی شمع روشن کئے ہوئے تھے اور ہندوستان بھر سے طلبا اپنی پیاس بجھانے یہاں آتے تھے، بدھا یونیورسٹی کا ایک کیمپس شاردہ آزاد کشمیر میں بھی تھا ، ان دونو کیمپس کو نیو کوہالہ پل کا راستہ آپس میں ملاتا تھا، طلبا اگر ٹیکسلا سے چلتے تو راستہ سری نگر کوہالہ روڈ والا ہی ہوتا تھا جبکہ گوجر کوہالہ اس وقت ایک نیلم پوائنٹ تھا جہاں قیام و طعام کی بہترین سہولیات دستیاب تھیں، طلبا یہاں پر تھکاوٹ اتارنے کے بعد چلتے اور ان کی اگلی منزل کوہ موشپوری کی چوٹی پر موجود ہنو مان جی کا مندر تھا جہاں وہ چند روز ماتھا ٹیکتے اور پھر نتھیا گلی اور کوہالہ بالا کے راستے ٹیکسلا پہنچتے، ٹیکسلا سے آنے والوں کا روٹ بھی یہی ہوتا تھا، بدھا یونیورسٹی کی ایک روایت یہ بھی تھی کہ جو طالب علم فارغ التحصیل ہو جاتا وہ استاد کے پائوں دودھ سے دھو کر وہ دودھ پی لیتا جس کا مطلب یہ ہوتا کہ اس نے علم کا جام اپنے اندر انڈھیل لیا ہے، اڑھائی ہزار سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود آج بھی کوہسار میں ایک محاورہ مقامی زبان میں بولا جاتا ہے کہ پیر توہی توہی پینا۔۔۔۔۔۔۔، در اصل یہ اسی روایت کی ایک نشانی ہے جو کیٹھوالی زبان سے موجودہ ڈھونڈی زبان میں منتقل ہوئی ہے۔
دریائے جہلم کیسے وجود میں آیا۔۔۔۔۔۔؟ اس علمی سوال کا جواب دوہزار پانچ میں اکسفورڈ پریس کے زیر اہتمام کمبرلی ہوسٹن کی کتاب دی ایشئین سائوتھ ایسین ورلڈ۔۔۔۔۔۔۔۔ سٹوڈنٹس سٹڈی گائیڈ کے باب دوئم کے صفحہ چودہ پر ٹائم لائن کے عنوان سے دیکھی جا سکتی ہے، فاضل مصنف لکھتے ہیں کہ چار لاکھ سال پہلے کشمیر کا یہ علاقہ ایک ارضی واقعہ کے نتیجہ میں ظہور میں آیا جہاں ایک بہت بڑی جھیل بن گئی، دولاکھ سال پہلے یہاں ایک بہت بڑا زلزلہ آیا اس کے نتیجے میں موجودہ دریائے جہلم کی گزر کا پر ایک دراڑ بن گئی اور پانی نے پنجاب کی طرف بہنے کیلئے چلنا شروع کر دیا، دس ہزار سال پہلے پھر ایک زلزلہ آیا اور دریائے جہلم کے ارد گرد بڑے بڑے پہاڑ نمودار ہو گئے، اسی تھیوری پر قیاس کرتے ہوئے یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ کسی زمانے میں خوفناک زلزلہ آنے سے گوجر کوہالہ کا وجود مٹنے، اڑھائی ہزار سال قبل ہنوں کے ہاتھوں ٹیکسلا کی تباہی کے بعد کوہالہ کا یہ روٹ بھی متروک ہو گیا ہو گا یا اس کی جگی موجودہ کوہالہ آباد کیا گیا ہو گا، زلزلے آج بھی آتے ہیں اور دوہزار پانچ کے بڑے اور آخری زلزلہ نے تو کوہسار کا رنگ ہی بدل دیا ہے۔
کوہالہ کی تجارتی حیثیت
کوہالہ یو تو صدیوں سے ایک گزرگاہ کے طور پر جانا جاتا ہے، دیکھا جائے تو کشمیر کی پنجاب سے تجارت کوہالہ کی ہی مرہون منت رہی ہے، اسے حقیقی تجارتی حیثیت اٹھارہویں صدی کے وسط میں اس وقت ملی جب بنجاب سے گکھڑ اقتدار ختم ہوا اور مری اور سرکل بکوٹ سمیت تمام کوہسار دربار لاہور کی جھولی میں آ گرا، 1767 میں راولپنڈی جو محض گجنی پورا کے نام سے ایک قصبہ کے طور پر جانا جاتا تھا یا سید پور اور جھنڈا چیچی میں گکھڑ حکمرانوں کے چند محلات تھے یہاں پر سکھ حکمران ملکا سنگھ نے قبضہ کے بعد موجودہ شیخ رشید کی لال حویلی کے مقام پر ایک قلعہ بنایا، نرنکاری بازار میں چند دککانیں بنیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے راجہ بازار کی شکل اختیار کر لی، شمال میں پتن کے مقام پر کچھ دکانیں تو تھیں مگر ملکا سنگھ نے راجہ بازار کی تجارت کو کشمیر تک وسعت دینے کیلئے دیول اور موجودہ اہلڈ کوہالہ بازار کو ایک تجارتی منڈی میں تبدیل کرنے کی بنیاد ڈالی، پنجاب سے ہندو ساہو کاروں کو وہاں لا بسایا، مقامی لوگوں کو بیدخل کر کے ان کی اراضی ان کے نام کی گئی اور پھر مقامی لوگوں کو زراعت، تجارت وغیرہ سے بھی فارغ کر دیا گیا اور ان سے بیگار لی جانے لگی، راولپنڈی سے سامان تجارت پہلے دیول آتا تھا، یہاں سے ڈیمانڈ کے مطابق کھودر کے راستے ضلع باغ اور کوہالہ بھیجا جاتا تھا، اسی عہد میں کوہالہ میں تہہ در تہہ دکانیں اور کوٹھیاں بھی بنیں، یہ ہندو ساہو کار مقامی لوگوں سے اون پون غلہ خریدتے اور پھر انہیں ہی تین گنا قیمت پر واپس بیچتے، ان مجبور لوگوں کو بھری سود پر ان کی غمی خوشی پر قرضے دئے جاتے اور پھر انہیں گہنوں اور جائیداد سے محروم کر دیا جاتا، جس کے پاس لوٹانے کیلئے کچھ نہ ہوتا اس کا سر منڈوا کر سر پر اخروٹ رکھ کر اوپر مٹی سے بھری پرات گھمائی جاتی جس کی وجہ سے اس کے سر کی ہڈی ٹوٹ جاتی اور قرخ دار مر بھی جاتا، یہ خوفناک اور دردناک سلسلہ 1768میں کوہالہ بازار کے قیام سے 1848میں انگریزوں کی آمد تک جاری رہا۔
انگریزوں نے کشمیر کی تجارت میں تیزی لانے کیلئے کوہالہ میں 1871 کو معلق پل بنایا جو 1893 میں ایک سیلاب کے نتیجے مں بہہ گیا، دوسرا آہنی پل 1899میں تعمیر ہوا ۔ باسیاں کے شاہنواز خان کو ان دونوں پلوں کا ٹھیکہ ایوارڈ ہوا جبکہ بیروٹ کے پہلے انجینیئر مستری نور الٰہی نے ان دونوں پلوں کو نہ صرف ڈیزائن کیا بلکہ اس کی نگرانی میں انکی تعمیر مکمل ہوئی، پلوں کی وجہ سے سری نگر کا برائے راست تجارتی رابطی راولپنڈی سے ہو گیا اور کشمیری اجناس پنجاب پہنچنے لگیں، اس کے علوہ پبلک ٹرانسپورٹ کی داغ بیل بھی ڈالی گئی، 1910 میں ترمٹھیاں کے دیوان سنگھ کی چار بسیں راولپنڈی سرینگر روٹ پر دوڑنے لگیں، دیوان سنگھ کا بتیجھا کاکا سنگھ سرکل بکوٹ کا پہلا ڈرائیور تھا۔اس روٹ پر اسی بس کا 1920میں پہلا حادثہ برسالہ کہ مقام پر ہوا جس میں بیروٹ کے میاں میر جی شاہ سمیت 20افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔انگریزوں نے کوہالہ کو تجارتی مرکز کی حیثیت کے ساتھ ساتھ ایک سیاحتی مرکز بھی بنایا، یہاں پر ایک ریسٹ ہائوس، تار گھر، پوسٹ آفس، ایک شراب خانہ اور بعد میں منشیات ڈپو بھی بنایا، یہ بازار ایک میل لمبا تھا اور اس کی حیثیت باب کشمیر کی تھی، اس سے قبل 1855 کے لگ بھگ کوہالہ کو ہزارہ کی کمشنری سے جھری کس کی اراضی کے تبادلے میں مری کا حصہ بنایا گیا اور اس کی لیز ایک سو سال کیلئے پنجاب حکومت نے حاصل کر لی۔ 1947 تک کوہالہ کی 85 فیصد تجارت ہندو ساہوکاروں کے ہاتھ میں تھی اور مقامی مسلمان محض خریدار تھے۔
عہد حاضر میں اگرچہ کوہالہ اپنی مرکزی حیثیت کھو چکا ہے، سردار مہتاب کے عہد میں سڑکوں کے وسیع نیٹ ورک کی وجہ سے کوہالہ پر اہلیان سرکل بکوٹ کا انحصار نہ ہونے کے برابر ہے، آزاد کشمیر میں بھی منڈیاں قائم ہونے کے بعد یہاں سے اب کچھ بھی برآمد نہیں ہو رہا، اب تو نیو کوہالہ برج کی تعمیر کے بعد گوجر کوہالہ کی تجارتی حیثیت دوبارہ بحال ہوئی ہے، یہ اولڈ کوہالہ اب محض ماضی کا ایک قصہ ہے جو تاریخ کے قبرستان میں دفن ہو چکا ہے۔
کوہالہ کی دفاعی حیثیت
پاکستان بننے کے بعد کوہالہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے، اگست 1947 میں کوہالہ پل بند کر دیا گیا تھا جو دسمبر میں دوبارہ کھولا گیا اور یہاں سے پنڈی مری اور مری ہلز ٹرانسپورٹ کے نئے روٹ کا اجرا ہوا۔ کشمیر میں جوں جوں حالات خراب ہوتے گئے توں توں کوہالہ پل اور بازار پر بھارتے حملوں میں بھی شدت آتی گئی، 2نومبر 1947 کو بھرتی بزدل فضائیہ نے کوہالہ پر پہلا حملہ کیا تا ہم اس سے صرف ایک دکان کو نقصان پہنچا، اسی ماہ میں بیس روز بعد بھارت نے کوہالہ پر دوسرا حملہ کیا، 21اگست 1949کو تیسرے بھارتی حملے میں متعدد افراد زخمی جبکہ ایک مقامی شخص سجاد جاں بحق ہو گیا، 1985 اور 1971 کی پاک بھرت جنگوں کے دوران بھی اس پل پر کئی ایک حملے کئے گئے مگر پاکستانی شاہینوں نے بھارتی بزدلوں کے کوہالہ کو تباہ کرنے کے خوابوں کو منتشر کر دیا۔
کوہالہ کی سیاسی حیثیت
روایت ہے کہ چمیاٹی کے عبدالرزاق عباسی نے کوہالہ پل پر پنڈت لال نہرو کو تھپڑ رسید کیا تھا، انیس سو پینتیس کے قانون ہند کی منظوری کے بعد 1936میں برصغیر کے پہلے انتخابات ہوئے، ان انتخابات کی سیاسی اہمیت کے پیش نظر کوہالہ سرکل بکوٹ کا مرکز بن گیا، یہاں پر پنجاب اور ہزارہ کی سیاسی تاریخ کے پہلے عوامی جلسے مسلم لیگ، کانگریس، ہندو سکھ نیشنلسٹ پارٹی، ڈیمو کریٹک پارٹی اور احراروں کے جلسوں سے صاحبزادہ عبدالقیوم (بعد میں وزیر اعلیٰ سرحد بنے)، حاحبزادہ پیر حقیق اللہ بکوٹی، سردار حسن علی خان، عبدالرحمٰن خان (لورہ)، سرادر کالا خان، سردار نور خان، سردار عبدالرب نشتر اور دیگر نے خطاب کیا، 26جولائی1945 کو قائد اعظم کشمیر سے کوہالہ پل عبعر کر کے جب غربی کوہالہ میں داخل ہو ئے تو فضا پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اتھی، آپ کو اہلیان کوہسار نے اپنے کندھوں پر اٹھا لیا، اور ان کی کار کے پیچھے احترام میں دیول تک گئی اور صلیال (داخلیات بیروٹ) سے انہیں رخصت کیا، 1946 میں پنڈت نہرو شیخ عبداللہ اور سرحد کے آخری کاگریسی وزیر اعلی ڈاکٹر خٓن کے ہمراہ کشمیر سے واپسی پر کوہالہ پل عبعر کرنے لگا، یو سی بکوٹ اے ایک بہادر شخص حلوائی ہوٹل والے نے ملنے کے بہانے کوہالہ پل کے درمیاں پنڈت نہرو کے منہ پر زناٹے دار طمانچہ دے نارا، ایک روایت یہ بھی ہے کہ طمانچہ رسید کرنے والا چمیاٹی کا عبدالرزاق عباسی تھا تاہم یہ طمانچہ بعد میں کشمیر کی قسمت میں آج تک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ کوہالہ پل آزادی کے دوران کشمیریوں کیکئے ایک زندگی اور موت کا سوال بن گیا اور باسیاں کے مرد مجاہد سردار یعقوب خان نے اس کا محافظ بن کر کشمیریوں کے لئے زندگی کی علامت اور ان لے دلوں میں امر ہو گیا، 1952 میں جب سرکل بکوٹ میں پاکستانی تاریخ کے پہلے الیکشن ہوئے تو سرکل بکوٹ میں ماضی کے کانگریس نواز امیدوار سردار حسن علی خان کیخلاف اسی کوہالہ میں عوام نے اپنی نفرت کا اظہار کیا اور اس کے مقابلہ میں حضرت پیر حقیق اللہ بکوٹی کو کامیاب کرایا، یہی وہ کوہالہ پل ہے جہاں صدر ایوب خان، وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو، صدر ضیاء الحق، وزیر نواز شریف اور دیگر سیاسی زعمائوں نے خطاب کیا، یہاں پر 1977 میں پی این اے کی بھٹو مخالف تحریک کے دوران سابق ایئر مارشل اصغر خان نے بھٹو کو للکارتے ہوئے کہا تھا کہ میں بھٹو کو کوہالہ پل پر دختہ دار پر لٹکائوں گا، امر ہو گیا اور ان الفاظؓ کی عملی تعبیر بھی آگئی۔ آزاد کشمیر یونیورسٹی مظفر آباد کے سابق پروفیسر صابر آفاقی کہتے ہیں کہ علامہ اقبال نے اپنے سفر کشمیر کے دوران کوہالہ پل سے گزرتے ہوئے اپنی بانگ درا کی پہلی نظم ہمالہ کا آغاز کیسا تھا جو سری نگر پہنچ کر مکمل کی تھی۔ یہ پہلے اشعار اس طرح ہیں۔
اے ہمالہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے فصیل کشور ہندوستاں
چومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں
کاش……… آج کا کوہالہ بھی مقامی لوگوں کے دلوں میں بھی اسی طرح زندہ ہوتا مگر عہد غلامی کی اس علامت کو مٹنا ہی تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ سو وہ مٹ گئی، اب نیا سویرا ہے اور نئی نسل اپنی منزل آسمانوں میں ڈھونڈ رہی ہے کوہالہ کی پستیوں میں نہیں……
مضمون نگار عبیداللہ علوی …مورخ، انتھروپولوجسٹ ، بلاگر اور صحافی ہیں
*********************************

اپنا تبصرہ بھیجیں