امریکن الیکشن/ طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں تحریر: پروفیسرابرارعلی

جو بائیڈن کو واضع اکثریت دے کر امریکن عوام نے ثابت کر دیا کہ طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں۔طاقت اور پیسے کے لحاظ سے کمزور لیکن ذہانت کے لحاظ سے مضبوط، برد بار،تحمل مزاج اٹھہتر سالہ جو بائیڈن جس کے پاس اپنے کینسر زدہ بیٹے کے علاج کے لیے پیسے ہی نہیں تھے اور مکان بیچنے پہ مجبور، کو اس وقت کے صدر باراک اوباما علاج کے لیے رقم دیتا ہے اور خود نائب صدر کے عہدے پہ براجمان بے بس نظر آنے والا آج امریکہ کا صدر بننے جا رہا ہے۔

دوسری طرف مقابلے پہ صدر امریکہ طاقت کے نشے میں چور کبھی امریکہ،کبھی ایران،کبھی پورپین یونین کو سبق سکھا دوں کی دھمکیاں دینے والا لیکن اگر باریکی سے دیکھیں تو امریکہ میں تاریخی نوکریاں مہیا کرنے والا صدر ہے معیشت کو مضبوط کر کے لاک ڈوان کے دوران ملک کو بحران سے بچانے والا چوہتر سالہ ٹرمپ ٹریلینئر کا مالک مگر مغرور شخص بار بار گنتی کو رکوانے کی استدعا کرتا ہے دھاندلی کا الزام لگاتا ہے اور جیتنے والوں کو بد دیانت اور کرپٹ کا راگ الابتا ہے۔

ثالثیئ کشمیر نے کشمیر کاز کو جو نقصان پہنچایا وہ کشمیری کسی صورت معاف نہیں کر سکتے۔طاقت کے نشے میں چور شخص کو بغیر کسی خون خرابے سے تخت سے ہٹا دیا۔یہی جمہوریت کا حسن ہے کہ تبدیلی آئی بغیر کسی خون خرابے کے۔اگر اس ساری کامیابی کے پیچھے دیکھا جائے کہ کون سی طاقت کارفرما ہے تو وہ امریکہ کا آئین جو 4مارچ 1779ء سے نافذ ہے اور اس وقت سے لے کے آج تک اس میں صرف ستائیس ترامیم ہوئی ہیں۔اسی لیے کہا جاتا ہے آئین مقدس ہے۔طاقتور سے طاقتور شخص آئین میں درج طریقے سے ہٹ کے ترمیم نہیں کر سکتا۔

امریکہ کا آئین تحریری ہے اور وفاقی ہے۔آئین میں ترمیم کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔پارلیمنٹ کے دونوں ایوان کانگریس اور سینٹ کے امریکہ پچاس ریاستیں جب تک آئین میں تجویز کے حق میں ووٹ نہ دیں ترمیم ممکن نہیں۔صدر امریکہ کرونا وائرس اور دیگر مواقعوں پہ ریاستوں کو ہدایات جاری کرتے رہے بعض ریاستوں نے ان ہدایات کو نظر انداز کیا کیونکہ ان کو آئین تحفظ دے رہا تھا۔جہاں تحریری آئین ہوتا ہے وہاں عدالتیں آئین کی محافظ ہوتی ہیں۔دوسری طرف جہاں آئین تحریری نہیں ہوتا جو دنیا میں صرف برطانیہ میں وہاں پارلیمنٹ آئین کی محافظ ہوتی ہے۔

برطانیہ میں واحدانی طرز حکومت ہے۔واحدنی طرز حکومت میں صوبے اور ریاستیں اکائیوں کی شکل میں موجود ہوتے ہیں جیسا کہ برطانیہ میں سکاٹ لینڈ اور ائیر لینڈ کی حکومتیں ہیں جن کے اختیارات کو برطانوی پارلیمنٹ کم و بیش کر سکتی یا سرے سے ختم کر سکتی ہے۔امریکہ اور برطانیہ میں طاقتور سے طاقتور حکمران کو کبھی ہمت نہیں ہوئی ہے کہ وہ آئین اور پارلیمنٹ کے خلاف کوئی قدم اٹھا سکے اور نہ ہی طاقتور سے طاقتور ادارے کو کبھی ہمت ہوئی ہے کہ آئین اور پارلیمنٹ کے خلاف جائے۔

مندرجہ بالا صورتحال کو مد نظر رکھ کے ہمیں اپنی اپنی آزادکشمیر گلگت بلتستان چاروں صوبوں اور وفاقی حکومتوں کو چلانا ہو گا۔پاکستان کا آئین وفاقی پارلیمانی ہے۔پارلیمانی نظام ہم نے برطانیہ اور وفاقی نظام ہم نے امریکہ کے آئینوں کو مد نظر رکھ کر تشکیل دیا ہے۔بہت سے تجربوں کے بعد اس کو موجود شکل میں لایا گیا ہے۔صوبائی حکومتیں بااختیار ہیں بالکل اسی طرح امریکہ کی ریاستیں اپنے معاملوں میں خود مختار ہیں۔مرکزی حکومت چاہتے ہوئے بھی ریاستوں کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔

اسی طرح انڈیا کا آئین بھی پابند ہے اگر کوئی بھی حکومت اپنے اختیارات سے تجاوز کرتی ہے تو عدالتوں کے دائرہ سماعت کی زد میں آجاتی ہیں۔اس طرح آئین کی محافظ عدالتوں میں مطلوبہ حکومت کو سبکی اٹھانی پڑ جاتی ہے۔اب وقت ہے عدالتیں آئین کی روشنی میں فیصلے کریں،نظریہ ضرورت کو دفن کر دیں۔سادہ لفظوں میں ادارے اپنی اپنی حدود میں رہ کر فرائض سرانجام دیں کسی دوسرے ادارے کی مداخلت کو برداشت نہ کریں اور اگر دباؤ بھی ہو ہو تو اپنے فرائض منصبی کو ادا کریں اللہ کی مدد ان کی محافظ ہو گی۔

دوسری طرف پارلیمانی نظام کا تقاضا ہے کہ پارلیمنٹ با اختیار ہے اس کے سامنے ادارے جواب دہ ہیں حکومت بھی پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہ ہے تمام مسائل کو پارلیمنٹ کے اندر ہی حل کیا جا سکتا ہے ادارے بھی تبھی اپنی اپنی حدود میں رہیں گے۔حکومت کو اپوزیشن کو ساتھ لے کے چلنا ہو گا اپوزیشن پارلیمنٹ میں حکومت کو ٹف ٹائم دے،حکومت کو پانچ سال پورے کرنے دے،پارلیمنٹ کی مکمل کاروائی براہ راست ٹی وی پہ دکھائی جائے۔وزیراعظم پاکستان برطانوی وزیراعظم کی طرح پارلیمنٹ میں سوالوں کے جواب دیں۔ حسب وعدہ دوسری گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی حکومتوں کو ایکٹ کے مطابق چلنے دینا چاہیے جب تک کشمیر آزاد نہیں ہو جاتا ۔

انڈیا نے جمہوریت کی آڑ میں مقبوضہ کشمیر کو انڈیا میں ضم کیا جواب میں ہم نے گلگت بلتستان کو صوبہ بنا لیں تو ظاہر موقف کمزور ہو گا بلکہ مسئلہ ہی ختم کرنے والی بات ہے اس طرح لداخ بھی جائے گا اور پھر آزاد کشمیر کی باری آ جائے گی۔یہ صورتحال کشمیریوں کے لیے قابل قبول نہیں ہو گی۔اس طرح امن قائم نہیں ہو سکے گا بلکہ حالات پہلے سے بھی سنگین ہو جائیں گے۔افغانستان کے اندر کی جانے والی کو ششوں اور تجربات کو مدنظر رکھا جائے۔ عوام ہی طاقت کا سر چشمہ ہیں ان کی رائے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کشمیر کا ایک ہی حل ہے استصواب رائے۔ اسی پہ فوکس رکھا جائے تو امن عالم قائم ہو سکتا ہے یہی آواز دنیا کے ایوانوں تک پہنچنی چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں