تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی انتقال کر گئے

لاہور(نیل فیری نیوز)پاکستان کے ممتاز عالم دین تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی انتقال کر گئے ہیں ۔ مرحوم طویل عرصے سے علیل بھی تھے ۔ ذرائع کے بعد چند روز قبل اسلام آباد دھرنے سے واپسی کے بعد ان کی طبعیت زیادہ بگڑ گئی تھی ۔جمعرات کی شب ان کی طبعیت بگڑ گئی جہاں انہیں ہسپتال لے جا یا گیا لیکن وہ خالق حقیقی سے جاملے . افسوسناک خبر کے بعد ان کے چاہنے میں صف ماتم بچھ گئی ہے .

تحریک لبیک پاکستان کے مرکزی سینیئر رہنما پیر اعجاز اشرفی نے مولانا خادم رضوی کی وفات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ نمونیہ کی وجہ سے بیمار تھے اور طبیعت کی خرابی کے باوجود گذشتہ دنوں ناموس رسالت ریلی میں شریک ہوئے۔

گذشتہ اتوار کو ٹی ایل پی کے سینکڑوں کارکنان نے خادم رضوی کی قیادت میں فرانس میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف لیاقت باغ راولپنڈی میں دھرنا دیا تھا، جن کا مطالبہ تھا کہ فرانس کے سفیر کو پاکستان سے نکالا جائے۔

علامہ خادم حسین رضوی بریلوی مکتب فکر کے عالم دین اور مذہبی سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے بانی تھے ۔ سیاست میں آنے سے قبل خادم حسین لاہور میں محکمہ اوقاف کی مسجد میں خطیب تھے۔ ممتاز قادری کی سزا پر عملددرآمد کے بعد انھوں نے کھل کر حکومت وقت پر تنقید کی، جس کی وجہ سے محکمہ اوقاف نے ان کو فارغ کر دیا۔ علامہ خادم حسین رضوی 3 ربیع الاول، 1386ھ بمطابق 22 جون، 1966ء کو “نکہ توت” ضلع اٹک میں حاجی لعل خان کے ہاں پیدا ہوئے
خادم حسین رضوی نے ابتدائی تعلیم میں چوتھی کلاس تک اپنے گاؤں نکا کلاں کے اسکول سے حاصل کی کی۔ اس کے بعد دینی تعلیم کے لیے ضلع جہلم چلے گئے اس وقت ان کی عمر بمشکل آٹھ سال ہی تھی اور یہ 1974 کی بات ہے۔ جب خادم حسین اکیلے جہلم پہنچے تو اس وقت تحریک ختم نبوت اپنے عروج پر تھی اور اس کی وجہ سے جلسے جلوس اور پکڑ دھکڑ کا عمل چل رہا تھا۔ جہلم میں علامہ صاحب کے گاؤں کے استاد حافظ غلام محمد موجود تھے جنھوں نے انہیں جامعہ غوثیہ اشاعت العلوم عید گاہ لے گئے۔ یہ مدرسہ قاضی غلام محمود کا تھا جو پیر مہر علی شاہ کے مرید خاص تھے۔ وہ خود خطیب و امام تھے اس لیے مدرسہ کے منتظم ان کے بیٹے قاضی حبیب الرحمن تھے۔ مدرسہ میں حفظ قرآن مجید کے لیے استاد قاری غلام یسین تھے جن کا تعلق ضلع گجرات سے تھا اور وہ آنکھوں کی بینائی سے محروم تھے۔ خادم حسین نے قرآن مجید کے ابتدائی بارہ سپارے جامع غوثیہ اشاعت العلوم میں حفظ کیے اور اس سے آگے کے اٹھارہ سپارے مشین محلہ نمبر 1 کے دار العلوم میں حفظ کیے۔ اس کی وجہ کچھ یوں بنی کہ مدرسہ میں موجود نکا کلاں کے ایک طالب علم گل محمد نے کسی بات پر باورچی کو مارا تھا اور باورچی کو اچھی خاصی چوٹیں آئیں۔ اس وجہ سے گل محمد کو مدرسہ سے نکال دیا گیا جس کی وجہ سے نکا کلاں کے استاد حافظ غلام محمد نے اپنے لائے تمام طلبہ جن کی تعداد اکیس تھی نکال کر مشین محلہ نمبر 1 پر واقع دار العلوم میں داخلہ دلا دیا جن میں خادم حسین بھی شامل تھے۔ آپ کو قرآن پاک حفظ کرنے میں چار سال کا عرصہ لگا۔ جب آپ کی عمر بارہ برس ہوئی تو دینیہ ضلع گجرات چلے گئے اور وہاں دو سال قرأت کی تعلیم حاصل کی۔ قرأت کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1980ء میں مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے لاہور چلے گئے۔ [2] وہاں آپ نے شہرہ آفاق دینی درسگاہ جامعہ نظامیہ لاہور میں درس نظامی کی تعلیم حاصل کی۔ [3] لاہور مدرسہ میں آٹھ سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1988ء میں فارغ التحصیل ہو گئے تھے۔ قرآن پاک حفظ کرنے کے علاوہ درس نظامی اور احادیث پڑھیں۔

ملازمت
حافظ خادم حسین نے پہلی ملازمت 1993ء میں محکمہ اوقاف پنجاب میں کی۔ اس سلسلے میں آپ داتا دربا لاہور کے نزدیک واقع پیر مکی مسجد میں خطیب تھے۔ جب محکمہ اوقاف کی ملازمت ترک کی تو اس وقت آپ کی تنخواہ بیس ہزار ماہانہ تھی۔ جو اب ختم ہو چکی ہے۔ اب یتیم خانہ لاہور روڈ کے قریب واقع مسجد رحمت اللعالمین میں خطیب ہے جہاں سے پندرہ ہزار ماہانہ مشاہرہ ملتا ہے۔[4]

سلسلہ نقشبندیہ سے تعلق
روحانی طور پر خادم حسین رضوی سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں خواجہ محمد عبد الواحد لمعروف حاجی پیر صاحب کالا دیو شریف جہلم کے مرید تھے۔

سر پرست و نگران
خادم حسین رضوی دو عشروں سے جامعہ نظامیہ رضویہ میں مسند تدریس پر رونق افروز ہیں۔ اس کے علاوہ فدایان ختم نبوت پاکستان اور مجلس علما نظامیہ کے مرکزی امیر تھے ۔ دار العلوم انجمن نعمانیہ سمیت کئی مدارس ، تنظیمات اور اداروں کے سر پرست و نگران تھے

ازواج و اولاد
خادم حسین رضوی کی شادی اپنے چچا کی بیٹی سے ہوئی جو آپ کے والد لعل خان نے رشتہ پسند کیا تھا۔ 1993ء میں محکمہ اوقاف میں خطیب کی ملازمت کے بعد یہ شادی ہوئی۔

اولاد
حافظ خادم حسین رضوی کی اولاد میں دو بیٹے اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔ بیٹوں کے نام یہ ہیں۔

حافظ محمد سعد
حافظ محمد انس
دونوں بیٹے حافظ قرآن ہیں اور درس نظامی کا کورس کر رہے ہیں۔

تنازعات
ان کا سیاست میں آنے کا سبب ممتاز قادری کی سزائے موت کو مانا جاتا ہے، انھوں نے بہت جلد اپنے سخت بیانات سے قدامت پسند طبقے میں اپنی جگہ بنائی ہے۔ ان پر 2016ء میں توہین مذہب کے قانون کے حق میں ریلی نکالنے پر لاٹھی جارج کیا گیا اور انہیں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا تھا۔ انہیں آج بھی پنجاب حکومت نے فورتھ شیڈول میں رکھا ہوا ہے جس کا مطلب ہے کہ انہیں اپنی نقل و حرکت کے بارے میں پولیس کا آگاہ رکھنا ہوتا ہے۔

2017ء میں ایک پارلیمانی بل میں حکومت کی طرف سے قانون ختم نبوت کی ایک شق میں الفاظ بدلنے پر، انھوں نے سخت رد عمل کا اظہار کیا اور نومبر 2017ء میں فیض آباد انٹرچینج پر دھرنا دے دیا۔ 25 نومبر کی صبح وفاقی پولیس اور رینجر نے ایک ناکام آپریشن کیا، جس میں کئی افراد زخمی ہوئے، پولیس نے 12 ہزار آنسو گیس کے شل پھینکے اور 8 لوگ جن میں حافظ قرآن بھی تھے ناموس رسالت پر شہید ہو گے۔ واقعے کے بعد ملک گھیر احتجاج شروع ہو گيا۔ اور 25 نومبر کو وزیر داخلہ نے فوج سے مدد طلب کر لی۔ خادم حسین رضوی پر عوامی مقامات پر مخالفین کو گالیاں دینے کے حوالے سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا لیکن خادم حسین رضوی کا کہتے تھے کہ اس طرح کے الفاظ اللہ تعالیٰ نے بھی قران میں بیان فرمائے ہیں۔

تصنیفات
تیسیر ابواب الصرف
تعلیلات خادمیہ
حوالہ جات
“پیدائش”. انجمن ضیاء طیبہ. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 9 نومبر 2017.
خادم حسین رضوی کا سفر زندگی مولف مفتی محمد آصف عبد اللہ قادری رضوی صفحہ 1 ، 2 اور 9
“پیدائش”. انجمن ضیاء طیبہ. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 9 نومبر 2017.
علامہ خادم حسین رضوی کا سفر زندگی مولف مفتی محمد آصف عبد اللہ قادری صفحہ 9
“پیدائش”. انجمن ضیاء طیبہ. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 9 نومبر 2017.
خادم حسین رضوی کا سفر زندگی مولف مفتی محمد آصف عبد اللہ قادری رضوی صفحہ 9
ہارون رشید (17 نومبر 2017). “بی بی سی اردو”. اخذ شدہ بتاریخ 25 نومبر 2017.

اپنا تبصرہ بھیجیں