سرکار گستاخی کے عمل کی حوصلہ شکنی کرے۔ تحریر: افتخار چوہدری

سرکار گستاخی کے عمل کی حوصلہ شکنی کرے
تحریر:افتخار چوہدری

انگلش کا محاورہ” I had a bad day”
اور اردو کا محاورہ “آج کا دن ہی برا ہے” اکثر بولا جاتا ہے یہ جملے ہماری زندگی میں اکثر اس لیے استعمال ہوتے ہیں کہ ہم اس دن جو بھی کریں یا کرنے کی کوشش کریں نتیجہ منفی ہی نکلتا ہے ۔گزشتہ ہفتہ(saturday)
اپنے لیے کچھ ایسا ہی تھا جو بھی کرنا چاہا نتیجہ منفی ہی نکلتا رہا ،جو کالیں کی ان کا رسپانس منفی رہا،جو میسجزز کیے ان کے جوابات غیر شائستہ(rude) محسوس ہوئیں یا نظرانداز کرتے ہوئے متعلقہ لوگوں نے جوابات ہی نہیں دیئے اس ساری صورتحال نے بےچینی پیدا کردی ۔
اسی دوران ایک ایسی خبرسامنے سے گزری کے بے چینی “دکھ و تکلیف” میں بدل گئی خبر تھی کہ ویسٹ یارکشائر کے بیٹلی گرائمر سکول میں ایک ٹیچر نے آقا دو جہاں حضرت محمدصلی اللہ و علیہ وسلم کی شان مبارک میں گستاخی کرتے ہوئے اسٹوڈنس کو نعوذ بااللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلام کا خاکہ دیکھایا ۔

اس معاملہ پر اسٹوڈنٹس کے والدین اور مقامی لوگوں نے احتجاج کیا جس کے بعد سکول کے ہیڈ ٹیچر نے غیر مشروط معافی مانگتے ہوئے اعلان کیا کہ مذکورہ ٹیچر کو معطل کردیا گیا ہے خبر کی مزید تفصیل پڑھی تو پتہ چلا برطانیہ کی وزارت تعلیم نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اساتذہ کو “ڈرانا دھمکانا” کسی صورت قابل قبول نہیں ہو سکتا،کمیونٹیز کے وزیر رابرٹ جینرک نےاپنے بیان میں کہا کہ واقعے پر احتجاج درست نہیں تھا ہمیں توازن برقرار رکھنا ہے ہمیں یقینی بنانا ہے کہ اظہار کی آزادی ہو،اساتذہ کسی خوف و رکاوٹ کے بغیر پڑھا سکیں،سکول اس معاملے کی تفتیش کررہا ہے یہ بالکل درست طریقہ ہے حکومتی جماعت سے تعلق رکھنے والی ممبر پارلیمنٹ “سعیدہ وارثی” نےکہا کہ واقعے کو دونوں جانب کے انتہا پسند لوگ اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہیں ہیں جبکہ اس کو ہوا دینے سے بچوں کا تعلیمی حرج ہو رہا ہے سکول میں جو ہوا اس نے بچوں کو پریشان کر دیا ہےسکول کو چاہیے کہ بچوں کو ایسی تعلیم دی جائے جس سے مثبت سوچ پروان چڑھے اور ایسا ماحول میسر ہوں جو سب بچوں کو اکھٹا رکھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب بھی بے چینی اور بے قراری کی صورتحال سے دو چار ہوتا ہوں تو دو چیزیں معاون ثابت ہوتی ہیں ایک (واک پیدل چلنا) اور دوسرا کتاب کا مطالعہ۔کام پر ہونے کی وجہ سے واک کرنا ممکن نہیں تھا اس لیے کتاب ہی آپشن تھا۔ویسے ان دنوں مستنصر حیسن تارڑ کا ناول “اندلس میں اجنبی” اور احسان شوق کی کتاب “چنگیزخان سے بابر” تک پڑھ رہا تھا ان دونوں کتابوں کے مطالعہ کے لیے تنہائی اور زیادہ توجہ درکار ہے اپنا حال یہ ہے کہ ان دنوں ایسا ماحول میسر نہیں اس لیے جب مختصر وقت ملیں حامد میر کی کتاب قلم کمان 2 پڑھ لیتا ہوں ۔
یہ حسن اتفاق ہے کہ کتاب کے صفحہ 41 پر “احتجاج کا بہترین راستہ” کے عنوان سے کالم پڑھنا شروع کیا یہ کالم 20 مئی2010ء کو لکھا گیا تھا حامد میر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو نفرتوں کا بیوپاری لکھتے ہیں وہ لکھتے ہیں آزادی اظہار کا ہر گِز یہ مطلب نہیں کہ کروڑوں لوگوں کے عقیدہ کو للکارے اور ان کی توہین کریں آزادی اظہار کی کچھ حدود و قیود ہوتی ہیں یہی وجہ ہے کہ مغربی صحافیوں اور دانشوروں کی بڑی تعداد توہین آمیز خاکوں کی مذمت کرتی ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم رحمت الملسین نہیں بلکہ رحمت اللعالمین ہیں ہمیں خطبہ حجتہ الوداع کو اپنے غیر مسلم دوستوں اور ساتھیوں کو پڑھنے کے لیے دینا چاہیے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری خطبہ میں فرمایا تھا تمام انسان برابر ہیں بزرگ و برتر وہی ہے جو زیادہ پرہیز گار ہے کسی عربی کو عجمی پر کسی عجمی کو عربی پر کوئی برتری نہیں اور کسی کورے کو کالے پر اور نہ کسی کالے کو گورے پر برتری حاصل ہے ساری برتریاں کردار و عمل پر مبنی ہیں اس مذموم پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کا بہترین راستہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیمات پر خود عمل کرنا ہے جب ہمارے کردار سے تعلیمات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی جھلکیاں نظر آئیں گی تو ان تمام لوگوں کے دل و دماغ سے نفرتوں کا اندھیرا دور کردے گی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کے ذریعے ہمیں تکلیف دینا چاہتے ہیں ۔

(اس سے اگلے “اقبال کے مرشد” کے عنوان سے کالم میں علامہ اقبال کا شعر لکھتے ہیں جسے تحریر کے آخر میں پڑھا جاسکتا ہے)

برطانیہ بین المذاہب ملک ہے جس میں تمام مذاہب کے لوگ آباد ہیں اس ملک کے نظام کی خوبی ہے کہ ملکی قانون کے مطابق تمام مذاہب کے لوگوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے ریاست تمام مذاہب ،رنگ و نسل کے لوگوں کو برابری کے حقوق دیتی ہے سرکار کے لیے لازم ہے کہ کروڑوں لوگوں کے مذہبی جذبات کو مجروع کرنے والے عمل کی حوصلہ شکنی کرے ،اس واقعہ پر برطانیہ بھر کی مسلمان کمیونیٹی خواں وہ ایشین ہیں،عرب ،افریقن یا یورپ سے ۔ اپنے مقامی کونسلرز اور ممبران پارلیمنٹ یا پھر براہ راست وزیراعظم انگلینڈ بورس جانسن کو خطوط لکھیں کہ آقا دو جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کے کسی بھی طرح کے عمل کی حوصلہ شکنی کریں تاکہ کروڑوں لوگوں کے جذبات مجروع نہ ہوں اس معاملہ کا تعلق صرف اِس سکول کے اسٹوڈنٹس کے والدین سے نہیں بلکہ ہر “کلمہ” گو مسلمان سے ہے ۔

علامہ اقبال کا شعر ہے کہ
تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روز محشر عذر ہائے من پذیر
ور حسابم را تو بینی ناگزیر
از نگاہ مصطفی ص پنہاں بگیر

اے مالک تو دونوں جہانوں سے بے نیاز ہے اور میں ایک سائل و فقیر ہوں روز قیامت میری بے شمار معذرتوں کو قبول فرماتے ہوئے مجھے معاف کردینا لیکن اگر میری معذرتوں کے باوجود میرا حساب لینا لازمی ہوجائے تو پھر میرے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہوں سے بچا کر میرا حساب لینا ۔