کوہستان بس سانحہ محض حادثہ تھا، شاہ محمود قریشی

چین کے وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر ایک بیان کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے چینی ہم منصب کو بتایا کہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان میں داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کے قریب بس سانحہ کی ابتدائی تفتیش کسی دہشت گردانہ حملے کا نتیجہ نہیں ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ شاہ محمود قریشی نے دوشنبہ میں شنگھائی تعاون تنظیم کونسل برائے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات کی۔ بیان کے مطابق اجلاس میں کہا گیا چینی وزیر خارجہ نے سانحہ دہشت گردی کا واقعہ ہونے کی صورت میں قصورواروں کو فوری طور پر گرفتار کرنے اور سخت سزا دینے پر زور دیا۔

تاہم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ واقعہ دہشت گرد حملہ نہیں تھا۔

بیان کے مطابق ’شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا کہ وہ ایک حادثہ تھا اور دہشت گرد حملے کا کوئی سراغ نہیں ملا‘۔

بیان کے مطابق چینی وزیر خارجہ نے واقعے کی تحقیقات کے لیے زور دیا اور شاہ محمود قریشی کو بتایا کہ ’ پاکستان میں چینیوں کی ہلاکتوں پر پریشان ہیں اور امید کرتے ہیں کہ پاکستان جلد اس کے اسباب کو تلاش کرے گا اور آئندہ اس طرح کے واقعات کو دوبارہ ہونے سے روکے گا۔
بیان میں چینی وزیر خارجہ کے حوالے سے مزید کہا گیا کہ اگر واقعہ ’دہشت گرد حملہ تھا تو مجرموں کو فوری طور پر گرفتار کیا جانا اور سخت سزا دی جانی چاہیے‘۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ’واقعے سے سبق سیکھنا چاہیے اور چین پاکستان تعاون حفاظتی اقدامات کو مزید تقویت دے گا تاکہ تمام منصوبوں کو بروقت مکمل کیا جا سکے‘۔

بیان کے مطابق شاہ محمود قریشی نے کہا کہ چین پاکستان کا ’سب سے اہم دوست اور قابل اعتماد ساتھی ہے اور چین کا نقصان پاکستان کا نقصان ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان زخمیوں کو بچانے اور ان کے علاج کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑے گا، واقعے کی مکمل چھان بین، تحقیقات کی پیشرفت کو چین کے ساتھ شیئر اور پاکستان میں چینی عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پوری کوشش کی جائے گی۔