مظفرآباد کے نوجوان نے برطانوی خاتون سے شادی رچا کر زمین ہتھیا لی

نوٹنگھم برطانیہ (نیل فیری رپورٹ) مظفرآباد کے نوجوان نے میرپور اسلام گڑھ کی کشمیری نژاد برطانوی خاتون سے شادی رچا کر زمین ہتھیا لی اور بعد ازاں کشمیر بدر کر دیا ۔خاتون نے برطانیہ کی اسلامک شریعت کونسل کے ادارے سے خاوند سے خلع لے لی ۔

متاثرہ خاتون عابدہ حیدر کے مطابق اس کے سابق شوہر بشارت کاظمی نے شادی سے قبل سنی عقیدہ مسلمان ہونے کا اقرار کیا جبکہ شادی کے بعد وہ شیعہ مسلک سے منسلک نکلا جس کے بعد اس نے خاوند سے علیحدگی کے لیے خلع کی درخواست دی ۔نکاح کے بعد شوہر پر بیوی کے نان و نفقہ کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن بشارت کاظمی وہ ذمہ داری بھی نہ نبھائی ۔جبکہ وہ جسمانی اور ذہنی طور پر تشدد کا نشانہ بناتا رہا ،بشارت کاظمی نے زمین کے کاغذات پر دستخط کرنے کی شرط پر برطانوی پاسپورٹ بھی ہتھیائے رکھا اور مظفرآباد اپنے گھر میں دن بھر صاف ستھرائی ، کپڑے دھونے اور امور خانہ داری پر نبھاتی تھی ، بشارت کاظمی نے دراصل مجھے سے شادی برطانیہ کا ویزہ حاصل کرنے کیلئے کی اور شادی کے بعد اس نے مجھ سے خاوند والا سلوک نہیں کیا ۔

نوٹنگھم برطانیہ میںمقیم عابدہ حیدر نے اپنی تحریری بیان میں کہا کہ اس کے والدین 1960 کے عشرے میں میرپور آزاد کشمیر سے برطانیہ آئے والد کا نام غلام حیدرتھا اور وہ اسلام گڑھ دو چنال کے رہائشی تھے ۔ منگلاڈیم بننے کی وجہ سے اسلام گڑھ کے اکثر لوگ برطانیہ چلے آئے جبکہ ان کا خاندان بھی برطانیہ کے شہر نو ٹاٹنگھم میںآباد ہو گیا جہاں انیس سو انہتر میں ان کی پیدائش ہوئی۔ مقامی سکول میں انہوں نے تعلیم حاصل کی عابدہ حیدر کے مطابق ان کے گھر میں میرپوری ہی بولی جاتی تھی اور باقی ہر کام کے لیے انگریزی کا سہارا لینا پڑتا ہے اردو نہ پڑھائی جاتی تھی اور نہ ہی انہیں بولنا آتی ہے پڑھائی ختم ہونے کے بعد ان کی شادی اپنی فیملی میں کروا دی گئی جس سے ان کے تین بیٹے پیدا ہوئے جو آجکل مقامی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ عابدہ حیدر کے مطابق ان کے گھر میں کافی ناچاکی تھی لہذا انہوں نے برطانیہ کی عدالت سے 2009 میں طلاق حاصل کر لی اور خاوند سے علیحدگی اختیار کر لی ۔

جبکہ وہ اپنے تینوں بیٹوں کے ساتھ علیحدہ گھر میں منتقل ہو گئی اور انتہائی ذمہ داری کے ساتھ بچوں کی پرورش جاری رکھی عابدہ حیدری کے مطابق انہوںنے چونکہ تعلیم برطانیہ میں حاصل کی اور انگریزی زبان میںگہرا عبور رکھتی تھیں ۔پاکستانی کمیونٹی کو کوئی بھی مسئلہ ہوتا تو میں اپنے لوگوں کی رہنمائی کرتیں۔ سماجی خدمات کی وجہ سے کمیونٹی میں وہ ایک ایک سوشل ورکر کے طور پر جانی جانے لگیں ۔ عابدہ حیدر کے مطابق ان کے شہر میں مظفرآباد کی ایک فیملی آباد ہوئی جس کے بارے میں وہ زیادہ نہیں جانتی تھیں چونکہ وہ اکثر سنٹر میں جا کر بے گھر ہونے والی خواتین کی مدد کرتی تھی ۔وہاں پر ان کی بات چیت مظفرآباد کی فیملی کی ایک خاتون سعدیہ کاظمی سے ہوئی جیسے اس کے خاوند نے گھر سے نکالا ہوا تھا انہیں سعدیہ کے ساتھ ہمدردی ہوگئی چونکہ وہ دیار غیر میں تھی اور مجھ سے ملتے جلتے حالات میں تھی سعدیہ نے ذرا دوستی میں دلچسپی لی اور آہستہ آہستہ اپنے گھر کے اور فیملی کے بارے میں زیادہ تعارف کروانا شروع کیا اس طرح وہ ان کے ساتھ گھل مل گئی اور اسے انہوں نے اپنے فیملی کے بارے میں بتایا کہ منگلا ڈیم بننے کے وجہ سے حکومت پاکستان نے ہمیں پنجاب کے اندر کافی ساری متبادل زمین دی جو فیصل آباد اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ہے ۔ اسی دوران سعدیہ نے انہیں اپنے گھر کے افراد سے ٹیلی فون پر بات چیت کروانی شروع کر دی اس کے تمام لوگ مجھ سے واقف ہو گئے۔

عابدہ حیدر کے مطابق جہاں تک انہیں یاد ہے کہ سعدیہ میری زمین میں زیادہ دلچسپی لینے لگی سعدیہ نے انہیں بتایا کہ مظفرآباد میں اس کا بھائی بھی رہتا ہے چلو پاکستان عام گھوم پھر کے آئیں گے اور میں اپنی فیملی سے بھی مل کر آ ئوں گی میں نے تجویز قبول کر لی انہوںنے دعوت کو ہالیڈے کا رنگ دے دیا کہ چلو پاکستان گھوم پھر کے آتے ہیں یہ ضرور تھا کہ جب یہ سب باتیں ہورہی تھیں تو سعدیہ کے بھائی نے دبے لفظوں میں ان سے شادی کی بات کی کہ میں اس کے نکاح میں آجائوں عابدہ حیدر نے اسے بتایا کہ ہم سنی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اور ہمارے میرپور کے لوگوں کی اکثریت سنی عقیدہ مسلمان ہے سعدیہ کا بھائی جو بشارت کاظمی کہلاتا تھا اس نے بتایا کہ وہ بھی سید سنی عقیدہ مسلمان اور بریلوی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں ۔ یہ تشریح ان کے لئے کافی تھی عابدہ حیدری کے مطابق وہ 2019میں پاکستان چلی گئی سعدیہ جو میرے ساتھ پاکستان جانا چاہتی تھی میرے ساتھ پاکستان میں نہ جا سکی جبکہ میں پاکستان پہنچ گئی جہاں ائیرپورٹ پر مجھ انہیں بشارت کاظمی اور اسکی دو بہنوں نے ویلکم کیا اور اپنے ہمراہ مظفرآباد لے کر چلے گئے۔

عابدہ حیدر کے مطابق انہیں بشارت کاظمی کے منصوبے کا کوئی علم نہیںتھا اگلے روز انھوں نے نکاح کا بندوبست کر دیا جبکہ انہوں نے ان سے پنجاب میں ان کی زمین کے بارے میں بھی بات شروع کر دی ۔سابق صنعتکار نے دسوندی خان چوہدری زمینوں کا کاروبار کرتے ہیں انہوں نے یہ زمین سوا بارہ لاکھ روپے میں خرید لی جبکہ جائیداد کے کاغذات پر بائیس لاکھ روپے مالیت درج ہے دسوندی چوہدری نے رقم بشارت کاظمی کے دوست کے اکائونٹ میں بھیج دی ۔ بشارت نے انہیں کہا کہ انہوں نے کچھ کاغذات پر دستخط کرنے ہیں جب انہوں نے انکار کیا تو اس نے تشدد کر نا شروع کر دیا اور کہا کہ تمھاری بہتری اسی میں ہے کہ کاغذات پر دستخط کرو ورنہ تمہیں پاسپورٹ بھی نہیں ملے گا ۔ مظفرآباد اپنے گھر میں دن بھر صاف ستھرائی ، کپڑے دھونے اور امور خانہ داری پر نبھاتی تھی ،

بشارت کاظمی نے دراصل مجھے سے شادی برطانیہ کا ویزہ حاصل کرنے کیلئے کی اور شادی کے بعد اس نے مجھ سے خاوند والا سلوک نہیں کیا عابدہ حیدر کے مطابق انہوں نے بھی خیریت اسی میں جانی اور واپس برطانیہ چلی آئیں جبکہ انہیں بعد میں انکشاف ہوا کہ بشارت شیعہ مسلک سے تعلق رکھتا تھا اور اس نے ان سے جھوٹ بولا تھا اور زمین کی رقم ہی اپنے پاس رکھ دی تھی۔ عابدہ حیدر کے مطابق انہوں نے برطانیہ کی اسلامک شریعت کونسل کے ایک ادارے میں خلع کی درخواست کی جنہوں نے ضروری کارروائی کے بعد طلاق جاری کر دی ۔