تبت یا شی زینگ: نئے نام کے ساتھ متنازع خطہ !!

تبت دنیا کی چھت ہے‘ یہ زمین کا انتہائی بلند مقام ہے‘ انسانی آبادی اس کے بعد ختم ہو جاتی ہے اور دنیا کے ٹو اور ماؤنٹ ایوریسٹ میں سمٹ کر رہ جاتی ہے‘ تبت 1950ء تک آزاد ملک تھا پھر چین کی فوجیں یہاں داخل ہوئیں‘ 14ویں دلائی لامہ بھارت میں

جلاوطن ہوئے اور تبت چین کا حصہ بن گیا تاہم لوگ اپنے ملک کو آزاد سمجھتے ہیں‘ یہ 75سال گزرنے کے باوجود چین کے تسلط کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔آپ دنیا کے نقشے میں تبت کو تلاش کریں تو یہ آپ کو ہمالیہ کے انتہائی اوپر ملے گا‘ اس کی ایک سرحد نیپال‘ دوسری بھوٹان‘ تیسری اکسائی چین کے ذریعے بھارت اور چوتھی سنکیانگ سے ہوتی ہوئی پاکستان سے ملتی ہے‘ یہ علاقے ماضی میں تبت کا حصہ ہوتے تھے‘ بھارت کا لداخ بھی تبت میں تھا‘ نیپال کے ہمالیائی پہاڑ بھی‘ بھوٹان کا ایک تہائی حصہ بھی اور موجودہ پاکستان کے تبتی علاقے بھی‘ یہ ماضی میں ایک عظیم بودھ ریاست تھی‘ مہاتما بدھ 480 قبل مسیح میں پیدا ہوئے‘ ان کی تعلیمات بھارت اور پاکستان تک محدود رہیں لیکن بودھ مت نے مضبوط ریاست کی شکل تبت میں پائی

تبت وسط ایشیا کا ایک علاقہ ہے جو اب چین میں شامل ہے۔ یہ تبتی افراد کا آبائی وطن ہے۔ سطح سمندر سے 4 ہزار 900 فٹ کی اوسط بلندی پر واقع ہونے کے باعث اسے “دنیا کی چھت” کہا جاتا ہے۔ تبت 1912ء سے 1951ءتک ایک الگ ملک کا حیثیت رکھتا تھا،1951ء میں چین نے اس پر حق دعوٰی کیا اور اس پر قبضہ کرکے اپنے ملک میں شامل کر لیا۔ اس خطے کا دارالحکومت لہاسا ہے۔تبت ایشیا کا وہ علاقہ ہے جسے ’’دنیا کی چھت‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ برف سے ڈھکے پہاڑوں اور دنیا کے بلند ترین سطح مرتفع پر مشتمل ہے۔ ماؤنٹ ایورسٹ جنوبی تبت سے بلندی کی طرف جاتی ہے۔ دنیا کے بلند ترین قصبات میں سے کچھ تبت میں ہیں۔ تبت دنیا کا بلند ترین خطہ ہے جو سطح سمندر سے اوسطاً 16 ہزار فٹ اونچا ہے۔ تبت اس وقت چین کا ایک خود مختار قرار دیا جانے والا علاقہ ہے۔ یہ سارا علاقہ بلند پہاڑوں اور ایک سرد اور برفیلے سطح مرتفع پر مشتمل ہے۔ اس کے ساتھ کوہ ہمالیہ ہے۔ یہاں سے ایشیا کے بڑے دریا نکلتے ہیں جو چین اور پاک و ہند کی طرف آتے ہیں۔ ان میں برہم پترا شامل ہے جو بنگلہ دیش سے ہو کر خلیج بنگال میں گرتا ہے۔ دریائے سندھ، میکانگ، سالوین اور یانگ ژی دریا بھی تبت کی طرف سے آتے ہیں۔ تبت کے علاقے میں وسیع سبزے کے میدان اور جنگلات بھی پھیلے ہیں۔ اس علاقے میں بارش کم ہوتی ہے، اسی لیے کھیتی باڑی صرف دریاؤں کے کناروں کے قریب ہوتی ہے، جہاں پھل، جَو اور سبزیاں کاشت کی جاتی ہیں۔ یہاں تقریباً پانچ ہزار مختلف قسم کے پودے اور درخت اگتے ہیں۔ یاک یہاں کا پالتو جانور ہے۔ اس کے علاوہ ہرن، ٹائیگر، ریچھ، بندر، پانڈا اور گھوڑے بھی پائے جاتے ہیں۔ یہاں سیکڑوں جھیلیں اور ندیاں قدرت کے حسن کو دوبالا کرتی ہیں۔ تبت میں اکثریت تبتی لوگوں کی ہے۔ یہ روایتی طور پر تبتی لوگوں کا علاقہ رہا ہے۔ تاہم یہاں دیگر قوموں کے علاوہ ہن چینی بھی آباد ہیں۔ ساتویں صدی عیسوی کے دوران تبت ایک طاقت ور بادشاہت کی شکل میں تھا۔ بھارت کی طرف سے بدھ مت کو یہاں فروغ حاصل ہوا اور لہاسہ شہر کی بنیاد رکھی گئی۔ سترہویں صدی میں دلائی لامہ تبت کا حکمران بن گیا۔ اٹھارویں صدی کے شروع میں یہ چین کے کنٹرول میں چلا گیا۔ یہ علاقہ کئی دفعہ چین کے قبضہ میں آیا اور کئی بار آزاد ہوا۔ منگول بھی اس پر قابض رہے۔ اٹھارویں صدی میں پہلی بار ہندوستان کی برطانوی حکومت نے تبت کے ساتھ تعلقات پیدا کرنے کی کوشش کی مگر سترہویں صدی کے اواخر میں گورکھا جنگ کے باعث انگریز اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔ بیسویں صدی کے اوائل میں برطانیہ نے تبت پر چین کا کنٹرول قبول کر لیا۔ 1912ء میں تبت نے چین کی مانچو حکومت سے آزادی حاصل کر لی۔ اس کے بعد شملہ کانفرنس میں تبت کا ایک حصہ چین کو دے دیا گیا اور باقی آزاد رہا لیکن چین نے اسے قبول نہ کیا۔ مئی 1951ء کے معاہدہ کی رو سے اسے داخلی طور پر آزاد کر دیا گیا۔مارچ 1959ء میں تبت میں ہونے والی بغاوت کو کچل دیا گیا اوراس وقت کا دلائی لامہ بھاگ کر ہندوستان میں پناہ گزین ہوا۔ اس کے بعد چین اور بھارت کی جنگ ہوئی جس میں بھارت کو بدترین شکست ہوئی۔

حالیہ دنوں میں کمیونسٹ پارٹی حکام کی جانب سے تبتی ثقافت کو چینی روایات سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے

جب سے چینی صدر شی جن پنگ نے جولائی میں ملک کے لیڈر کی حیثیت سے پہلی بار تبت کا دورہ کیا، بیجنگ نے اس متنازع خطے میں اپنی عسکری کارروائیاں اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری بڑھا دی ہیں۔

ایک جانب چینی فوج بڑے پیمانے پر تبت میں مشقیں کر رہی ہے تو دوسری جانب ملک کا سرکاری میڈیا خاموشی سے اس علاقے کے انگریزی نام (تبت) کو لوگوں کے ذہنوں سے مٹانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ صدر شی کے دورے کے بعد حکومت نے اس خودمختار خطے پر اپنا کنٹرول مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اب تک کیا ہوا ہے؟

صدر شی کا دورہ تبت کسی بھی چینی سربراہ کی جانب سے 30 سال میں اس علاقے کا پہلا دورہ تھا۔ ان کے وہاں جانے کے چند ہی ماہ بعد، ستمبر میں چین کی سرکاری ملکیت والی کمپنیوں نے اس علاقے میں 2021 سے 2025 تک کے لیے خطے کی معیشت میں 260 ارب یوآن یعنی 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔

اگلے ہی ماہ چینی پارلیمان کی ایک قائمہ کمیٹی نے زمینی سرحدیں مضبوط کرنے کے حوالے سے قانون کی منظوری دی، جسے ہمسایہ ملک انڈیا کے ساتھ جاری سرحدی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

قانون کی منظوری سے چند روز قبل سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے خبر دی تھی کہ بیجنگ علاقے کے قدرے مستحکم علاقوں اور دیہاتوں کی مدد کر رہا ہے تاکہ وہ سرحد کی نگرانی اور حفاظت میں مدد کر سکیں۔

ستمبر میں جاری ہونے والے ایک بیان میں چینی فوج نے کہا کہ اس نے تبت کے مغربی خطے میں ایک ہفتے تک متعدد مشقیں کیں

گلوبل ٹائمز کی رپورٹ میں ایسے قصبوں میں ترقیاتی کام کی تفصیلات موجود تھیں جو انڈیا اور بھوٹان کی سرحد پر واقع تھے۔ یاد رہے کہ چین کا ان ہی دو ممالک کے ساتھ زمینی سرحد کی حدود پر تنازع ہے۔

پھر ستمبر میں پیپلز لبریشن آرمی کے کئی یونٹس نے تبت میں مشترکہ مشقوں میں حصہ لیا جن کا مقصد بلندی پر عسکری کارروائیوں کی تیاری کرنا تھا۔ آٹھ نومبر کو جاری ہونے والے ایک بیان میں چینی فوج نے کہا کہ اس نے تبت کے مغربی خطے میں ایک ہفتے تک متعدد مشقیں کیں جو انڈیا کی جانب سے مشرقی لداخ میں فضائی مشقوں کے جواب کے طور پر منعقد کی گئی تھیں۔

اس سے اگلے روز گلوبل ٹائمز نے خبر دی کہ موسم سرما کی ابتدا سے قبل پہاڑی سرحد پر تعینات افواج تک سازو سامان پہنچانے کے نظام میں بہتری لائی گئی ہے۔

سفارتی سطح پر خطے کی ترقی پر روشنی ڈالنے کے لیے ملک کی وزارتِ خارجہ نے اکتوبر میں ایک عشائیہ منعقد کیا، جس کا عنوان تھا: ’چین نئے سفر پر: ایک خوشحال، نئے تبت کے لیے ترقی کا نیا باب۔‘

اس عشائیے میں، جس میں کئی غیر ملکی سفارت کار بھی شریک ہوئے، وزیر خارجہ وینگ یی نے دعویٰ کیا کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت میں تبت چین کی ترقی کی مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔

بیجنگ کی تبت پر اپنی ثقافت مسلط کرنے کی کوششوں کی ایک اور کڑی اس وقت سامنے آئی جب چینی میڈیا نے بظاہر لفظ ‘تبت’ کے استعمال کو ترک کر کے اس کی جگہ چینی زبان والا نام ‘شی زینگ’ استعمال کرنا شروع کر دیا

ایسا کیوں ہو رہا ہے؟
اتنی تیزی سے ہونے والی ترقی کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس برس کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے تبت پر قبضے کے 70 سال مکمل ہو رہے ہیں جس کو چین میں تبت کی ’پرامن آزادی‘ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

شی کے دورے کے کچھ ہی عرصے بعد چین کے سینیئر سیاسی مشیر وانگ ینگ کی قیادت میں ایک وفد یہی سالگرہ منانے بیجنگ سے لاسا پہنچا۔

انھوں نے اپنے ایک بیان میں خبردار کیا کہ چین کے باہر تبت کے انتظامی امور پر ’انگلیاں اٹھانے کا حق‘ کسی کو بھی نہیں۔ اپنے دورے میں مشیر نے ’چینی زبان کی تعلیم کے فروغ‘ کے لیے اقدامات پر بھی زور دیا تھا۔

چینی صدر کا ’نئے جدید سوشلسٹ تبت‘ کی تعمیر کا اعلان

تبت پر بیجنگ کا کنٹرول مزید بڑھانے کا عمل ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بیجنگ پر نہ صرف انڈیا کی جانب سے سرحد پر دباؤ ہے بلکہ مغربی ممالک کی نظریں بھی چین پر ٹکی ہوئی ہیں۔

اس سال مئی میں امریکہ نے پہلی بار انڈیا کے شمالی شہر دھرم شالہ میں ہونے والے مرکزی تبتی انتظامیہ یا تبت کی جلاوطن حکومت کے انتخابات کو تسلیم کیا۔ پھر جون میں یورپی یونین اور امریکہ دونوں نے ایک مشترکہ اجلاس کے بعد بیجنگ کی جانب سے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

جولائی میں انڈیا کے ایک دورے کے دوران امریکی سیکرٹری خارجہ اینتھونی بلنکن کی تبت کے روہانی رہنما دلائی لامہ کے ایک ترجمان سے ملاقات پر بھی چین نے برہمی کا مظاہرہ کیا۔

سنہ 1959 میں انڈیا فرار ہونے والے دلائی لامہ کو چین میں ’علیحدگی پسند‘ سمجھا جاتا ہے۔

دھرم شالا
دھرم شالہ میں مقیم تبتی کمیونٹی نے جلاوطنی میں اپنی حکومت قائم کر رکھی ہے جسے امریکہ نے حال ہی میں پہلی بار تسلیم کیا

نام تبدیل کرنے کی کوششیں
بیجنگ کی تبت پر اپنی ثقافت کی ترویج کی کوششوں کی ایک اور کڑی اس وقت سامنے آئی جب چینی میڈیا نے بظاہر لفظ ’تبت‘ کے استعمال کو ترک کر کے اس کی جگہ چینی زبان والا نام ’شی زینگ‘ استعمال کرنا شروع کر دیا۔

اس سال اگست سے یہ نام چین کے انگریزی زبان میں شائع ہونے والے میڈیا میں زیادہ سے زیادہ نظر آنے لگا۔ علاقے میں ’سیاحتی انقلاب‘، فوجی مشقوں یا کمیونسٹ پارٹی کے نئے علاقائی سربراہ کے بارے میں شائع ہونے والی خبروں میں تبت کا اسی نام سے ذکر ہوا ہے۔

اس کے بعد 26 اکتوبر کو انڈیا میں موجود تبت کی جلاوطن قیادت کی ویب سائٹ پر جریدے ’بِٹر ونٹر‘ کی ایک رپورٹ شائع کی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ چین تبت سے ’اس کا نام تک چھیننے کی کوشش‘ کر رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ جوں ہی وانگ جنزہینگ نے تبت میں کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ کا عہدہ سنبھالا، انھوں نے گذشتہ اگست کو جاری ہونے والے ایک حکم نامے کے اطلاق کے لیے سر توڑ کوششیں شروع کر دیں۔ یہ حکم نامہ کمیونسٹ پارٹی کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے منظور شدہ تھا اور اس کے مطابق لفظ ’تبت‘ کی جگہ تمام سرکاری کاغذات میں ’شی زینگ‘ استعمال ہونا چاہیے۔

تبتی سکول

تبت کے رہنے والوں کی زندگیوں میں کمیونسٹ پارٹی کا کردار بڑھتا نظر آ رہا ہے

اب کیا ہو گا؟

جیسا کہ سنکیاگ اور ہانگ کانگ میں پہلے دیکھا گیا ہے، جوں جوں مغربی دنیا کی جانب سے چین پر تنقید بڑھتی جائے گی، وہ تبت پر اپنی گرفت اور مضبوط کرنے کی کوششیں جاری رکھے گا۔

اس کا ایک واضح ثبوت اکتوبر میں ملا جب چین نے اکتوبر میں وانگ جنزہینگ کو تبت میں تعینات کر دیا۔ وہ اس سے قبل سنکیانگ میں کمیونسٹ پارٹی کے ڈپٹی سیکرٹری تھے اور ان پر امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین کی جانب سے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کا الزام ہے۔

چینی اکادمی برائے سائنس کی محقق شئی ماؤ سونگ نے مئی میں ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ کو بتایا تھا کہ تبت میں تعینات کمیونسٹ پارٹی کے سابق سیکرٹری نے تبتی بودھ ثقافت کو چینی روایات سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

ان کے مطابق بیجنگ اب تبت اور ملک کے دیگر علاقوں کی تاریخ کو چین کی وسیع تر تاریخ میں ضم کرنے کی کوششیں کر رہا ہے تاکہ متحدہ چین کے بیانیے کو تقویت ملے

چین کا حصہ بننے سے قبل تبت پر بدھ راہبوں کی ایک مضبوط حکمرانی قائم تھی۔


۔