مغربی استعمار نے انڈونیشیا کے حریت پسند رہنما کو کیسے راہ سے ہٹایا؟

سید عاصم محمود

’’جیسے جیسے انسان کی طاقت بڑھے، اس کے ناجائز استعمال کا خطرہ بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔‘‘(آئرش فلسفی، ایڈمنڈ برک)

پچھلے ماہ حکومت برطانیہ نے باضابطہ طور پر اقرار کر لیا کہ 56 سال قبل وہ انڈونیشیا میں لاکھوں کمیونسٹ انڈونیشی باشندوں کو قتل کرانے میں ملوث رہی ہے۔ قتل عام سے متعلق خفیہ سرکاری فائلیں ڈی کلاسیفائی کر کے یہ اقرار کیا گیا۔ یوں یہ حقیقت پھر نمایاں ہو گئی کہ مغربی حکمران طبقہ دنیا پر اپنا غلبہ و تسلط برقرار رکھنے کی خاطر اخلاقیات اور قیمتی انسانی زندگیوں کی کوئی پروا نہیں کرتا۔

حقیقتاً وہ ظالم اور بے حس حکمران طبقہ ہے تاہم اپنے پروپیگنڈے کی طاقت سے اس نے خود کوجمہوریت اور انسانی حقوق کا چیمپیئن بنا رکھا ہے۔ برطانیہ کے ساتھ ساتھ امریکا بھی بے گناہ لاکھوں انڈونیشی باشندوں کے قتل عام میں ملوث رہا۔ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت میں امریکا و برطانیہ کے اہم ہدف انڈونیشی صدر اسکارنو اور کمیونسٹ پارٹی تھے۔

اسکارنو دلیر حریت پسندتھے۔ ان کی زیر قیادت انڈونیشی عوام نے طاقتور مغربی استعمار سے زبردست جنگ لڑی اور اسے شکست دی۔ اسکارنو مغربی طاقتوں کوظالم‘ مفاد پرست اور مسلم دشمن سمجھتے تھے۔ اسی لیے انہوں نے امریکا و برطانیہ کے بجائے سویت یونین اور چین سے دوستی کرنا مناسب خیال کیا۔ مگر صدر اسکارنو کی یہ روش امریکی وبرطانوی حکمرانوں کو پسند نہیں آئی کیونکہ وہ کمیونزم (یعنی سویت یونین اور چین ) کے پھیلاؤ کو اپنے عالمی اقتدار کے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔ چنانچہ دونوں مغربی قوتیں صدر اسکارنو کی حکومت ختم کرنے کی خاطر سرگرم ہو گئیں۔

جرنیلوں کو حکومت سے لڑاؤ
انڈونیشیا میں امریکی و برطانوی اسٹیبلشمنٹ نے حکمت عملی یہ اپنائی کہ وہ فوج کے جرنیلوں کو مراعات اور سہولیات دینے لگی۔ فوج کو جدید امریکی و برطانوی اسلحہ سپلائی کیا گیا۔ فوجی افسروں کو امریکہ و برطانیہ کی عسکری درس گاہوں میں تربیت دی گئی۔ اس طریق کار سے امریکی و برطانوی حکمرانوں نے کئی جرنیلوں کو اپنا ہمنوا بنا لیا۔ ساتھ ساتھ انڈونیشی مذہبی جماعتوں میں یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ کمیونسٹ اسلام مخالف ہیں۔ لہٰذا کمیونزم کی اشاعت سے انڈونیشیا میں اسلامی عقائد خطرے میں آ جائیں گے۔

یہ پروپیگنڈا انڈونیشیا میں امریکی خفیہ ایجنسی ‘‘سی آئی اے” اور برطانوی خفیہ ایجنسی ‘‘ایم سولہ” کے مقامی ایجنٹوں نے زرخرید صحافیوں کی مددسے انجام دیا۔ اسی پروپیگنڈے کے سبب دسمبر 1956ء سے فروری 1958ء تک سی آئی اے کی آشیر باد سے مختلف جرنیل اسکارنو حکومت کے خلاف بغاوت کرتے رہے۔ تاہم حکومت کے وفادار جرنیلوں نے عسکری بغاوتیں ناکام بنا دیں۔ لیکن ان بغاوتوں سے ضرور ظاہر ہو گیا کہ فوج میں کئی جرنیل اسکارنو حکومت کے مخالف ہیں۔ گویا سیاسی حکومت اور فوج کا ٹکرائو ہو گیا۔ یہ آویزش عام طور پہ ملک وقوم کو نقصان پہنچاتی ہے چاہے اقتدار کی ہوس اسے جنم دے یا انا کا ٹکرائو!

مملکت میں فوج کا اثرو رسوخ کم کرنے کی خاطر صدر اسکارنو کمیونسٹ پارٹی سے راہ ورسم بڑھانے لگے۔ انہوں نے کئی کمیونسٹ اہم سرکاری عہدوں پر تعینات کر دیئے۔ اپنا اقتدار مستحکم کرنے کی خاطر صدارتی طرز حکومت اپنا لیا۔ پارلیمنٹ میں بھی آدھے ارکان اپنی مرضی سے تعینات کرنے لگے۔ مخالف انتہا پسند اسلامی تنظیموں پر پابندی لگا دی۔

جواب میں سکارنو کے خلاف جرنیلوں اور مذہبی رہنماؤں نے ان پر قاتلانہ حملے کرائے مگر وہ محفوظ رہے۔ ان حملوں نے مگر اسکارنو کو یہ یقین دلا دیا کہ امریکا و برطانیہ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے جرنیلوں اور مذہبی جماعتوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں تاکہ ان کی حکومت ختم ہو سکے۔

مغربی استعمار کے خلاف اقدام
اسی دوران پاپوانیوگنی اور بورنیو جزائر کے سلسلے میں انڈونیشیا کا پھر مغربی استعمار سے تصادم ہو گیا۔ پاپوا نیوگنی پر ہالینڈ کا قبضہ تھا۔ ہالینڈ جاتے جاتے یہ سارا جزیرہ مقامی غیر مسلم باشندوں کو دینا چاہتا تھا۔ اسکارنو کا کہنا تھا کہ جزیرے کا آدھا حصہ انڈونیشیا میں شامل کیا جائے۔ اس پر دونوں ممالک کے مابین لڑائی چھڑ گئی۔ آخر صدر اسکارنو اپنا استدلال منوانے میں کامیاب رہے۔ انڈونیشیا کے جزیرے بورنیو پہ برطانوی نو آبادیاں واقع تھیں۔ برطانوی حکومت نے فیصلہ کیا کہ یہ نوآبادیاں ’’وفاق ملائشیا‘‘ میں شامل کر دی جا ئیں۔ صدر اسکارنو نے اس اعلان کو مگر انڈونیشیا پر مغربی استعمار کا ایک اور حملہ قرار دیا۔ 1963ء سے انڈونیشی فوج بورنیو میں برطانوی و ملائی افواج کے خلاف خفیہ کارروائیاں کرنے لگی۔ یوں انڈونیشیا اور برطانیہ کے مابین علاقے میں غیر اعلانیہ جنگ چھڑ گئی۔

1964ء میں صدر اسکارنو نے تمام بڑی ملٹی نیشنل برطانوی کمپنیاں قومیالیں اور ان کی جائیدادیں قبضے میں لے لی گئیں۔ ساتھ ساتھ امریکی مخالف مہم بھی چلائی گئی۔ سینماؤں میں امریکی فلمیں دکھانے پر پابندی لگ گئی۔ کاروباری و صنعتی طبقے کو کہا گیا کہ وہ امریکی کمپنیوں سے لین دین نہ کریں۔ عوام نے امریکی کتابیں جلا دیں۔

حتیٰ کہ جکارتہ میں برطانوی سفارت خانہ بھی جلا دیا گیا۔ جواب میں امریکہ اور برطانیہ کی حکومتوں نے انڈونیشیا کو دی جانے والی مالی و مادی امداد روک دی۔ اس پر اسکارنو نے تاریخی جملہ اداکیا: ’’اپنی امداد کے ساتھ جہنم میں جاؤ‘‘۔ جنوری 1965ء میں امریکا و برطانیہ کی حمایت سے ملائشیا اقوام متحدہ کا رکن بن گیا۔ صدر اسکارنو کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ مغربی طاقتوں کی باندی بن چکی۔ لہٰذا انہوں نے انڈونیشیا کو اس عالمی تنظیم سے نکال لیا۔ اب وہ سویت یونین اور چین سے زیادہ قریب ہو گئے۔ اِدھر صدر اسکارنو کی حمایت سے انڈونیشی کمیونسٹ پارٹی ملک میں سب سے بڑی سیاسی و نظریاتی جماعت بن گئی۔

حتیٰ کہ اس نے مطالبہ کر دیا کہ مزدورں اور کسانوں پر مشتمل ایک فوج تشکیل دی جائے۔ اس تجویز کی صدر اسکارنو نے منظوری دے دی۔ تاہم مذہبی جماعتوں کے رہنمااور فوجی جرنیل مخالفت کرنے لگے۔ فوج کے جرنیلوں کو خطرہ یہ تھا کہ اگر کمیونسٹ فوج تشکیل پا گئی تو ان کا اثر ورسوخ کم ہو جائے گا۔ اسی فوج سے مذہبی رہنماؤں کو بھی خطرہ محسوس ہوا۔ وجہ یہ کہ بیشتر مذہبی رہنما جاگیردار یا زمیندار تھے۔ انہیں یہ خوف محسوس ہوا کہ کمیونسٹ فوج ان سے زمینیں چھین لے گی۔ چنانچہ وہ اس کی تشکیل کے خلاف مظاہرے کرنے لگے۔

دو بڑوں کی ملاقات
1964ء کے اوآخر میں امریکی صدر لنڈن بی جانسن اور برطانوی وزیراعظم ہیرولڈ ولسن کے مابین ملاقات ہوئی۔اس میں صدر اسکارنو کی حکومت ختم کرنے پر اتفاق کر لیا گیا۔ اس بار بھی انڈونیشی فوج کو استعمال کیا گیا مگر ماضی کی حکمت عملی کے برعکس مغربی ا ستعمار نے اب صرف ایک انڈونیشی جرنیل کو مہرہ بنایا۔ اس کا نام سوہارتو تھا۔ 1956ء سے 1959ء تک سوہارتو جکارتہ میں تعینات ملٹری ڈویژن کا سربراہ تھا۔ اسی تعیناتی کے دوران اس کے امریکی سفارت کاروں، انڈونیشی صنعت کاروں اور کاروباریوں سے تعلقات قائم ہوئے۔

سوہارتو آسائشوں بھری زندگی گذارنے کا متمنی تھا۔ اس لیے غیر قانونی دھندوں کی حوصلہ افزائی کرنے لگا۔ یہ دھندے چلانے والے اسے معقول کمیشن دیتے تھے۔ سوہارتو کا لالچ وہوس دیکھ کر ہی مغربی استعمار نے اسے اپنا آلہ کار بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ اسے کثیر رقم دے کر بہ حیثیت اپنی کٹھ پتلی انڈونیشیا کا اقتدار سونپنا چاہتے تھے۔ مدعا یہ تھا کہ سوہارتو انڈونیشی حکمران بن کر امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا کے مفادات کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھا سکے۔ میجر جنرل سوہارتو اپنی ہوس کی وجہ سے امریکیوں و برطانویوں کے بچھائے دام میں باآسانی پھنس گیا۔

اب سی آئی اے اور ایم سولہ کی اعانت سے ایسے خفیہ منصوبے پر کام شروع ہوا جس کے ذریعے تمام فریق اپنے مفادات پورے کر لیتے۔ اول اسکارنو حکومت کا خاتمہ، دوم انڈونشیا سے کمیونسٹوں کا صفایا اور سوم سوہارتو کا حکومت سنبھال لینا ۔ یہ منصوبہ جنوری 1965ء تک بن چکا تھا کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اسی ماہ عمل درآمد شروع ہو گیا۔

اس ماہ لندن سے پینتالیس سالہ ایڈ وائن ( Ed Wynne)سنگاپور پہنچا جو انگریزوں کی نو آبادی تھی۔ وہاں اس نے ایک سنسان پوش علاقے کی کوٹھی میں قیام کیا۔ یہ ایک برطانوی خفیہ ادارے ’’انفارمیشن ریسرچ ڈیپارٹمنٹ ‘‘ (the Information Research Department)کا ماہر خصوصی تھا۔ اس ادارے سے منسلک ماہرین کی ذمہ داری تھی کہ وہ دشمن کے خلاف جھوٹی و جعلی خبریں تخلیق کر کے زور شور سے ان کا پروپیگنڈا کریں۔ ایڈوائن کوانڈونیشی حکومت کے خلاف پروپیگنڈا آپریشن کا انچارج بنایا گیا تھا۔ اس کے ماتحت تین انگریز اور چار مقامی افراد کام کر رہے تھے۔

ایڈ کے سنگا پور پہنچتے ہی اسکارنو حکومت کے خلاف زہریلی جھوٹی مہم شروع ہو گئی ۔ یہ دعویٰ کیا جانے لگا کہ وہ کمیونسٹ ہو چکا۔ رنگ رلیوں میں مست رہتا ہے اور اسے عوام کی بھلائی کا کوئی خیال نہیں ۔ اس نے حکومت کمیونسٹوں کے حوالے کر دی ہے جو انڈونیشیا سے اسلام ختم کر کے اسے کمیونسٹ مملکت بنانا چاہتے ہیں۔ پروپیگنڈا کرنے کے لئے ایک ریڈیو اسٹیشن قائم کیا گیا۔ ایک پریس بھی لگایا گیا تاکہ وہاں ہینڈ بل، پوسٹر چھاپ کر پروپیگنڈا پھیلایا جا سکے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ انگریزوں نے اس سارے پروپیگنڈے کو یہ رُخ اور رنگ دیا کہ بیرون ممالک میں مقیم انڈونیشی باشندے اس کے پیچھے ہیں۔ یہ انڈونیشی محب وطن ہیں اور انڈونیشیا کو ’’شیطان‘‘ صدر اسکارنو سے پاک کرنا چاہتے ہیں۔ درحقیقت یہ سارا پروپیگنڈہ انگریز کر رہے تھے تاکہ انڈونیشیا سے اسکارنو حکومت اور کمیونسٹ پارٹی کا صفایا کر کے وہاں اپنی کٹھ پتلی گورنمنٹ قائم کی جا سکے۔ یہ یقینی ہے کہ صدر اسکارنو کے خلاف پروپیگنڈے میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے بھی پرطانوی حکومت کی مدد کر رہی تھی۔

یہ امریکی ایجنسی بھی انگریز ادارے ’’انفارمیشن ریسرچ ڈیپارٹمنٹ ‘‘ کی طرح مختلف ذیلی ادارے رکھتی ہے۔ ان اداروں سے منسلک ماہرین بھی دشمن کے خلاف جھوٹی خبریں تخلیق کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ یہ خبریں اسی طرح بنائی جاتی ہیں کہ ان پر سچ کا گمان ہو۔ دوسری جنگ کے دوران امریکا نے جرمنی اور ہٹلر کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرنے کی خاطر ’’بیوروآف انٹیلی جنس اینڈ ریسرچ ‘‘ (Bureau of Intelligence and Research) اور ’’اسٹرٹیجک سروس یونٹ‘‘(The Strategic Services Unit ) نامی ادارے بنائے تھے۔ جنگ کے بعد انہیں سی آئی اے میں ضم کر دیا گیا تھا۔

سوہارتو کی چالیں
جب اسکارنو حکومت کے خلاف برطانوی و امریکی پروپیگنڈا زور شور سے جاری تھا تو اُدھر انڈونیشیا میں میجر جنرل سوہارتو منصوبے پر عمل کرتے ہوئے ایک اہم جھوٹی خبر پھیلا رہا تھا۔ وہ افواہ یہ تھی کہ کچھ جرنیلوں کا ٹولہ اسکارنو حکومت کا تختہ اُلٹ کر فوجی انقلاب لاناچاہتا ہے۔ منصوبے کے مطابق یہ افواہ اتنی زیادہ پھیلائی گئی کہ خود صدر اسکارنو کو یقین ہو گیا کہ کچھ جرنیل ان کی حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے تقریروں میں جرنیلوں کو خبردار کیا کہ وہ کسی قسم کی مہم جوئی کرنے سے باز رہیں۔

میجر جنرل سوہارتو اور برطانوی و امریکی خفیہ ایجنٹوں کی پھیلائی افواہ سے انڈونیشی فوج کے وہ چھوٹے افسر بھی متاثر ہوئے جو کمیونزم سے متاثر تھے۔ ان میں سب سے اہم لیفٹیننٹ کرنل انتنگ بن سیموری تھا۔ اہمیت کی وجہ یہ کہ 5اکتوبر 1965ء کو ’’آرمڈ فورسز ڈے ‘‘ کے موقع پر جس بریگیڈ نے تقریب کا اہتمام کرنا تھا، لیفٹیننٹ کرنل انتنگ اس کا انچارج تھا۔ وہ میجر جرنل سوہارتو کی زیر قیادت کام کر چکا تھا۔ لہٰذا دونوں ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے تھے۔ منصوبے کے مطابق سوہارتو نے پے در پے ملاقاتوں سے اسے یقین دلا دیا کہ 5اکتوبر کو فلاں فلاں جرنیل اسکارنو حکومت کا تختہ اُلٹنے کی تیاری کر چکے۔

درحقیقت یہ وہ جرنیل تھے جو سوہارتو کو انڈونیشی فوج کا کمانڈر بننے سے آئینی و قانونی طور پر روک سکتے تھے۔ احمق و بے وقوف لیفٹیننٹ کرنل انتنگ چالاک و عیار سوہارتو کی باتوں میں آ گیا۔ اس نے پھر سوہارتو کی مدد سے یہ پروگرام بنا لیا کہ 1 اکتوبر کو وہ تمام جرنیل ہلاک کر دیئے جائیں جو اسکارنو حکومت کا تختہ اُلٹنا چاہتے تھے۔ ان میں انڈونیشی فوج کا سربراہ اور وزیردفاع جنرل احمد یانی اور اس کے دو ڈپٹی میجر جنرل سوپترایو اور میجر جنرل ہریونو نمایاں تھے۔۔

1اکتوبر کی صبح تین بجے لیفٹیننٹ کرنل انتنگ کے فوجی دستوں نے درج بالا تینوں جرنیلوں کے علاوہ چیف ملٹری آپریشنز ‘ بریگیڈیئر جنرل سوتوجو اور دو مذید جرنیلوں کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ منصوبے کے مطابق لیفٹیننٹ کرنل انتنگ کے فوجی کچھ جرنیلوں کو گرفتار کر کے انڈونیشی فضائیہ کے ہیڈ کوارٹر لے گئے ۔

وہاں اس نے فضائیہ کے چیف ایئرمارشل عمردانی اور کمیونسٹ پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر ایدت کو بلوالیا۔ یوں وہ انہیں جرنیلوں کے ٹولے کی سازش سے آگاہ کرنا چاہتا تھا۔ مگر یہ بھی میجر جنرل سوہارتو کی چال تھی۔ اس طرح وہ جرنیلوں کے قتل کاالزام کمیونسٹوں پر تھوپنا چاہتا تھا۔ ائرمارشل عمر دانی کھلے عام کمیونسٹ پارٹی کی حمایت کرتا تھا۔ ائیر ہیڈ کوارٹر پہنچ کر دونوں رہنماؤں کو پتا چلا کہ لیفٹیننٹ انتنگ کے فوجیوں نے جرنیل مار ڈالے ہیں۔

منصوبے کے مطابق اب میجر جنرل سوہارتو اپنی فوج کو حرکت میں لے آیا۔ یہ فوج لیفٹیننٹ کرنل انتنگ کے فوجی دستوں سے کہیں زیادہ تھی۔ لہٰذا شام تک لیفٹیننٹ کرنل کے فوجی دستوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔ انہیں ’’باغی‘‘ قرار دیا گیا۔ اب سوہارتو کے راستے سے تمام اہم جرنیل ہٹ چکے تھے۔ لہٰذا 1 اکتوبر کی رات نو بجے ریڈیو پر تقریر کرتے ہوئے سوہارتو نے اعلان کر دیا کہ اب وہ انڈونیشی فوج کا سربراہ بن چکا۔ یوں برطانوی و امریکی خفیہ ایجنسیوں نے سوہارتو کے ساتھ مل کر جو منصوبہ بنایا تھا اس کا ایک مرحلہ کامیابی سے پورا ہو گیا۔ ابھی دومراحل اور باقی تھے: کمیونسٹ پارٹی کا خاتمہ اور اسکارنو حکومت گرا کر سوہارتو کو حکمران بنا دینا۔ لہٰذا یہ مراحل طے کرنے پر پوری توانائی سے کام شروع ہو گیا۔

’’سب اچھا ہے‘‘
صدر اسکارنو فرشتہ نہیں انسان تھے۔ ان سے غلطیاں بھی سرزد ہوئی تھیں۔ خاص طور پر وہ اپنے اقتدار کے آخری برسوں میں عوام سے کٹ گئے۔ یہ حکمرانوں کی عام غلطی ہے جس کے باعث انہیں اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں۔ وجہ یہ کہ عوام سے دور ہو کر وہ تلخ حقائق زندگی سے بھی دور ہو جاتے ہیں۔ حکمران پھر اپنی الگ تھلگ دنیا میں رہنے لگتے ہیں جس میں ’’سب اچھا ہوتا ہے‘‘۔ ایسی دنیا عموماً مشیر و دست راست تخلیق کرتے ہیں جو اپنی جھوٹی خوشامد سے حکمران کے گرد تقدس کا مصنوعی ہالہ تان دیتے ہیں۔

انڈونیشی صدر اسکارنو سے بھی بنیادی غلطی یہ ہوئی کہ وہ عوام سے کٹ کر ان کے دکھ درد محسوس کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو گئے۔ انہوں نے عوامی مسائل حل کرنے کی جدوجہد ترک کر دی۔ اسی لیے مسائل زندگی سے نبردآزما عام آدمی سکارنو کا حامی نہیں رہا اورکوئی نیا حکمران آنے کی دعائیں کرنے لگا۔ سکارنو کے خلاف عوام میں پھیلے مخالفانہ جذبات سے سوہارتو نے فائدہ اٹھایا اور اپنی پوزیشن مضبو ط کرنے لگا۔

اُدھر سنگا پور سے ا نگریزوں کا ریڈیو اسٹیشن مسلسل یہ پروپیگنڈا کرنے لگا کہ جرنیلوں کے قتل عام میں کمیونسٹ رہنما ملوث ہیں۔ اس سلسلے میں ہینڈ بل بھی چھاپ کر پورے انڈونیشیا میں پھیلا دیئے گئے۔ جلد ہی مذہبی جماعتوں کے کارکن کمیونسٹ مراکز پر دھاوا بول کر وہاں موجود لوگوں کو قتل کرنے لگے۔ کمیونسٹوں کے خلاف مہم میں سوہارتو تو اہم مہرہ تھا۔ اس نے کمیونسٹ رہنما قتل کرنے کی خاطر خصوصی فوجی دستے تشکیل دیئے۔ پولیس کو بھی ہدایت کی گئی کہ کمیونسٹ گھیر کر مار دیئے جائیں۔

قتل عام کا آغاز
اس طرح انڈونیشیا میں وسیع پیمانے پر کمیونسٹوں کا قتل عام شروع ہو گیا۔ انہیں گھروں سے نکال کر مارا پیٹا اور پھر سرعام قتل کر دیا جاتا۔ ان کے اہل خانہ بھی تشدد کا نشانہ بنتے ۔ صدر اسکارنو خاموشی سے یہ تماشہ دیکھتے رہے۔ اب وہ کمیونسٹوں کو بچانے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ خیال ہے کہ ا کتوبر 1965ء سے دسمبر 1966ء تک فوجی دستوں، پولیس اور مذہبی جماعتوں کے کارکنوں نے انڈونیشیا میں ’’پانچ لاکھ سے دس لاکھ‘‘ کے مابین کمیونسٹ انڈونیشی قتل کر دیئے۔ تاریخ انسانی میں اس قسم کے ظالمانہ قتل عام کی نظیر کم ہی ملتی ہے۔ حتی کہ خود امریکی سی آئی اے کی خفیہ دستاویز میں اسے’’بیسویں صدی میں بدترین قتل عام میں سے ا یک ‘‘ کہہ کر لکھا گیا۔

برطانوی، امریکی اور جنرل سوہارتو کی پروپیگنڈا مشینری نے جرنیلوں کے قتل میں ملوث فوجی افسروں اور کمیونسٹ رہنماؤں کے گروہ کو ’’تیس ستمبر موومنٹ (30 September Movement ) کانام دیا۔ دعویٰ کیا گیا کہ یہ گروپ حکومت پر قبضہ کرنا چاہتا تھا۔ حقائق سے مگر آشکار ہے کہ یہ سفید جھوٹ تھا۔ یہ برطانوی و امریکی خفیہ ایجنسیوں کی مکارانہ چال تھی۔ انہوں نے بڑے شاطرانہ طریقے سے ایک احمق لیفٹیننٹ کرنل کو اپنے جال میں پھانس لیا۔ پھر اس کو چارا بنا کر انڈونیشیا کی پوری کمیونسٹ پارٹی کو مجرم و معتوب بنا ڈالا۔ یہ واضح رہے کہ کمیونزم بنیادی طور پر معاشی و سیاسی فلسفہ ہے۔ یہ کسی مذہب سے براہ راست تصادم نہیں رکھتا۔ درحقیقت کئی اسلامی نظریے مثلاً ارتکاز دولت کی ممانعت کمیونزم سے مشترکہ ہیں۔

مزید براں انڈونیشیا میں کمیونسٹ مسلمانوں کی اکثریت لا دین نہیں تھی۔ وہ بس معاشرے سے ایلیٹ طبقوں کے اثر و رسوخ کا خاتمہ چاہتے تھے جنہوں نے بیشتر وسائل پرقبضہ کر رکھا تھا۔ یہ روش بذات خود بھی اسلامی تعلیمات کے خلاف تھی۔ تاہم مغربی استعمار کے پروپیگنڈے کی وجہ سے انڈونیشی مذہبی جماعتیں کمیونسٹ رہنماؤں کواسلام دشمن سمجھنے لگیں۔ اور غلط فہمیاں بڑھتی چلی گئیں۔ آخر میں لالچ و ہوس کا مارا ایک جرنیل مغربی استعمار کی کٹھ پتلی بن گیا۔ اس نے پھر علاقے میں برطانوی و امریکی مفادات پورے کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

اسلامی معاشی و عسکری اتحاد
یاد رہے‘ 1965ء تک عالم اسلام میں شاہ فیصل شہید، جمال عبدالناصر، ایوب خان اور کئی دیگر رہنما سامنے آ رہے تھے جو اسلامی ممالک کامعاشی و عسکری اتحاد بنانے کے متمنی تھے۔ مقصد یہ تھا کہ بین الاقوامی سطح پر مسلمانوں کی آواز موثر ہو سکے اور ان کے اثر ورسوخ میں اضافہ ہو جائے۔ جب ستمبر 1965ء میں پاک بھارت جنگ ہوئی تو اس فہرست میں انڈونیشی صدر اسکارنو بھی شامل ہو گئے۔ سویت یونین بھارت کی پشت پناہی کر رہا تھا۔ اسکارنو بھی سویت کیمپ کا حصہ تھے۔

تاہم انہوں نے سیاسی مفاد پس پشت ڈال کر اسلامی بھائی چارے کو ترجیح دی۔ انہوں نے صدر ایوب خان کو پیغام بھجوایا کہ پاک افواج انڈونیشی بحریہ کی آبدوزیں اور جنگی جہاز استعمال کر سکتی ہیں۔ یہی نہیں‘پاکستان کی حمایت کرتے ہوئے اسکارنو نے عملی قدم بھی اٹھایا۔ انہوں نے بھارتی جزائر انڈیمان اور نکوبار پر قبضے کی خاطر جنگی جہاز بھیج دیئے۔

گو ان کو پہنچنے سے پہلے ہی جنگ ختم ہو گئی۔ پاکستان کی کھلی حمایت نے مگر امریکا و برطانیہ کوپریشان کر دیا۔ ان ممالک کی اسٹیبلشمنٹ کواحساس ہو گیا کہ اگر انڈونیشیا سے لے کر مصر اور نائیجیریا تک اسلامی عسکری اتحاد و جود میں آیا تو عالمی سطح پر اس کے مفادات خطرے میں پڑ جائیں گے۔ یہی وجہ ہے مغربی استعمار نے فی الفور صدر اسکارنو کو راہ سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا۔ گویا پاکستان کی عملی حمایت و مدد پر انڈونیشی صدر مغربی استعمار کی نظر میں مجرم قرار پائے۔ چنانچہ جیسے وہ تمام مغرب مخالف مسلمان حکمرانوں کے خلاف خفیہ سازشیں کر رہا تھا اسکارنو بھی ان کا نشانہ بن گئے۔

مہنگائی کا پروپیگنڈا
یہ واضح رہے کہ یکم اکتوبر کو جنرل احمد یانی قتل ہوئے تو اسی دن صدر اسکارنو نے مقتول کے ایک ڈپٹی میجر جنرل پرانوتو ریکسو سمودرا کو انڈونیشی فوج کا نیا سربراہ بنا دیا۔ مگر جنرل سوہارتو کو یہ انتظام قبول نہیں تھا۔ وجہ یہی کہ وہ خود سپہ سالار فوج بننا چاہتا تھا۔ سہارتو نے اس دوران ساز باز کر کے دیگر سینئر فوجی افسر بھی ساتھ ملا لیے ۔ یوں اسکارنو کی پوزیشن مزید کمزور ہو گئی۔ جرنیلوں کے دباؤ پر آخر 16اکتوبر کو جنرل سوہارتو آرمی چیف بنا دیا گیا۔ پھر منصوبے کے مطابق جنرل سوہارتو ملک و قوم پر اپنی گرفت مضبوط کرنے لگا۔

اس نے سب سے پہلے کمیونسٹ پارٹی ملیامیٹ کر ڈالی۔ یوں صدر اسکارنو اپنے ایک اہم ا تحادی سے محروم ہو گئے ۔ مذہبی جماعتیں پہلے ہی ان کی مخالف بن چکی تھیں۔ اب مہنگائی بڑھنے کی وجہ سے عوام بھی ان کے خلاف مظاہرے کرنے لگے۔ بعض انڈونیشی مورخین لکھتے ہیں کہ جنرل سوہارتو کی ایما پر فوج کے زیر اثر اخبارات نے جعلی خبریں چھاپ کر مہنگائی کو بڑھا چڑھا کے پیش کیا۔ مقصد یہ تھا کہ عوام صدر سوکارنو سے نفرت کرنے لگیں۔

جنرل سوہارتو کا پروپیگنڈا کامیاب رہا اور فروری 1966ء سے یونیورسٹی طلبہ وسیع پیمانے پر صدر اسکارنو کے خلاف مظاہرے کرنے لگے۔ طلبہ مظاہروں کو بنیادبناکر جنرل سوہارتو نے اپنی طاقت میں بے پناہ اضافہ کر لیا۔ ہوا یہ کہ 11مارچ 1966ء کو جنرل سوہارتو کے تین ڈپٹی صدر اسکارنو کے پاس پہنچے ۔انہوں نے بندوق کی نوک پر صدر سے ایک ’’صدارتی حکم نامے‘‘ پر دستخط لے لیے۔ اس صدارتی حکم نامے کے ذریعے مملکت کی سکیورٹی اور حکومت چلانے کے تمام انتظامات جنرل سوہارتو کے حوالے کر دیئے گئے۔

یوں صدر اسکارنو کی حیثیت اب نمائشی حکمران کے طور پر رہ گئی۔ انڈونیشیا کا اصل حکمران جنرل سوہارتو بن گیا۔ اس نے حکومت سنبھالتے ہی کمیونسٹ پارٹی پر پابندی لگا دی۔ وہ پھر ایک ایک کر کے حکومت سے صدر اسکارنو کے وفادار نکالنے لگا۔ مدعا یہ تھا کہ صدر فوج، بیورو کریسی اور عدلیہ میں موجود اپنے تمام حمایتیوں سے محروم ہو جائیں۔

منصوبے کے مطابق جنرل سوہارتو سیاسی رہنماؤں کو بھی ساتھ ملانے لگا۔ ظاہر ہے انہیں رشوت، ترغیبات ومراعات دی گئی ہوں گی تاکہ وہ صدر اسکارنو کا ساتھ چھوڑ سکیں۔ آخر مارچ 1967ء تک انڈونیشی پارلیمنٹ میں ارکان کی اکثریت جنرل سوہارتو کی جھولی میں پہنچ چکی تھی۔ چنانچہ 12مارچ کو پارلیمان نے جنرل سوہارتو کونیا صدر بنادیا۔ یہ عہدہ سنبھالتے ہی سوہارتو نے صدر اسکارنو کو گھر میں نظر بند کر دیا۔ یوں ڈھائی سال قبل مغربی استعمار نے حریت پسند اسکارنو کو راہ سے ہٹانے کا جو عیّارانہ منصوبہ بنایا تھا وہ ایک غدار ولالچی انڈونیشی جرنیل کی مدد سے پایہ تکمیل تک پہنچا۔ صدر اسکارنو کسمپرسی کے عالم میں زندگی گزارنے لگے۔

حتیٰ کہ سہارتو حکومت نے انہیں علاج معالجے کی عمدہ سہولیات بھی مہیا نہ کیں۔ انڈونیشیا کو مغربی استعمار کے پنجہ استبداد سے آزاد کرانے والے دلیر اسکارنو بیماریوں اور بڑھاپے کے مصائب سے مقابلہ کرتے 21 جون 1970ء کو چل بسے۔ ان کی موت پر امریکا و برطانیہ کے حکومتی ایوانوں میں خوشیاں منائی گئیں۔ مغربی استعمار نے اپنے ایک اہم مخالف کو بڑی عیاری سے شکست دے کر بیچارگی و لاچاری کی موت مرنے پر مجبور جو کر دیا تھا۔

Related