جہاں سے فاختہ کے پر لہو کا دکھ پہن آئے…اسرار ایوب

جہاں سے فاختہ کے پر لہو کا دکھ پہن آئے
کشمیر کا ذکر چھڑتے ہی اپنے یہ اشعار یاد آتے ہیں جنہیں پڑھتے ہوئے آج بھی دل ویسے ہی خون کے آنسو روتا ہے جیسے 25برس پہلے روتا تھا جب یہ غزل کہی تھی کہ…؎

جزا کے روز سے پہلے جزا کا کیا کرے کوئی

خدایا قبر کی اندھی سزا کا کیا کرے کوئی

بچھی بل کھاتی پگڈنڈی پہ بارودی سرنگیں ہیں

پہاڑوں پر کسی کے نقشِ پا کا کیا کرے کوئی

جہاں سے فاختہ کے پر لہو کا دُکھ پہن آئے

کسی ایسے مقامِ پُرفضا کا کیا کرے کوئی

جہاں کے زعفراںزاروں سے بُو بارود کی آئے

بھلا اُس وادیٔ جنت نما کا کیاکرے کوئی

ہوا آتی ہے جو کشمیر کی قیدی بہاروں سے

ہوا جنت کی ہے پر اس ہوا کا کیا کرے کوئی

کشمیر میرا جسم ہے اور پاکستان میری روح، ہر دو مجھے اپنی جان سے بھی عزیز ہیں، تو مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ مسئلہ کشمیر کے حل نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم اسے ’’تحریکِ پاکستان کا نامکمل ایجنڈا‘‘کہتے ہیں، اوراس طرح یہ دو ممالک کے درمیان ایک سرحدی تنازعہ بن جاتا ہے جبکہ ’’ٹیریٹوریل ڈسپیوٹس‘‘ میں مداخلت بالعموم اقوامِ متحدہ کے دائرہ کار میں نہیں ہوتی۔ اقوامِ متحدہ کی پہلی قرار دار کے مطابق یہ ایک بین الاقوامی مسئلہ اس لئے تھا کہ کشمیریوں کو ’’رائٹ آف سیلف ڈیٹرمینیشن‘‘نہیں مل رہا تھا جو’’یواین چارٹر‘‘کی رو سے ایک انسان کا بنیادی حق ہے لیکن پھر انڈیا اور پاکستان نے مل کر اقوامِ متحدہ سے کہا کہ یہ بین الاقوامی نہیں بلکہ ہمارا باہمی مسئلہ ہے اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے، انڈیا کو تو اس کا فائدہ ہوا لیکن پاکستان نے اس سے خدا جانے کیا حاصل کیا؟

انڈیا سے کوئی بات منوانے کے لئے اگر اُس سے زیادہ نہیں تو اُس جتنا طاقتور ہونا تو ضروری ہے اورآج کل طاقت سے مراد آپ کی معیشت ہوتی ہے جبکہ ہمارے ’’فارن ایکسچینج ریزروز‘‘فقط 16ارب ڈالر ہیں(وہ بھی ادھار کے) جبکہ انڈیا کے ’’ریزروز‘‘ 634ارب ڈالر ہیں(وہ بھی اپنے) ، توباہمی تنازعہ ہونے کی صورت میں یہ مسئلہ کیسے حل ہوسکتا ہے اور اگر یہ باہمی مسئلہ ہے تو پھرہم اقوامِ متحدہ میں کیا ڈھونڈتے پھرتے ہیں؟

کشمیر کے مسئلے کا کوئی تعلق تحریکِ پاکستان سے ہوتا توکیا اس کا نام الہ آباد کے خطبے میں نہ لیا جاتا؟کیا قراردادِ پاکستان بھی کشمیر کے بغیر ہی پاس نہیں کی گئی؟ کشمیر ’’برٹش انڈیا‘‘کا حصہ نہیں تھا بلکہ اُنPrincely States میں سے ایک تھا جنکی تعداد584تھی اور جن کے متعلق ’’تھرڈ جون پلان‘‘میں یہ لکھاگیا تھا کہ وہ چاہیں تو انڈیا کے ساتھ رہیں یا پاکستان کے ساتھ یا آزاد۔کشمیر کے مہاراجہ نے دونوں(انڈیا اور پاکستان) کو’’ سٹینڈ سٹل‘‘ معاہدے کی پیشکش کر دی یعنی وہ چاہتا تھا کہ کشمیر کی جو حیثیت ’’برٹش انڈیا‘‘میں تھی وہ بٹوارے کے بعد بھی قائم رہے، انڈیا نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا لیکن پاکستان نے کر دیے چناچہ مہاراجہ کی حکومت نے پاکستان کے یومِ آزادی کو سرکاری طور پر منایا، بعض مبصرین کا ماننا ہے کہ مہاراجہ نے کشمیر پر پٹھانوں کے حملے سے ڈر کرانڈیا کے ساتھ الحاق کا کاغذ دستخط کر دیا۔

جذبات کے بجائے عقل سے کام لیا جائے تو یہ سمجھنا بھی مشکل نہیں کہ پاک بھارت دشمنی کی وجہ مسئلہ کشمیر نہیں بلکہ وہ عناد ہے جوسندھ پر محمد بن قاسم کے حملے سے شروع ہوا جب مسئلہ کشمیر کا نام و نشان بھی کہیں موجود نہیں تھا؟مسلمان اور ہندوایک دوسرے سے کس قدر مختلف تھے اس کا اندازہ البیرونی کی’’ کتاب الہند‘‘ سے باآسانی کیا جا سکتا ہے جس کے بقول ایک دوسرے کے برتنوں میں کھانے پینے تک کو حرام سمجھا جاتا ہے۔ یہ تفریق ختم ہونے کے بجائے بڑھتی رہی ورنہ قائدِ اعظم جو متحدہ ہند کے سپورٹر تھے، ان خیالات کے ساتھ پاکستان کا مطالبہ کیوں کرتے کہ جن قوموں کا حال یہ ہو کہ ایک کا ہیرو دوسرے کا ولن اورایک کا ولن دوسرے کا ہیرو ہو وہ ایک ساتھ کیسے رہ سکتی ہیں؟ بالکل اسی بات کی نشاندہی الہ آباد کے خطبے میں بھی کی جا چکی تھی کہ ـ’’(ایک ہزار سال) ایک ہی ملک میں رہنے کے باوجود یکجہتی کی فضا قائم نہ ہو سکی یہاں تک کہ ایک دوسرے کی نیتوں کو شک سے دیکھا جاتا ہے‘‘۔ پھر بٹوارا ہو ا تو دونوں قوموں نے وسیع پیمانے پر ایک دوسرے کا لہو اس بے دردی سے بہایا کہ حال تو حال ،مستقبل بھی خون آلود ہو گیا۔ورثے میںمنتقل ہونے والی اسی دشمنی کے طفیل ہم اچھے پڑوسی بھی نہ بن سکے جبکہ اچھا پڑوسی بننے میں دونوں کی بھلائی تھی۔

مسئلہ کشمیر کا حل ہونا ہر دو ممالک کے مفاد میں ہے لیکن اس کے لئے اپنی اپنی روایتی پوزیشن سے ہٹنا پڑے گا ورنہ آپ خود ہی فرمائیے کہ کیا کوئی کسی بھی قیمت پرکسی کو اپنی ’’شہ رگ‘‘یا ’’اٹوٹ انگ‘‘کاٹنے کی اجازت دے سکتا ہے؟ جب تک انڈیا اس مسئلے کو حل کرنے پر رضامند نہیں ہوتا ہمارا موقف وہی ہونا چاہیے جو عمران خان نے اپنایا کہ یہ ’’سرحدی تنازعہ‘‘ نہیں بلکہ اقوامِ متحدہ سے بلا تخصیص ہر انسان کیلئے منظور شدہ بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کا مسئلہ ہے اور مودی کا نظریہ فاشزم پر مبنی ہے جس کی زد میں مسلمان ہی نہیں بلکہ عیسائی، پارسی اور ہر’’نان ہندو ‘‘ہے۔ رہی بات کشمیریوں کی تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں زیادہ دیر تک غلام نہیں رکھ سکتی کیونکہ وہ آزادی کا چراغ اپنے لہوسے روشن کر رہے ہیں۔