علم کے طوفان سے عمل اور مال کے طوفان سے زہد اختیار کر کے بچا جا سکتا ہے، محمد ضیاء الرحمن

طاؤس العلماء سید الطائفہ ابو القاسم حضرت جنید البغدادی رحمتہ اللہ علیہ

الفاظ تھے کہ بہار میں چٹکتی ہوئی رنگ برنگی کلیوں کی خوشبو جو باغ میں موجود تو درکنار پاس سے گزرتے ہوئے البیلوں کو بھی اپنے سحر میں گم کر دے، معانی میں جامعیت ایسی جیسے کوئی ماہر غوطہ خور سمندر کی گمنام تہوں سے موتی نکال نکال کر ساحل پہ موجود لوگوں میں بانٹ رہا ہو،ہر کوئی عالم بے خودی میں خرقہ پوش کا توحید و معرفت پر درس پرنم آنکھوں سے سن رہا تھا۔اتنے میں ایک عیسائی نوجوان محفل میں وارد ہوا اور اس بوریا نشین سے ایک حدیث شریف”مومن کی فراست سے ڈرو کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے“ کا معنی و مفہوم پوچھا۔درویش نے حالت استغراق میں نظریں جھکائیں اور چند لمحوں بعد نورانی مسکراہٹ سے مزین چہرے پہ دل نشین آنکھیں کھولتے ہوئے فرمایا کہ تمہارا اسلام قبول کرنے کا وقت ہو گیا ہے۔عیسائی نوجوان نے کلمہ شہادت پڑھا اور دائرہ اسلام میں داخل ہو گیا۔بعد ازاں اس واقعے کہ شاہد درویشوں نے اس نوجوان سے سوال و جواب میں موجود ربط کو سمجھنے کے لیے استفسار کیا تو جواب ملا کہ وہ اسلام کی حقانیت کو جانتا تھا لیکن اس کے پیروں میں اپنے آباؤ اجداد کے عقائد باطلہ کی زنجیر تھی لیکن اس عالم با عمل نے اپنی فراست اور کشف باطنہ سے میری ذہنی کشمکش کو جانا،سمجھا اور جواب دیا. مجھے پتہ چل گیا کہ حدیث صحیح ہے اور یہ عالم دین ہیں جن کو دین اسلام کی گہرائیوں کی نہ صرف سمجھ ہے بلکہ یہ اللہ کے نور سے دیکھتے ہیں۔اس خرقہ پوش کا نام حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ تھا۔

حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کے آباؤ اجداد موجودہ ایران کے صوبہ جبال کے شہر نہاوند کے رہائشی تھے جنہوں نے کچھ نا معلوم حالات کی بناء پر بغداد کی طرف ہجرت کی۔آپ کے والد محترم آئینہ سازی و شیشہ گری کا کام کرتے تھے۔آپ کی ولادت بغداد میں ہی ہوئی اور اپنے دادا کے نام پر آپ کا نام جنید رکھا گیا۔آپ کا سلسلہ نسب جنید بن محمد بن جنید ہے۔آپ بچپن سے ہی بہت ذہین تھے۔نو برس کی عمر میں آپ نے قرآن مجید حفظ کر لیا۔حسن بن عرفہ سے درس حدیث لیا اور سند حاصل کی۔سولہ سے بیس سال تک ابو عبید اور ابو ثور سے فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ حارث محاسبی،محمد بن علی قصاب اور ابو جعفر الکبیر روحانیت کی تعلیم میں آپ کے استاد ہوئے۔ابن الکرنبی سے فقر و قناعت،زہد و تقوی،تواضع انکساری اور سادگی و صاف گوئی کا درس لیا۔ابو بکر القنظری سے کم گوئی، گوشہ نشینی اور طہارت جیسے مسائل سمجھے۔ابو حفص الحداد سے مجاہدات و ریاضیات بارے پیچیدہ نکات کو سمجھا۔لیکن آپ کی تعلیم و تربیت کا سہرا آپ کے روحانی مرشد اور سگے ماموں حضرت سری سقطی رحمتہ اللہ علیہ کے سر ہی ہے جنہوں نے 5 سال کی عمر میں آپ کو اپنے پاس تربیت کے لیے رکھا اور زندگی بھر پھر جدا نہ ہوئے۔

اپنے وقت کے تقریبا تمام علماء،حکماء اور اور صوفیاء سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے آپ میں ایسی جامعیت پیدا ہو گئی جو آپ کا ہی خاصہ ٹھہری۔حضرت سری سقطی رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کو درس و تدریس شروع کرنے کا حکم دیا لیکن آپ ان کی موجودگی میں مسند ارشاد پر بیٹھنے سے ہچکچاتے رہے۔ایک دن خواب میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت سے با مشرف ہوئے اور وعظ گوئی کا حکم ہوا۔آپ صبح سویرے ماموں جان کے پاس سارے واقعہ کو گوش گزار کرنے کے لیے حاضر ہوئے انہوں نے دیکھتے ہی فرمایا کہ اب بھی کوئی عذر باقی ہے؟ آپ نے فجر کے بعد مسجد شونیزیہ میں وعظ گوئی شروع کی اور توحید و معرفت پر ایسے پیچیدہ نکات بیان کیے کہ لوگ مسجد کے صحن میں تڑپنے لگے۔کچھ عرصے بعد آپ نے یہ سلسلہ ترک کر دیا کہ میں خود کو ہلاکت میں نہیں ڈال سکتالیکن جلد ہی دوبارہ مسند ارشاد پر بیٹھ گئے۔لوگوں نے جب دوبارہ درس شروع کرنے کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ میں نے حدیث شریف میں پڑھا کہ مخلوق میں سے بد ترین فرد کفیل بن کر وعظ کے ذریعے لوگوں کو ہدایت کا راستہ دکھائے گا۔میں نے خود کو بدترین تصور کیا اور دوبارہ وعظ گوئی شروع کر دی۔

قرآن فہمی اور نفقہ فی القرآن سے آپ کو طبعی انسیت تھی۔ایک دن آپ حضرت سری سقطی کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ ایک شخص صحن میں بے ہوش پڑا ہے۔جب آپ نے اس کی بے ہوشی کا سبب پوچھا تو مرشد نے فرمایا کی قرآن مجید کی تلاوت کر رہا تھا کہ ایک آیت سن کر اس پر وجد طاری ہوا اور ہوش جاتا رہا۔آپ نے فرمایا کہ جس آیت پہ بے ہوش ہوا دوبارہ اسی آیت کو تلاوت کریں گے تو یہ ٹھیک ہو جائے گا۔اس آیت کا دوبارہ پڑھنا تھا کہ وہ ہوش میں آ گیا۔ حضرت سری سقطی نے جب دوبارہ وہی آیت پڑھنے اور اس کے اثر کی پوشیدہ حکمت بارے پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کا جو جبہ مبارک حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی کھونے کا سبب بنا اسی سے ان کی بینائی واپس آئی۔مرشد نے فخریہ نظروں سے اپنے بھانجے کو دیکھا اور دل ہی دل میں ان کو ڈھیروں دعاؤں سے نوازا۔اس جیسے واقعات ہی ہیں کہ جب ایک شخص نے حضرت سری سقطی سے پوچھا کہ کیا مرید کا مقام اپنے مرشد سے بلند ہو سکتا ہے تو آپ نے فرمایا ہاں ممکن ہے۔جنید گو میرا مرید ہے مگر اس کا مقام و مرتبہ مجھ سے بہت بلند ہے۔

حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ نے متعدد حج کیے۔سات سال کی عمر میں آپ نے پہلی دفعہ اپنے ماموں جان کی معیت میں کعبتہ اللہ میں حاضری دی. وہاں فقراء و سالکین بیٹھے”شکر“کے موضوع پر محو گفتگو تھے۔ہر کسی نے اپنی اپنی تعریف کی لیکن کسی ایک پر متفق نہ ہوئے۔آپ کے ماموں جان نے آپ سے بھی رائے پوچھی تو آپ نے فرمایا کہ اللہ کی نعمتوں کو پا کر اس کی نافرمانی نہ کرنا شکر ہے۔سبھی نے اس کو سب سے بہتر جانا اور قابل ستائش نظروں سے آپ کو دیکھا۔میدان علم کے ساتھ ساتھ آپ میدان عمل میں بھی آپ کم نہ تھے۔آپ شب بیدار،عابد و زاہد، صوم الدہر کے پابند اور وظائف و تسبیحات میں مشغول رہنے والے تھے۔حالت ضعف میں بھی آپ نے کبھی اپنے معمولات کو ترک نہ کیا۔حضرت جعفر خلدی فرماتے ہیں کہ علم وحال آپ میں یوں جمع تھے کہ علم کو دیکھو تو حال کو ترجیح دو اور حال کو دیکھو تو علم کو ترجیح دو۔

مشہور معتزلی عالم ابولقاسم الکعبی آپ کے بارے میں کہا کرتا کہ بغداد میں ایک بزرگ ہے کہ ادیب ان کی ثروت الفاظ،فلسفی دقیق معنی و مطالب،شاعر فصاحت و خوش بیانی اور متکلمین ان کی مسکت و دلائل کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔آپ کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے تصوف کو اسلامی لباس پہنایا اور شریعت کی بنیاد پر تصوف کی عمارت تعمیر کی جس کو علماء اور صوفیاء دونوں نے قبول کیا۔یہی وجہ ہے کہ ابن قیم اور ابن تیمیہ جیسے حضرات جنہیں صوفیاء کے نقادوں میں سے سمجھا جاتا ہے آپ کے طریقہ تصوف کو مستند قرار دیا اور ان کا ذکر بڑے ادب و احترام سے لیا ہے۔ابن تیمیہ آپ کو اہل معرفت میں شمار کرتے۔محی الدین ابن عربی رحمتہ اللہ علیہ آپ کے بارے میں ”ھو سید اہل الطائفہ“ لکھتے ہیں۔ابوالقاسم قشیری رحمتہ اللہ علیہ”رسالہ قشیریہ“میں ”سید ھذہ طائفہ و امامہ“جیسے الفاظ سے آپ کی تعریف کی۔آپ کے علمی مقام،اخلاقی بلندی اور تصوف کے موضوع پر قلمی نسخوں کے باعث آپ کو”طاؤس العلماء،”سید الطائفہ“،”امام الآئمہ“، ”شیخ الشیوخ“،”لسان القوم“، اور”سلطان المحققین“کے القابات و خطابات سے یاد کیا جاتا ہے۔

آپ کی تصانیف کی تعداد بیس کے قریب بتائی جاتی ہے جن میں سے اکثر ناپید ہیں لیکن ان کے حوالہ جات کچھ سابقہ کتب میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔”امثال القرآن“قرآنی تشبیہات اور مثالوں پہ مشتمل تفسیری نوعیت کی کتاب ہے۔”کتاب المناجات“دعاؤں اور مناجات کا مجموعہ ہے۔”عقیدہ فی التصوف“تصوف کے موضوع پر انتہائی جامع تحریر ہے۔ان کے علاوہ”منتخب الاسرار فی صفات الصدیقین والابرار“، ”العمدہ“،”آداب الفقر الی اللہ“اور ”آخر مسئلہ فی التوحید“بھی آپ سے منسلک سمجھی جاتی ہیں۔آپ کے دروس و تحاریر قرآن و حدیث کی روشنی میں توحید و معرفت کے موضوع پر ہوتے۔آپ فرماتے کہ اس وقت تک اللہ کی غلامی نہیں ہو سکتی جب تک سب سے آزادی نہیں ہو جاتی۔آپ فرماتے کہ صادق سے صدق کے بارے پوچھا جائے گا لیکن مخلض سے اخلاص بارے نہیں پوچھا جائے گا کیونکہ یہ اللہ اور اس کے بندے کے درمیان ایک راز ہے۔آپ فرماتے کہ دو بڑے طوفان ہیں علم اور مال کا طوفان۔علم کے طوفان سے عمل کر کے اور مال کے طوفان سے زہد اختیار کر کے ہی بچا جا سکتا ہے۔

دار فنا میں تقریبا نوے برس قیام کے بعد آپ 27 رجب کو دار بقا کی طرف پرواز کر گئے۔آخری ایام کی شدید بیماری اور ضعف بھی آپ کے روز مرہ کے معمولات کو تبدیل کرنے سے قاصر رہے۔مرض الموت میں چہرے پر ورم کے باوجود آپ تکیہ رکھے نماز پڑھ رہے تھے۔کسی نے پوچھا کہ ایسی حالت میں نماز چھوڑ دینا کیسا ہے؟ فرمایا نماز سے ہی خدا تک پہنچا ہوں،اس کو کیسے چھوڑ سکتا ہوں۔نماز سے فارغ ہو کر آپ نے تلاوت قرآن پاک شروع کر دی تو پھر کسی مرید نے از راہ محبت و ہمدردی تھوڑی دیر آرام کرنے کی تلقین کی۔آپ نے فرمایا کہ اس وقت مجھ سے بڑھ کر کس کو قرآن کی ضرورت ہو سکتی ہے کہ تھوڑی دیر میں ہی میرا صحیفہ بند کر دیا جائے گا۔اس کے چند گھنٹے بعد آپ کی وفات ہو گئی۔سنت نبوی کی پیروی میں آپ نے شادی بھی کی۔آپ کے بڑے بیٹے کا نام قاسم تھے اس لیے ابوالقاسم کہلائے۔قبل از وفات آپ نے اپنے بیٹے کی بجائے ابو احمد بن الحسین الجریری کو خلیفہ مجاز نامزد کر کے تصوف میں موروثیت کی نفی کی۔ابو احمد کے علاوہ ابو بکر شبلی اور جعفر الخلدی آپ کے مشہور خلفاء میں سے ہیں۔آپ کی تصانیف،اقوال اور خلفاء کے توسط سے آپ کے فیض کا سلسلہ آج بھی جاری ہے اور جاری و ساری رہے گا۔
تحریر: محمدضیاء الرحمن (خرقہ پوش)