میرے رہبر میرے استاد الوداع، افتخار راجپوت

میرے رہبر، میرے استاد الوداع
ریاست جموں و کشمیر اقصائے تبت ہا کی دھرتی جموں و کشمیر کی بانجھ مفاد پرست جہالت سے پر دھرتی پر شمع علم عہد حاضر میں ایک دلیل ایک تاریخ راست بازی و حق گوئی کی آخری علامت آزادی وطن کے عظیم داعی، انصاف کے لیے ممتاز چیف جسٹس ریٹائرڈ مظفرآباد ہائی کورٹ صدر جموں و کشمیر لبریشن لیگ عبدالمجید ملک آج اپنی دھرتی کو غلام چھوڑ کر اپنے رب کے بلاوے پر ہمیشہ کے لیے اس دارفانی سے داربقا کی طرف کوچ کر گئے۔ إنّا لله وإنّا إليهِ رَاجعُون۔

بے شک ہم سب نے اس رب کی طرف لوٹنا ہے چونکہ یہ زیست یہ سانس رب کی امانت ہے لیکن کچھ لوگ اتنے عظیم ہوتے ہیں کے وہ سماج، وطن کا اثاثہ ہوتے ہیں ان کی زیست جتنی بھی طویل ہو اتنی کم ہوتی ہے۔ منقسم ریاست جموں و کشمیر اقصائے تبت ہا کی دھرتی پر تو شاید مجید ملک صاحب جیسی شخصیت کا ہونا ہی نعمت خداوندی کم نہ تھا جہاں چار سو جاہلیت کا پہرہ ہے مفاد پرستی کا ڈیرہ ہے دھوکہ بازی ایک وطیرہ ہے۔ جہاں آج دلیل تذلیل ہے علمیت مذاق ہے فلاسفر پر جاہل مسلط ہے علم پر جاہلیت مسلط ہے آزادی پر غلامی مسلط ہے اصول پر بے اصولی مسلط ہے اور اس خطے پر لوٹ کھسوٹ جھوٹ ناانصافی جبر و تاریکی کا پہرہ ہے۔

اگر یہ کہا جائے کہ جناب مجید ملک کا شمار ان چند شخصیتوں میں ہوتا تھا جن کی جرت، حق گوئی، راست بازی، بیباکی پر اس خطے کو ناز تھا اور ناز رہے گا تو درست ہو گا۔ زمانہ سیاست ہو یا زمانہ عدل وہ ہر ایک میں اپنے انصاف، بیباک کردار کی وجہ سے سرخرو ہوئے۔ نیلم سے بھمبر تک قانون کا حوالہ ہو یا تاریخ کی کوئی دلیل کہا جا سکتا ہے کہ وہ اس پر اتھارٹی تھے۔ مادر گیتی کے خطے بلتستان اور گلگت کو ریاست سے دوبارہ جوڑنے کی بات ہو یا ان کی اس ریاست میں نمائندگی وہ ایک دبنگ و دو ٹوک آواز بنے ہائیکورٹ سے فیصلہ دینا ہو یا کسی فورم پر ان کے حق کی آواز اٹھانا وہ اس میں بھی سرخرو ہوئے۔ جموں کی مسلم قیادت ہو یا پھر غیر مسلم وہ اپنے کردار کی وجہ سے ان سب کا اعتماد جیتنے اور نمائندگی کرنے کے بھی اہل قرار پائے۔

اگر یہ کہا جائے کہ بدقسمتی سے جناب ملک مجید ملک کا جنم اس بانجھ سرزمین پر ہوا جہاں اہلیت کا فیصلہ علمیت و کردار پر نہیں بلکہ برداری اور چوری کی صلاحیت کی بنا پر ہوتا ہے تو عین انصاف ہو گا وگرنہ اگر اس پائے کی شخصیت کا جنم کسی مہذب انسانی سماج میں ہوتا پڑھے لکھے خطے میں ہوتا آزادی پسند دھرتی میں ہوتا تو شاید وہ ان کی صلاحیتوں سے زیادہ مستفید ہوتا لیکن یہ غلامی پسند متعصب سماج برادری ازم کہ جھمیلے میں پھنسا رہا اور ان کی جے جے کار کرتا رہا جو اپنی خیانت کی وجہ سے ممتاز ہیں۔

رب کریم سے دعا ہے کہ وہ میرے رہبر میرے استاد اس دھرتی پر صداقت کی آخری علامت، تاریخ کے آخری حوالے، علم کی آخری شمع، دلیل کی آخری پہچان، انصاف کی آخری کرن، آزادی وطن کی اخری موثر آواز جناب عبدالمجید ملک صاحب کو اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائیں اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے صدقے ان کی تمام انسانی لغزشوں کو معاف فرما کر جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائیں۔ رب کریم سے یہ بھی دعا ہے کہ وہ مجید ملک صاحب کے اہل خاندان ان کے تمام چاہنے والوں کو صبر عطا فرمائیں۔ آمین۔

تحریر: افتخار راجپوت