بجٹ میں تمباکو پہ ٹیکس ناگزیر

پاکستان کو تمباکو نوشی سے پاک کرنے کے لیے ضروری ہے کہ عالمی ادارہ صحت کی تجاویز کے مطابق تمباکو کی تمام مصنوعات پہ 30فیصد ٹیکس عائد کیا جائے۔
ان خیالات کا اظہار کرومیٹک ٹرسٹ کے سی ای او شارق خان نے اپنے ایک بیان میں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کے سروے کے مطابق پاکستان میں چھ سے پندرہ سال کی عمر کے تقریبا بارہ سو بچے روزانہ سگریٹ نوشی کی جانب راغب ہو رہے ہیں جبکہ دوسری جانب نیوزی لینڈ جیسے ترقی یافتہ ممالک اپنی آنیوالی نسلوں کو سو فیصد تمباکو نوشی سے پاک کرنے کی راہ پہ گامزن ہیں ۔
شارق خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نوجوان ملکی آبادی کا ساٹھ فیصد ہیں اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کو کم عمری میں ہی تمباکو نوشی سے ہونیوالے نقصانات سے آگاہی دی جائے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے دور کرنے کا سب سے موثر ذریعہ اس کے ٹیکس میں اضافہ ہے اسی وجہ سے ترقی یافتہ ممالک میں بالخصوص اور کئی ترقی پذیر ممالک میں سگریٹ کی قیمتیں پاکستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں ۔ سگریٹ کی قمیتوں میں اضافے سے نہ صرف اس کے استعمال میں کمی آئے گی بلکہ بچوں اور نوجوانوں کی قوت خرید سے بھی باہر ہو جائے گا
کرومیٹک ٹرسٹ کے سی ای او نے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ ستر ہزار افراد تمباکو نوشی کے استعمال کی وجہ سے مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اس لیے دنیا بھر میں قیمتی انسانوں جانوں کے ضیاع کو بچانے کے لیے تمباکو نوشی پہ ٹیکس کو بڑھایا جاتا ہے
انہوں نے اس بات پہ زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ آئندہ مالی سال میں تمباکو پہ ٹیکس کی شرح پہ کم از کم تیس فیصد تک اضافہ کرے۔
پاکستان مین سی ٹی ایف کے ڈائریکٹر ملک عمران نے کہا کہ سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ ، موجودہ قوانین پہ سختی سے عمل در آمد ، کھلے سگریٹ کی فروخت اور دکانوں میں پرکشش انداز سے رکھنے کے طریقہ کار کی حوصلہ شکنی کرنے سے تمباکو نوشی کے رجحان میں یقینی کمی آئے گی ۔