10 اپریل آئینِ پاکستان کی 39ویں سالگرہ پر نئی تاریخ رقم ہوئی

10 اپریل 2022ء کو آئینِ پاکستان کی 39ویں سالگرہ کے دن پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں ایک نئی تاریخ رقم ہوئی جب پہلی بار کسی وزیراعظم کو مروجہ جمہوری طریقے سے عدم اعتماد کی تحریک سے اقتدار سے محروم ہونا پڑا۔ ساتھ ہی یہ ریکارڈ بھی برقرار رہا کہ کوئی وزیراعظم آج تک اپنی آئینی مدت پوری نہیں کرسکا۔
پاکستان میں اب تک 26 شخصیات ، 30 بار وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز رہیں۔ ان میں سے 7 نگران اور 2 عارضی وزیراعظم تھے۔ باقی 17 روایتی وزرائے اعظم ، کبھی اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر سکے اور ان کا انجام ، قتل ، برطرفی ، استعفیٰ ، معزولی ، معطلی ، دستبرداری اور نااہلی رہا ہے۔

ان 75 برسوں میں سے تقریباً 26 برس ایسے بھی گزرے ہیں کہ جب کسی وزیراعظم کی ضرورت نہیں پڑی۔ ان میں

1959ء سے 1971ء تک کے 13 سال
1971ء سے 1973ء کے ڈیڑھ سال
1977ء سے 1985ء تک کے پونے 8 سال
1988ء کے 7 ماہ اور
1999ء سے 2002ء تک کے 3 سال
اس طرح سے اگر 49 برسوں پر 17 وزرائے اعظم کی مدت کا دورانیہ تقسیم کریں تو فی وزیراعظم ، تین سال بھی نہیں بنتے۔

1947ء سے 2022ء تک کے پاکستان کے وزرائے اعظم کی ایک مختصراً روئیداد کچھ اس طرح سے ہے:

نااہل وزیراعظم

10 اپریل 2022ء کو وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک 174 وؤٹوں سے کامیاب ہوئی۔ پاکستان کی تاریخ میں وہ ، پہلے وزیراعظم ہیں جنھیں مروجہ جمہوری اصول و ضوابط کے تحت پارلیمنٹ نے نااہل قرار دیا ہے۔ ان کا دور اقتدار 2018ء سے 2022ء تک یعنی پونے 4 سال تک رہا۔
اس سے قبل 3 اپریل 2022ء کو ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے آئین کی دفعہ 5 کے تحت عدم اعتماد کی تحریک کو اس بنا پر مسترد کردیا کہ یہ ایک بیرونی سازش ہے۔ عمران خان نے صدر کو تجویز دی ہے کہ قومی اسمبلی توڑ کر نئے انتخابات کا اعلان کیا جائے لیکن 7 اپریل 2022ء کو سپریم کورٹ نے اس غیرآئینی کوشش کو معطل کر دیا اور اسمبلی کو بحال کرکے 9 اپریل کو عدم اعتماد کی تحریک کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اس دن سپیکر اور ڈپٹی سپیکر اپنے اپنے عہدوں سے مستعفی ہوئے اور نون لیگ کے ایاز صادق نے قائم مقام سپیکر کے طور پر وؤٹنگ کروائی۔

مقتول وزیراعظم
پاکستان کے پہلے وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کو 1951ء میں ایک بھرے جلسہ عام میں قتل کردیا گیا تھا۔ ان کا 4 سال اور 2 ماہ تک اس عہدے پر فائز رہنا ابھی تک ایک ریکارڈ ہے۔

برطرف وزیراعظم
خواجہ ناظم الدین پاکستان کے پہلے برطرف شدہ وزیراعظم تھے جنھیں گورنرجنرل ملک غلام محمد نے 1953ء میں برطرف کردیا تھا۔ وہ ڈیڑھ سال تک وزیراعظم رہے۔ اس سے قبل 1948ء سے 1951ء تک گورنرجنرل بھی رہے تھے۔
حسین شہید سہروردی ، دوسرے وزیراعظم تھے جنھیں گورنر جنرل سکندرمرزا نے 1957ء میں برطرف کردیا تھا۔ عوامی لیگ سے تعلق رکھنے والے واحد وزیراعظم تھے جو صرف 13 ماہ تک اس عہدے پر فائز رہ سکے۔

محمدخان جونیجو ، کو فوجی آمر جنرل ضیاع مردود نے 1988ء میں برطرف کردیا تھا۔ غیرجماعتی بنیادوں پر ہونے والے انتخابات میں منتخب ہوکر آئے تھے اور آمر مطلق نے خود ہی ان کا انتخاب کیا اور 3 سال 2 ماہ تک برداشت کیے گئے تھے۔

بے نظیر بھٹو ، عالم اسلام کی تاریخ کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں لیکن دونوں بار یعنی 1990ء اور 1996ء میں بالترتیب صدر غلام اسحاق خان اور صدر فاروق لغاری کے ہاتھوں برطرف ہوئی تھیں۔ دونوں ادوار کو ملا کر کل 4 سال 9 ماہ تک برسراقتدار رہیں۔

میاں محمد نواز شریف کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ وہ ، وزیراعظم کے عہدے پر 4 بار فائز ہوئے اور کل ملا کر ساڑھے 9 سال تک حکومت کی۔ 1993ء میں ایک بار برطرف اور دوسری بار دستبردار ہوئے ، تیسری بار 1999ء میں معزول اور چوتھی بار 2017ء میں عدلیہ کے فیصلے سے معطل اور پھر نااہل ہوئے تھے۔

میر ظفراللہ خان جمالی ، بلوچستان سے تعلق رکھنے والے واحد وزیراعظم تھے جنھیں جنرل مشرف کی آمرانہ حکومت میں یہ عہدہ ملا تھا۔ پونے 2 سال تک انھیں یہ موقع دیا گیا تھا اور پھر وہ اپنے عہدے سے دستبردار ہوگئے تھے۔

مستعفی وزیراعظم
محمدعلی بوگرا ، پاکستان کے پہلے وزیراعظم تھے جنھیں 1955ء میں استعفیٰ دینا پڑا۔ اس عہدے پر 2 سال 4 ماہ رہے اور گورنرجنرل ملک غلام محمد سے اختلافات کی وجہ سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔

چوہدری محمدعلی ، دوسرے وزیراعظم تھے جنھیں 1956ء ایک نئی اسمبلی میں ایک مخلوط حکومت بنانے میں دشواریوں کی وجہ سے مستعفی ہونا پڑا۔ ون یونٹ پر بننے والے پاکستان کے پہلے آئین کا پہلا شکار ہوئے اور صرف 13 ماہ تک وزیراعظم رہ سکے۔

آئی آئی چندریگر کا انجام بھی ایسا ہی ہوا تھا جب انھیں بھی عدم سیاسی استحکام کی وجہ سے 1957ء میں مستعفی ہونا پڑا۔ وہ صرف 2 ماہ تک حکومت میں رہ سکے۔

معزول وزیراعظم
ملک فیروز خان نون ، پاکستان کے پہلے وزیراعظم تھے جنھیں 1958ء میں معزول کرکے مارشل لاء لگا دیا گیا تھا۔ وہ 10 ماہ تک اس عہدے پر رہ سکے تھے۔

ذوالفقارعلی بھٹو ، پاکستان کے پہلے منتخب حکمران اور دوسرے وزیراعظم تھے جنھیں 1977ء میں معزول کرکے تیسرا مارشل لاء لگا دیا گیا تھا۔ وزیراعظم کے عہدے پر وہ 3 سال 11 ماہ تک رہے تھے۔ اس سے قبل وہ صدر بھی رہے اور واحد سیاستدان ہیں جنھوں نے مسلسل ساڑھے پانچ سال تک حکومت کی تھی۔

میاں محمد نواز شریف ، 2 بار برطرف ہونے کے بعد تیسری بار معزول ہوئے جب جنرل پرویز مشرف نے پاکستان میں چوتھا مارشل لاء لگا دیا تھا۔ اس دور میں بھی وہ صرف پونے 3 سال تک وزیراعظم رہ سکے۔

معطل وزیراعظم
سیدیوسف رضا گیلانی ، پاکستان کے پہلے وزیراعظم تھے جنھیں ایک عدالتی حکم پر 2012ء میں معطل کیا گیا تھا۔ وہ 4 سال اور 3 ماہ تک وزیراعظم رہے لیکن دو ماہ کی مدت شمار نہیں کی جاتی۔ اگر کی جائے تو مسلسل اس عہدے پر رہنے کے ریکارڈ ہولڈر بنتے ہیں۔

میاں محمد نواز شریف ، چوتھی مرتبہ 2017ء میں عدالتی حکم پر اپنے عہدے سے معطل ہوئے اور بعد میں عدالت نے نااہل بھی قرار دے دیا تھا۔ 1993ء میں عدالتی حکم پر بحال ہونے والے واحد وزیراعظم بھی تھے۔ اپنے آخری دور میں وہ 4 سال اور ایک ماہ تک اس عہدے پر رہے۔

متبادل وزیراعظم
شوکت عزیز ، ایک اور کٹھ پتلی اور امپورٹڈ وزیراعظم تھے جن کے باس جنرل پرویز مشرف تھے۔ 3 سال 3 ماہ تک استعمال ہوئے اور “مدت ملازمت پوری” کرنے اور گارڈ آف آنر کے ساتھ رخصت ہونے والے پہلے وزیراعظم ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

راجہ پرویز اشرف ، پہلے وزیراعظم تھے جنھیں 2012ء میں یوسف رضا گیلانی کی عدالت سے معطلی کے بعد ایک متبادل وزیراعظم کے طور پر باقی 9 ماہ تک وزیراعظم بننے کا موقع ملا تھا۔ وہ پہلے منتخب وزیراعظم ہیں جنھیں گارڈ آف آنر سے رخصت کیا گیا تھا اور پیپلز پارٹی ، پہلی سیاسی جماعت ہے کہ جس نے آصف علی زرداری کی قیادت میں اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری کی تھی۔

شاہد خاقان عباسی کو بھی نون لیگ کی پانچ سال کی مدت پوری کرنے کے لیے نوازشریف کی معطلی کے بعد متبادل وزیراعظم کے طور پر 10 ماہ تک اس عہدے پر دیکھا گیا تھا۔ انھیں بھی گارڈ آف آنر کے ساتھ رخصت کیا گیا تھا۔

نگران وزیراعظم
غلام مصطفیٰ جتوئی ، پہلے نگران وزیراعظم تھے جنھیں بے نظیر بھٹو کی برطرفی کے بعد نگران سیٹ اپ میں یہ عہدہ ملا۔ بددیانتی اور جانبداری کا یہ عالم تھا کہ موصوف نے نگران ہو کر بھی انتخاب لڑا اور مستقل وزیراعظم کے امیدوار بھی تھے۔

بلخ شیر مزاری ، دوسرے نگران وزیراعظم تھے جو 1993ء میں ایک ہی وزیراعظم ، نواز شریف کے دو ادوار کے درمیان صرف 39 دن تک رہے۔ سپریم کورٹ نے برطرف وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی حکومت کو بحال کردیا تھا۔

1993ء میں جب بیک وقت صدر اسحاق اور وزیراعظم نواز شریف کی چھٹی کروائی گئی تو نئے سیٹ اپ میں ایک امپورٹڈ نگران وزیراعظم معین قریشی کا بندوبست کیا گیا تھا۔

1996ء میں جب صدر فاروق لغاری نے بدنام زمانہ 8ویں ترمیم سے لیس ہو کر اپنی ہی پارٹی کی قائد بے نظیربھٹو کو وزیر اعظم کے طور پر برطرف کیا تو پیپلز پارٹی ہی کے ایک سابق رہنما ملک معراج خالد کو نگران وزیراعظم بنایا گیا تھا۔

محمد میاں سومرو ، مشرف کے دور میں شوکت عزیز اور یوسف رضا گیلانی کے مابین نگران وزیراعظم رہے تھے۔ وہ قائم مقام صدر بھی رہے اور ان دونوں عہدوں پر فائز واحد شخصیت تھے۔

میر ہزار خان کھوسو ، نے دو جمہوری حکومتوں کے درمیان نگران وزیراعظم کا کردار نبھایا تھا۔ پاکستان کی تاریخ کا پہلا موقع تھا جب 2013ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنی آئینی مدت پوری کی تھی۔

ناصر الملک کو نون لیگ اور تحریک انصاف کی حکومتوں کے درمیانی عرصہ میں نگران وزیراعظم ہونے کا موقع ملا۔

عارضی وزیراعظم
نورالامین کو فوجی آمر جنرل یحییٰ خان نے نام نہاد “قومی حکومت” میں 7 دسمبر 1971ء کو صرف 13 دن کے لیے وزیراعظم بنایا تھا۔ وہ سابقہ مشرقی پاکستان سے واحد سیٹ جیت کر آئے تھے۔ 20 دسمبر 1971ء کو اپنے نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ ذوالفقار علی بھٹو کے حق میں دستبردار ہوگئے تھے جو خود صدر اور واحد “سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر” بنے تھے اور جنھوں نے انھیں پاکستان کا واحد نائب صدر بھی بنا دیا تھا۔

چوہدری شجاعت حسین کی مقتدر حلقوں کے لیے طویل خدمات کے عوض انعام کے طور پر 2004ء میں عارضی طور پر وزیراعظم بنایا گیا تھا۔ جیسے ہی ڈکٹیٹر مشرف کو اپنی مرضی کا وزیراعظم ، شوکت عزیز ملا ، چوہدری صاحب اس کے حق میں دستبردار ہوگئے تھے۔ اسی لیے موصوف کو “حلالہ وزیراعظم” بھی کہا جاتا ہے۔

نائب وزیراعظم
ذوالفقارعلی بھٹو نے پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ وزارتوں پر کام کیا جن میں صدر ، وزیراعظم اور وزیرخارجہ کے علاوہ پاکستان کے پہلے نائب وزیراعظم بھی تھے۔ یہ پوسٹ ان کے پاس 13 روز تک رہی جب 1971ء میں فوجی آمر یحییٰ خان نے ایک نام نہاد قومی حکومت بنائی تھی۔

چوہدری پرویز الہٰی کو پیپلز پارٹی کی آصف علی زرداری کی حکومت نے 2012ء میں نائب وزیراعظم بنایا تھا۔ وہ ، قاف لیگ کے لیڈر تھے اور پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ بھی رہے۔