واپڈا ، برقیات کےخلاف احتجاج ، ٹائیں ڈھلکوٹ شاہراہ دوسرے روز بھی بند

ٹائیں (نمائندہ خصوصی) محکمہ برقیات اور واپڈاکے خلاف تھلہ بازار میں جاری پہیہ جام ہڑتال دوسرے دن بھی جاری، ٹائیں ڈھلکوٹ شاہراہ پر کوئی گاڑی نہ چل سکی۔یونین کونسل بنگوئیں۔ٹائیں، پاچھیوٹ کے شہریوں کا احتجاجی مظاہرہ روڈ بلاک ہونے کی وجہ سے گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگ گئیں مسافرں کو شدید پریشانی کا سامنا

پولیس انتظامیہ سے عوام کے مذاکرات ناکام ہوگئے۔محکمہ برقیات اور واپڈاکے خلاف تھلہ بازار سے شروع ہونے والا احتجاج کھڈ بازار، مجید گلہ ٹائیں۔جنڈاٹھی، پانیولہ تک پھیل گیا

۔بدترین لوڈ شیڈنگ جاری،گرمی کی شدت سے بچے،بوڑھے، بلبلا اٹھے۔لوگوں کی جھولیاں اٹھا اٹھا کر حکومت اور واپڈا اور محکمہ برقیات کو بدعائیں،بجلی بندش کا دورانیہ 18گھنٹے پہنچ گیا گھریلو و کارروباری صارفین کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا.تھلہ بازار میں احتجاجی مظاہرین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ سے عوام شدید اذیت کا شکار ہیں حبس اور گرمی سے بچے بوڑھے بلبلا اٹھے ہیں۔گھروں میں پانی ختم روز مرہ معمولات زندگی متاثر ہونے لگی شدید گرمی وحبس کی وجہ سے کئی لوگوں کے بیہوش ہونے کی اطلاع عوام کو ذہنی مریض بنا دیا۔بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیا جارہا ہے مگر بجلی فراہم نہیں کی جارہی۔ بجلی کی عدم دستیابی پر جہاں عورتیں بچے اور بوڑھے پریشان ہیں وہاں کاروباری مراکز جیسے ویلڈنگ،جنرل اسٹورز،لانڈری و درزی طبقہ شدید پریشانی کا شکار ہے۔

دن 10سے 12گھنٹے بجلی بند رہتی ہے۔ بازار میں بجلی سے چلنے والا کاروبار تباہ ہو گیا ہے۔ الیکٹرونک کی اشیاء خراب ہو چکی ہیں برقیات سفید ہاتھی بن چکی ہے شا خ تراشی عرصہ نہیں ہوئی تما م ملازمین پورادن ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں۔ واپڈا اور برقیات سفید ہاتھی بن چکے ہیں جنھیں عوام کی تکالیف کا کوئی احساس نہیں

۔انھوں نے محکمہ برقیات اورواپڈا کو متنبہ کیا کہ وہ اپنا قبلہ درست کریں۔ موسم گرما اپنی شدت پر ٹمپریچر 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی اوپر، بجلی کی لوڈ شیڈنگ18گھنٹوں تک پہنچ گئی ہے۔ انتظامیہ کہہ رہی کہ ہم 12 گھنٹے بجلی دے سکتے ہیں،۔ اس کے زیادہ ہمارا بس نہیں،مقررین نے کہاکہ اگر بجلی کا شاٹ فال ہے تو دورانیہ 4 گھنٹے کیا جائے اور وولٹیج کا مسئلہ یکسو کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مطالبات حل ہونے تک ٹائیں ڈھلکوٹ شاہراہ پر پہیہ جام ہڑتال جاری رہے گی۔