پندرویں ترمیم اور نوشتہ دیوار قیوم امام ساقی

گزشتہ چند دنوں سے پونچھ کے در و دیوار پر وہ نوشتہ دیوار پڑھا جا سکتا ہے جو میری نسل کے لوگوں نے اس سے پہلے کبھی نہیں پڑھا یہ درست ہے کہ ہم نے بہت سی تحریکیں دیکھی ہیں مگر پندرویں ترمیم کے خلاف حالیہ تحریک ان سے سب سے مختلف ہے۔ تحریک کا آغاز اُس وقت ہوا جب بجلی کی لوڈشیڈنگ خلاف دہی علاقوں کے عوام سراپا احتجاج ہو گئے پہلے تو یہ احتجاج لوڈ شیڈنگ کے خلاف تھا مگر جلد ہی عوام نے اُن ٹیکسسز کے خلاف بھی احتجاج شروع کر دیا جو بجلی کے بل میں شامل کر دیے گیے تھے۔ ا جلد ہی عوامی حلقوں میں پندرویں آہنی ترمیم پر بحث شروع ہو گئی۔ وزیر اعظم تنویر الیاس نے جلتی پر تیل چھڑکتے ہوئے یہ بیان دے دیا کہ آزادکشمیر میں بھی ایک تہاڑ جیل بنائیں گے۔ معلوم نہیں وزیر اعظم نے تہاڑ جیل کا ذکر کیوں کیا؟ اور اس کی ضرورت کن لوگوں کو سبق سیکھانے کے لیے محسوس کی لیکن اس بیان کی وجہ سے آزادکشمیر کے عوام کی اکثریت مشتعل تھی۔ اسی کے ساتھ ساتھ جب پندرویں ترمیم کے ذریعے آزادکشمیر کے اختیارات کو محدود کرنے اور کشمیر کونسل کو با اختیار بنانے کی تجاویز سامنے آئیں تو عوامی غم و غصے میں مزید اضافہ ہو گیا۔ سب سے پہلے نیشنل عوامی پارٹی میدان میں اتری

نیشنل عوامی پارٹی نے پندرویں آہنی ترمیم کے خلاف احتجاج شروع کر دیا عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی راہنما لیاقت حیات اور اُن کے ساتھیوں کو گرفتار کر دیا گیا ۔ اسی دوران تھوراڑ میں ایک نوجوان کو گرفتار کر کے اُس کو بدترین پولیس تشدد کا نشانہ بنایا گیا بتایا گیا ہے کہ اُس کے جسم پر زخم لگا کر اُن پر نمک اور مرچیں ڈالی گئی۔ اور اُس کو انتہائی سریس حالت میں راولاکوٹ اسپتال میں منتقل کیا گیا۔ اس خبر نے وزیر اعظم تنویر الیاس کے اُس بیان کی حقیقت اور واضح کر دی جس میں وزیر اعظم نے آزادکشمیر میں تہاڑ جیل کی ضرورت محسوس کی تھی۔ لوگ ایک دوسرے سے یہ کہتے ہوئے نظر آنے لگے کہ شاہد وزیر اعظم اسی لیے تہاڑ جیل بنانے کی ضرورت محسوس کر رہے تھے تاکہ اپنے سیاسی مخالفین کو عبرت بنا سکیں۔ عوامی جذبات مشتعل ہو رہے تھے۔ اس دوران نیشنل عوامی پارٹی کے کارکنوں اور راہنمائوں نے راولاکوٹ عدالت سامنے دھرنا دے دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے تقریباََ تما معروف سیاسی جماعتوں تاجر تنظیموں ، ٹرانسپورٹ یونینز نے بھی احتجاج شروع کر دیا۔ شٹر ڈائون ہڑتال اس قدر کامیاب تھی کہ اس ہڑتال کے دوران پورے شہر میں ایک بھی دوکان نہیں کھل سکی۔
اب پانچ اور چھ اگست کو شٹر ڈائون اور پہیہ جام دونوں ہڑتالیں ایک ساتھ ہو رہی ہیں اب یہ احتجاج میر پور کوٹلی باغ اور مظفرآباد تک پھیل چکا ہے۔ لیکن ابھی تک حکومت کی طرف سے پندرویں ترمیم کا ڈرافٹ واپس لینے کا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا گیا یہ احتجاج اس وجہ سے بھی غیر محمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ کیونکہ اس وقت آزادکشمیر میں مہنگائی کی وجہ سے انتہائی اضطراب اور بے چینی محسوس کی جارہی ہے۔ عوام کی قوت خرید بری طرح متاثر ہو کر رہ گئی ہے حکومتوں اور حکمرانوں سے عوام بری طرح معایوس ہو چکے ہیں

۔ ایسے حالات میں پندرویں ترمیم کے ذریعے آزادکشمیر کے سٹیٹس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ عوام کے ذخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ میں نے راولاکوٹ شہر کے اطراف میں دیکھا ہے اب سکول کے بچے آزادکشمیر کا پر چم اٹھا کر کر نعرے لگاتے نظر آتے ہیں کہ پندرویں ترمیم واپس لو۔آزادکشمیر کو مقبوضہ کشمیر مت بنائو ۔ بظاہر یہ تحریک آزادکشمیر کے سٹیٹس کے ساتھ ممکنہ چھیڑ چھاڑ کے خلاف چلائی جا رہی ہے۔ لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ اس تحریک کی وجہ سے عوامی رجحانات اور رویے بھی تبدیل ہو رہے ہیں۔ اگر چہ پاکستان میں اتحاد کی حکومت ہے جب کہ آزادکشمیر میں پی ٹی ٹی آئی کی حکومت ہے۔ اس بات کے امکانات بھی ہیں کہ شاہد دو متضاد اور مختلف حکومتوں کے درمیان سیاسی محاذ آرائی کا سلسلہ بھی موجود ہو۔ جس کی وجہ سے پندرویں ترمیم کا ڈرافٹ واپس لینے میں رکاوٹیں موجود ہوں۔ لیکن درست بات یہ ہے وزیر اعظم تنویر الیاس کی موجودگی میں کچھ بھی ممکن ہے۔ کیونکہ وزیر اعظم اپنی دولت کے بل بوتے پر وزیر اعظم تو بن چکے ہیں۔ مگر حکومت چلانے کے لیے جس تجربے اورسمجھ بوجھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ وزیر اعظم تنویر الیاس کو اُس کی زبردست ضرورت ہے۔ کہیں ایسا نا ہو کہ حالات زیادہ بگڑ جائیں اور وزیر اعظم اپنے ہی لوگوں کے خلاف طاقت استعمال کرنا شروع کر دیں۔ وزیر اعظم کو یہ بات پیشِ نظر رکھنی چائیے کہ پندرویں ترمیم کے خلاف آزادکشمیر کی تمام سیاسی جماعتیں تاجر تنظیمں اور ٹرنسپورٹ تنظیمیں متحد ہیں۔ اور عوام ان کی کسی بھی کال پر دما دم مست قلندر کرتے ہوئے سڑکوں پر آسکتے ہیں۔ ایسی صورت میں وزیراعظم آزادکشمیر پی ٹی آئی کی سپورٹ سے بھی محروم ہو جائیں گے
ایسی صورت میں حکومت پاکستان کو چائیے کہ وہ آزادکشمیر میں پندرویں ترمیم کا مسودہ خود ہی واپس لے اور آزادکشمیر کو تیرویں آہنی ترمیم کے ذریعے چلنے دے۔ اگر پاکستان میں سیاسی اتحاد کی حکومت نے آزادکشمیر میں پندرویں ترمیم کی ضد اور ہٹ دھرمی جاری رکھی تو یاد رکھیں کہ آزادکشمیر جلتا ہوا جولا مکھی ثابت ہو گا۔ پہلے جموں کشمیر کے دریا بہہ کر پاکستان کی طرف جاتے تھے اور اب وہ آگ پاکستان کی طرف بہتی جائے گی۔ جس کو سیاسی اتحاد کی حکومت نے خود سلگایا ہے۔

معلوم نہیں پاکستان کی موجودہ حکومت ریاست جموں کشمیر کے لیے کس طرح سوچتی ہے لیکن گزشتہ روز یعنی پانچ اگست کو ریاستی عوام کے ساتھ یکجہتی اور یومِ استحصال بناتے ہوئے پاکستان کے بڑے شہروں کی عوامی ریلیوں میں کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے لگائے گئے میں گزشتہ تیس سال سے تسلسل کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ قانونی طور پاکستانی عوام کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے نہیں لگا سکتے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق یہ حق صرف ریاست جموں کشمیر کے عوام کو ہے کہ وہ ریاست جموں کشمیر کا مستقبل دوممالک میں سے کسی ایک کے ساتھ وابستہ کرتے ہیں۔ یا آزاد اور خود مختار رہتے ہیں۔ اول تو اب جموں کشمیر کو پاکستان بنانے کا مطلب ہر کشمیری پر وہ تین لاکھ قرضہ لادنا ہے جو قرضہ ممکتِ پاکستان کی طرف واجب الاادا ہے سوال یہ ہے کہ اب کشمیری یہ کیوں چاہیں گے کہ اب اُن کے ہاںبچہ پیدا ہو کشمیر کو پاکستان بنا کر اپنے بچوں کو تین تین لاکھ کا پیداشی مقروض بنا دیا جائے۔ اس لیے پاکستانی عوام کی طرف سے کشمیر کو پاکستان بنانے کے نعرے اقوام متحدہ کی قرادادوں کی خلاف ورزی اور کشمیری عوام کو جبری طور پر غلام بنائے رکھنے کا اظہار ہے۔ بہر حال پاکستان میںسیاسی اتحاد کی حکومت ایسا کچھ کرنے میں مصروف ہے۔ جس کے بعد جموں کشمیر کے عوام کے مقدر کا فیصلہ وقت اور حالات کریں گے ایسا محسوس ہوتا ہے اب پندرویں ترمیم کے ساتھ ریاستی تاریخ بھی بدلنے والی ہے۔ زیادہ اچھا ہوگا کہ پاکستان میں حکمران پندرویں ترمیم کے وہ نوشتہِ دیوار بھی پڑھ لیں جو اس ترمیم کی صورت میں رونما ہو سکتی ہے