مچھروں نے کاٹنے کے لیے آپ کا ہی انتخاب کیوں کیا؟

مون سون کا موسم صرف بارشیں ہی نہیں بلکہ مچھر اور اس سے منسلک بیماریاں بھی اپنے ساتھ لاتا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق صرف مادہ مچھر ہی چند مخصوص افراد کا خون چوستی ہے تاکہ خون سے حاصل ہونے والے پروٹین سے شرح افزائش کو بہتر کرسکے۔

ان مخصوص افراد کا انتخاب مادہ مچھر اپنی سونگھنے، دیکھنے اور محسوس کرنے کی قوت کے استعمال سے کرتی ہے ۔

آئیےجانیے کہ مچھر نے آپ کا ہی انتخاب کیوں کیا، ممکن ہے کہ آپ ان وجوہات کو جان کر مچھروں کے کاٹنے سے بچ سکیں۔

مچھر کا کاٹنا بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے، ایک اندازے کے مطابق ہر سال 30 لاکھ افراد صرف مچھروں کے کاٹنے سے مرجاتے ہیں۔

درج ذیل چند عناصر کی بنا پر مچھر اپنے شکار کا انتخاب کرتے ہیں۔

جسمانی حرارت

مچھر موسم گرما میں زیادہ متحرک نظر آتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں گرمی پسند ہے۔ اسی طرح جب انسانی جسم سے پسینہ خارج ہوتا ہے تو یہ مچھروں کو اپنی جانب مائل کرتا ہے۔

پسینے میں شامل یورک ایسڈ، ایمونیا اور lactic ایسڈ جیسے مرکبات ایک مخصوص بو پیدا کرتے ہیں جو مچھروں کو آپ کی جانب متوجہ کرتی ہے۔

سائنسدان مسلسل جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آخر مخصوص جسمانی بو مچھروں کے لیے زیادہ پرکشش کیوں ہوتی ہے اور اب تک یہ معلوم ہوچکا ہے کہ جینز، جِلد پر موجود بیکٹیریا اور ورزش وغیرہ اس حوالے سے اہم کردار ادا کرنے والے عناصر ہیں۔

اس لیے جب بھی آپ کو ضرورت سے زیادہ پسینہ آئے یا گرمی محسوس کریں تو نہالیا کریں۔ اس طرح مچھروں کے حملے سے خود کو محفوظ رکھ سکیں گے۔

خون کی قسم

ایک عام خیال یہ بھی ہے کہ مچھر خون کے مخصوص گروپس کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔ بلڈ گروپ کا تعین جینز سے ہوتا ہے اور ہر گروپ کے لیے مخصوص پروٹینز کی ضرورت ہوتی ہے۔

A، B، AB اورO چار بڑے بلڈ گروپس ہیں۔ ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق O بلڈ گروپ کے افراد پر مچھر سب سے زیادہ حملہ کرتے ہیں اور اس کے بعد بلڈ گروپ A کے حامل افراد کو اپنا شکار بناتے ہیں۔ جبکہ گروپ B کے افراد کو سب سے کم نشانہ بناتے ہیں تاہم ابھی تک بلڈ گروپ AB کے حامل افراد کے بارے میں واضح نہیں ہے۔

جلد پر موجود بیکٹیریا

انسانی جلد پر موجود بیکٹیریاز بھی مچھروں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ہمارے جسم کے مختلف اعضاء پر بیکٹیریاز کی مختلف تعداد ہوتی ہے۔ مچھر ان افراد پر زیادہ حملہ کرتے ہیں جن کے چہرے کے نسبت جسم کے دیگر اعضاء پر بیکٹیریاز کی مقدار زیادہ ہو۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اکثر افراد پیروں پر مچھروں کے کاٹنے کی شکایت کرتے ہیں کیوں کہ ہمارے پیروں پر سب سے زیادہ بیکٹیریاز موجود ہوتے ہیں۔

گہرے رنگوں کا انتخاب

مچھر اپنے شکار کے انتخاب کے دوران زیادہ تر اپنی بینائی استعمال کرتے ہیں۔ گہرے رنگ جیسے سیاہ، نیوی بلیو اور سرخ ان کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔ وہ ایسے افراد کو اپنا شکار بناتے ہیں جنہوں نے گہرے رنگ کا انتخاب کیا ہو۔ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ سیاہ رنگ مچھروں کا پسندیدہ ہے۔

اگر آپ گرمیوں میں گہرے رنگ سے اجتناب برتیں اور ہلکے رنگوں کا انتخاب کریں تو آپ مچھروں سے محفوظ رہیں گے۔

کاربن ڈائی آکسائیڈ

بینائی کے ساتھ ساتھ مچھر سونگھنے کی حس کو بھی شکار ڈھونڈنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ انسانوں کے جسم سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس ان کی توجہ حاصل کرتی ہے۔

یہ گیس سانس لینے کے عمل کے دوران خارج ہوتی ہے۔ ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ مچھر اس گیس کو 164 فٹ دوری سے بھی سونگھ لیتے ہیں۔

جو افراد زیادہ مقدار میں اس گیس کو خارج کرتے ہیں یعنی زیادہ جسمانی وزن والے یا مشقت کے دوران زیادہ گہری سانسیں لینے والےافراد مچھروں کے لیے زیادہ پرکشش ہوجاتے ہیں۔

مچھروں کو دور بھگانے والے 7 گھریلو نسخے

کیا آپ کو معلوم ہے کہ مچھر دنیا کا سب سے خطرناک جاندار ہے ؟ اور یہ دعویٰ عالمی ادارہ صحت کا ہے۔

جس کی وجہ یہ ہے کہ مچھر کی بدولت ملیریا، ڈینگی اور اب مختلف ممالک میں زیکا وائرس جیسے امراض پھیل رہے ہیں جن کے نتیجے میں ہر سال 10 لاکھ سے زائد اموات ہوتی ہیں۔

اب مچھر آپ کی جانب کیوں لپکتے ہیں اس کی وجوہات جاننا چاہتے ہیں تو اس لنک پر دیکھیں۔

مزید پڑھیں : مچھروں کو آپ کی جانب کھینچنے والے 6 عناصر

تحریر جاری ہے‎

یہاں ہم ایسے گھریلو نسخے بتارہے ہیں جو مچھروں کو آپ سے دور رہنے پر مجبور کرتے ہیں۔

مالٹے کے چھلکے
مالٹوں کی ترش مہک مچھروں بلکہ چیونٹیوں اور مکھیوں کو دور بھگاتی ہے، کیڑوں کو ترش مہک پسند نہیں ہوتی۔ اس نسخے کو آزمانے کے لیے مالٹے کے چھلکوں کو پیس لیں اور مچھروں سمیت کیڑوں سے متاثرہ جگہ پر چھڑک دیں۔ اگر مچھر کاٹ لے تو تازہ مالٹے کے چھلکے جلد پر رگڑنے سے جلن ختم اور نشان مدھم ہوجاتا ہے۔

کافور
کافور ایک عام ملنے والی چیز ہے اور مچھروں سے نجات کا ایک اچھا گھریلو ٹوٹکا بھی ثابت ہوتا ہے۔ کمرے کے تمام دروازے اور کھڑکیاں بند کریں اور کافور کو جلا کر آدھے گھنٹے کے لیے چھوڑ دیں۔ جب آپ کچھ وقت بعد کمرے میں آئیں گے تو ایک مچھر بھی وہاں نہیں ملے گا۔

لہسن
سائنسدان پریقین تو نہیں ایسا کیوں ہوتا ہے مگر ایسا نظر آتا ہے کہ مچھروں کو لہسن پسند نہیں۔ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ لہسن کے پیسٹ کو اپنے ہاتھوں اور پیروں پر مل لیتے ہیں انہیں مچھروں کا ڈر نہیں رہتا۔ اس کے لیے آپ لہسن کے تیل، پیٹرولیم جیل اور موم کو ملا کر ایک سلوشن بنالیں جو مچھروں سے تحفظ دینے والا قدرتی نسخہ ثابت ہوگا۔

ڈش واشنگ سوپ
چند قطرے ڈش سوپ کو ساسر میں ڈال کر چھوڑ دیں، جو مچھروں کو اپنی جانب کھینچ کر پھنسالیں گے اور آپ سے دور رکھیں گے۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ سوپ مچھروں کو قدرتی طریقے سے ختم بھی کردیتا ہے۔

نیم کا تیل
نیم کے تیل کو ناریل کے خالص تیل میں یکساں مقدار میں ملائیں اور اپنے جسم کے کھلے حصوں پر لگادیں۔ اس مکسچر کی تیز بو مچھروں کو کم از کم 8 گھنٹوں تک دور رکھنے پر مجبور کردے گی۔

پودینہ
کاٹنے والے کیڑوں کو پودینے کی مہک پسند نہیں ہوتی، تو آپ پودینے کے پتوں کو پیس کر اپنی جلد پر مل لیں تو مچھروں کو دور رکھ سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر مچھر کاٹ لیں تو ان پتوں کے استعمال سے خارش پر بھی قابو پایا جاسکتا ہے۔

تلسی
یہ جڑی بوٹی متعدد مقاصد کے لیے استمعال کی جاسکتی ہے جس میں سے ایک مچھروں کو دور بھگانا بھی ہے۔ مچھروں کی اس کی مہک پسند نہیں تو اس کے تازہ پتوں کو جلد پر رگڑیں یا اس کا تیل استعمال کریں۔