سیلاب ڈوبتے عوام اور ناچتے حکمران….. سائرہ اسلم

ایک بار پھر سیلاب نے آدھا پاکستان ڈبو دیا تین کروڑ لوگ بے گھر بے آسرا بے بسی کی تصویر بنے عارضی کیمپوں اور پناہ گاہوں میں بھوک بیماریوں اور وباؤں سے لڑ رہے ہیں یہ بے بس انسان ہمارے اس نظام کےلیے سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں جو صرف وڈیروں جاگیرداروں اور سرداروں کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے اس خود ساختہ قدرتی آفت میں پے درپے ہو نے والے واقعات نے ثابت کیا ہے کہ ہم اپنے زوال کا راستہ کس تیزی سے طے کر رہے ہیں ہمارے ادارے کس پستی کا شکار ہیں اس سے زیادہ پستی اور ذلت کی بات کیا ہو گی کہ جب آدھا پاکستان سیلاب میں ڈوبا ہو اتھاکیچڑ میں لت پت لاوارث لاشیں اپنی بے بسی پر نوحہ کناں تھی ڈوبتے ہو ئے لوگ مدد کےلئے چیخ وپکار اور آہ وفغاں کررہے تھے بھوک سے بچے بلک بلک کر مررہے تھے تب ہمارا میڈیا ایک بدزبان شہباز گل کی گرفتاری کو پاکستان کا سب سے اہم مسئلہ بتا رہا تھا تب وزیراعظم اور آرمی چیف قوم کی بیٹیوں کو نچاکر جشنِ آزادی منا رہے تھے صدر مملکت ایوانِ صدر میں اپنی شادی کی پچاسویں سالگرہ منا رہے تھے اور قوم کا نام نہاد نجات دہندہ اور اقتدار کے لیے پاگل ہو نے والا عمران خان سیاسی جلسوں میں زہر اگلنے میں مصروف تھا کتنی شرم کی بات ہے ہمارے میڈیا کےلیے کہ انٹرنیشنل میڈیا کے مشہور چینل سیلاب زدہ علاقوں میں کوریج کررہے تھے اور سیلاب زدگان کی پکار دنیا کو سنا رہے تھے لیکن ہمارا میڈیا اس انسانی المیے سے بے خبر تھا دنیا بھر میں اصول ہے کہ قدرتی آفت میں سب سے پہلے فوراً ہنگامی بنیادوں پر ریسکیو آپریشن شروع کیا جاتا ہے تاکہ انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جاسکے کیا اس سوال کا جواب ادارے اور حکمران دیں گے کہ کیوں ریسکیو آپریشن بروقت شروع نہیں کیا گیا اور کروڑوں لوگوں کو سیلاب کی بے رحم موجوں کے حوالے کر دیا گیا ہماری فوج جو اقوام متحدہ کے امن مشن میں فوج کو دنیا کے خطرناک ترین جگہوں میں بھیج کر مغربی آقاؤں کو خوش کرتی ہے غیر ملکی کوہ پیماؤں کو بچانے کے لیے خطرناک ترین آپریشن کرتی ہے اور دہشتگردی کی نام نہاد جنگ میں کو د پڑتی ہے اسے اپنے ہی ملک کے چاروں طرف پانی میں گھرے ہوئے انسان نظر کیوں نہیں آئے کیوں ان کی پکار نہیں سنی گئی انہیں نہیں بچایا گیا بے حسی کی انتہا دیکھیئے کہ کے پی کے میں پھنسے پانچ بھائیوں کے لیے رہنما جماعت اسلامی چھ گھنٹوں تک ہر ادارے سے مدد کی ایپل کرتے رہے لیکن کہیں سے شنوائی نہ ہو ئی ایسے ہزاروں واقعات ہو ئے جن میں مدد کے منتظر لوگ گھنٹوں انتظار کے بعد بے رحم موجوں کی نظر ہو ئے حکومتی اعدادوشمار کے مطابق ایک ہزار لوگ لقمہ اجل بنے جب کہ اصل تعداد کہیں زیادہ ہے اس سیلاب کو قدرتی آفت کہنا اس عقل وشعور کی توہین ہے جو اللہ نے انسان کو عطا کیا ہے وہ شعور جس کی وجہ سے انسان نے اس کائنات کو اپنے لیئے مسخر کیا ہے لیکن افسوس ہمارے حکمران اس عقل وشعور سے محروم ہیں سیلاب سے پہلے یہیں علاقے خشک سالی کا شکار تھے خشک سالی سے ہزاروں جانور مرگئے اور فصلیں تباہ ہو گئی تھی لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے تھے پھر ڈیم نہ ہو نے کی وجہ سے یہیں پانی ان کے لیے بدترین تباہی لایا پانی جوعطیہ خداوندی ہے انسان کی بقا کا ذریعہ ہے لیکن ہم نعمتوں کی ناقدری کرنے والی قوم ہیں ڈیم نہ ہو نے اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے خشک سالی اور سیلاب جیسی بہت بڑی تباہیاں ہماری منتظر ہیں کیا قدرت نے ہمارے حکمرانوں کو ڈیم بنانے سے منع کیا ہے جو یہ قدرتی آفت ہے ان حکمرانوں کا بنی گالہ جاتی امراء اور سوئٹزرلینڈ کے محل اور یورپ میں جزیرے خریدنے پر اتفاق ہو سکتا ہے لیکن ستر سالوں سے ڈیم بنانے پر اتفاق نہیں ھو سکا پھر یہ کیسی قدرتی آفت ہے جس میں جاگیر دار اور وڈیرے اپنی غیر آباد زمینیں بچانے کے لیے پانی غریبوں کی بستیوں کی طرف موڑ دیتے ہیں جس میں صرف غریبوں کی بستیاں ملیامیٹ ہو تی ہیں صرف غریب مرتے اور غریب بے گھر ھو تے ہیں محکمۂ موسمیات کی بار بار پینشگوئیوں کے باوجود خفاظتی انتظام نہ کرنا بھی شاید قدرت کا حکم ہے شاید اس قوم کے ناخدا اب قوم کو بتائیں گے کہ مہنگائی بھی قدرتی آفت ہے بھوک سے خوکشیاں بھی اللہ کے حکم سے ھو رہی ہیں معصوم کلیوں کو نوچ کر کوڑا دآنوں میں پھیکنے کی بھی کو ئی حکمت ہے جو مجرموں کو پھانسی نہیں دی جاسکتی اور تم ظلم اور ناانصافی سہنے کےلیے پیدا کیے گئے ہو یہی تمہاری تقدیر ہے لیکن اے میری قوم کے مظلوم انسانوں سنو اللہ تعالی نے تمہیں ان چند انسانوں کا غلام نہیں بنایا جو ستر سالوں سے چہرے بدل بدل کر تمہیں فریب دے رہے ہیں تم آزاد پیدا کیے گئے ھو لیکن یاد رکھو اللہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جوآپ اپنی حالت نہیں بدلتے جو ظلم کے خلاف نہیں کر تے حق بات پر یکجا نہیں ہو تے تم یزید وقت کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہو اور عمر ؓجیسا حکمران چاہتے ہو تم کانٹے بوتے ہو اور پھولوں کی تمنا رکھتے ہو اس وقت حالت یہ ہے کہ تم سے زندہ رہنے کے سارے اسباب ایک ایک کر کے چھینے جارہے ہیں تمہارے کھیت ویران ھو رہے ہیں تمہاری فیکٹریوں کا ایندھن بند ہو رہا ہے ٹرانس جینڈر جیسے ایکٹ پاس کروا کر اللہ کے غضب کو دعوت دی جاری ہے اب اس بوسیدہ نظام میں تمہارے لیے کو ئی کونہ کھدرا باقی نہیں رہا جہاں تم پناہ لے سکو اس بوسیدہ ظالمانہ نظام کو جڑوں سمیت اکھاڑ پھینکو اس سے پہلے کہ یہ نظام تمہیں نگل جائے یہ ظالم تب تک ظلم سے باز نہیں آئیں گے جب تک تمہارے ہاتھ ان کے گریبانوں تک نہیں پہچتے تاریخ میں سیلابوں میں مرنے والوں خودکشیاں کرنے والوں اور قتل ہو نے والوں کی کو ئی جگہ نہیں ہو تی انہیں کو ئی یاد نہیں رکھتا لیکن حق وانصاف کے لیے لڑنے والے تاریخ میں امر ہو جاتے ہیں اور آنے والی نسلوں کےلیے ایک باوقار مستقبل چھوڑ جاتے ہیں اللہ تعالی اس قوم میں حق وصداقت کےلیے لڑنے کی تڑپ پیدا کریں اور اسلامی مساوات کا وہ عظیم نظام قائم کرنے کی ہمت دیں جس نے نوعِ انسانی کو ہرطرح کی غلامی سے نجات دلائی تھی آمین