ٹرانس جینڈر ایکٹ پر دوبارہ شور کیوں؟ محمد زبیر خان

پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت نے جماعت اسلامی کی جانب سے ٹرانس جینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹس) ایکٹ 2018 کے خلاف دائر کردہ درخواست میں پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر، ٹرانس جینڈر حقوق کی کارکن الماس بوبی اور جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان کے فریق بننے کی درخواست قبول کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی ہے۔

چار سال قبل منظور ہونے والا ٹرانس جینڈر ایکٹ ایک بار پھر بحث کا موضوع بنا جب مذہبی جماعتوں جمیعت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے اس میں ترامیم تجویز کیں جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس کے خلاف ٹرینڈ چلائے گئے۔

جماعت اسلامی کی جانب سے اس قانون کے خلاف درخواست عمران شفیق ایڈووکیٹ نے دائر کی ہے۔ عمران شفیق ایڈووکیٹ کے مطابق انھوں نے یہ درخواست آئین پاکستان کے تحت دائر کی، جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں شریعت سے متصادم کوئی بھی قانون متعارف نہیں کروایا جا سکتا۔

جماعت اسلامی نے ٹرانس جینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹس) ایکٹ 2018 کی کن شقوں کو چیلنج کیا اور دوسری جانب اس بل کو پاکستان کی پارلیمنٹ سے منظور کروانے والے اس بارے میں کیا کہتے ہیں، اس پر آگے چل کر نظر ڈالتے ہیں لیکن پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ یہ ایکٹ کیا کہتا ہے۔

ٹرانس جینڈر پروٹیکشن ایکٹ 2018 کیا ہے؟

ٹرانس جینڈر پروٹیکشن ایکٹ میں خواجہ سراؤں کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ خود اپنی جنس کی شناخت کر سکتے ہیں اور اسے تبدیل کروا سکتے ہیں۔

نادرا سمیت تمام سرکاری ادارے اس بات کے پابند ہیں کہ خواجہ سرا اپنی جس شناخت کو چاہیں وہ ہی ان کے شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس اور پاسپورٹ وغیرہ پر درج کی جائے گی۔

ایکٹ میں بحیثیت پاکستانی شہری ان کے تمام حقوق تسلیم کیے گئے ہیں۔ انھیں ملازمتوں، تعلیم حاصل کرنے اور صحت کی سہولتوں تک فراہمی کو قانونی حیثیت دی گئی جبکہ وراثت میں ان کا قانونی حق بھی تسلیم کیا گیا ہے۔

خواجہ سراؤں کو کوئی سہولت دینے سے انکار اور امتیازی سلوک پر مختلف سزائیں بھی تجویز کی گئی ہیں۔

اس ایکٹ میں خواجہ سرا کی تعریف بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ تین طرح کے ہو سکتے ہیں: پہلے نمبر پر انٹر سیکس خواجہ سرا ہیں، جن کی تعریف کچھ یوں کی گئی ہے کہ ان میں مردوں اور خواتین دونوں کی جینیاتی خصوصیات شامل ہوں یا جن میں پیدائشی ابہام ہو۔

دوسرے نمبر پر ایسے افراد ہیں، جو پیدائشی طور پر مرد پیدا ہوتے ہیں مگر بعد میں اپنی جنس کی تبدیلی کے عمل سے گزرتے ہیں۔ تیسرے نمبر پر ایسے لوگ ہیں، جو پیدائش کے وقت کی اپنی جنس سے خود کو مختلف یا متضاد سمجھتے ہوں۔

قمر نسیم خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے کام کرتے ہیں اور مذکورہ قانون کے حوالے سے مہم چلانے والوں میں بھی شامل ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’انٹر سیکس سے مراد پیدائشی مخنث افراد ہیں۔ دوسرے نمبر پر ان مردوں کی تشریح کی گئی ہے جو اپنے جنسی اعضا کی طبی طریقے سے ترمیم کرواتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ تیسرے نمبر پر ایسے افراد ہیں جو اپنی پیدائش کی جنس یا صنف سے متضاد ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ’جیسے پیدائشی لڑکا دعویٰ کرے کہ وہ لڑکی ہے یا پیدائشی لڑکی دعویٰ کرے کہ وہ لڑکا ہے۔‘

جماعت اسلامی کی طرف سے وفاقی شرعی عدالت میں درخواست دائر کرنے والے وکیل عمران شفیق ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ ’ہم نے سنہ 2018 میں متعارف کروائے گئے اس ایکٹ کو آئین پاکستان کی روح سے چیلنج کیا ہے۔۔۔ ہم نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انسان کو تخلیق کرنے کا حق صرف اللہ کے پاس ہے۔‘

’اللہ نے عورت اور مرد کو تخلیق کیا۔ قدرت کی تخلیق میں بڑی حکمت ہے۔ ایک عورت کو اپنی مرضی سے مرد اور ایک مرد کو عورت بننے کا کوئی اختیار نہیں۔ ایسا کرنا خلاف شرع اور بہت ہی برائیوں کا باعث بن رہا ہے۔‘

عمران شفیق ایڈووکیٹ کے مطابق اس میں ایک انٹر سیکس مخنث بھی ہو سکتے ہیں۔ ’کسی مرد اور عورت کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے اپنی جنس کو تبدیل کر لے۔ اس طرح انٹر سیکس بھی عورت یا مرد ہو سکتے ہیں۔‘

عمران شفیق ایڈووکیٹ کے مطابق اسلام کے اندر انٹر سیکس کو بھی حقوق دیے گئے ہیں۔

’اگر انٹر سیکس مردوں کے قریب ترین ہے تو وہ مرد ہو گا اور اگر عورتوں کے قریب ترین ہے تو وہ عورت ہو گا۔ اب اگر ایک نامکمل مرد یا عورت یا انٹر سیکس کو کسی علاج، آپریشن کے ذریعے مکمل مرد اور عورت بنایا جا سکتا ہے تو اس کی اجازت موجود ہے مگر ایک مخنث عورت اور مرد اپنی مرضی سے اپنی جنس کو تبدیل نہیں کر سکتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ مردوں اور عورتوں کی جنس تبدیلی ایک بڑے معاشرتی خرابی کا باعث بن رہی ہے، جس کو روکا جانا چاہیے اور ایسے قانون کو کالعدم قرار دیا جانا چاہیے۔‘

جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان کا کہنا تھا کہ یہ بل سنہ 2018 میں سینیٹ سے منظور ہوا تھا۔ ’یہ بل نون لیگ، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کی چار خواتین سینیٹرز نے تیار کیا تھا۔ اس بل پر ہمیں اس وقت بھی اعتراضات تھے اور اب بھی ہیں۔‘

مشتاق احمد خان کا کہنا تھا کہ وہ سنہ 2021 میں ترمیمی بل لائے جس کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں پیش کر دیا گیا۔

’یہ نومبر 2021 میں اس کمیٹی میں پیش ہوا۔ اِس قانون کے حوالے سے میری ترامیم نو ماہ بعد یعنی 5 ستمبر، 2022 کو پہلی بار سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے ایجنڈا پر زیر بحث آئیں اور اب اس کا اکتوبر میں دوسرا اجلاس ہوگا جہاں پر میرے ترمیمی بل پر ووٹنگ ہوگی۔‘

مشتاق احمد خان کا کہنا تھا کہ وہ اس بل کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں۔

’اس بل کے تیں حصے ہیں۔ اس کے ایک حصے پر مجھے کوئی اعتراض نہیں مگر اس کے دو حصوں کو ترمیمی بل کے ساتھ ٹھیک کرنا چاہتا ہوں۔ یہ قانون کئی ترمیمی مراحل کے بعد بہتر ہو سکتا ہے۔ اِس کے نام کے حوالے سے بھی ہمیں شدید تحفظات ہیں۔‘

مشتاق احمد خان کا دعویٰ ہے کہ اس قانون کے حوالے سے انٹرنیشنل کمیشن آف جیوریسٹ (آئی سی جے) کی طرف سے بھی اعترضات آئے ہیں ’جبکہ پاکستان کے انتہائی اہم آئینی ادارے اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میری تجویز ہے کہ جنس تبدیلی کا معاملہ میڈیکل بورڈ کی اجازت سے مشروط کیا جائے۔‘

’میڈیکل بورڈ کی رائے کے بغیر کسی کو بھی جنس تبدیلی کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور اپنی مرضی سے صنفی شناخت اختیار کرنا نہ صرف خلافِ شریعت ہے بلکہ یہ اسلام کے قانون وراثت سے بھی متصادم ہے اور خواتین کے عفت و پاک دامنی اور ہماری روایات کے بھی خلاف ہے۔‘

ان کی رائے ہے کہ ’اس پورے قانون کو از سر نو مرتب ہونا چاہیے اور قانون دان، علما، اور انٹر سیکس افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والے افراد، طبی ماہرین اور اسلامی نظریاتی کونسل کی رہنمائی اور سفارشات کی روشنی میں اسے تیار ہونا چاہیے۔‘

مشتاق احمد خان کا دعویٰ ہے کہ سرکاری رپورٹس کے مطابق کوئی 40 ہزار لوگوں نے نادرا کے سرکاری کاغذات میں جنس تبدیل کروائی ہے۔ ’ان میں بڑی تعداد مردوں کی ہے، جنھوں نے اپنی شناختی دستاویز میں جنس تبدیل کروائی۔ اس سے معاشرے میں بہت بڑا انتشار پھیل رہا ہے۔ ہم نے اپنے معاشرے کو اس انتشار سے بچانا ہے۔‘

’اسلامی نظریاتی کونسل نے اعتراض نہیں اٹھایا‘

پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر کہتے ہیں کہ اس بل کو پارلیمان نے سنہ 2018 میں منظور کیا تھا۔ ’اس کے لیے ہر مکتبہ فکر سے مشاورت کے لیے وفاقی محتسب کے دفتر میں خصوصی سیل قائم کیا گیا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ بل پہلے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے منظور کیا جس کے بعد اس کو پارلیمان نے مشترکہ طور پر منظور کیا تھا اور اس کا بنیادی مقصد ٹرانس جینڈرز کے حقوق کا تحفظ تھا۔

فرحت اللہ بابر نے مشتاق احمد خان کا یہ دعویٰ مسترد کیا کہ اس پر اسلامی نظریاتی کونسل کو کوئی اعتراض تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ جب یہ بل پیش ہو رہا تھا کہ تو اسلامی نظریاتی کونسل نے اس پر کوئی بھی اعتراض نہیں اٹھایا جو کہ سینیٹ کے ریکارڈ پر ہے۔ ’اب اس بل کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ کوئی ایسا کوئی قانون جو اسلام کے خلاف ہو اس کے خلاف فیصلہ دے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’کچھ لوگ جو اس بل پر سوشل میڈیا سمیت مختلف جگہوں پر اعتراضات اٹھا رہے ہیں، وہ غلط ہیں۔ یہ بل اسلام مخالف نہیں۔ اس بل میں ایسی کوئی بات نہیں جو اسلام کے خلاف ہو تاہم ہر قانون اور ترمیم میں بہتری کی گنجائش موجود رہتی ہے۔ قوانین بنتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ ان میں بہتری متعارف کروائی جاتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کو بہتر کرنے کے لیے بات ہو سکتی ہے مگر یہ کہنا کہ پارلیمان نے اسلام مخالف قانون متعارف کروایا، انتہائی غلط ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اسلام اور طاقت کا استعمال کر کے پارلیمان سے متعارف کروائے گے بل کو پاؤں تلے نہ روندھا جائے۔‘

منظوری کے چار سال بعد ایکٹ کی مخالفت کیوں؟

عمران شفیق ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ جماعت اسلامی نے پہلے بھی اس بل کی مخالفت کی تھی۔ ’اس وقت جماعت اسلامی نے اس بل کے خلاف منظم مہم چلائی تھی۔ جماعت اسلامی کے پاس پارلیماں میں اتنی اکثریت نہیں تھی کہ وہ بل کو مسترد کرواتی مگر وہ اس بل پر سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابطے میں رہی اور انھیں قائل کرتی رہی کہ مذکورہ بل اسلام مخالف بل ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے اس سے پہلے بھی اس بل کے خلاف پارلیماں میں ترامیم لائی تھیں جنھیں اکثریتی پارٹیوں نے منظور نہیں کیا تھا۔

’اب جب دیکھا کہ پانی سر سے گزر رہا ہے ن لیگ، تحریک انصاف اور پیپلرز پارٹی کے رہنما کھل کر اس بل کے حق میں سامنے آگے ہیں تو اس کے خلاف نہ صرف یہ کہ وفاقی شرعی عدالت سے رجوع کیا ہے بلکہ عوامی سطح پر بھی مہم چلا رہے ہیں۔‘

جماعت اسلامی پاکستان کے جنرل سیکرٹری امیر العظیم کہتے ہیں کہ یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ جماعت اسلامی اس بل پر کبھی خاموش تھی۔ ’ہم کبھی بھی اس بل پر خاموش نہیں تھے۔ ہم نے اس وقت بھی مخالفت کی تھی۔ ہاں یہ ضرور تھا کہ ایکٹ میں الفاظ کا گورگھ دھندہ استعمال کیا گیا تھا جس نے قوم کو کچھ کنفیوز کردیا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اس وقت بھی کہا تھا کہ یہ بل خرابیوں کی جڑ بنے گا مگر جب حکومتی ڈیٹا سامنے آیا کہ ہزاروں لوگوں نے اپنی جنس تبدیل کرلی ہے اور اس کی خرابیاں سامنے آئیں اور قوم پر حقیقت آشکار ہوگئی کہ یہ بل خرافات کا باعث بن رہا ہے اور قوم کو ہوش آیا تو جماعت اسلامی اب قوم کی نمائندگی کر رہی ہے۔‘
بشکریہ بی بی سی اردو