محکمہ امور حیوانات آزادکشمیر کے بروقت اقدامات باغ، حویلی میں لپمی سکن بیماری کا خاتمہ

اسلام آباد(نیل فیری رپورٹ) وٹنری آفیسر باغ آزادکشمیر ڈاکٹر آفاق الاسلام کی سربراہی میں جانوروں کی بیماری لمپی سکن (LSD) کے علاج معالجہ و تدارک کیلیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات ، 600جانوروں کو علاج کر کےصحت مند بنایا گیا، ضلع باغ و حویلی بھر میں لمپی سکن کے700کیس رپورٹ ہوئے جن میں سے 600جانوروں کو علاج کر کے صحت مند بنایا گیا۔

ضلع باغ اور ضلع حویلی میں شکایات سیل قائم ہیں اور موبائل ٹیمیں تشکیل ہیں جو گھر گھر جا کر جانوروں کا معائنہ کر کے ویکسین لگا رہی ہیں۔35000 سے زائد جانوروں کو امپورٹڈ یکسین لگائی گئی ہے۔لمپی سکن بیماری سے35 جانور ہلاک ہوئے۔

وٹنری آفیسر باغ آزادکشمیر ڈاکٹر آفاق الاسلام نے چیف ایڈیٹر روزنامہ نیل فیری نثار کیانی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جانوروں کی یہ بیماری جون میں عیدالاضحی کے موقع پرآزاد کشمیر میں آئی جو سب سے پہلے میر پور میں تشخیص ہوئی۔جس کے بعد محکمہ امور حیوانات کے بروقت اقدام کے بعد اس پر کنٹرول کیا گیا۔ بیماری کی وجہ انٹری پوائٹنس پر قائم چیک پوسٹیں کی بجائے چور راستوں سے جانور آزادکشمیر لانے کی وجہ سے پھیلی،اس وقت سے ہی آزاد کشمیر بھرکے انٹری پوائٹنس پر چیک پوسٹیں قائم کر دی گئی اور پاکستان سے آنے والے جانوروں کو بغیر ویکسین اور سرٹیفکیٹ کے آزاد کشمیر میں داخل نہیں ہونے دیا گیا اور ضلع باغ سمیت تمام اضلاع میں دفعہ 144 کا نفاذ کیا گیا

انہوں نے بتایا کہ ڈائریکٹر جنرل محکمہ امور حیوانات کی ہدایت کے مطابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر عارف مجید اور پولٹری ڈولپمنٹ آفیسر ڈاکٹر شبیر شیخ کی سربرا ہی میں مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ جہاں کہیں بھی شکایت ہو فوری ازالہ کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سردار تنویر الیاس وزیر امور حیوانات سردار میر اکبر، چیف سیکرٹری آزاد کشمیر عثمان چاچڑ سیکرٹری امور حیوانات کی ہدایت پر محکمہ امور حیوانات لمپی سکن ڈیزیز کی بیماری کے کنٹرول کے لئے مکمل کوشاں ہیں۔ اور بڑی حد تک اس پر کنٹرول کر لیا گیا ہے۔ اور اب کیسز کی شرح 1 کیس روزانہ رہ گئی ہے ۔ ڈاکٹر آفاق الاسلام نے کہا کہ جانوروں کی کئی امراض مویشیوں کو متاثر کرنے جن میں منہ کھر (FMD) اور پی پی آر قابل ذکر بیماریاں ہیں۔

ڈاکٹر آفاق الاسلام نے عوام کو ہدایت کی کہ وہ پی پی آر سے بچائو کے لئے چھوٹے جانوروں کو و ویکسین کرائیں۔انہوں نے کہا کہ مویشیوں کو لاحق ہونے والے معتدی امراض جانوروں کی پیداواری صلاحیت کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی شرح اموات میں اضافہ کا باعث بنتے ہیں، انہوں نے کہا کہ جانوروں کی مختلف بیماریوں کو کنٹرول کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ جانور صحت مند ہو تو گوشت اور دودھ وافر مقدار میں دستیاب ہوگا جو کہ کسی ملک کی معیشت کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے