ندیم آزادکی حکومت پر لعن طعن، گندی گالی قراردیکر سیاست سے کنارا کشی

اسلام آباد( نیل فیری نیوز) پاکستان تحریک انصاف آزادکشمیر کے مرکزی رہنما سردار ندیم آزاد خا ن نے مروجہ سیاسی طرز فکرکو گندی گالی قرار دیتے ہوئے سیاست سے مکمل علیحدگی کا اعلان کیا ہے اور حالیہ الیکشن میںپاکستان تحریک انصاف پر پیسے لیکر ٹکٹ تقسیم کرنے کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ آزادکشمیر میں حکومت سازی کے بعد پارٹی کے بنیادی کارکنان کو نظراندار کر کے کھڈے لائن لگایا گیا ۔پالشی اور مالشی لوگوں کی ایڈٖجسمنٹ کی گئی ۔ایسی حکومت پر لعنت بھیجتا ہوں جس میں پی ٹی آئی امیدوار کےخلاف الیکشن لڑنے والا ترجمان وزیر اعظم کے عہدے پر براجمان ہے ۔جب پاکستا ن پیپلزپارٹی چھوڑی تو اس وقت پی ٹی آئی کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے یقین دلایا تھا کہ آپ کو پارٹی ٹکٹ دیں گے ۔

لیکن افسوس کے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے اپنے مفادات کےلئے مجھے استعمال کیا ۔بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے پونچھ اور سدھنوتی میں چا ر سال جلسے کرواتا رہا جبکہ میرا گیسٹ ہائوس پی ٹی آئی کے مرکزی دفتر کے طور پر استعمال کیا گیا ۔سابق صدر آزادکشمیر سردار یعقوب خان کو پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل کروانے میں میرا کلیدی کردار تھا ، سابق وزیر اعظم سردار عبدالقیوم خان نیازی کو اپنی گارنٹی پر میں نے بیرسٹر سلطان محمود سے ملاقات کروا کر پی ٹی آئی میں شامل کروایا تھا ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم فیس بک پر اپنی پوسٹ میں کیا ہے ۔وائرل ہونے والی اس پوسٹ پر صارفین ملے جلے ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ متعدد صارفین نے اپنے کمنٹس میں ندیم آزاد کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے ۔ندیم آزاد کی پوسٹ قارئین نیل فیری کی خدمت میں من و عن شائع کی جارہی ہےـ۔ـ’’میں سردار ندیم آزاد خان ۔۔ آج اپنے آپ کو سیاست سے الگ کرتا ھوں۔۔پاکستان کی سیاست اب ایک بزنس یا غلیظ ترین گالی بن گئی ھے۔۔ جو چاھے پیسے دے یا چپڑاسی کی طرح دروازے پر پہرا دے اس کو اہمیت دی جاتی ھے ۔۔ میں پیپلز پارٹی میں ایک اہم پوزیشن چھوڑ کر پی ٹی آئی میں آیا ۔۔اس لیے کی عمران خان ایک ایمان دار اور پاکستان کے لیے وفادار انسان ھے ۔۔ مگر افسوس خان صاحب کے آگے جو ٹیم ھے وہ اس کو ٹیکل نہیں کر سکے۔۔ آزاد کشمیر میں پیسے لے کر ٹیکٹ تقسیم کیے گے ۔۔ گورنمنٹ بنے کے بعد جنین ورکرز کو سایڈ لائن لگا دیا گیا ۔۔ پالشی یا مالشی کو سامنے لایا گیا ۔ میں برملا کہوں گا کا سردار حاجی یعقوب کو جب میں پیپلز پارٹی میں لایا تھا تو میں نے ان کو فورس کر کے پیپلز پارٹی میں لایا تھا جس اس وقت کے کوارڈینیٹر پرایم منسٹر اور موجودہ چیرمین سینٹ صادق سنجرانی جو میرے انتہائی مخلص دوستوں میں سے ھیں ان کا رول تھا

جب میں نے پاکستان پیپلز پارٹی کو چھوڑا ۔۔بریسٹڑ سلطان محمود نے مجھے یقین دلایا کے آپ پارٹی میں شامل ھوں ٹکٹ آپ کو دیں گے اس بات کے گواہ جموں کشمیر اخبار کے مالک عامر محبوب ھیں جب ان کی اخبار کی سالگرہ دبئی میں تھی نبیلہ ایوب کی تقریر جاری تھی جب مجھے بریسٹر صاحب کی کال آی کے آپ کل ا جائیں پرسوں خان صاحب کی میرے گھر اسلام آباد میں پریس کانفرنس ھے آپ ان کے ساتھ شامل ھو جائیں میرے مخلص دوستوں کے منا کرنے کے باوجود میں نے اپنے مشیری کے اھدے سے استیفا دے کر میں شامل ھو گیا ۔۔ جب میں شامل ھوا تھا تب پورے پونچھ میں 20 لوگ بھی پی ٹی آئی میں نہیں تھے دن رات محنت کی جیب سے پیسے خرچ کر ک پریسٹر صاحب ہ جلسے پورے پونچھ اور سدھنوتی میں 4 سال تک کرواے ۔۔ گلیشیر بائٹس گسٹ ھاؤس پی ٹی آئی کا مرکزی دفتر کی طرح استعمال ھوتا رھا ۔۔ مگر جب وقت آیا ٹکٹ نہیں دیا گیا ۔۔ گورنمنٹ بنی اگنور کیا گیا ۔۔ سردار عبدالقیوم نیازی کو نے اپنی گرینٹی پر بریسٹر سلطان محمود سے ملاقات کر شامل کیا جب وہ وزیر اعظم بنے تو شاید وہ بھول گے تھے کے رات ک 12 بجے اسلام آباد اس وقت کے صدر بریسٹر سلطان محمود کے گھر میں نے ملاقات کروا کر ٹکٹ کی گرانٹی دی اسی رات ایک بجے فہیم اختر ربانی کو لے کر میری گرانٹی ہر ان کو بھی شامل کروایا تھا ۔ اس بہت سارے لوگ اور ھیں جن کا مین نام نہیں لینا چاھتا ۔
میرا سوال عمران خان اور بریسٹر سلطان محمود سے ھے ۔۔ میر سارا بزنس تباہ ھو گیا اس سیاست میں۔۔ مجھے کس بات کی سزا دی گئ ۔۔ مجھے آج بھی اپنے مخلص دوست فیصل ممتاز راٹھور کی بات یاد ھے ۔۔ کہ تم اپنے آپ سے زیادتی کر رھے ھو تم مشیر حکومت ھو ،تیں سال باقی ہیں اس کے بعد فیصلہ کرنا
میں اپنے مخلص دوست راجہ منصور کا شکر گزار ھوں کی جس نے مجھے عزت دی کی بلدیاتی انتخابات کا میمبر بورڈ بنیا ۔۔ میں نے پی ٹی آئی اپنے افورڈ مالی بدنی قربانی دے کر آزاد کشمیر میں بنائی ۔۔ مگر افسوس آج وہ چمچے جو کل اے آج آگے ھیں ۔۔۔ میرے حلقے میں ترجمان وزیراعظم وہ ھے جو ہی ٹی آئی کی خلافِ الیکشن لڑا۔۔ لانت ھے ایسی حکومت پے جو اپنے ھی کنڈیڈٹ کے خلاف الیکشن کرنے والے کو ترجمان وزیراعظم بنا رھا ھے ۔۔
عمران خان کے لیے میں اپنے جاں دے سکتا ھوں مگر جو ھواری پارٹی میں ھیں ان لوگوں کے ساتھ کام کرنا نہ صرف میری بلکہ عمران خان کی بھی توہین ھے ۔۔ بیرسٹر سلطان محمود کے کی افسوس ھے کی انہوں نے صرف اپنے مطلب کی خاطر مجھے استعمال کیا ۔۔اگر میری اس سٹمینٹ میں کسی کو اعتراض ھے تو میں حاجی یعقوب سے لے کر جو نام بھی لیے کسی بھی فرم پر مناظرہ کرنے کے لیے تیار ھو‘‘