عدم اعتماد ،افواہیں دم توڑگئیں ،تنویر الیاس کی پوزیشن مضبوط

آج پھر بجھ گئے جل جل کے امیدوں کے چراغ. آج پھر تاروں بھری رات نے دم توڑ دیا

اسلام آباد( نثارکیانی)آج پھر بجھ گئے جل جل کے امیدوں کے چراغ. آج پھر تاروں بھری رات نے دم توڑ دیا، آزادکشمیر میں وزیر اعظم آزادکشمیر کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے عدم اعتماد لانے کی کوششیں دم توڑ گئیں، وزیر اعظم سردار تنویر الیاس خان کی پوزیشن مضبوط، آزادکشمیر حکومت نے شطرنگی چال چلتے ہوئے بدھ کے روز آزادجموں کشمیر قانون ساز اسمبلی اجلاس میں وزیر قانون فہیم اختر ربانی کی رکنیت آج(اجلاس) ایک دن کےلئے معطل کرتے ہوئے اپوزیشن کا ایک مطالبہ پورا کر دیا جبکہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی،تاریخ میں پہلی بار وزیر قانون “فہیم اختر ربانی” کی رخصت کی درخواست کو ایوان نے اکثریت سے مسترد کر دیا

۔واضح رہے کہ وزیراعظم آزاد کشمیر کیخلااف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کیلئے 53 کے ایوان میں سے27 ارکان کی حمایت درکار ہو تی ہے جبکہ تحریک عدم اعتماد پر 3 دن بعد اور 7 روز کے اندر ووٹنگ لازم ہےجبکہ وزیراعظم آزاد کشمیر کا اسمبلی توڑنے کا اختیار بھی ختم ہو جاتا ہے

۔گذشتہ دنوں زرداری ہائوس میں پاکستان پیپلز پارٹی آزادکشمیر کے منعقدہ اجلاس میں طے پایا تھا کہ وزیر اعظم آزادکشمیر سے ہر صورت جان چھڑائی جائے گی ۔اور ان کا وزیر اعظم رہنا ریاستی مفاد میں نہیں ہے ۔ قانون ساز اسمبلی کے اجلاس کے بعداپوزیشن لیڈر چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ وزیر اعظم کے نام فائنل نہیں ہو سکا یہ بتانے والی باتیں نہیں ہوتیں ۔جبکہ سابق وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ و زیر قانون “فہیم اختر ربانی”سے میرا کوئی ذاتی جھگڑا نہیں ہے یہ اپوزیشن کا مشترکہ معاملہ ہے ، وزیر اعظم کی صوابدید ہے کہ وہ انہیں کابینہ سے برطرف کریں ،

باوثوق ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی آزادکشمیر کے صدر چوہدری یاسین اور اپوزیشن لیڈر چوہدری لطیف اکبر ایک دوسرے کو وزیراعظم قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں، جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن آزادکشمیر اگر اس عمل میں پیپلزپارٹی کا ساتھ دیتی ہے تو وہ اس کی سیاسی خودکشی ہوگی اس لئے ن لیگ کو کسی صورت پیپلزپارٹی کا وزیر اعظم قبول نہیں ہوگا ، اپوزیشن کے ایک ممبر اسمبلی کا انکشاف کیا ہے کہ ہمارے کچھ ممبران وزیر اعظم سردار تنویر الیاس خان سے رابطے میں ہیں،آزادکشمیر کے سیاسی افق پر دو سال قبل قدم رکھنے والے وزیر اعظم تنویر الیاس کے سیاسی کھڑاکوں نے اپوزیشن سمیت سیاسی مبصرین کو بھی ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے اور ان کے بروقت سیاسی دائو پیج بتدریج کامیاب ہو رہے ہیں ۔

آزادجموں کشمیر قانون ساز اسمبلی اجلاس کے منگل کے روز ہونے والے اجلاس کے بارے میں سیاسی مبصرین نے اپوزیشن کے حوالے سے بڑی توقعات وابستہ کر رکھی تھیں اور اپوزیشن کے جانب سے جارحانہ انداز اپنانے ہوتے وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی ریکوزیشن جمع کروانے کی امیدیں تھیں لیکن اجلاس میں جو اہم بات ہوئی وہ سپیکر قانون ساز اسمبلی کی جانب سےو زیر قانون فہیم اختر ربانی کی رکنیت آج(اجلاس) ایک دن کےلئے معطل ہوئی اس اقدام کے بعد اپوزیشن کی طرف سے کوئی خاص ردعمل سامنے نہیں آ سکا تاہم اپوزیشن کا وزیر قانون فہیم ربانی سے ان کی وزرات کا قلمدان واپس لینے کا مطالبہ برقرار رکھا ہے،

دوسری جانب برطانیہ کے دورے پر گئے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر کی طرف سے بھی وزیراعظم آزاد کشمیر کیخلااف تحریک عدم اعتماد کے اقدام میں کوئی خاطر خواہ دلچسپی نہ لینے کی اطلاعات ہیں ، جبکہ انہوں نے برطانیہ میں مختلف تقاریب کے دوران اپنے خطاب کے دوران کہا ہے کہ ان کا برطانیہ آنے کا مقصد قائد مسلم لیگ ن میاں محمد نواز شریف کے ساتھ ملاقات کرنا اور آزاد کشمیر میں پاکستان مسلم لیگ ن کی تنظیم سازی کے حوالے سے ان سے رہنمائی حاصل کرنا ہے۔

اس وقت صورت حال ہے کہ آزادکشمیر کی حکمران جماعت میں انتشار کے باوجود اس کی پوزیشن مستحکم ہے ۔اپوزیشن کو مکمل کامیابی کا یقین نہیں ہے۔پیپلز پارٹی کو ن لیگ کی جانب سے بھی مایوسی کا سامنا ہے کیونکہ شاہ غلام قادر کی طرف سے عدم اعتماد پر کوئی واضح جواب نہیں آیا۔ جبکہ اس حوالے اپوزیشن جماعتوں کے متضاد دعوؤں کو بھی شک کی نظروں سے دیکھا جارہا ہے۔