ملک بھر میں آٹا بحران کیوں پیدا ہوا؟سعدیہ مظہر

اکبر آج حکومت کی جانب سے مل رہا سستا آٹا خرید کر لایا تو خاصا مطمئن تھا کہ دس کلو سے کچھ دن سکوں سے گزر جائے گا مگر آٹا کم از کم کھانے کے قابل نہیں تھا۔

اکبر کا کہنا ہے کہ اسے مارکیٹ سے پانچ کلو میدہ خریدنا پڑا تب جا کر سستا آٹا کھانے کے قابل ہوا۔

اکبر ساہیوال میں دیہاڑی پر مزدوری کرتا ہے۔ چار بچوں کا باپ ہے اور اس کے نزدیک آٹے کا اچانک بحران اور اشیائے خودنوش میں اضافہ غریب عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔

پاکستان زرعی ملک ہونے کے باوجود کچھ سالوں سے اپنی ضرورت کے لیے بھی گندم کی پیداوار پیدا کرنے میں ناکام ہو رہا ہے۔

آٹے اور روٹی کا بحران ملک کے یر صوبے میں موجود ہے اور اگر آٹے کے تھیلے کی قیمت پر بات کی جسے تو پنجاب میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2500 روپے ، بلوچستان میں 2400 جبکہ سندھ میں یہی ٹھیلہ 2600 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔

خیبر پختون خواہ میں 20 کلو تھیلے کی قیمت 2600 ہے ۔جبکہ حکومت کی جانب سے مسلسل سستا آٹے کی فراہمی وغیرہ کے بیانات جاری ہو رہے ہیں

اہم سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ملک میں گندم کا بحران موجود ہے؟ کچھ ماہ پہلے کے حکومتی دعوے غلط تھے یا یہ واقعی سیلاب ہی کی تباہ کاریاں ہیں؟

ذرائع نیشنل فوڈ سکیورٹی کے مطابق ملک میں گندم کا 44 لاکھ 37 ہزار میٹرک ٹن اسٹاک موجود ہے۔

گندم کا موجودہ اسٹاک اپریل کےآخرتک کیلئے کافی ہے، 13لاکھ میٹرک ٹن درآمدی گندم موجودہ اسٹاک کے علاوہ موجود ہو گی۔

روس سےحکومتی سطح پر منگوائی جانے والی گندم کی پہلی کھیپ کراچی پہنچ گئی

ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب کے پاس 106دن کا 22 لاکھ 5 ہزار میٹرک ٹن اسٹاک ہے، سندھ کے پاس 98 دن کی 8 لاکھ 37 ہزار میٹرک ٹن گندم ہے۔

کے پی کے پاس 152 دن کی 6 لاکھ 46 ہزار میٹرک ٹن گندم ہے، صوبےکی جانب سے ملز کو وعدوں کے باوجود کم گندم جاری کی جارہی ہے، سرکاری گندم کم جاری ہونے سے اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت بڑھ گئی۔

سندھ یومیہ 10 ہزار کی بجائے 8 ہزار میٹرک ٹن گندم فلار ملز کو دے رہا ہے، پنجاب سرکاری گندم 25 ہزارکی بجائے 20 ہزار میٹرک ٹن گندم ملز کو جاری کرتا رہا، بلوچستان ایک ہزارکی بجائے 350 میٹرک ٹن گندم ملوں کو جاری کر رہاہے۔

کے پی سرکاری گندم 6 ہزارکی بجائے4500 میٹرک ٹن یومیہ جاری کر رہا ہے۔

سندھ میں گندم کی امدادی قیمت 4 ہزار روپے فی من مقرر ہونے سے ذخیرہ اندوزی بڑھ گئی، صوبے پاسکو کے پاس موجود اپنے کوٹے کی گندم اٹھانے سے گریزاں ہیں، بلوچستان بھی پاسکو کی گندم مہنگی قرار دے کر اٹھانے سے گریزاں ہے۔

سردی میں اچانک اس بحران نے نہ صرف عوام کو مزید مشکلات سے دوچار کیا ہے بلکہ تندور چلانے والے لوگوں کو بھی مایوس کیا ہے۔

عبداللہ ساہیوال میں پچھلے 20 سال سے تندور چلا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارا کاروبار شدید گرمی اور سردی کے دوران سب سے زیادہ عروج پر ہوتا ہے خصوصا سردی میں گیس کی قلت لوگوں کو تندور کا رخ کرنے پر مجبور کرتی ہے اور آج روٹی 15 روپے کی ہے تو اندازہ لگائیں کہ لوگ تندور کا رخ کیوں کریں گے؟

عبداللہ کے تندور پر لکھا ہے کہ اگر آپ بھوکے ہیں مگر روٹی خریدنے کی صلاحیت نہی رکھتے تو ہمارے مہمان بنیے۔ عبداللہ کہتے ہیں اس شدید مہنگائی میں اس مہمان نوازی میں بھی مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ آٹا بہت مہنگا ہے ، میسر بھی نہیں ہے اور اب تو گاہک بھی نہیں۔

مئی 2022 میں وزیراعظم شہباز شریف نے گندم پیداوار اور ذخائر کے حوالے سے اجلاس میں یہ بات سامنے لائ گئ تھی کہ پاکستان کی سالانہ ضرورت دو کروڑ 29 لاکھ ہے جبکہ متوقع پیداوار دو کروڑ 26 لاکھ تھی۔ مقامی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی کابینہ نے 30 لاکھ گندم کی درآمد کی منظوری بھی دی تھی۔

گندم کی قلت کے حوالے سے وفاق سب ذمہ داری صوبائی حکومت پر ڈال رہی ہے جبکہ صوبائی حکومتیں کہتی ہیں یہ قلت وفاق کی وجہ سے پیدا ہوئی۔ فلور مل ایسوسی ایشن کے مالکان بھی اس قلت کی ذمہ داری کو دوسرے کے کاندھے پر ڈال کر خود کو اس ذمہ داری سے آزاد کر رہے ہیں۔

عوام روٹی کے لیے کیسے دربدر ہے یہ درد کسی حکومتی سطح پر نظر نہیں آیا۔ کوئٹہ مئں آٹے کی قلت ہر احتجاج کرتے یوے ایک بزرگ نے خود کو سڑک پر لٹا دیا۔

بزرگ کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کے پاس دینے کو آٹا نہی ہے تو ہمارے اوپر سے ٹرک گزار دے۔

آٹے کا یہ بحران کتنی زندگیاں نگل ریا ہے اس سے زیادہ اہم حکومت کے لیے خود کو اس کا ذمہ دار بنانے سے انکاری ہونا ہے