معاشرے کا سلگتا ناسور مہنگائی اورہمارے عہد کے فرعون: نثار کیانی

آزادکشمیر میں40 کلو گرام فائن آٹا 3670 جبکہ80 کلو گرام فائن آٹا 7340 ہوگیا جبکہ 20 کلوگرام ہول میل آٹا 1777 روپے40کلوگرام ہول میل آٹا 3554روپے کا ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق آزادکشمیرحکومت آٹا پر اب تک17 ارب روپے سے زائد سبسڈی دے چکی ہے۔۔جو لوگ پرائیویٹ آٹا خریدتے تھے انہوں نے بھی سرکاری آٹا خریدنا شروع کردیا ہےجس کیوجہ سے سرکاری آٹے کی ڈیمانڈ بڑھ گئی ہے۔ سبسڈائزڈ آٹا جو حکومت فراہم کرتی ہے وہ تین لاکھ ٹن ہے جو کہ آزادکشمیر کی ضرورت کا 60% بنتا ہے۔ آزادکشمیر میں آٹے کی کل ضرورت 5 لاکھ 20 ہزار ٹن ہے۔تین لاکھ ٹن حکومت سبسڈی پر مہیا کرتی ہے جو کل ضرورت کا 60 فی صد ہے۔10 فی صد ضرورت مقامی پیداوار سے پوری ہوتی ہے جبکہ 30 فی صد پرائیویٹ سطح پر پوری ہوتی ہے۔اس سال امپورٹڈ گندم کی قیمت میں اضافے کیوجہ سے حکومت آزادکشمیر مجموعی طور پر 17ارب سبسڈی دے رہی ہے۔مجموعی طور پر 17ارب روپےسبسڈی کا بوجھ اس وقت حکومت آزاد کشمیر کے ذمہ ہے جو اس نے پاسکو کو ادائیگی کرنی ہے اس دائیگی کیلئے مالیاتی حکمت عملی وضع کی جا رہی ہے۔امپورٹڈ اور لوکل گندم کے درمیان قیمت کا فرق حکومت آزاد کشمیر کے لئے ادا کرنا ناممکن ہوگیا اس لئےسپلیمنٹری ٹیکنیکل گرانٹ کی خاطر سمری وزیر اعظم پاکستان کوبھیجی گئی ہے۔حکومت پاکستان نے اگرحکومت آزادکشمیر کو گرانٹ مہیا کر نہ کی تو آزاد حکومت کے پاس پاسکو کو ادائیگی کیلئے رقم نہیں ہوگی جس کیوجہ سےخطے میں آٹے کی قیمتیں مزید بڑ ھ سکتی ہیں۔آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بارے میںکہا جا رہا ہے کہ گندم کی کم پیداوار کے نتیجے میں اس کا بحران پیدا ہوا ہے۔ روس اور یوکرین کی جنگ کے باعث گندم کی درآمد میں رکاوٹیں درپیش ہیں لہٰذا گندم کا بحران سر چڑھ کر بول رہا ہے۔یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ پچھلے سال گندم کی امدادی قیمت کے اعلان میں تاخیر کے باعث کسانوں میں گندم کی کاشت کا رجحان کم ہوا تھا۔یہی نہیں موسم میں تغیر کے باعث بھی گندم کی افزائش میں رکاوٹ ثابت ہوئی۔ ملک میں پیسے کی گردش (Circulation of money)میں جب اضافہ ہوجاتاہے، اس کے مطابق اشیاء اور خدمات کے پیداوار میں اضافہ نہیں ہو پاتا تو ان کی قیمتوں میں اضافہ ہونے لگتا ہے، اسی کیفیت کو افراط زر(Inflation)یا مہنگائی کہتے ہیں۔ روزافزوں بڑھتی مہنگائی آج ہمارے معاشرے کے سنگین ترین مسائل میں سے ایک ہے۔ اس سے لوگوں کی زندگی دوبھر ہوتی جارہی ہے، سارا تخمینہ اور بجٹ فیل ہوتا جا رہا ہے،مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کی رات کی نیند اور دن کا چین غارت کر دیا ہے۔ کوئی دن جاتا ہو گا جب حکومت کی طرف سے کسی نہ کسی ضروری چیزکی قیمت میں اضافے کا اعلان نہ ہوتا ہو جو عوام کی تکلیف میں مزید اضافہ کا سبب نہ بنتا ہو۔ شیور مرغیوں کو پر لگ چکے ہیں اور وہ اڑ نا شروع ہو چکی ہیں ۔ آٹا، چاول، دال، گھی، تیل، گوشت، سبزی غرض روز مرہ استعمال کی کوئی شے بھی اب عوام کی دسترس میں نہ رہی ہے۔ لوگ غربت سے تنگ آ کر خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں۔ آج جتنے پیسے گھر میں آتے ہیں اس حساب سے سوچنا پڑتا ہے، پہلے سو روپے کی بڑی حیثیت ہوتی تھی، اب وہی سو روپے کا نوٹ بچے صبح سکول لیکر جاتے ہیں۔ جس حساب سے مہنگائی ہو رہی ہے، اس سے تو ایسا لگتا ہے کہ دال چاول تو کجا دو چپاتی روٹی کھانا بھی بہت مشکل بن جائے گا۔غریب طبقہ تو اس سے پریشان ہے ہی، متوسط طبقہ بھی بری طرح متاثر ہے اور حد تو یہ ہے کہ اب کھاتے پیتے گھرانوں میں بھی مہنگائی کی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔ طلب بڑھنے پر قیمت میں اضافہ ہوجاتا ہے، اور مانگ گھٹنے پر کمی آجاتی ہے۔ لہذا دانستہ طور پر اشیاء اور خدمات کے ڈیمانڈ (Demand) کو قابو کرکے رکھنا چاہئے۔ یہ عمل مہنگائی پر قابوہے۔اشیاء و خدمات کی پیداوار جب بڑھ جاتی ہے تو قیمتیں گرنے لگتی ہیں، برعکس اس کے سپلائی میں کمی واقع ہوجانے پر قیمتوں میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔ لہذا سپلا ئی میں اضافہ کی متواتر کوششیں ہوتی رہنی چاہئے۔گندم کی پیداوار کے لحا ظ سے پاکستان ہمیشہ سے قابل ستائش رہاہے۔ بسبب اس کے کہ ملک میں رہائش پذیر 180ملین افراد کے لیے گندم ایک بنیادی غذا ہے۔ گندم کی برآمد کے اعتبار سے پاکستان بین الاقوامی سطح پر ایک اہم ملک تھا چنانچہ گندم کی ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے باوجود فاضل گندم برآمد کے لیے دستیاب تھی۔سال 2011ء میں 1.7 ملین ٹن گندم برآمد کی گئی۔ علاوہ ازیں 1.3ملین ٹن کے بقدر گندم کی دیگر مصنوعات بھی برآمدکی گئیں۔ الغرض ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی سطح پر گندم کی قیمت کی شرح کو منضبط کرتے ہوئے سٹوریج نظام کے ساتھ ساتھ فصل کی انتظامی پالیسی کو بھی بہتر بنایا جائے، وزیر اعظم آزادکشمیر نے خطے میں آٹے پر سبسڈی بحال رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے ،اآزاد کشمیر کابینہ اجلاس میں وزیر اعظم نے عوامی مشکلات کے پیش نظر آٹا بحران کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیئے احکامات دیتے ہوئے کابینہ اراکین کی مشاورت سے آزادکشمیر کے اندر سستے آٹے کی فراہمی کے لیئے سبسڈی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ،حکومت آزاد کشمیر رائج فوڈ پالیسی کے مغائر پرائیویٹ آٹے کے مقابلے میں سرکاری آٹے پر 60 فیصد سے زائد سبسڈی دے رہی ہے۔رائج فوڈ پالیسی کے مطابق 20 فیصد سبسڈی دی جاتی ہے تاہم حکومت نے بوجھ عوام پر ڈالنے کی بجائے زیادہ سے زیادہ سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہےجو ایک خوش آئند اقدام ہے ۔ہمارے ہاں المیہ ہے کہ اشیاء خوردونوش کی مصنوعی قلت پیدا کرکے ناجائز منافع خوری کی جاتی ہے۔ مصر کے پہلے فرعون کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بطورتاجر اپنے دوست کے ساتھ خربوزہ لے کر فروخت کرنے آیا، لیکن راستے میں ہی بادشاہ کے کارکنان نے جگہ جگہ بہانے سے ٹیکس (Tax)لگا کراس کے تمام خربوزہ کولوٹ لیا، اس نے اپنے ساتھی سے کہا کہ اس ملک میں حکومت کرنا آسان ہے۔ یہاں چاروں طرف بدعنوانی ہے، جہاں بدعنوانی(Corruption)ہوتی ہے وہاں حکومت کرنا آسان ہوتاہے۔ اور وہی تاجر بدعنوانی کرکے ہی چند سالوں میں میں مصر کا پہلا فرعون بنا۔ عقلمند وہ نہیں ہےہر ماہ پانچ ہزار کما کر چھ ہزار خرچ کرتا ہے بلکہ جو پانچ ہزار کی آمدنی میں اپنے اخراجات ساڑھے چار ہزار تک محدود کر لیتا ہے۔لہذا حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ فرعون بننے کے خواہاں لوگوں کے آگے بندھ باندھے۔ افراطِ زر کی شرح کا براہ راست اثر ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی صورت میں نکل رہا ہے ،جو مہنگائی کی اس چکی میں پسنے والے غریب عوام پر مزید مشکلات کا پہاڑ بن کر ٹوٹ رہاہے اور وہ غریب سے غریب تر ہوتے چلے جاتے ہیں جس کا نتیجہ معاشرے میں معاشی طور پر (بورژوازی اورپرولتاریہ) امیر اور غریب طبقے کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کی شکل میں نمودار ہوتا ہےایسے میں چھوٹے چھوٹے فرعونوں (ناجائز منافع خوروں) کی جست سب کچھ روند ڈالے گی جس کا ہمارے معاشرے کا غریب طبقہ مزید متحمل نہیں ہو سکتا ہے ۔